The Earth Is Shrinking

صفات متشابہات
اہلِ سنت صفات متشابہات کے بارے میں تین گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں جن کا تذکرہ ہم نے اپنے مضمون سنی مکاتبِ فکر میں تفصیل سے کردیا ہے۔ یہ تین گروہ حنبلی، اشعری اور ماتریدی ہیں۔ حنبلی گروہ سے مراد وہ علما ہیں جو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے مسلک کے پیروکار ہیں۔
اس سے پہلے کہ ہم صفات متشابہات کے باب میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مسلک بیان کریں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ واضح کردیں کہ صفات متشابہات سے مراد کیا ہے؟
اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران میں ارشاد فرمایا:
هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌؕ-فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ ﳘ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ۔ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖۙ-كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَاۚ-وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ
(آل عمران: آیت 7)
ترجمہ:
وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اِشتباہ ہے تووہ لوگ جن کے دلوں میں ٹیڑھا پن ہے وہ (لوگوں میں ) فتنہ پھیلانے کی غرض سے اور ان آیات کا (غلط) معنیٰ تلاش کرنے کے لئے ان متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑتے ہیں حالانکہ ان کا صحیح مطلب اللہ ہی کو معلوم ہے اور پختہ علم والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اورعقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں ۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ الحنبلی ؒ نے محکمات و متشابہات کے بارے میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا درج ذیل قول نقل کیا ہے:
قال احمد ابن حنبل: المحکم الذی لیس فیہ اختلاف والمتشابہ الذی یکون کذا و یکون کذا۔
ترجمہ:
امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محکم آیت وہ ہے جس کے معنیٰ کے تعین میں اختلاف نہیں ہے جبکہ متشابہ آیت وہ ہے جس کے معنی میں اشتباہ ہے۔
(مجموع فتاویٰ ابن تیمیہؒ: جلد 13، صفحہ 275، مطبوعہ شاہ فہد قرآن کمپلیکس، مدینہ منورہ)
شیخ الاسلام امام ابن قدامہ الحنبلی ؒ نے بھی اپنی اصول فقہ کی کتاب میں اس آیت پر مفصل گفتگو فرمائی ہے۔ محکمات ومتشابہات کے بارے میں مختلف اقوال بیان کرنے کے بعد راجح قول کی نشاندہی یوں فرماتے ہیں:
والصحيح أن المتشابه: ما ورد في صفات الله -سبحانه- مما يجب الإيمان به، ويحرم التعرض لتأويله، كقوله تعالی: الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى ، بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَان، مَا خَلَقْتُ بِيَدَي ، وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّك، تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا، و نحوہ هذا اتفق السلف -رحمهم الله- على الإقرار به، وإمراره على وجهه وترك تأويله
ترجمہ
صحیح قول یہ ہے کہ متشابہ سے مراد اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی و ہ صفات ِ کمال ہیں جن پر ایمان لانا واجب ہے، مگر ان کی تاویل کرنا حرام ہے، جیسے ارشاد باری تعالی ہے :
الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى ،
بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَان،
مَا خَلَقْتُ بِيَدَي ،
وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّك،
تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا۔
سلف صالحین کا اتفاق ہے کہ ان صفات صفات کا اقرار لازم ہے، انہیں اپنے الفاظ پر چھوڑکر کسی تاویل بغیر۔
(امام ابن قدامہ، روضۃ الناظر، جلد 1، صفحہ 216)
اس آیت اور امام ابن قدامہ رحمہ اللہ کی تشریح میں تاویل سے کیا مراد ہے؟ خیرالقرون میں تاویل کا لفظ تفسیر کے معنیٰ میں استعمال کیا جاتا تھا۔ متقدمین بھی اسے اسی معنیٰ میں استعمال کرتے رہے ہیں۔
عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ
" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ” يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ
ترجمہ:
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ اور رکوع میں اکثر یہ پڑھا کرتے تھے ۔ «سبحانك اللهم ربنا وبحمدك ، اللهم اغفر لي» ( اس دعا کو پڑھ کر ) آپ اپنے عمل سے قرآن کی تفسیر بیان فرماتے تھے۔
غرض تاویل کا اصل معنیٰ تفسیر یعنی معنیٰ و مراد بیان کرنے کا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ متشابہات کی تاویل(معنیٰ و مراد) اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ امام ابن قدامہ رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں مزید فرماتے ہیں:
ولأن في الآية قرائن تدل على أن الله -سبحانه- منفرد بعلم تأويل المتشابه، وأن الوقف الصحيح عند قوله تعالى وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا الله له لفظًا ومعنىً۔ أما اللفظ فلأنه لو أراد عطف الراسخين لقال ويقولون آمنا به بالواو وأما المعنى فلأنه ذم مبتغي التأويل ولو كان ذلك للراسخين معلومًا لكان مبتغيه ممدوحًا لا مذمومًا ولأن قولهم آمَنَّا بِهِ يدل على نوع تفويض وتسليم لشيء لم يقفوا على معناه۔
ترجمہ
بے شک اس آیت میں ایسے قرائن پائے جاتے ہیں جو دلالت کرتے ہیں کہ صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ اکیلا ہی متشابہات کا معنی جانتا ہے اور یہ کہ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا الله پر وقف کرنا ہی صحیح ہے، لفظی طور پر بھی معنوی طور پر بھی۔ لفظی طور پر اس لیے کہ اگر راسخون فی العلم کو بھی متشابہات کی تاویل کا علم ہوتا توويقولون آمنا بہ واؤ کے ساتھ وارد ہوتا ۔ اور معنوی طورپر اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے متشابہات کی تاویل کی جستجو میں لگنے والوں کی مذمت فرمائی ہے، اگر راسخون فی العلم کو ان کی تاویل کا علم ہوتا تو اس کی جستجو کرنے والے تعریف کے مستحق قرار پاتے نہ کہ مذمت کے۔ ان کا یہ قول کہ آمَنَّا بِهِ (ہم اس پر ایمان لاتے ہیں) دلالت کرتا ہے کہانہوں نے اس کا معنیٰ و مراد اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا ہے اور اس چیز کے سامنے سر تسلیم خم کردیا ہے جس کے معنیٰ انہیں معلوم نہیں ہیں۔
(امام ابن قدامہ، روضۃ الناظر، جلد 1، صفحہ 216، ذم التاویل لابن قدامہ)
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ الحنبلی رحمہ اللہ تعالیٰ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آچار سے ثابت ہوتا ہے کہ وقف الا اللہ پر ہی صحیح ہے۔
(مجموع فتاویٰ ابن تیمیہؒ: جلد 13، صفحہ 275)
شیخ الاسلام امام ابن قدامہ ؒ نے جہاں یہ واضح کیا ہے کہ وقف کس جگہ درست ہے وہیں
انہوں نے بہت دقتِ نظر کے ساتھ قرآن سے ثابت کردیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے راسخون فی العلم (پختہ علم والوں) کا مسلک صفات متشابہات کے باب میں تفویض قرار دیا ہے نہ کہ تاویل۔ اللہ تعالیٰ نے کسی تاویل گنجائش چھوڑی ہی نہیں۔یہی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا راجح مسلک ہے۔ واللہ اعلم
تفویض کا مطلب یہ ہے کہ ہم صفات متشابہات کا معنیٰ اور کیفیت اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے واضح فرمادیا کہ ونصدق بهَا وَلَا كَيفَ وَلَا معنى (ہم ان صفات متشابہات کی تصدیق تو کرتے ہیں مگر نہ ان کی کیفیت بیان کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے معانی بیان کرتے ہیں)۔ صاف ظاہر ہے کہ ہم وجہ اللہ اور یداللہ وغیرہ کے ظاہری معنیٰ کی تصدیق نہیں کرتے جس سے تشبیہہ لازم آتی ہے، بلکہ ان الفاظ کے معانی کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیتے ہیں۔ غرض جمہور حنابلہ کا مسلک صرف تفویض الکیفیۃ ہی نہیں ہے بلکہ تفویض المعنیٰ بھی ان کا راجح مسلک ہے۔
جیسا کہ امام ابن قدامہ ؒ نے حنبلی عقائد کی کتاب لُمعۃ الاعتقاد اور ذم التاویل میں صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔
وكل ما جاء في القرآن أو صح عن المصطفى عليه السلام من صفات الرحمن وجب الإيمان به، وتلقيه بالتسليم والقبول، وترك التعرض له بالرد والتأويل والتشبيه والتمثيل.
