Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

نماز میں قومہ کی حالت میں ہاتھ باندھیں یا لٹکائیں؟

دین

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا قول اور اس کا بیان

امام احمد علیہ رحمۃ اللہ علیہ کے اس مسئلہ میں دو قول ہیں، پہلا قول یہ ہے کہ نمازی رکوع سے کھڑا ہوکر ہاتھ چھوڑدے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ رکوع کے بعد قیام (قومہ) کی حالت میں نماز پڑھنے والا:

  • ہاتھ لٹکا سکتا ہے (یعنی پہلوؤں کے ساتھ چھوڑ سکتا ہے)، یا
  • ایک ہاتھ کو دوسرے پر رکھ سکتا ہے (یعنی قبض کرنا)،
  • (الانصاف فی معرفۃ الراجح من الخلاف، الروض المربع، شرح منتھی الارادات, کشاف القناع)
  • قال الإمامُ أَحْمد: إذا رفَع رأسَه مِنَ الرّكوعِ، إن شاءَ أرسلَ يدَيْه، وإنْ شاءَ وضَع يمينَه على شِمالِه. وقال في «الرعايَة»: فإذا قامَ أحدُهما أوِ المأمومُ حطَّهُما، وقال: رَبَّنَا وَلكَ الحَمْدُ. ووضَع كل مُصَلِّ يمِينَه على شِمالِه تحتَ سُرَّتِه. وقيل: بل فوْقَها تحتَ صدرِه، أو أرْسَلَهما. نصَّ عليه كما سبَق. وعنه، إذا قامَ رفَعهما، ثم حطَّهُما فقط
  • (الانصاف فی معرفۃ الراجح من الخلاف، ج 3، ص 492)
  • ترجمہ: امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا:
  • جب نمازی رکوع سے سر اٹھائے تو اگر چاہے تو اپنے دونوں ہاتھ چھوڑ دے (یعنی پہلوؤں کے ساتھ لٹکا دے)، اور اگر چاہے تو اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ لے۔
  • اور کتاب "الرعایة” میں آیا ہے:
  • جب امام یا مقتدی قیام (رکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہونے) میں ہو تو اپنے ہاتھ نیچے کر دے اور یہ کہے: رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ۔
  • اور ہر نمازی (قیام میں) اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں پر ناف کے نیچے رکھے۔ اور کہا گیا ہے: بلکہ ناف کے اوپر، سینے کے نیچے رکھے، یا ہاتھوں کو چھوڑ دے۔ امام احمد سے اس پر تصریح منقول ہے جیسا کہ پہلے ذکر ہوا۔
  • اور ان سے یہ بھی روایت ہے کہ جب نمازی قیام میں کھڑا ہو تو پہلے ہاتھ اٹھائے، پھر انہیں نیچے کر دے، بس۔
  • آئیے ہم ان دونوں صورتوں کے دلائل کا موازنہ کرتے ہیں:

پہلے قول کی دلیل درج ذیل حدیث ہے:

حدثنا يحيى بن سعيد عن عبد الحميد بن جعفر قال حدثني محمد بن عطاء عن أبي حميد الساعدي قال سمعته وهو في عشرة من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أحدهم أبو قتادة بن ربعي يقول أنا أعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا له ما كنت أقدمنا صحبة ولا أكثرنا له تباعة قال بلى قالوا فاعرض قال كان إذا قام إلى الصلاة اعتدل قائما ورفع يديه حتى حاذى بهما منكبيه  فإذا أراد أن يركع رفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه ثم قال الله أكبر فركع ثم اعتدل فلم يصب رأسه ولم يقنعه ووضع يديه على ركبتيه ثم قال سمع الله لمن حمده ثم رفع واعتدل حتى رجع كل عظم في موضعه معتدلا ثم هوى ساجدا وقال الله أكبر ثم جافى وفتح عضديه عن بطنه وفتح أصابع رجليه ثم ثنى رجله اليسرى وقعد عليها واعتدل حتى رجع كل عظم في موضعه ثم هوى ساجدا وقال الله أكبر ثم ثنى رجله وقعد عليها حتى يرجع كل عضو إلى موضعه ثم نهض فصنع في الركعة الثانية مثل ذلك حتى إذا قام من السجدتين كبر ورفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه كما صنع حين افتتح الصلاة ثم صنع كذلك حتى إذا كانت الركعة التي تنقضي فيها الصلاة أخر رجله اليسرى وقعد على شقه متوركا ثم سلم

