Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

صفات متشابہات

صفات متشابہات معراج کی رات اللہ تعالیٰ کا دیدار
صفات متشابہات

صفات متشابہات

اہلِ سنت صفات متشابہات کے بارے میں تین گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں جن کا تذکرہ ہم نے اپنے مضمون سنی مکاتبِ فکر میں تفصیل سے کردیا ہے۔ یہ تین گروہ حنبلی، اشعری اور ماتریدی ہیں۔ حنبلی گروہ سے مراد وہ علما ہیں جو امام احمد  بن حنبل رحمہ اللہ کے مسلک کے پیروکار ہیں۔  

اس سے پہلے کہ ہم صفات متشابہات کے باب میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ  کا مسلک بیان کریں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ واضح کردیں کہ صفات متشابہات سے مراد کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران میں ارشاد فرمایا:

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌؕ-فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ ﳘ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ۔ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖۙ-كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَاۚ-وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ

(آل عمران: آیت 7)

ترجمہ:

وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اِشتباہ ہے تووہ لوگ جن کے دلوں میں ٹیڑھا پن ہے وہ (لوگوں میں ) فتنہ پھیلانے کی غرض سے اور ان آیات کا (غلط) معنیٰ تلاش کرنے کے لئے ان متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑتے ہیں حالانکہ ان کا صحیح مطلب اللہ ہی کو معلوم ہے اور پختہ علم والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اورعقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں ۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ الحنبلی ؒ نے محکمات و متشابہات کے بارے میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا درج ذیل قول نقل کیا ہے:

مزید دریافت کریں
E-Books
Islam
Books & Literature

قال احمد ابن حنبل: المحکم الذی لیس فیہ اختلاف والمتشابہ الذی یکون کذا و یکون کذا۔

ترجمہ:

امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محکم  آیت وہ ہے جس کے معنیٰ کے تعین میں اختلاف نہیں ہے جبکہ متشابہ  آیت وہ ہے جس کے معنی میں اشتباہ ہے۔

(مجموع فتاویٰ ابن تیمیہؒ: جلد 13، صفحہ 275، مطبوعہ شاہ فہد قرآن کمپلیکس، مدینہ منورہ)

شیخ الاسلام امام ابن قدامہ الحنبلی ؒ نے بھی اپنی اصول فقہ کی کتاب میں اس آیت پر مفصل گفتگو فرمائی ہے۔ محکمات ومتشابہات کے بارے میں مختلف اقوال بیان کرنے کے بعد راجح قول کی نشاندہی یوں فرماتے ہیں:

والصحيح أن المتشابه: ما ورد في صفات الله -سبحانه- مما يجب الإيمان به، ويحرم التعرض لتأويله، كقوله تعالی: الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى ، بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَان، مَا خَلَقْتُ بِيَدَي ، وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّك، تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا، و نحوہ هذا اتفق السلف -رحمهم الله- على الإقرار به، وإمراره على وجهه وترك تأويله 

ترجمہ

صحیح قول یہ ہے کہ متشابہ سے مراد اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی  و ہ صفات ِ کمال ہیں جن پر ایمان لانا واجب ہے، مگر ان کی تاویل کرنا حرام ہے، جیسے ارشاد باری تعالی ہے :  

الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى ،

 بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَان،

 مَا خَلَقْتُ بِيَدَي ،

 وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّك،

 تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا۔

 سلف صالحین کا اتفاق ہے کہ ان صفات صفات کا اقرار لازم ہے،  انہیں اپنے الفاظ پر چھوڑکر کسی تاویل بغیر۔

 (امام ابن قدامہ، روضۃ الناظر، جلد 1، صفحہ 216)

اس آیت اور امام ابن قدامہ رحمہ اللہ کی تشریح میں تاویل سے کیا مراد ہے؟ خیرالقرون میں تاویل کا لفظ تفسیر کے معنیٰ میں استعمال کیا جاتا تھا۔ متقدمین بھی اسے اسی معنیٰ میں استعمال کرتے رہے ہیں۔

عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ ‏

مزید دریافت کریں
E-Books
Books & Literature
Islam

 "‏ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ‏”‏ يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ

ترجمہ:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ اور رکوع میں اکثر یہ پڑھا کرتے تھے ۔ «سبحانك اللهم ربنا وبحمدك ،‏‏‏‏ اللهم اغفر لي» ( اس دعا کو پڑھ کر ) آپ اپنے عمل سے قرآن کی تفسیر بیان فرماتے تھے۔

(صحیح البخاری: رقم 817)

یعنی آپ ﷺ سورۃ النصر کی تیسری آیت پر عمل فرمارہے تھے جو کہ اس آیت کی عملی تفسیر ہے۔ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا
امام  محمدابن جریری طبری رحمہ اللہ تعالیٰ (224-310 ھ)  تیسری صدی ہجری کے جلیل القدر مفسرِ قرآن تھے جن کی تفسیر بعد کے تمام مفسرین کا منبع و مرجع رہی ہے، ان کی تفسیر کا نام جامع البیان فی تاویل آی القرآن ہے۔ یعنی انہوں نے بھی تفسیر کے لیے تاویل کا لفظ استعمال فرمایا۔

غرض تاویل کا اصل معنیٰ تفسیر یعنی معنیٰ و مراد بیان کرنے کا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ متشابہات کی تاویل(معنیٰ و مراد) اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ امام ابن قدامہ رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں مزید فرماتے ہیں:

ولأن في الآية قرائن تدل على أن الله -سبحانه- منفرد بعلم تأويل المتشابه، وأن الوقف الصحيح عند قوله تعالى وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا الله له لفظًا ومعنىً۔ أما اللفظ فلأنه لو أراد عطف الراسخين لقال ويقولون آمنا به بالواو وأما المعنى فلأنه ذم مبتغي التأويل ولو كان ذلك للراسخين معلومًا لكان مبتغيه ممدوحًا لا مذمومًا ولأن قولهم آمَنَّا بِهِ يدل على نوع تفويض وتسليم لشيء لم يقفوا على معناه۔  

ترجمہ

بے شک اس آیت میں ایسے قرائن پائے جاتے ہیں جو دلالت کرتے ہیں کہ صرف  اللہ سبحانہ و تعالیٰ اکیلا ہی متشابہات کا معنی جانتا ہے اور یہ کہ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا الله پر وقف کرنا ہی صحیح ہے، لفظی طور پر بھی معنوی طور پر بھی۔ لفظی طور پر اس لیے کہ اگر راسخون فی العلم کو بھی  متشابہات کی تاویل کا علم ہوتا توويقولون آمنا بہ واؤ کے ساتھ وارد ہوتا ۔ اور معنوی طورپر اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے متشابہات کی تاویل کی جستجو میں لگنے والوں کی مذمت فرمائی ہے، اگر راسخون فی العلم کو ان کی تاویل کا علم ہوتا تو اس کی  جستجو کرنے والے تعریف کے مستحق قرار پاتے نہ کہ مذمت کے۔ ان کا یہ قول کہ آمَنَّا بِهِ (ہم اس پر ایمان لاتے ہیں)  دلالت کرتا ہے کہانہوں نے اس کا معنیٰ و مراد اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا ہے اور اس چیز کے سامنے   سر تسلیم خم کردیا ہے جس کے معنیٰ انہیں معلوم نہیں ہیں۔ 

(امام ابن قدامہ، روضۃ الناظر، جلد 1، صفحہ 216، ذم التاویل لابن قدامہ)

مزید دریافت کریں
Islam
E-Books
Books & Literature

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ الحنبلی رحمہ اللہ تعالیٰ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آچار سے ثابت ہوتا ہے کہ  وقف الا اللہ پر ہی صحیح ہے۔

 (مجموع فتاویٰ ابن تیمیہؒ: جلد 13، صفحہ 275)

