Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

اپنے جگر کی حفاظت کیجیے

جگر کی حفاظت

اپنے جگر کی حفاظت کیجیے

جگر کا شمار انسانی جسم کے اعضائے رئیسہ میں ہوتا ہے۔ بظاہر اس کا تعلق محض نظامِ انہضام سے ہے مگر در حقیقت جگر کے افعال تمام جسم کو متأثر کرتے ہیں۔ جگر کے نمایاں افعال درج ذیل ہیں

۱۔ جگر صفرا یعنی بائل پیدا کرتا ہے جو ہاضمے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ خاص طور پر چکنئی کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

۲۔ جگر جسم میں گلوکوز کی مقدار کو حدِ اعتدال پر رکھتا ہے۔ اگر خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جائے تو جگر اسے گلائیکوجن کی شکل میں اپنے اندر ذخیرہ کرلیتا ہے اور توانائی کی  ضرورت کے وقت اسے دوبارہ گلوکوز میں تبدیل کردیتا ہے۔

۳۔ چکنائی میں حل ہونے والے وٹامنز کا اپنے اندر ذخیرہ کرتا ہے اور وقتِ ضرورت ان کی فراہمی یقینی بناتا ہے۔

۴۔ جگر خون میں لپڈاز خاص طور پر کولیسٹول کی مقدار اعتدال پر رکھتا ہے۔

۵۔ جگر ضروری نمکیات مثلاً فولاد یعنی آئرن اور تانبے یعنی کاپر کا ذکیرہ کرتا ہے جوکہ خون کی تیاری میں مدد دیتے ہیں۔

۶۔ جگر خون بناتا ہے لہٰذا خون کی تمام پروٹینز جگر میں بنتی ہیں۔ البیومن نامی پروٹین خون کی کل پروٹینز کا پچاس فیصد بنتی ہے۔  البیومن ہی وہ پروٹین ہے جو ہارمونز، وٹامنز، نمکیات اور روغنیات کی ترسیل کی ذمہ دار ہے۔

۷۔ جگر ہی وہ عضو ہے جو امونیا کو یوریا میں تبدیل کرکے پیشاب کا حصہ بناتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں پیشاب کی بناوٹ میں بنیادی کردار جگر کا ہے گردے اس پیشاب کا اخراج کرتے ہیں۔

۸۔ خون کی رقت کو اعتدال میں رکھنا بھی جگر کا فریضہ ہے۔بلڈ کلاٹنگ کے سبب زخموں سے خون بہنا بند ہوتا ہے اور یہی عمل اعتدال سے زیادہ ہوجائے تو شریانوں میں خون کے لوتھڑے جمنے لگتے ہیں جس سے دل کے عوارض جئنم لیتے ہیں۔

۹۔خون سے جراثیم یعنی بیکٹیریا اور زہریلے مواد کا اخراج بھی جگر ہی کرتا ہے۔

۱۰۔ ہم جو ادویات کھاتے ہیں ان کو جسم کا حصہ بنانا اور ان سے پیدا ہونے والے فاسد مواد کو خارج کرنا بھی اصلاً جگر کا وظیفہ ہے۔

راقم نے یہاں جگر کے صرف موٹے موٹے اہم کام ہی بیان کیے ہیں، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جگر پانچ سو سے زائد اہم افعال سرانجام دیتا ہے جن کے بغیر انسنانی زندگی ناممکن ہے۔

جگر کے ان اہم ترین افعال سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جگر کی صحت اور اس کا درست کام کرتے رہنا ہمارے لیے کتنا اہم ہے۔ جگر کی صحت درج ذیل امور سے شدید متأثر ہوتی ہے

۱۔ سگریٹ نوشی

۲۔ شراب نوشی

۳۔ مرغن اور مصالحہ دار غذاؤں کا کثرت سے استعمال

۴۔ چائے اور کافی کا کثرت سے استعمال

۵۔ چاکلیٹ کا کثرت سے استعمال

۶۔ بیف (گائے، بھینس کا گوشت) کا کثرت سے استعمال

۸۔ سافٹ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس کا استعمال

۹۔ شکر یعنی چینی کا کثرت سے استعمال، کہا جاتا ہے کہ شکر جگر کے لیے اتنا ہی مضر ہے جتنی کہ شراب

۱۰۔ جنسی بے راہ روی

۱۱۔ آرام پسند طرزِ زندگی یعنی سستی و کاہلی

۱۲۔ پانی کا کم استعمال

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا جگر تندرست و توانا رہے اور اپنے فرائض بخیرو خوبی سر انجام دیتا رہے تو مذکورہ بالا امور سے اجتناب کریں۔

 


Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

Canal Conflict Boosts Water Crisis

Basics of the Muslim Cosmology

The Qur’anic Chronology of Creation

Al-Jazirah: The First Human Settlement

Seven Continents

Robots Redefined: The Evolution Toward Generalized Cognitive Abilities

How to Buy a Robot?

Developing Leadership Skills in University Students