(مسند امام احمد: رقم الحدیث 23088، رواہ البخاری نحوہ: رقم الحدیث 794)

مزید دریافت کریں
E-Books
Books & Literature
Islam

ترجمہ:
ہم سے بیان کیا یحییٰ بن سعید نے، ان سے عبد الحمید بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ مجھے محمد بن عطا نے خبر دی، وہ ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا:
میں نے (ابو حمید ساعدیؓ) نبی کریم ﷺ کے دس صحابہ کی موجودگی میں یہ بات بیان کی، ان میں ابو قتادہ بن ربعی بھی تھے۔ میں نے کہا: ”میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔“
لوگوں نے کہا: ”آپ نہ تو ہم سے زیادہ پرانے ساتھی ہیں اور نہ ہی ہم میں سب سے زیادہ اتباع کرنے والے ہیں۔“
انہوں نے فرمایا: ”کیوں نہیں (میں جانتا ہوں)۔“
لوگوں نے کہا: ”پھر بیان کیجیے۔“

انہوں نے کہا:
”جب رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو سیدھے کھڑے ہوتے اور اپنے ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر ہو جاتے۔ جب رکوع کا ارادہ کرتے تو پھر اسی طرح ہاتھ اٹھاتے اور تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جاتے۔ پھر رکوع میں سر کو نہ زیادہ جھکاتے اور نہ اوپر اٹھا کے رکھتے، بلکہ درمیانی حالت میں رکھتے اور دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے۔ پھر کہتے: سمع الله لمن حمده، اور سر اٹھاتے اور اتنے سیدھے کھڑے ہوتے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ واپسسس آ جاتی۔ پھر سجدے کے لیے جھکتے اور تکبیر کہتے۔ سجدے میں اپنے بازو پیٹ سے الگ رکھتے اور پاؤں کی انگلیاں کھول دیتے۔ پھر اپنا بایاں پاؤں موڑ کر اس پر بیٹھتے اور سیدھے ہوتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ لوٹ آتی۔ پھر دوسرا سجدہ کرتے اور تکبیر کہتے۔ پھر بایاں پاؤں موڑ کر اس پر بیٹھتے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ درست ہو جاتا۔ پھر کھڑے ہوتے۔ دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا۔ جب دو سجدوں سے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ کندھوں کے برابر ہو جاتے، جیسا کہ نماز کی ابتدا میں کیا تھا۔ پھر اسی طرح عمل کرتے رہے۔ یہاں تک کہ جب وہ رکعت آئی جس میں نماز ختم کرنی تھی تو بایاں پاؤں پیچھے کرتے اور بائیں کروٹ پر سہارا لے کر (تَورُّک کی حالت میں) بیٹھتے اور سلام پھیرتے۔“

۱۔ نماز کی ابتداء میں قیام کا ذکر

حدیث میں الفاظ ہیں:

"كان إذا قام إلى الصلاة اعتدل قائما”
ترجمہ: جب رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو سکون کے ساتھ سیدھے کھڑے ہوتے۔

یہاں "اعتدل قائما” سے مراد ہے کہ آپ ﷺ پورے سکون اور اعتدال کے ساتھ سیدھے کھڑے ہوتے، اس حال میں کہ ہاتھوں کو پہلوؤں کے ساتھ چھوڑ کر لتکائے ہوتے۔

۲۔ رکوع سے اٹھنے کے بعد قیام کا ذکر

حدیث کے الفاظ ہیں:

"ثم رفع واعتدل حتى رجع كل عظم في موضعه معتدلا”
ترجمہ: پھر آپ ﷺ رکوع سے اٹھتے اور اتنے سیدھے کھڑے ہوتے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ واپس آ جاتی۔

یہاں بھی "اعتدل” اور "معتدلا” کے الفاظ آئے ہیں، جن کا مطلب ہے کہ آپ ﷺ بالکل سیدھے کھڑے ہوتے۔ اور چونکہ یہ حالت ابتدائے قیام کی طرح ہے، اس لیے ہاتھ بھی ویسے ہی لٹکے ہوتے جیسے ابتدائے قیام میں تھے۔

۳۔ دونوں مقامات کی مشابہت

  • پہلے قیام میں: "اعتدل قائما” → سیدھے کھڑے ہونا، ہاتھ پہلوؤں کے ساتھ۔
  • رکوع کے بعد قیام میں: "اعتدل … معتدلا” → بالکل اسی طرح سیدھے کھڑے ہونا، ہر عضو اپنی جگہ۔

