Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

معراج کی رات اللہ تعالیٰ کا دیدار

معراج کی رات اللہ تعالیٰ کا دیدار
معراج کی رات اللہ تعالیٰ کا دیدار

معراج کی رات اللہ تعالیٰ کا دیدار

تعارف

واقعۂ معراج النبی ﷺ اسلام کی تاریخ کا ایک غیر معمولی اور روحانی طور پر عمیق واقعہ ہے، جس میں نبی کریم ﷺ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی، جنت و جہنم کے مناظر دکھائے گئے اور امت کے لیے نماز کا تحفہ عطا کیا گیا۔ اس عظیم الشان واقعے کا سب سے نازک اور علمی پہلو یہ ہے کہ کیا نبی کریم ﷺ نے شبِ معراج اپنے ربّ کا دیدار کیا؟

اس مسئلے میں اہلِ سنت کے مختلف ائمہ نے گفتگو کی ہے، مگر امام احمد بن حنبلؒ اور ان کے متبعین ائمہ حنابلہ نے دیدارِ الٰہی کے اثبات کا صریح موقف اختیار کیا ہے۔ ذیل میں ہم اسی موقف کو تحقیقی انداز میں، نصوصِ حنابلہ، اقوالِ مفسرین و محدثین اور عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ بیان کریں گے۔

1۔ امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک دیدارِ الٰہی کا اثبات

ائمہ حنابلہ کی روایت کردہ نصوص سے واضح ہوتا ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے نزدیک نبی کریم ﷺ نے معراج کی رات اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا۔ امام احمدؒ کے نزدیک اس میں کوئی اختلاف نہیں، بلکہ یہ بات منقول و ثابت عقیدہ ہے۔

حنبلی مکتب میں اس دیدار کو رؤیة بالعیون یعنی ’’آنکھوں سے دیدار‘‘ کہا گیا ہے، نہ کہ صرف قلبی یا روحانی مشاہدہ۔ اس کے برعکس جن روایات میں قلبی دیدار کا ذکر ہے، انہیں ائمہ حنابلہ نے دوسرے مفاہیم پر محمول کیا ہے، جیسا کہ قاضی ابو یعلیٰؒ نے صراحت کی ہے کہ نبی ﷺ کو دنیا میں خواب میں بھی اللہ تعالیٰ کی زیارت ہوئی۔ مگر یہ زیارت معراج کی زیارت سے مختلف اور الگ ہے۔

2۔ قاضی ابو یعلیٰ الحنبلیؒ کی وضاحت: خواب اور معراج کے دیدار میں فرق

امام قاضی ابو یعلیٰ الفراء الحنبلیؒ (458ھ) نے اس مسئلے کی بڑی دقیق وضاحت فرمائی۔ انہوں نے بیان کیا کہ وہ احادیث جن میں بظاہر دیدارِ الٰہی کو قلبی مشاہدہ قرار دیا گیا ہے، وہ دنیا میں خواب یا کشف کے دوران دیدار سے متعلق ہیں، نہ کہ شبِ معراج کے واقعات سے۔ قاضی ابو یعلیٰ ؒ فرماتے ہیں:
وهذا الاختلاف عنه ليس براجع إلى ليلة المعراج إنما هو راجع إلى رؤيته فِي المنام فِي غير تِلْكَ الليلة رآه بقلبه عَلَى ما نبينه فما بعد، 

ترجمہ:
“اور ان (روایات) میں جو اختلاف منقول ہے، وہ شبِ معراج سے متعلق نہیں بلکہ نبی ﷺ کے خواب میں دیدار سے متعلق ہے، جو اُس رات (معراج) کے علاوہ کسی اور وقت میں ہوا تھا۔ اُس موقع پر آپ ﷺ نے اپنے دل کے ذریعے (اللہ تعالیٰ کا) دیدار فرمایا، جیسا کہ ہم آگے وضاحت کریں گے۔”

(ابطال التاویلات)

یوں ان کے نزدیک امام احمد ؒ کی طرف منسوب روایات میں ظاہری تعارض ختم ہوجاتا ہے:

