Posts

Showing posts with the label Urdu

احادیث صحیحہ میں اختلاف کے اسباب

Image
از قلم ساجد محمود انصاری احادیث صحیحہ میں اختلاف کے متعدد اسباب ہیں، جن میں سے چند کا ذکر یہاں کیا جارہا ہے ۱۔ بعض اخبارِ احاد ابتدائے احکام کے زمانے کی روایت ہیں اور بعض    آخری زمانے کی۔ احکامِ شرع میں ایک فطری تدریج پائی جاتی ہے۔اسی فطری تدریج کے مطابق احکام نازل ہوتے رہے۔ لہٰذا جو متعارض احادیث پہلے زمانے سے متعلق ہیں وہ عموماًمنسوخ ہوچکی ہیں۔ جیسے ایک روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے قبروں کی زیارت سے منع فرمادیا۔یہ مدینہ ہجرت کے بعد ابتدائی زمانے کا حکم ہے کیونکہ یہودِ مدینہ اپنے بزرگوں کی قبروں کی حد سے زیادہ تعظیم کرتے تھے اور احتمال تھا کہ کہیں نو مسلم بھی ان کی دیکھا دیکھی اس مرض میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ تاہم بعد میں جب صحابہ کرام ؓ کی تربیت پختہ ہوگئی تو انہیں    عبرت حاصل کرنے کے لیے زیارتِ قبو ر کی اجازت    دے دی گئی۔لہٰذا اب زیارتِ قبور کی ممانعت کا حکم منسوخ ہوگیا۔بعد والی حدیث اس کی ناسخ قرار پائی۔ اسی طرح ابتدائے اسلام میں حکم یہ تھا کہ ہمبستری کے وقت جب انزال نہ ہو تو غسل فرض نہیں، مگر بعد میں یہ رخصت ختم کردی گئی اور حکم دیا گیا کہ انزال ہو یا نہ ہ...

امام علی علیہ السلام نےمرتدین کو آگ میں جلانے کی سزا کیوں دی؟

امام علی علیہ السلام امام علی علیہ السلام نےمرتدین کو آگ میں جلانے کی سزا کیوں دی؟ از قلم ساجد محمود انصاری عبداللہ بن سبا یہودی نے ظاہری طور پر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلامی عقائد پر تیشہ چلانا شروع کیا تو امام علی علیہ السلام نے اس کی سرکوبی کی ٹھان لی۔ ابن سبا تو خود روپوش ہوگیا مگر اس کے حواری اس کے عقائد کا پرچار کرنے لگے، جس میں بدترین عقیدہ امام علی علیہ ا لسلام کو خدا ماننے کا عقیدہ تھا۔ امام علی علیہ السلام نے بھانپ لیا تھا کہ ابن سبا کے حواری امت مسلمہ کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں، چنانچہ انہوں نے ان مرتدین کو عبرتناک سزا دینے کا فیصلہ کیا ، جوکہ انہیں زندہ جلا دینے کا فیصلہ تھا۔ صحیح بخاری میں وارد ہوا ہے کتاب: جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ باب: باب: اللہ کے عذاب (آگ) سے کسی کو عذاب نہ کرنا۔ حدیث نمبر: 3017 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ حَرَّقَ قَوْمًا، فَبَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحَرِّقْهُمْ، لأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏”‏ لاَ تُعَذّ...

صلح حدیبیہ:عظیم فتوحات کا نکتہ آغاز

Image
صلح حدیبیہ   صلح حدیبیہ:عظیم فتوحات کا نکتہ آغاز از قلم ساجد محمود انصاری رسول اکرم ﷺ کو مکہ چھوڑے چھ سال ہوچکے تھے۔ان چھ سالوں میں کفار نے تین بار مدینہ پر حملہ کیا تھا مگر تینوں بار انہیں منہ کی کھانا پڑی تھی۔ غزوہ بدر میں اہل ایمان کو واضح فتح حاصل ہوئی تھی، غزوہ احد میں پلڑہ تقریبا برابر رہا، ابتدا میں اہل ایمان جیت گئے تھے، مگر کفار نےواپس  مڑ کر حملہ کیا تو اہل ایمان کو نقصان اٹھانا پڑا۔ غزوہ خندق میں باقاعدہ جنگ نہ ہوئی، اہل مدینہ نے خندق کھود کر مدینہ کا دفاع کیا، کفار نے کئی روز تک مدینہ کا محاصرہ کیے رکھا مگر پھر اللہ نے ایک خوفناک آندھی کے ذریعے ان کا شیرازہ بکھیر دیا۔غرض ہجرت کے بعد پانچ سال کفار مکہ اور رسول اکرم ﷺ کے مابین طویل جنگ رہی۔ اس دوران نبی ﷺ اور اہل ایمان زیارت کی خواہش کے باوجود  بیت اللہ کی زیارت سے محروم رہے تھے۔  ہجرت کے چھٹے سال رسول اکرم ﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ خانہ کعبہ کا طواف کررہے ہیں۔ نبی کا خواب وحی کی ایک قسم ہے، تاہم یہ وحی چونکہ محض اشارہ کی شکل میں تھی اس لیے رسول اکرم ﷺ نے یہ سمجھا کہ انہیں ...

