Posts

Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

ستر ڈھانپنا

Image
ستر ڈھانپنا نماز کی درستگی کے لیے شرط ہے ستر ڈھانپنا عربی زبان میں عورۃ جسم کے ان پوشیدہ حصوں کو کہا جاتا ہے جسے انسان دوسرے انسانوں سے چھپاتا ہے۔اس کے لیے اردو    اور عربی میں ستر کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے، ستر کا لفظی مطلب چھپانا ہے، اسی سے لفظ  ستِار الکعبہ  (کعبہ کا غلاف) کی ترکیب وجود میں آئی ہے۔ لہذا سترِ ڈھانپنے سے مراد جسم کے ان پوشیدہ حصوں کو ڈھانپنا ہے جن پر نظر پڑنے سے انسانوں کی غالب اکثریت کے جنسی جذبات میں ہیجان پیدا ہوجاتا ہے۔یاد رہے کہ ستر ڈھانپنا صرف اجنبیوں کے سامنے ہی ضروری نہیں بلکہ اپنے احباب و اقارب حتیٰ کہ ماں باپ سے چھپانا بھی فرض ہے۔اس حکم کا بنیادی مقصد لوگوں کو اپنے جنسی جذبات پر قابو رکھنے میں مدد دینا ہے، کیونکہ اگر اس کا اہتمام نہ کیا جائے تو معاشرے میں انتشاروفساد رونما ہوسکتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا ۖ وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ   [1]   اے آدم کے بیٹو! ہم نے آپکے لیے لباس پید...

جزیرۃ العرب

Image
جزیرۃ العرب کا جغرافیہ  جزیرۃ العرب        جزیرۃ العرب وہ مبارک سر زمین ہے،جہاں سے نبوت محمدیہ ﷺ کا شمسِ بازِغہ طلوع ہوا ۔ پہلے پہل اسی سرزمین پر اس شمسِ نبوت کا نور بکھرا،تآنکہ اس نے کل جہاں کو روشن کر دیا۔ نورِ نبوت جزیرۃ العرب میں پوری آب و تاب سے چمکا اور اس سرزمین کا ایک ایک گوشہ اس سے منور ہوا۔ لہٰذاضروری ہے کہ اس جزیرۃ العرب کا اک طائرانہ منظر اس کتاب کا مطالعہ کرتے وقت نظروں کے سامنے رہے،تب کمال ِنبوت کا کسی درجہ میں ادراک ہو سکے گا۔ محل وقوع جزیرۃ العرب ،براعظم ایشیاء افریقہ اور یورپ کے سنگم پر واقع ایک جزیرہ نما ہے جسے تین اطراف سے سمندر نے گھیرا ہوا ہے۔ فی الحقیقت یہ ایک برعظیم ہے،جو طبقات ارضیہ میں سے ایک مکمل طبقہ ارضیہ پر مشتمل ہے، جسے طبقہ عربیہ کہا جاتا ہے۔علم الارض کے ماہرین کی متفقہ رائے ہے کہ طبقہ عربیہ کسی زمانے میں اک علیحدہ جزیرہ کی شکل میں سمندر میں تیرتا رہا ہے ،یہ جزیرہ رفتہ رفتہ براعظم ایشیاء کے قریب ہو ا، یہاں تک کہ سرکتے سرکتے براعظم ایشیا و یورپ کے سنگم پر آ ٹکرایا۔ آج بھی طبقہ عربیہ  5 تا 10 ملی میٹر سالانہ کی رفت...

Categories of Topics

Show more