The Qur’anic Chronology of Creation

واقعۂ معراج النبی ﷺ اسلام کی تاریخ کا ایک غیر معمولی اور روحانی طور پر عمیق واقعہ ہے، جس میں نبی کریم ﷺ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی، جنت و جہنم کے مناظر دکھائے گئے اور امت کے لیے نماز کا تحفہ عطا کیا گیا۔ اس عظیم الشان واقعے کا سب سے نازک اور علمی پہلو یہ ہے کہ کیا نبی کریم ﷺ نے شبِ معراج اپنے ربّ کا دیدار کیا؟
اس مسئلے میں اہلِ سنت کے مختلف ائمہ نے گفتگو کی ہے، مگر امام احمد بن حنبلؒ اور ان کے متبعین ائمہ حنابلہ نے دیدارِ الٰہی کے اثبات کا صریح موقف اختیار کیا ہے۔ ذیل میں ہم اسی موقف کو تحقیقی انداز میں، نصوصِ حنابلہ، اقوالِ مفسرین و محدثین اور عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ بیان کریں گے۔
ائمہ حنابلہ کی روایت کردہ نصوص سے واضح ہوتا ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے نزدیک نبی کریم ﷺ نے معراج کی رات اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا۔ امام احمدؒ کے نزدیک اس میں کوئی اختلاف نہیں، بلکہ یہ بات منقول و ثابت عقیدہ ہے۔
حنبلی مکتب میں اس دیدار کو رؤیة بالعیون یعنی ’’آنکھوں سے دیدار‘‘ کہا گیا ہے، نہ کہ صرف قلبی یا روحانی مشاہدہ۔ اس کے برعکس جن روایات میں قلبی دیدار کا ذکر ہے، انہیں ائمہ حنابلہ نے دوسرے مفاہیم پر محمول کیا ہے، جیسا کہ قاضی ابو یعلیٰؒ نے صراحت کی ہے کہ نبی ﷺ کو دنیا میں خواب میں بھی اللہ تعالیٰ کی زیارت ہوئی۔ مگر یہ زیارت معراج کی زیارت سے مختلف اور الگ ہے۔
یوں ان کے نزدیک امام احمد ؒ کی طرف منسوب روایات میں ظاہری تعارض ختم ہوجاتا ہے:
یہ اصولی تفریق اس مسئلے کی فہم میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اور اسی پر حنبلی مکتب کی پوری تعبیر قائم ہے۔
قاضی ابو یعلیٰؒ نے قرآن مجید کی اس آیت سے استدلال کیا:
{مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى}“دل نے اس منظر کو جھٹلایا نہیں جو اُس نے دیکھا۔”
قاضی ابو یعلیٰؒ فرماتے ہیں:
فالظاهر يقتضي أن النبي ﷺ لما رأى الله بعيني رأسه ليلة المعراج عند سدرة المنتهى لم يكذب فؤاده ما رآه بعيني رأسه
یہ تفسیر بصری دیدار کے اثبات پر مبنی ہے۔ قاضی ابو یعلیٰؒ کے نزدیک آیت کا سیاق و سباق نبی ﷺ کے عینی مشاہدے کی تصدیق کرتا ہے، نہ کہ محض قلبی یا روحانی کشف کی۔
قاضی ابو یعلیٰؒ نے اپنے موقف کی تائید میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت پیش کی، جو اس مسئلے میں نہایت واضح اور قوی دلیل ہے:
قال رسول الله ﷺ في قوله: {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} قال: رَأَيْتُ رَبِّي، جَلَّ اسْمُهُ، مُشَافَهَةً لا شَكَّ فِيهِ، وفي قوله: {عِندَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى} قال: رَأَيْتُهُ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى حَتَّى تَبَيَّنَ لَهُ نُورُ وَجْهِهِ.
یہ روایت بصری دیدار پر دلالت کرتی ہے، اور قاضی ابو یعلیٰؒ نے اسی کو بنیاد بنا کر فرمایا کہ نبی ﷺ نے شبِ معراج مشاہدۂ ذاتِ باری تعالیٰ اپنی آنکھوں سے فرمایا۔
بعض احادیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ "من زعم أن محمداً رأى ربه فقد أعظم على الله الفرية” — "جس نے یہ کہا کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا، اس نے اللہ پر بہتان باندھا۔”
ائمہ حنابلہ کے نزدیک سیدہ عائشہؓ کا یہ قول دنیا میں آنکھوں سے دیدار کے انکار پر محمول ہے۔ ان کے نزدیک معراج کا دیدار عالمِ علوی میں ہوا، جو دنیاوی عالم (عالمِ سفلی) سے بالاتر ہے۔
لہٰذا سیدہ عائشہؓ کا انکار دنیا کے حالات پر مبنی ہے، جبکہ معراج کا دیدار اخروی نوعیت کا ہے، اس لیے دونوں اقوال میں کوئی حقیقی تعارض نہیں رہتا۔
ائمہ حنابلہ کا موقف یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو شبِ معراج میں اولین و آخرین کا علم عطا کیا گیا، اور آپ ﷺ نے جنت، جہنم، برزخ اور آخرت کے تمام مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے۔
چونکہ یہ مشاہدہ اخروی نوعیت کا تھا، اس لیے نبی ﷺ کا دیدارِ الٰہی بھی دیدارِ آخرت پر محمول ہے۔ آخرت میں مومنین کے لیے دیدارِ الٰہی کا وعدہ قطعی ہے:
{وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ * إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} (القیامۃ: 22-23)
لہٰذا نبی ﷺ کا معراج میں دیدار اسی حقیقت کی پیشگی تجلی تھی۔
امام ابن بطہؒ (387ھ) نے اپنی کتاب الابانۃ الکبریٰ میں، اور قاضی ابو یعلیٰؒ نے اپنی تصنیف ابطال التأویلات میں، نبی ﷺ کے دیدارِ معراج کو دیدارِ آخرت کے باب میں ذکر کیا ہے۔
اس سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ ان ائمہ کے نزدیک معراج کا دیدار دنیوی نوعیت کا نہیں بلکہ عالمِ ملکوت میں خروی درجے کا مشاہدہ تھا۔ یہی وہ موقف ہے جو امام احمدؒ کے منہج کی صحیح تعبیر قرار پایا۔
معراج کی رات نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا سر کی آنکھوں سے دیدار ہونا صرف امام احمدؒ اور حنابلہ کا ہی مؤقف نہیں ہے بلکہ دیگر مکاتبِ فکر کے جید محققین علما کی بھی یہی رائے ہے۔ مثلاً قاضی عیاض المالکیؒ، امام شرف الدین النووی الشافعیؒ، امام ابن حجر العسقلانی الشافعیؒ، امام علاؤالدین مغلطائی الحنفیؒ، امام جلال الدین السیوطی الشافعیؒ اور امام قسطلانیؒ شارح صحیح البخاری وغیرہ اس مسئلہ میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے ہمنوا ہیں۔
ائمہ حنابلہ کے اجماعی نصوص، قاضی ابو یعلیٰؒ اور ابن بطہؒ کے استدلالات، قرآنی آیات اور احادیثِ صحیحہ کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ:
یوں معراج کی رات دیدارِ الٰہی کا اثبات حنبلی مکتب کے مسلکِ اثبات و تسلیم کا مظہر ہے، جو محکماتِ قرآن و سنت کو ان کے ظاہر پر ماننے اور تاویل سے گریز کرنے پر قائم ہے۔