کشمیر کا اصل مقدمہ کیا ہے؟

کشمیر کشمیر کا اصل مقدمہ کیا ہے؟ از قلم ساجد محمود    انصاری 3 جون 1947 کو کیے جانے والے تقسیمِ ہند کے منصوبے کے مطابق یہ طے پایا تھا کہ جن علاقوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں وہ پاکستان میں شامل کیے جائیں گے جب کہ ریاستوں یا راجواڑوں کو اختیار ہوگا کہ وہ چاہے تو پاکستان کے ساتھ الحاق کرلیں یا بھارت کے ساتھ۔جموں و کشمیر کی اکثریت آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے، لہٰذا کشمیری مسلمان پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے تھے۔اس مقصد کے لیے انہوں نے متحدہ ہندوستان کی تقسیم سے پہلے باقاعدہ تحریک چلائی۔ کشمیر کا مہاراجہ ہری سنگھ عوامی امنگوں کے برعکس ہندوؤں کے ساتھ سازباز کرچکا تھا، چنانچہ اس نے    تقسیمِ ہند کا اعلان ہوتے ہی اکتوبر 1947 میں ہندوستانی فوجوں کو کشمیر میں داخل ہونے کی دعوت دی۔ہندوستانی فوجوں سے لڑنے کے لیے مسلمان قبائلی بھی پاک فوج کی مدد سے کشمیر پہنچنے لگے۔یوں کشمیریوں نے قبائلیوں کی مدد سے کشمیر کے مغربی حصہ سے ہندوستانی فوج کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔24 اکتوبر 1947 کو مسلم کانفرنس (کشمیر) کے سربراہ سردار ابراہیم نے مغربی کشمیر میں آزاد کشمیر کے قیام کا اعلان کردیا۔قبا...

صحیفہ صادقہ: حدیث کی پہلی کتاب

Image
صحیفہ صادقہ: حدیث کی پہلی    کتاب   صحیفہ صادقہ: حدیث کی پہلی کتاب از قلم ساجد محمود انصاری رسول اکرم ﷺ نے ابتدائے نزول قرآن میں  ان کی جانب سےقرآن کے سوادیگر کلام (حدیث) کو لکھنے سے منع فرمادیا تھا کہ مبادا قرآن اور نبی ﷺ کے فرامین کو خلط ملط نہ کردیا جائے ،جیسا کہ سابقہ امتوں نے آسمانی کتابوں اور انبیا کے کلام کو خلط ملط کردیا تھا، یوں کتاب الٰہی اور قول رسول میں تمیز کرنا مشکل بنا دیا گیا تھا۔ رسول اکرم ﷺ چاہتے تھے کہ امت   مسلمہ کلام اللہ (قرآن حکیم ) کو رسول اکرم ﷺ کے اپنے الفاظ سے ممتاز و مقدم رکھے تاکہ قرآن حکیم کو کلام اللہ ہونے کی حیثیت سے جوامتیازی و اعجازی مقام حاصل ہے ، وہ کبھی متاثر نہ ہو اور مخلوق کے کلام کو کلام اللہ کا درجہ نہ دے دیا جائے۔ یہ درست ہے کہ حدیث رسول ﷺ بھی درحقیقت کلام اللہ (وحی)  کی ایک دوسری قسم سے ہی ماخوذ ہے ، مگر بہر کیف حدیث رسول کا درجہ قرآن حکیم کے مساوی ہرگز نہیں ہوسکتا کیونکہ قرآن حکیم کا نظم و اسلوب اپنے اندر جو معجزانہ کمال رکھتا ہے ، کوئی دوسرا کلام اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔قرآن حکیم مخلوق کے کلام سے ہر اعتبار ...

سچے خدا کا تصور کیسے مسخ ہوا؟

Image
سچے خدا کا تصور سچے خدا کا تصور کیسے مسخ ہوا؟ از قلم ساجد محمود انصاری سیدنا اآدم علیہ السلام خدائے واحد کے پہلے نبی تھے۔سیدنا آدم علیہ السلام کی اولین اولاد سچےخدا پر یقین رکھتی تھی۔وہ خدا کو ویسا ہی    بے مثال    و لاشریک مانتی تھی جیسا کہ حقیقت میں وہ ہے۔   جیسا کہ ارشاد باری تعالیِ ہے كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً  [1]   تمام انسان (شروع میں) ایک ہی امت تھے۔ سیدناآدم علیہ السلام کی اولاد میں پانچ نہایت نیک بزرگ گزرے ہیں ، جن کے نام وَدّ،سُوَاع،یَغُوْث،یَعُوْق اور نَسرہیں ۔یہ اپنی قوم کے اولیاء اللہ تھے،جب یہ وفات پاگئے تو لوگ ان کی قبروں پر کثرت سے آنے جانے لگے،یاد رہے کہ اس وقت تک یہ سیدنا آدم علیہ السلام کی مؤمن امت تھی ۔رفتہ رفتہ لوگوں نے ان قبروں کی مجاو رت شروع کر دی ۔مزید وقت گزرا تو لوگوں نے ان کے یاد گار ی مجسمے بنا لیے ،اس خیال کے تحت کہ ان اللہ والوں کو دیکھ کر اللہ کی عبادت کاشوق ہوگا ۔جب یہ نسل فنا کے گھاٹ اتر گئی تو ان کی اولاد نے ان اولیاء    اللہ کی محبت وتعظیم میں اتنا غُلوکیا کہ خود انہی سے دعائیں مانگنے لگے،یوں ب...

Categories of Topics

Show more