  • قلبی رؤیت کا اثبات خواب یا دنیوی عالم کے حوالے سے ہے۔
  • عینی و بصری رؤیت کا اثبات عالمِ علوی، یعنی معراج کے عالم میں ہے۔

یہ اصولی تفریق اس مسئلے کی فہم میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اور اسی پر حنبلی مکتب کی پوری تعبیر قائم ہے۔

3۔ آیت {مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى} سے قرآنی استدلال

قاضی ابو یعلیٰؒ نے قرآن مجید کی اس آیت سے استدلال کیا:

{مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى}
“دل نے اس منظر کو جھٹلایا نہیں جو اُس نے دیکھا۔”

قاضی ابو یعلیٰؒ فرماتے ہیں:

فالظاهر يقتضي أن النبي ﷺ لما رأى الله بعيني رأسه ليلة المعراج عند سدرة المنتهى لم يكذب فؤاده ما رآه بعيني رأسه

ترجمہ:
“ظاہرِ آیت اس پر دلالت کرتا ہے کہ نبی ﷺ نے شبِ معراج میں سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پر اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو دیکھا، اور آپ ﷺ کے دل نے اس منظر کو جھٹلایا نہیں جو آپ ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔”

(ابطال التاویلات)

یہ تفسیر بصری دیدار کے اثبات پر مبنی ہے۔ قاضی ابو یعلیٰؒ کے نزدیک آیت کا سیاق و سباق نبی ﷺ کے عینی مشاہدے کی تصدیق کرتا ہے، نہ کہ محض قلبی یا روحانی کشف کی۔

4۔ حدیثِ جابر سے دیدار کا اثبات

قاضی ابو یعلیٰؒ نے اپنے موقف کی تائید میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت پیش کی، جو اس مسئلے میں نہایت واضح اور قوی دلیل ہے:

قال رسول الله ﷺ في قوله: {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} قال: رَأَيْتُ رَبِّي، جَلَّ اسْمُهُ، مُشَافَهَةً لا شَكَّ فِيهِ، وفي قوله: {عِندَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى} قال: رَأَيْتُهُ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى حَتَّى تَبَيَّنَ لَهُ نُورُ وَجْهِهِ.

ترجمہ:
نبی ﷺ نے فرمایا: “آیت {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} کے بارے میں، میں نے اپنے رب کو بلاواسطہ دیکھا، اس میں کوئی شک نہیں۔ اور آیت {عِندَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى} کے بارے میں فرمایا: میں نے اسے سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پر دیکھا یہاں تک کہ اس کے چہرے کا نور میرے سامنے ظاہر ہوگیا۔”

یہ روایت بصری دیدار پر دلالت کرتی ہے، اور قاضی ابو یعلیٰؒ نے اسی کو بنیاد بنا کر فرمایا کہ نبی ﷺ نے شبِ معراج مشاہدۂ ذاتِ باری تعالیٰ اپنی آنکھوں سے فرمایا۔

5۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے انکار کی توجیہ

بعض احادیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ "من زعم أن محمداً رأى ربه فقد أعظم على الله الفرية” — "جس نے یہ کہا کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا، اس نے اللہ پر بہتان باندھا۔”

ائمہ حنابلہ کے نزدیک سیدہ عائشہؓ کا یہ قول دنیا میں آنکھوں سے دیدار کے انکار پر محمول ہے۔ ان کے نزدیک معراج کا دیدار عالمِ علوی میں ہوا، جو دنیاوی عالم (عالمِ سفلی) سے بالاتر ہے۔

مزید دریافت کریں
Books & Literature
E-Books
Islam

لہٰذا سیدہ عائشہؓ کا انکار دنیا کے حالات پر مبنی ہے، جبکہ معراج کا دیدار اخروی نوعیت کا ہے، اس لیے دونوں اقوال میں کوئی حقیقی تعارض نہیں رہتا۔

6۔ دیدار کو اخروی مشاہدے پر قیاس کرنا

ائمہ حنابلہ کا موقف یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو شبِ معراج میں اولین و آخرین کا علم عطا کیا گیا، اور آپ ﷺ نے جنت، جہنم، برزخ اور آخرت کے تمام مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے۔