یعنی دونوں مقامات پر "اعتدال” اور "قیام سیدھا” ایک جیسی کیفیت بیان کرتے ہیں۔

۴۔ نتیجہ

اس موازنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ:

  • جس طرح نبی کریم ﷺ نماز کے شروع میں ہاتھ پہلو کے ساتھ لٹکا کر سیدھے کھڑے ہوتے تھے،
  • اسی طرح رکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہونے (قومہ) میں بھی ہاتھ لٹکانا سنت ہے۔

موازنہ: نبی ﷺ کا قیام ابتداء میں اور رکوع کے بعد

1. قیام ابتداء کا ذکر

حدیث کے الفاظ:
"كان إذا قام إلى الصلاة اعتدل قائما”

  • مطلب: جب آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو پورے سکون اور اعتدال سے سیدھے کھڑے ہوتے۔
  • یہاں کوئی اضافہ ذکر نہیں کہ ہاتھ کہاں رکھتے، اس لیے اصل حالت یہی ہے کہ ہاتھ پہلو کے ساتھ لٹکے ہوتے۔

2. رکوع کے بعد قیام کا ذکر

حدیث کے الفاظ:
"ثم رفع واعتدل حتى رجع كل عظم في موضعه معتدلا”

  • مطلب: آپ ﷺ رکوع سے اٹھ کر اتنے سیدھے کھڑے ہوتے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ آ جاتی۔
  • یہاں بھی الفاظ بالکل وہی ہیں جو ابتداء قیام کے لیے آئے: "اعتدل” اور "معتدلا”۔
  • اس سے واضح ہوتا ہے کہ رکوع کے بعد کا قیام بھی ویسا ہی سیدھا قیام تھا جیسا نماز کے شروع میں۔

3. دونوں مقامات کی مشابہت

  • پہلے قیام میں: اعتدل قائما → ہاتھ پہلو کے ساتھ چھوڑ کر سیدھا قیام۔
  • رکوع کے بعد قیام میں: اعتدل … معتدلا → بالکل اسی طرح کا سیدھا قیام، ہر عضو اپنی اصل حالت میں۔
  • چونکہ دونوں میں ایک ہی کیفیت "اعتدال” اور "قیام سیدھا” بیان ہوئی ہے، اس لیے دونوں قیاموں میں ہاتھوں کی حالت بھی ایک جیسی ہونی چاہیے۔

4. اصولی قاعدہ

  • "مطلق” قیام میں اصل عادت ہاتھ لٹکانا ہے۔
  • "خصوصی” قیام میں (یعنی قراءت والا قیام) ہاتھ باندھنے کا حکم آیا ہے۔
  • رکوع کے بعد چونکہ قراءت نہیں ہے، اس لیے یہ قیام مطلق قیام کے حکم میں ہے۔
  • لہٰذا رکوع کے بعد قیام میں ہاتھ لٹکانا سنت ہے، نہ کہ باندھنا۔

5. نتیجہ

  • نبی کریم ﷺ نے نماز کی ابتداء میں ہاتھ پہلو کے ساتھ چھوڑ کر سیدھے کھڑے ہونا اختیار فرمایا۔
  • رکوع کے بعد جب سیدھے کھڑے ہوئے تو وہی کیفیت اپنائی: ہاتھ پہلو کے ساتھ لٹکے ہوئے۔
  • اس موازنہ سے ثابت ہوا کہ رکوع کے بعد سیدھا کھڑے ہونا ابتدائی قیام کی طرح ہے، اور اس میں ہاتھ لٹکانا ہی سنت ہے۔

دوسرا قول کہ نمازی کو اختیار ہے کہ کہ وہ قومہ کی حالت میں چاہے تو ہاتھ لٹکالے چاہے رکوع سے پہلے کی طرح باندھ لے۔ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کی درج ذیل دلیل بیان کی جاتی ہے:
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: «كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ اليَدَ اليُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ اليُسْرَى فِي الصَّلاَةِ»
(صحیح البخاری،باب وضع الیمنی علی الیسری فی الصلاۃ ،رقم الحدیث:740،مؤطا امام مالک)

ترجمہ: سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ کہ نماز میں (حالتِ قیام میں) دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا جائے۔

مزید دریافت کریں
E-Books
Islam
Books & Literature

اس حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے کہ چونکہ رکوع کے بعد قیام بھی رکوع سے پہلے قیام کی طرح ہے، اس لیے اس حالت میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا جائے یعنی ہاتھ باندھے جائیں۔

