Posts

Showing posts with the label Zakat

Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

رِزق کی تنگی کا علاج

۔ رِزق کی تنگی کا علاج  ہم سب جانتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر جاندار کے رِزق کا ذمہ اپ نے سر لیا ہے کیوں کہ اصل خالق و رازق تو وہی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا ترجمہ: اور زمین پر کوئی ایسا جاندار نہیں جس کارزق اللہ کے ذمہ نہ ہو۔ سورہ ہود: آیت 6 جب ہمارا ایمان ہے کہ ہر انسان کے رزق کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لیا ہے تو پھر معاشرے میں رزق کی تقسیم یکساں کیوں نہیں ہے؟ بات دراصل یہ ہے کہ جس رزق کا ذمہ اللہ نے اپنے سر لیا ہے اس سے مراد وہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایسے قدرتی وسائل کی شکل میں پیدا کیا ہے جن تک ہر شخص کو رسائی حاصل ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ قدرتی وسائل تو ساری دنیا میں حکمران خاندانوں کے قبضے میں ہیں، ان تک عام آدمی کو کسے رسائی حاصل ہے۔ جس رزق تک رسائی ہر شخص کوحاصل ہے وہ زمین کی پیداوار ہے۔ خواہ وہ معدنیا ت کی شکل میں ہو یا پھل دار درختوں اور فصلوں کی شکل میں ہو۔ اتنا رزق ہر شخص حاصل کرسکتا ہے جو زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے۔ اسی رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ اگر آپ درویشانہ زندگی بسر کرنے پر آمادہ ہوجائیں ت...

زیرِ استعمال زیورات پر زکوٰۃ فرض کیوں نہیں؟

زیرِ استعمال زیورات پر زکوٰۃ فرض کیوں نہیں؟   ساجد محمود انصاری حنبلی     اکتوبر 27, 2024   امام شعبیؒ ،امام قتادہؒ، امام مالکؒ، امام شافعی ؒ، امام ابو عبید القاسمؒ،امام ابو ثورؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور امام اسحاق بن راہویہؒ  کی یہی رائے ہے کہ خواتین کے زیرِ استعمال زیورات پر زکوٰۃ فرض نہیں از قلم ساجد محمود انصاری زکوٰۃ کا لغوی مطلب ہے نشو و نما، پھلنا پھولنا اوراضافہ ہونا۔ اسلامی شریعت نے زکوٰۃ کسی جرمانے یا ٹیکس کے طور پر فرض نہیں کی بلکہ یہ ایک عبادت کے طور پر فرض کی ہے۔ زکوٰۃ بنیادی طورپر  آمدن کی بجائے بچت پر فرض کی گئی ہے، نیز زکوٰۃ عام طور پر مال کے مالک پر فرض ہوتی ہے۔ امام علاؤ الدین علی بن سلیمان المرداوی الحنبلیؒ فرماتے ہیں: تَجِبُ الزَّكَاةُ فِى أَرْبَعَةِ أصْنَافٍ مِنَ الْمَالِ، السَّائِمَةِ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ، وَالْخَارِجِ مِنَ الْأَرْضِ، وَالْأَثْمَانِ، وَعُرُوضِ التِّجَارَةِ. وَلَا تَجِبُ فِى غَيْرِ ذَلِك ( الانصاف:6/293 ) زکوٰۃ مال کی چار اقسام پر فرض کی گئی ہے یعنی چوپائے، زمین کی پیداوار، نقدی (سونا چاندی) اور سامانِ تجارت۔اس کے...

Categories of Topics

Show more