وما أشكل من ذلك وجب إثباته لفظا، وترك التعرض لمعناه ونرد علمه إلى قائله
ترجمہ: اللہ الرحمٰن کی صفات کے بارے میں جو کچھ بھی قرآن یا سیدنا و مولانا محمد مصطفےٰ ﷺ کی احادیثِ صحیحہ میں وارد ہوا ہے ان سب پر ایمان لانا واجب ہے، اور اسے برضا و رغبت قبول کیا جائے اور اسے کسی بھی انداز میں رد کرنے، تاویل کرنے ، یا مخلوق سے تشبیہہ دینے یا اس کی تمثیل بیان کرنے سے گریز لازم ہے۔ ان صفات ِ باری تعالیٰ میں سے کسی صفت کے بارے میں اگر عقلی اشکال پیدا ہوجائے تو واجب ہے کہ اس صفت کی لٖفظی اعتبار سے تصدیق کی جائے اور اس کے معنیٰ و مراد کو اللہ اور اس کے رسول کے سپرد کردیا جائے۔
(امام ابن قدامہؒ، لُمعۃ الاعتقاد، ص 6)
ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ صفات متشابہات (وجہ اللہ، یداللہ وغیرہ) کے صرف الفاظ کی بطور صفت تصدیق کی جائے گی اور ان کے ایسے ظاہری معنیٰ کا اثبات نہیں کیا جائے گا جس سے تشبیہ و تجسیم لازم آئے۔
ترجمہ:
"یہ طریقہ بالکل سیدھا اور درست ہے، اور یہ بات بالکل صحیح اور بے عیب ہے۔ اس پر عمل کرنے والے کو نہ کوئی خطرہ ہے اور نہ ہی کوئی نقصان۔ کیونکہ اس میں صرف قرآن و سنت کے الفاظ (ظاہر) پر ایمان لانا شامل ہے، اور یہ سب لوگوں پر فرض ہے۔ اگر کوئی قرآن کے کسی ایسے لفظ کا انکار کرے جس پر سب کا اتفاق ہے تو وہ سب مسلمانوں کے اجماع کے مطابق کافر شمار ہوگا۔ اور ایسی بات کی تاویل یا مطلب بیان کرنے کے بجائے جس کی درستگی یقینی نہ ہو، خاموش رہنا بھی واجب ہے۔ قرآن، سنت اور اجماع اس پر دلیل ہیں۔ اور اگر یہ واجب نہ بھی ہوتا تب بھی اس پر خاموش رہنا سب کے نزدیک درست اور جائز تھا۔”
شیخ عبدالقادر جیلانی الحنبلی رحمہ اللہ تعالیٰ متشابہ (آیت و حدیث) کے بارے میں فرماتے ہیں:
فتفسیرہ قرأتہ لا تفسیر لہ غیرھا ولا نتکلف غیر ذالک فانہ غیب لا مجال للعقل فی ادراکہ
ترجمہ:
متشابہ کی تفسیر اس کی تلاوت ہی ہے، اس کے سوا اس کی کوئی تفسیر نہیں، نہ ہی ہمیں اس کے سوا کسی اور شے کامکلف بنایا گیاہے، کیونکہ اس کا تعلق غیب سے ہے ، عقل کی یہ مجال نہیں کہ اس تک رسائی حاصل کر سکے۔
(شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، غنیۃ الطالبین، باب فی معرفۃ الصانع)
تاہم عوام کو سمجھانے کے لیے متشابہات کے ایسے ظاہری معانی کا انکار کیا جائے گا جس سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے مشابہت پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔ جیسا کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ استوا علی العرش کے ایسے معانی کا انکار کرتے ہیں جو اہل بدعت بیان کرتے ہیں:
و ینبغی اطلاق صفۃ الاستوا ٔ من غیر تاویل و انہ استوا ٔ الذات علی العرش لا علی معنی القعود والمماسۃ کما قالت المجسمۃ والکرامیہ۔
ترجمہ:
اور استوا علی العرش کی صفت کو بغیر کسی تاویل کے بیان کیا جائے گا اور یہ کہ ذاتِ باری تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا بیٹھنے کے معنیٰ میں نہیں ہے اور نہ ہی عرش سے مس کرنے کے معنیٰ میں ہے جیسا کہ مجسمہ اور کرامیہ جیسے بدعتی فرقے بیان کرتے ہیں۔
لہٰذا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے اس قول سے پتہ چلتا ہے کہ صفات متشابہات کے ایسے معانی کا انکار کرنالازم ہے جس سے مخلوق سے مشابہت پیدا ہوتی ہو، یا تجسیم کا شبہ ہوتا ہو۔ یہی سبب ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ نے مذکورہ باب کے آغاز میں ہی فرمادیا ہے:
لیس بجسم فیمس، ولا بجوھر فیحس، ولا عرض فیقضی، ولا ذی ترکیب او آلۃ و تألیف، او ماھیۃ و تحدید
ترجمہ:
وہ (اللہ تعالیٰ) نہ جسم ہے کہ اسے چھوا جاسکے، نہ جوہر ہے کہ محسوس کیا جاسکے، نہ ہی کوئی عرض ہے کہ فنا ہوجائے، اور نہ ہی کسی ترکیب، آلہ، تالیف، ماہیت یا کسی تحدید کا حامل ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ لیس کمثلہ شیئ
(سورۃ الشوریٰ)
یعنی اللہ سبحانہ وا تعالیٰ کی کوئی مثال کائنات میں موجود نہیں لہٰذا اسے کسی بھی شئے سے تشبیہ دینا شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ حقیقت کے اعتبار سے کوئی جسم نہیں ہے، جیسے عوام سوچتے ہیں کہ شاید وہ کوئی بہت
ہی بڑا انسان ہے یا اس جیسا دکھتا ہے۔ اسی طرح وہ کوئی جوہر (سبسٹانس) بھی نہیں ہے، یعنی وہ غیر مادی ہے، بلکہ جن غیر مادی چیزوں کو ہم جانتے ہیں جیسے ملائکہ وغیرہ اللہ تعالیٰ ان سے بھی زیادہ لطیف ہے، اس لیے اسے نہ تو چھوا جاسکتا ہے اور نہ ہی حواس سے محسوس کیا جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ کسی جسم کے ساتھ قائم ہونے والی کوئی صفت بھی نہیں جیسے رنگ یا بو کہ فنا ہوجائے۔ عَرِض قدیم فلسفیانہ اصطلاح ہے جو جسم کے خواص کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ مختلف اجزا سےبننے والا کوئی مرکب بھی نہیں ہے کہ وہ ترکیب و تالیف کے نتیجے میں وجود میں آیا ہو اور نہ ہی اس کی کسی مخلوق سے مشابہ ماہیت ہے اور نہ ہی ہم اسے کسی حدود اربعہ میں محدود کرسکتے ہیں۔نیز اللہ تعالیٰ کے اعضا و جوارح بھی نہیں ہیں جن کے ذریعے وہ اشیا کا علم حاصل کرتا ہو، بلکہ اس کا ازلی علم ظاہری آلات آنکھ، کان وغیرہ سے پاک ہے۔وہ ہمارے جیسی آنکھوں کے بغیر دیکھتا ہے اور ہمارے جیسے کانوں کے بغیر سنتا ہے۔ واللہ اعلم
آپ نے نہایت عمدہ اور بصیرت افروز بات کی ہے۔ بالکل یہی مثال صفاتِ متشابہات کو سمجھنے کے لیے نہایت موزوں ہے۔ آئیے اس کو مزید منظم انداز میں واضح کرتے ہیں:
پس امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مسلک ِ اعتقاد ہی سلامتی والا مسلک ہے، اس میں نہ تو فلسفیانہ قیل و قال ہے اور نہ ہی بے جا تعمق کا وبال ہے۔سادہ، عام فہم، دلنشین اور دلپذیر مسلک ہے یہ۔اللہ تعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم پہ قائم رکھے اور سلف صالحین اور بزرگ سالفین کے منہج پر چلنے کی توفیق عطافرمائے آمین۔