سچے خدا کا تصور کیسے مسخ ہوا؟
سچے خدا کا تصور کیسے مسخ ہوا؟
از قلم ساجد محمود انصاری
سیدنا اآدم علیہ السلام خدائے واحد کے پہلے نبی تھے۔سیدنا آدم علیہ السلام کی اولین اولاد سچےخدا پر یقین رکھتی تھی۔وہ خدا کو ویسا ہی بے مثال و لاشریک مانتی تھی جیسا کہ حقیقت میں وہ ہے۔
تمام انسان (شروع میں) ایک ہی امت تھے۔
سیدناآدم علیہ السلام کی اولاد میں پانچ نہایت نیک بزرگ گزرے ہیں ، جن کے نام وَدّ،سُوَاع،یَغُوْث،یَعُوْق اور نَسرہیں ۔یہ اپنی قوم کے اولیاء اللہ تھے،جب یہ وفات پاگئے تو لوگ ان کی قبروں پر کثرت سے آنے جانے لگے،یاد رہے کہ اس وقت تک یہ سیدنا آدم علیہ السلام کی مؤمن امت تھی ۔رفتہ رفتہ لوگوں نے ان قبروں کی مجاو رت شروع کر دی ۔مزید وقت گزرا تو لوگوں نے ان کے یاد گار ی مجسمے بنا لیے ،اس خیال کے تحت کہ ان اللہ والوں کو دیکھ کر اللہ کی عبادت کاشوق ہوگا ۔جب یہ نسل فنا کے گھاٹ اتر گئی تو ان کی اولاد نے ان اولیاء اللہ کی محبت وتعظیم میں اتنا غُلوکیا کہ خود انہی سے دعائیں مانگنے لگے،یوں بت پرستی کا آغاز ہو گیا۔ سچے خدا اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں مذکورہ اولیا کو بھی خدا کا درجہ دے دیا۔ اللہ تعالے ٰ نے اس مشرک قوم کی اصلاح کیلئے سیدنا نوح علیہ السلام کو مبعوث فرمایا
وَقَالُوا لا تَذَرُنَّ آلِهَتَکُمْ وَلا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلا سُوَاعًا وَلا یَغُوثَ وَیَعُوقَ وَنَسْرًا [2]
وہ (بت پرست) کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز مت چھوڑنا اور نہ وَدّ، سُواع، یَغُوث،یَعُوق اور نَسرکو چھوڑنا اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ۔
عیلام بن سام کی اولاد ہجرت کرکے قدیم فارس میں جابسی اور وہاں سے کوہ قراقرم کی وادیوں میں سے ہوتے ہوئے قدیم ہندوستان میں آباد ہوگئی۔ دوسری جانب یونان بن یافث کی اولاد نے اناطولیہ کے پہاڑ عبور کرکے یونان میں جا بسیرا کیا۔ ارم بن سام کی اولاد جزیرۃ العرب میں ہی سکونت پذیر رہی، جس کی نسل سے قوم عاد پیدا ہوئی۔
ایسا لگتا ہے کہ آل نوح کی بعد کی پشتوں میں سچے خدا کا تصور زیادہ عرصہ اپنی اصل حالت میں برقرار نہ رہ سکا۔کیونکہ عرب، فارس ، ہندوستان اور یونان چاروں مقامات پر بسنے والوں نے سچے خدا کے تصور سے روگردانی کرکے خود ساختہ خدا تراش لیے تھے۔
ماہرین ِآثار قدیمہ کے محتاط اندازے کے مطابق ہندو تہذیب تقریباً دس ہزار سال پرانی ہوسکتی ہے۔تاہم ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ ان کی مذہبی کتابیں دنیا کی قدیم ترین الہامی کتابیں ہیں۔ہندو دھرم کی مذہبی کتابیں رگ وید اور اُپنیشد وغیرہ میں خدا کے بارے میں نہایت عجیب و غریب تصور تراشا گیا۔ ہندودھرم میں خدا ئے برتر کے لیے پرماتما کی اصطلاح مستعمل ہے۔ مگر ان کے ہاں پرماتما کے بارے میں نہایت عجیب تصور پایا جاتا ہے۔ہندو عقیدے کے مطابق تمام جہان بشمول ان کے
بڑے دیوی دیوتا کرشن، رادھا، رام، سیتا، شیو اور پاروَتی یہ سب پرماتما کے وجود سے نکلے ہیں۔ لہِذا ہندوؤں کا یہ اعتقاد ہے کہ سارا جہان پرماتما کے وجود کا حصہ ہے۔ بالفاظ دیگر ان کے نزدیک کُل جہان پرماتما ہے۔ اسی وجہ سے ہندوکسی بھی شے کی پوجا کرنے میں عار نہیں سمجھتے۔ ان کے خیال میں جس چیز کو بھی پوجا جائے وہ درحقیقت پرماتما کی پوجا ہے۔ چنانچہ پرماتما کو وہ کبھی بھگوان، کبھی ایشور، کبھی رام، کبھی کرشن اور کبھی شیو کے روپ میں تلاش کرتے ہیں۔یہی پرماتما کبھی رادھا، سیتا یا پاروتی کے روپ میں دکھائی جاتی ہے۔غرض دیوی دیوتاوؤں کی ایک نہ ختم ہونے والی طویل فہرست ہے۔
اس سےبھی عجیب تر یہ ہے کہ یہی دیوی دیوتا جو ایک ہی پرماتما کے مختلف روپ ہیں، باہم دست و گریبان دکھائے جاتے ہیں۔
