The Qur’anic Chronology of Creation

یہاں “الناس” سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ ایمان کا اصل معیار وہ ایمان ہے جو صحابہ نے اختیار کیا۔ ان کا ایمان کسی مصلحت، مجبوری یا دنیاوی فائدے پر مبنی نہیں تھا بلکہ خالص یقین، اطاعت اور محبتِ الٰہی پر قائم تھا۔
وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ فِیۡکُمۡ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ؕ لَوۡ یُطِیۡعُکُمۡ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ لَعَنِتُّمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیۡکُمُ الۡاِیۡمَانَ وَ زَیَّنَہٗ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ وَ کَرَّہَ اِلَیۡکُمُ الۡکُفۡرَ وَ الۡفُسُوۡقَ وَ الۡعِصۡیَانَ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الرّٰشِدُوۡنَ ۙ﴿۷﴾
اور جان رکھو کہ تم میں اللہ کے رسول موجود ہیں اگر وہ تمہارا کہا کرتے رہے بہت امور میں تو تم مشکل میں پڑ جاؤ لیکن اللہ تعالٰی نے ایمان کو تمہارے لئے محبوب بنادیا ہے اور تمہارے دلوں میں زینت دے رکھی ہے اور کفر کو اور گناہ کو اور نافرمانی کو تمہاری نگاہوں میں ناپسندیدہ بنا دیا ہے ، یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔
سورۃالحجرات: آیت 7
یہ آیت صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان کی روح کو بے نقاب کرتی ہے۔ ان کے دلوں میں ایمان محض فرض نہیں بلکہ محبوب حقیقت بن چکا تھا۔ جس طرح انسان فطری طور پر کسی محبوب شے کی طرف کھنچتا ہے، اسی طرح صحابہ کے دل ایمان کی طرف مائل تھے اور گناہ ان کے مزاج سے بیگانہ ہو چکے تھے۔
ہدایت کا یہ اعلان کسی فرد یا نسل کے لیے نہیں بلکہ ایک اصول کے طور پر ہے۔ جو ایمان صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان سے قریب ہوگا، وہی ایمان ہدایت کے قریب ہوگا۔ اسی لیے بعد میں آنے والے امتیوں کے لیے صحابہ کا فہم، ان کا کردار اور ان کا طرزِ عمل معیار قرار پایا۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو ہم اپنی ذات پر قیاس نہیں کر سکتے، کیونکہ ان کی روحانی تربیت اور ایمانی سطح عام انسانوں کے پیمانوں سے ماورا ہے۔ جس طرح لوہا جب مقناطیس کے ساتھ چمٹ جاتا ہے تو اس میں بھی کشش کی خاصیت پیدا ہو جاتی ہے، اگرچہ وہ اصل مقناطیس نہیں بن جاتا، اسی طرح صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم جس عظیم ترین مقناطیسِ ہدایت کے ساتھ وابستہ تھے، اس کا نام محمد رسول اللہ ﷺ ہے۔
نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس وحی، عصمت اور نورِ ہدایت کا سرچشمہ تھی۔ اس معصوم عن الخطا مقناطیس سے وابستگی نے صحابۂ کرام کے دلوں کو اس درجہ منور کر دیا کہ اگرچہ وہ انبیاء کی طرح معصوم نہ تھے، مگر گناہوں سے محفوظ مزاج ضرور بن گئے تھے۔ ان کے اندر کفر، فسق اور معصیت سے فطری نفرت پیدا ہو چکی تھی، جیسا کہ سورۃ الحجرات میں بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کو ان کے دلوں میں محبوب بنا دیا اور گناہ کو ان کے لیے ناپسندیدہ۔
پس صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا مقام اسی لیے منفرد ہے کہ وہ وحی کے نزول کے ماحول میں، براہِ راست رسول اللہ ﷺ کی تربیت میں پروان چڑھے۔ ان کے ایمان کو محض ذاتی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ نبوی مقناطیس سے جڑنے کا ثمر سمجھنا ہی دراصل ان کے مقام کی صحیح تفہیم ہے۔