شیخ الاسلام امام ابن قدامہ ؒ نے جہاں یہ واضح کیا ہے کہ وقف کس جگہ درست ہے وہیں

انہوں نے بہت دقتِ نظر کے ساتھ  قرآن سے ثابت کردیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے  راسخون فی العلم (پختہ علم والوں) کا  مسلک صفات متشابہات کے باب میں تفویض قرار دیا ہے نہ کہ تاویل۔  اللہ تعالیٰ نے کسی تاویل گنجائش چھوڑی ہی نہیں۔یہی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا راجح مسلک ہے۔ واللہ اعلم

تفویض کا مطلب یہ ہے کہ ہم صفات متشابہات کا معنیٰ اور کیفیت اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا صفات متشابہات کے باب میں اصل منہج و مسلک تفویض ہے جیسا کہ درج ذیل عبارت سے ظاہر ہے:
قَالَ وَأَخْبرنِي عَليّ بن عِيسَى أَن حنبلا حَدثهمْ قَالَ سَأَلت أَبَا عبد الله عَن الْأَحَادِيث الَّتِي تروى إِن الله تبَارك وَتَعَالَى ينزل كل لَيْلَة إِلَى السمآء الدُّنْيَا وَأَن الله يرى وَإِن الله يضع قدمه وَمَا أشبهه فَقَالَ أَبُو عبد الله نؤمن بهَا ونصدق بهَا وَلَا كَيفَ وَلَا معنى وَلَا نرد مِنْهَا شَيْئا ونعلم أَن مَا جَاءَ بِهِ الرَّسُول حق إِذا كَانَت بأسانيد صِحَاح وَلَا نرد على رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَوْله وَلَا يُوصف الله تَعَالَى بِأَكْثَرَ مِمَّا وصف بِهِ نَفسه أَو وَصفه بِهِ رَسُوله بِلَا حد وَلَا غَايَة

ترجمہ:
"انہوں نے کہا: اور علی بن عیسیٰ نے مجھے خبر دی کہ حنبل نے ان سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے امام ابو عبداللہ (امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ) سے ان احادیث کے بارے میں پوچھا جو یہ بیان کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے، اور یہ کہ اللہ دیکھا جائے گا، اور یہ کہ اللہ اپنا قدم رکھے گا، اور اس طرح کی دیگر روایات۔
تو ابو عبداللہ (امام احمد) نے فرمایا: ہم ان پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی تصدیق کرتے ہیں، ان کے لیے کوئی کیفیت بیان نہیں کرتے، نہ کوئی معنی بیان کرتے ہیں، نہ ان میں سے کسی چیز کو رد کرتے ہیں۔ اور ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ رسول ﷺ لائے وہ حق ہے، بشرطیکہ وہ صحیح اسناد کے ساتھ مروی ہو۔ اور ہم رسول اللہ ﷺ کے کسی قول کو رد نہیں کرتے، اور اللہ تعالیٰ کو اس سے زیادہ کسی چیز کے ساتھ متصف نہیں کرتے جتنا کہ اس نے اپنی ذات کے بارے میں خود فرمایا ہے یا اس کے رسول نے بیان فرمایا ہے، بغیر کسی حد اور بغیر کسی انتہا کے۔”

(ذم التاویل لابن قدامہ)

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے واضح فرمادیا کہ ونصدق بهَا وَلَا كَيفَ وَلَا معنى (ہم ان صفات متشابہات کی تصدیق تو کرتے ہیں مگر نہ ان کی کیفیت بیان کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے معانی بیان کرتے ہیں)۔ صاف ظاہر ہے کہ ہم وجہ اللہ اور یداللہ وغیرہ کے ظاہری معنیٰ کی تصدیق نہیں کرتے جس سے تشبیہہ لازم آتی ہے، بلکہ ان الفاظ کے معانی کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیتے ہیں۔ غرض جمہور حنابلہ کا مسلک صرف تفویض الکیفیۃ ہی نہیں ہے بلکہ تفویض المعنیٰ بھی ان کا راجح مسلک ہے۔

