Posts

Showing posts with the label Ahl al-Bayt

Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

کیا امام حسن و امام حسین علیہما السلام نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے وظیفے لیے؟

کیا امام حسن و امام حسین علیہما السلام نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے وظیفے لیے؟ بعض لوگ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ  کی فضیلت و اور عدل  وانصاف کی دلیل کے طور پر یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ اگر ان کی حکومت عادل یا برحق نہ تھی تو امام حسن و امام حسین علیہما السلام نے ان سے وظیفے کیوں وصول کیے؟ عوام الناس چونکہ اصل حقیقت سے واقف نہیں ہوتے اس لیے ان کے ذہن میں درویشوں کے امام مولا علی علیہ السلام کے ان عظیم جنتی شہزادوں کے بارے میں یہ تأثر ابھرتا ہے کہ جیسے وہ کوئی دنیادار اور لالچی قسم کے انسان تھے جو اپنے ذاتی مفاد کے لیے خلیفہ سے لاکھوں درہم سالانہ وظیفہ وصول کرتے رہے معاذاللہ۔ اللہ  تعالیٰ نےاپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خانوادے بنو ہاشم کو یہ اعزاز قیامت تک کے لیے عطا فرمایا ہے کہ میدان جنگ سے حاصل ہونے والے مالِ غنیمت میں سے پانچواں حصہ یعنی خُمس اہلِ بیت علیہم السلام کے لیے مخصوص ہے۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر سورہ الانفال کی آیت نمبر 41 میں آیا ہے:  وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْي...

اسلام میں بنو ہاشم کا مقام و مرتبہ

  اسلام میں بنو ہاشم کا مقام و مرتبہ بنو ہاشم                                           اسلام میں بنو ہاشم کا مقام و مرتبہ اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ نبی آخرالزمان سیدنا محمدرسول اللہ ﷺ تمام انبیا میں اعلیٰ و افضل ہیں۔آپ ﷺ  کی نسبت سے ہی اللہ تعالیٰ نے امت محمدیﷺ کو خیر ِامت (سب سے بہتر امت) قرار دیا۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: كُنْتُمْ  خَیْرَ  اُمَّةٍ  اُخْرِجَتْ  لِلنَّاسِ (سورۃ آل عمران: 110) ترجمہ: تم سب سے بہترین امت ہو جسے لوگوں (کی رہنمائی)کے لیے نکالا گیا ہے۔  اللہ تعالیٰ نے سابقہ امتوں کو اموال غنیمت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جبکہ یہ بھی امت محمدیﷺ کی خاصیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ثُمَّ أَحَلَّ اللَّهُ لَنَا الْغَنَائِمَ، رَأَى ضَعْفَنَا وَع...

شیخ عبدالقادر جیلانی الحنبلی رحمہ اللہ تعالیٰ

Image
شیخ عبدالقادر جیلانی الحنبلی رحمہ اللہ تعالیٰ عبدالقادرجیلانی شیخ عبدالقادرجیلانی الحنبلی رحمہ اللہ تعالیٰ ابتدائی تعارف شیخِ طریقت، قدوۃ الاولیاء، سلطان العارفین سید محی الدین عبدالقادر بن ابی صالح جیلانی رحمہ اللہ عالمِ اسلام کی ان عظیم المرتبت شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے علم و عمل، فقہ و روحانیت، اور شریعت و طریقت کے حسین امتزاج سے امت کی رہنمائی فرمائی۔ آپ کی ذاتِ گرامی نہ صرف اہلِ تصوف بلکہ اہلِ فقہ و علم کے ہاں بھی غیر معمولی احترام رکھتی ہے۔ صدیوں گزر جانے کے باوجود آپ کا فیضانِ علم و روحانیت آج بھی زندہ و تابندہ ہے۔ نسب اور ولادت امام ابن الجوزی الحنبلی ؒ کی کتاب المنتظم فی تاریخ الملوک والامم کے مطابق آپ 470 ہجری (1077ء) کے لگ بھگ ایران کے شمالی علاقے جیلان میں پیدا ہوئے، اسی نسبت سے "الجیلانی” یا ’’الجیلی‘‘ کہلائے۔ آپ کا سلسلہ نسب والد کی جانب سے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے جا ملتا ہے، اور والدہ کی طرف سے امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے۔ اس طرح آپ حسنی و حسینی سادات میں سے ہیں۔ آپ کے والد محترم سید ابوصالح موسٰی جنگی‌دوست اور والدہ ماجدہ فاطمہ بنت عبداللہ صا...

سفینہ ٔ نجات

Image
سفینہ ٔ نجات سفینہ ٔ نجات سفینہ ٔ نجات از قلم ساجد محمود انصاری حنبلی أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ الزَّاهِدُ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَنَشٍ الْكِنَانِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: وَهُوَ آخِذٌ بِبَابِ الْكَعْبَةِ مَنْ عَرَفَنِي فَأَنَا مَنْ عَرَفَنِي، وَمَنْ أَنْكَرَنِي فَأَنَا أَبُو ذَرٍّ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَلَا إِنَّ مَثَلَ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ مَثَلُ سَفِينَةِ نُوحٍ مِنْ قَوْمِهِ، مَنْ رَكِبَهَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ» المستدرك على الصحيحين: رقم4720   ترجمہ: جناب حنش کنانیؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوذر غِفاری رضی اللہ عنہ کو بیت اللہ کے دروازے کو تھامے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھےجس نے مجھے پہچانا، وہ پہچانتا ہے، اور جس نے مجھے نہیں پہچانا، تو (جان لے کہ) میں ابوذر ہوں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’خبر...

Categories of Topics

Show more