چونکہ یہ مشاہدہ اخروی نوعیت کا تھا، اس لیے نبی ﷺ کا دیدارِ الٰہی بھی دیدارِ آخرت پر محمول ہے۔ آخرت میں مومنین کے لیے دیدارِ الٰہی کا وعدہ قطعی ہے:

{وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ * إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} (القیامۃ: 22-23)

لہٰذا نبی ﷺ کا معراج میں دیدار اسی حقیقت کی پیشگی تجلی تھی۔

7۔ ائمہ حنابلہ کی تصریحات: ابن بطہؒ اور قاضی ابو یعلیٰؒ

امام ابن بطہؒ (387ھ) نے اپنی کتاب الابانۃ الکبریٰ میں، اور قاضی ابو یعلیٰؒ نے اپنی تصنیف ابطال التأویلات میں، نبی ﷺ کے دیدارِ معراج کو دیدارِ آخرت کے باب میں ذکر کیا ہے۔

اس سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ ان ائمہ کے نزدیک معراج کا دیدار دنیوی نوعیت کا نہیں بلکہ عالمِ ملکوت میں خروی درجے کا مشاہدہ تھا۔ یہی وہ موقف ہے جو امام احمدؒ کے منہج کی صحیح تعبیر قرار پایا۔

اعتراض اور اس کا جواب

اعتراض: سیدہ عائشہؓ اور ابن مسعودؓ سے دیدار کی نفی منقول ہے، لہٰذا اس مسئلے میں اختلاف ہے۔
جواب: یہ نفی دنیاوی یا خواب کے مشاہدے کی بابت ہے، نہ کہ معراج کے وقت کے۔ معراج کا واقعہ عالمِ علوی میں رونما ہوا، اس لیے وہ دنیوی قوانین سے ماورا ہے۔ مزید برآں ابن عباسؓ اور دیگر صحابہ سے صریح روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا، اور حنبلی مکتب نے اسی روایت کو راجح مانا۔

8۔ دیگر مکاتبِ فکر کا مؤقف

معراج کی رات نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا سر کی آنکھوں سے دیدار ہونا صرف امام احمدؒ اور حنابلہ کا ہی مؤقف نہیں ہے بلکہ دیگر مکاتبِ فکر کے جید محققین علما کی بھی یہی رائے ہے۔ مثلاً قاضی عیاض المالکیؒ، امام شرف الدین النووی الشافعیؒ، امام ابن حجر العسقلانی الشافعیؒ، امام علاؤالدین مغلطائی الحنفیؒ، امام جلال الدین السیوطی الشافعیؒ اور امام قسطلانیؒ شارح صحیح البخاری وغیرہ اس مسئلہ میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے ہمنوا ہیں۔

نتیجہ

ائمہ حنابلہ کے اجماعی نصوص، قاضی ابو یعلیٰؒ اور ابن بطہؒ کے استدلالات، قرآنی آیات اور احادیثِ صحیحہ کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ:

  • نبی کریم ﷺ نے شبِ معراج اللہ تعالیٰ کا دیدار فرمایا۔
  • یہ دیدار بصری و حقیقی تھا، محض قلبی یا روحانی نہیں۔
  • سیدہ عائشہؓ کا انکار دنیا میں آنکھوں سے دیدار سے متعلق ہے۔
  • معراج کا دیدار اخروی نوعیت رکھتا ہے، اس لیے اس میں کسی قسم کا شرعی یا عقلی اشکال باقی نہیں رہتا۔

یوں معراج کی رات دیدارِ الٰہی کا اثبات حنبلی مکتب کے مسلکِ اثبات و تسلیم کا مظہر ہے، جو محکماتِ قرآن و سنت کو ان کے ظاہر پر ماننے اور تاویل سے گریز کرنے پر قائم ہے۔

Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

Canal Conflict Boosts Water Crisis

The Qur’anic Chronology of Creation

Basics of the Muslim Cosmology

Al-Jazirah: The First Human Settlement

Seven Continents

Robots Redefined: The Evolution Toward Generalized Cognitive Abilities

How to Buy a Robot?

Developing Leadership Skills in University Students