 جیسا کہ امام ابن قدامہ ؒ نے حنبلی عقائد کی کتاب لُمعۃ الاعتقاد اور ذم التاویل میں صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔

مزید دریافت کریں
E-Books
Books & Literature
Islam

وكل ما جاء في القرآن أو صح عن المصطفى عليه السلام من صفات الرحمن وجب الإيمان به، وتلقيه بالتسليم والقبول، وترك التعرض له بالرد والتأويل والتشبيه والتمثيل.

وما أشكل من ذلك وجب إثباته لفظا، وترك التعرض لمعناه ونرد علمه إلى قائله

ترجمہ: اللہ الرحمٰن کی صفات کے بارے میں جو کچھ بھی قرآن یا سیدنا و مولانا محمد مصطفےٰ ﷺ کی احادیثِ صحیحہ میں وارد ہوا ہے ان سب پر ایمان لانا واجب ہے، اور اسے برضا و رغبت قبول کیا جائے اور اسے کسی بھی انداز میں رد کرنے، تاویل کرنے ،  یا مخلوق سے تشبیہہ دینے یا اس کی تمثیل بیان کرنے سے گریز لازم ہے۔ ان صفات ِ باری تعالیٰ میں سے  کسی صفت کے بارے میں اگر عقلی اشکال پیدا ہوجائے تو واجب ہے کہ اس صفت کی لٖفظی اعتبار سے تصدیق کی جائے اور اس کے معنیٰ و مراد کو اللہ اور اس کے رسول کے سپرد کردیا جائے۔

(امام ابن قدامہؒ، لُمعۃ الاعتقاد، ص 6)

ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ صفات متشابہات (وجہ اللہ، یداللہ وغیرہ) کے صرف الفاظ کی بطور صفت تصدیق کی جائے گی اور ان کے ایسے  ظاہری معنیٰ کا اثبات نہیں کیا جائے گا جس سے تشبیہ  و تجسیم لازم آئے۔

امام ابن قدامہ رحمہ اللہ ذم التاویل میں فرماتے ہیں:
وَمذهب السّلف رَحْمَة الله عَلَيْهِم الْإِيمَان بِصِفَات الله تَعَالَى وأسمائه الَّتِي وصف بهَا نَفسه فِي آيَاته وتنزيله أَو على لِسَان رَسُوله من غير زِيَادَة عَلَيْهَا وَلَا نقص مِنْهَا وَلَا تجَاوز لَهَا وَلَا تَفْسِير وَلَا تَأْوِيل لَهَا بِمَا يُخَالف ظَاهرهَا وَلَا تَشْبِيه بِصِفَات المخلوقين وَلَا سمات الْمُحدثين بل أمروها كَمَا جَاءَت وردوا علمهَا إِلَى قَائِلهَا وَمَعْنَاهَا إِلَى الْمُتَكَلّم بهَا

ترجمہ:
"اور سلف صالحین کا مذہب، اللہ ان پر رحم فرمائے، یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور اسماء پر ایمان لائیں جن کے ساتھ اس نے اپنی آیات اور اپنی کتاب میں اپنی ذات کو بیان کیا ہے، یا اپنے رسول کی زبان سے بیان کیا ہے، بغیر کسی اضافہ کے، اور نہ ہی کسی کمی کے، نہ ان کی حد سے تجاوز کریں، نہ ان کی کوئی اپنی طرف سے تفسیر کریں، نہ ان کی ایسی تاویل کریں جو ان کے ظاہر کے خلاف ہو، اور نہ ہی ان کو مخلوق کی صفات سے تشبیہ دیں، اور نہ حادث چیزوں کے اوصاف سے ملائیں؛ بلکہ ان کو اسی طرح قبول کریں جیسے وہ آئے ہیں، اور ان کے علم کو اس ذات کی طرف لوٹائیں جس نے وہ کہا ہے، اور ان کے معنی کو اس متکلم (اللہ) کی طرف سپرد کریں جس نے وہ کلام فرمایا ہے۔”

