Featured Post

The Natural Laws Manifest Divine Programming

Image
In the Name of Allah---the Most Beneficent, the Most Merciful. The Natural Laws Manifest Divine Programming Introduction Modern science is built upon one of the most remarkable assumptions about reality: the universe is intelligible because it operates according to consistent laws . Gravity behaves according to recognizable mathematical relationships; electromagnetic phenomena follow precise rules; matter interacts according to reproducible physical and chemical principles; biological organisms function through extraordinarily complex systems; and celestial bodies move according to predictable patterns. Science does not create these laws. It discovers, describes, and mathematically formulates the regularities already present in nature. This raises a deeper philosophical question: Why does the universe possess laws at all? Why is nature orderly, measurable, mathematically intelligible, and sufficiently stable for rational beings to discover its structure? From the Islamic perspective, t...

اپنے جگر کی حفاظت کیجیے

جگر کی حفاظت

اپنے جگر کی حفاظت کیجیے

جگر کا شمار انسانی جسم کے اعضائے رئیسہ میں ہوتا ہے۔ بظاہر اس کا تعلق محض نظامِ انہضام سے ہے مگر در حقیقت جگر کے افعال تمام جسم کو متأثر کرتے ہیں۔ جگر کے نمایاں افعال درج ذیل ہیں

۱۔ جگر صفرا یعنی بائل پیدا کرتا ہے جو ہاضمے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ خاص طور پر چکنئی کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

۲۔ جگر جسم میں گلوکوز کی مقدار کو حدِ اعتدال پر رکھتا ہے۔ اگر خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جائے تو جگر اسے گلائیکوجن کی شکل میں اپنے اندر ذخیرہ کرلیتا ہے اور توانائی کی  ضرورت کے وقت اسے دوبارہ گلوکوز میں تبدیل کردیتا ہے۔

۳۔ چکنائی میں حل ہونے والے وٹامنز کا اپنے اندر ذخیرہ کرتا ہے اور وقتِ ضرورت ان کی فراہمی یقینی بناتا ہے۔

۴۔ جگر خون میں لپڈاز خاص طور پر کولیسٹول کی مقدار اعتدال پر رکھتا ہے۔

۵۔ جگر ضروری نمکیات مثلاً فولاد یعنی آئرن اور تانبے یعنی کاپر کا ذکیرہ کرتا ہے جوکہ خون کی تیاری میں مدد دیتے ہیں۔

۶۔ جگر خون بناتا ہے لہٰذا خون کی تمام پروٹینز جگر میں بنتی ہیں۔ البیومن نامی پروٹین خون کی کل پروٹینز کا پچاس فیصد بنتی ہے۔  البیومن ہی وہ پروٹین ہے جو ہارمونز، وٹامنز، نمکیات اور روغنیات کی ترسیل کی ذمہ دار ہے۔

۷۔ جگر ہی وہ عضو ہے جو امونیا کو یوریا میں تبدیل کرکے پیشاب کا حصہ بناتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں پیشاب کی بناوٹ میں بنیادی کردار جگر کا ہے گردے اس پیشاب کا اخراج کرتے ہیں۔

۸۔ خون کی رقت کو اعتدال میں رکھنا بھی جگر کا فریضہ ہے۔بلڈ کلاٹنگ کے سبب زخموں سے خون بہنا بند ہوتا ہے اور یہی عمل اعتدال سے زیادہ ہوجائے تو شریانوں میں خون کے لوتھڑے جمنے لگتے ہیں جس سے دل کے عوارض جئنم لیتے ہیں۔

۹۔خون سے جراثیم یعنی بیکٹیریا اور زہریلے مواد کا اخراج بھی جگر ہی کرتا ہے۔

۱۰۔ ہم جو ادویات کھاتے ہیں ان کو جسم کا حصہ بنانا اور ان سے پیدا ہونے والے فاسد مواد کو خارج کرنا بھی اصلاً جگر کا وظیفہ ہے۔

راقم نے یہاں جگر کے صرف موٹے موٹے اہم کام ہی بیان کیے ہیں، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جگر پانچ سو سے زائد اہم افعال سرانجام دیتا ہے جن کے بغیر انسنانی زندگی ناممکن ہے۔

جگر کے ان اہم ترین افعال سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جگر کی صحت اور اس کا درست کام کرتے رہنا ہمارے لیے کتنا اہم ہے۔ جگر کی صحت درج ذیل امور سے شدید متأثر ہوتی ہے

۱۔ سگریٹ نوشی

۲۔ شراب نوشی

۳۔ مرغن اور مصالحہ دار غذاؤں کا کثرت سے استعمال

۴۔ چائے اور کافی کا کثرت سے استعمال

۵۔ چاکلیٹ کا کثرت سے استعمال

۶۔ بیف (گائے، بھینس کا گوشت) کا کثرت سے استعمال

۸۔ سافٹ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس کا استعمال

۹۔ شکر یعنی چینی کا کثرت سے استعمال، کہا جاتا ہے کہ شکر جگر کے لیے اتنا ہی مضر ہے جتنی کہ شراب

۱۰۔ جنسی بے راہ روی

۱۱۔ آرام پسند طرزِ زندگی یعنی سستی و کاہلی

۱۲۔ پانی کا کم استعمال

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا جگر تندرست و توانا رہے اور اپنے فرائض بخیرو خوبی سر انجام دیتا رہے تو مذکورہ بالا امور سے اجتناب کریں۔

 


Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

The Qur’anic Chronology of Creation

The Intelligent Universe and Panpsychism

Top 20 Highest Mountains

The Kingdom of Saba: Arabia's Greatest Ancient Civilization

Major Straits of the World

The Largest Lakes of the World

Top Twenty Tallest Waterfalls

The Makkah Joint Defence Agreement: A New Framework for Collective Security in the Muslim World