کیا مسلمان میت ناپاک ہوتی ہے؟

مسلمان میت

 

 

کیا مسلمان میت ناپاک ہوتی ہے؟

آلِ محمد علیہم الصلوات والسلام کا مذہب یہ ہے کہ مسلمان میت پاک ہوتی ہے ، ناپاک ہرگز نہیں ہوتی۔ اس کو غسل تکریماً دیا جاتا ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس علیہماالسلام سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جب تم اپنے کسی مردہ کو غسل دیتے ہو تو  خود تمہارے لیے غسل کرنا ضروری نہیں۔ بے شک تمہاری میت ناپاک نہیں ہوتی۔تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم اپنے ہاتھ دھو لیا کرو۔[1]

سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام سے دریافت کیا گیا کہ جو شخص میت کو غسل دیتا ہے کیا اس کے لیے غسل کرنا ضروری ہے؟  انہوں نے فرمایا کہ تم نے تو اپنے دوست کو ناپاک قرار دے دیا۔ اس (غسّال)کے لیے وضو کافی ہے۔ [2]

سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام نے فرمایا کہ مسلمان زندہ مردہ دونوں حالتوں میں پاک ہوتا ہے۔[3]

دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایات سے بھی اس  قول کی تائید ہوتی ہے

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے تو رسول اکرم ﷺ تشریف لائے اور ان کے چہرے پر جھکے اور انہیں بوسہ دیا۔[4]

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ جنابت (پلیدی) کی حالت میں تھے کہ ان کا سامنا رسول  اکرم ﷺ کے ساتھ ہوگیا چنانچہ انہوں نے وہاں سے کھسکنے میں عافیت جانی۔ پھر وہ غسل کرکے (نبی ﷺ کی خدمت میں ) آئے  اور عرض کیا کہ میں جنبی تھا (اس لیے آپکے ادب کی وجہ سے کھسک گیا)۔  تب نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسلم نجس نہیں ہوتا۔[5]

سیدنا ابو ہریریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ  ان  کاسامنا مدینہ کی گلی میں نبی ﷺ کے ساتھ ہوگیا جب کہ وہ (ابو ہریرہ ؓ)  اس وقت حالت جنابت میں تھے۔چنانچہ وہ وہاں سے کھسک گئے اور جاکر غسل کیا۔ ادھر نبی ﷺ نے انہیں غیر حاضر پایا۔ جب وہ  (ابو ہریرہ ؓ)   نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے پوچھا کہ اے ابو ہریرہ تم کہاں تھے؟  انہوں نے جواب دیا کہ جب میرا سامنا آپ سے ہوا تھا تو میں جنبی تھا۔ تب نبی ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ مؤمن نجس نہیں ہوتا۔[6]

یہ دونوں صحیح مرفوع احادیث دلالت کرتی ہیں کہ مؤمن جس طرح اپنی زندگی میں ناپاک نہیں ہوتا اسی اطرح مرنے کے بعد بھی پاک رہتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

البتہ میت کو غسل دینے کے بعد غسل کرنا مستحب ہے  جیسا کہ سیدنا علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ جو شخص میت کو غسل دے اسے چاہیے کہ خود بھی غسل کرلے۔اگرچہ سیدنا عبداللہ بن عباس علیہماالسلام کے مذکورہ بالا قول کے مطابق اس کے لیے وضو بھی کافی ہے۔ پس اس دونوں اقوال کو جمع کیا جائے تو یہی حکم نکلتا ہے کہ اس صورت میں غسل مستحب ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

 



[1] سنن الدارقطنی: ج ۵، ص ۷۶

[2] مصنف عبدالرزاق: رقم ۵۹۱۰، سنن البیہقی: رقم ۱۳۵۵

[3] رواہ البخاری تعلیقاً، شرح الزرکشی، ج ۱، ص ۱۸

[4] مصنف عبدالرزاق: رقم ۶۵۶۶

[5] صحیح مسلم ۳۸۲

[6] مسند احمد: رقم ۸۹۵۶

Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

Canal Conflict Boosts Water Crisis

Basics of the Muslim Cosmology

Al-Jazirah: The First Human Settlement

The Qur’anic Chronology of Creation

Seven Continents

Robots Redefined: The Evolution Toward Generalized Cognitive Abilities

How to Buy a Robot?

SWOT Analysis