(ذم التاویل لابن قدامہ)

شیخ الاسلام امام ابن قدامہ رحمہ اللہ تفویض المعنیٰ کی تائید میں مزید فرماتے ہیں:
وَهَذِه طَريقَة مُسْتَقِيمَة ومقالة صَحِيحَة سليمَة لَيْسَ على صَاحبهَا خطر وَلَا يلْحقهُ عيب وَلَا ضَرَر لِأَن الْمَوْجُود مِنْهُ هُوَ الْإِيمَان بِلَفْظ الْكتاب وَالسّنة وَهَذَا أَمر وَاجِب على خلق الله أَجْمَعِينَ فَإِن جحد كلمة من كتاب الله مُتَّفق عَلَيْهَا كفر بِإِجْمَاع الْمُسلمين وسكوته عَن تَأْوِيل لم يعلم صِحَّته وَالسُّكُوت عَن ذَلِك وَاجِب أَيْضا بِدَلِيل الْكتاب وَالسّنة وَالْإِجْمَاع ثمَّ لَو لم يكن وَاجِبا لَكَانَ جَائِزا بِغَيْر خلاف

ترجمہ:

"یہ طریقہ بالکل سیدھا اور درست ہے، اور یہ بات بالکل صحیح اور بے عیب ہے۔ اس پر عمل کرنے والے کو نہ کوئی خطرہ ہے اور نہ ہی کوئی نقصان۔ کیونکہ اس میں صرف قرآن و سنت کے الفاظ (ظاہر) پر ایمان لانا شامل ہے، اور یہ سب لوگوں پر فرض ہے۔ اگر کوئی قرآن کے کسی ایسے لفظ کا انکار کرے جس پر سب کا اتفاق ہے تو وہ سب مسلمانوں کے اجماع کے مطابق کافر شمار ہوگا۔ اور ایسی بات کی تاویل یا مطلب بیان کرنے کے بجائے جس کی درستگی یقینی نہ ہو، خاموش رہنا بھی واجب ہے۔ قرآن، سنت اور اجماع اس پر دلیل ہیں۔ اور اگر یہ واجب نہ بھی ہوتا تب بھی اس پر خاموش رہنا سب کے نزدیک درست اور جائز تھا۔”

(ذم التاویل لابن قدامہ)

شیخ عبدالقادر جیلانی الحنبلی رحمہ اللہ تعالیٰ متشابہ (آیت و حدیث)  کے بارے میں فرماتے ہیں:

فتفسیرہ قرأتہ لا تفسیر لہ غیرھا ولا نتکلف غیر ذالک فانہ غیب لا مجال للعقل فی ادراکہ

 ترجمہ:

متشابہ کی تفسیر اس کی تلاوت  ہی ہے، اس کے سوا اس کی کوئی تفسیر نہیں، نہ ہی ہمیں اس کے سوا کسی اور شے کامکلف بنایا گیاہے، کیونکہ اس کا تعلق غیب سے ہے ، عقل کی یہ مجال نہیں کہ اس تک رسائی حاصل کر سکے۔

(شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، غنیۃ الطالبین، باب فی معرفۃ الصانع)

مزید دریافت کریں
E-Books
Islam
Books & Literature

تاہم عوام کو سمجھانے کے لیے متشابہات کے ایسے  ظاہری معانی کا انکار کیا جائے گا جس سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے مشابہت پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔  جیسا کہ شیخ عبدالقادر جیلانی  رحمہ اللہ تعالیٰ استوا علی العرش کے ایسے معانی کا انکار کرتے ہیں جو اہل بدعت بیان کرتے ہیں:

و ینبغی اطلاق صفۃ الاستوا ٔ من غیر تاویل و انہ استوا ٔ الذات علی العرش لا علی معنی القعود والمماسۃ کما قالت المجسمۃ والکرامیہ۔