ہمارے نزدیک سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث کے عموم کی تخصیص کرتی ہے۔ نیز سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کی حدیث مجمل ہے جبکہ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث مفصل ہے۔ اس لیے راجح یہ ہے کہ رکوع کے بعد ہتھوں کو لٹکایا جائے۔ (واللہ اعلم بالصواب)

1. قیام اور قومہ میں فرق کیوں ضروری ہے؟

  • قیام (ابتداء یا قراءت والا قیام):
    اس میں تلاوت کی جاتی ہے اور سنت یہ ہے کہ ہاتھ باندھے جاتے ہیں۔
  • قومہ (رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا):
    اس میں صرف "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ” اور "رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ” کہا جاتا ہے۔ یہاں قراءت نہیں کی جاتی۔ سنت کے مطابق اس میں ہاتھ چھوڑے رہتے ہیں (جیسا کہ حدیث کے موازنہ سے اوپر واضح کیا گیا)۔

لہٰذا قیام اور قومہ کی پہچان یہی ہے کہ قیام میں قراءت ہے اور قومہ میں قراءت نہیں ہے۔

2. اگر امام قومہ میں بھی ہاتھ باندھ لے

اگر امام سری نماز میں قومہ میں بھی ہاتھ باندھ لیتا ہے تو یہ پہچان کی علامت ختم ہو جاتی ہے۔ اب مقتدی جب نماز میں شامل ہو گا تو اسے اشتباہ پیدا ہوگا کہ امام قراءت والے قیام میں ہے یا قومہ میں۔

3. جماعت میں شامل ہونے والے مقتدی کی عملی مشکل

فرض کریں:

  • امام قومہ میں ہے اور اس نے ہاتھ باندھے ہوئے ہیں۔
  • ایک مقتدی آ کر سمجھتا ہے کہ امام قیام (قراءت) میں ہے۔ وہ سورۃ الفاتحہ شروع کر دیتا ہے۔
  • ابھی اس نے چند آیتیں ہی پڑھی ہیں کہ امام سجدہ میں چلا جائے جبکہ یہ مقتدی رکوع میں جائے گا۔ امام کو سجدہ میں دیکھ کر یہ ہڑبڑائے گا اور یا تو سیدھا کھڑا ہوجائے گا یا سجدہ میں چلا جائے گا۔
  • یہ نماز میں خلل اور کنفیوژن ہے، اور جماعت کا مقصد ہی وضوح اور اتباع ہے، کنفیوژن پیدا کرنا نہیں۔

4. شریعت کا اصول

  • نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
    "إنما جُعل الإمام ليؤتم به”
    (امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اتباع کی جائے)۔
  • (صحیح مسلم)
  • اتباع تبھی ممکن ہے جب امام کی حرکات مقتدی کے لیے صاف اور واضح ہوں۔

اگر امام قومہ میں بھی ہاتھ باندھے گا تو مقتدی کو یہ واضح فرق محسوس نہیں ہوگا کہ یہ قیامِ قراءت ہے یا قیامِ قومہ۔ اس سے جماعت میں خلل آئے گا اور "اتباع” کا مقصد فوت ہو جائے گا۔

5. نتیجہ

  • قیامِ قراءت میں ہاتھ باندھنا سنت ہے۔
  • قومہ (رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونے کی حالت) میں ہاتھ چھوڑنا سنت ہے۔
  • اس فرق کو باقی رکھنا ہی حکمت ہے تاکہ مقتدی کو معلوم ہو سکے کہ امام کس حالت میں ہے۔
  • اگر امام دونوں جگہ ہاتھ باندھ لے گا تو مقتدی غلطی سے سورۃ الفاتحہ شروع کر دے گا، اور امام سجدے میں جا کر مقتدی کو مشکل میں ڈال دے گا۔

👉 اس وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ قومہ میں ہاتھ چھوڑنے کی سنت صرف نبی ﷺ کی اتباع ہی نہیں بلکہ جماعت کی مصلحت اور وضوح کے لیے بھی ہے۔ پھر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے دوسرے قول کے مطابق ہاتھ باندھنے یا لٹکانے مین اختیار ہے، تو کیوں نہ وہ عمل اختیار کیا جائے جس میں جمہور کے ساتھ موافقت اور اتحاد امت کا پہلو غالب ہے۔ واللہ اعلم

Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

Canal Conflict Boosts Water Crisis

The Qur’anic Chronology of Creation

Basics of the Muslim Cosmology

Al-Jazirah: The First Human Settlement

Seven Continents

Robots Redefined: The Evolution Toward Generalized Cognitive Abilities

How to Buy a Robot?

Developing Leadership Skills in University Students