 ترجمہ:

اور استوا علی العرش کی صفت کو بغیر کسی تاویل کے بیان کیا جائے گا  اور یہ کہ ذاتِ باری تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا بیٹھنے کے معنیٰ میں نہیں ہے اور نہ ہی عرش سے مس کرنے کے معنیٰ میں ہے جیسا کہ مجسمہ اور کرامیہ جیسے بدعتی فرقے بیان کرتے ہیں۔

لہٰذا  شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے اس قول سے پتہ چلتا ہے کہ صفات  متشابہات کے ایسے معانی کا انکار کرنالازم ہے جس سے مخلوق سے مشابہت پیدا ہوتی ہو، یا تجسیم کا شبہ ہوتا ہو۔ یہی سبب ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ نے مذکورہ باب کے آغاز میں ہی فرمادیا ہے:

لیس بجسم فیمس، ولا بجوھر فیحس، ولا عرض فیقضی، ولا ذی ترکیب او آلۃ و تألیف، او ماھیۃ و تحدید

ترجمہ:

وہ (اللہ تعالیٰ) نہ جسم ہے کہ اسے چھوا جاسکے، نہ جوہر ہے کہ محسوس کیا جاسکے، نہ ہی کوئی عرض ہے کہ فنا ہوجائے، اور نہ ہی کسی ترکیب، آلہ، تالیف، ماہیت یا کسی تحدید کا حامل ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ لیس کمثلہ شیئ

 (سورۃ الشوریٰ)

یعنی اللہ  سبحانہ وا تعالیٰ کی کوئی مثال کائنات میں موجود نہیں لہٰذا اسے کسی بھی شئے سے تشبیہ دینا شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ حقیقت کے اعتبار سے کوئی جسم نہیں ہے، جیسے عوام سوچتے ہیں کہ شاید وہ کوئی بہت 

ہی بڑا انسان ہے یا اس جیسا دکھتا ہے۔ اسی طرح وہ کوئی جوہر (سبسٹانس) بھی نہیں ہے، یعنی وہ غیر مادی ہے، بلکہ جن غیر مادی چیزوں کو ہم جانتے ہیں جیسے ملائکہ وغیرہ اللہ تعالیٰ ان سے بھی زیادہ لطیف ہے، اس لیے اسے نہ تو چھوا جاسکتا ہے اور نہ ہی حواس سے محسوس کیا جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ کسی جسم کے ساتھ قائم ہونے والی کوئی صفت بھی نہیں جیسے رنگ یا بو کہ فنا ہوجائے۔ عَرِض قدیم فلسفیانہ اصطلاح ہے جو جسم کے خواص کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ مختلف اجزا سےبننے والا کوئی مرکب بھی نہیں ہے کہ وہ ترکیب و تالیف کے نتیجے میں وجود میں آیا ہو اور نہ ہی اس کی کسی مخلوق سے مشابہ ماہیت ہے اور نہ ہی ہم اسے کسی حدود اربعہ میں محدود کرسکتے ہیں۔نیز اللہ تعالیٰ کے اعضا و جوارح بھی نہیں ہیں جن کے ذریعے وہ اشیا کا علم حاصل کرتا ہو، بلکہ اس کا ازلی علم ظاہری آلات آنکھ، کان وغیرہ سے پاک ہے۔وہ ہمارے جیسی آنکھوں کے بغیر دیکھتا ہے اور ہمارے جیسے کانوں کے بغیر سنتا ہے۔ واللہ اعلم

صفاتِ متشابہات کی حقیقت

  • قرآن و حدیث میں کچھ ایسی صفات اللہ تعالیٰ کے لیے بیان ہوئی ہیں جنہیں صفاتِ متشابہات کہا جاتا ہے۔
    مثلاً: ید اللہ، وجہ اللہ، استوی علی العرش وغیرہ۔
  • ان صفات کا اصل معنی اور حقیقت انسان کی عقل سے ماورا ہے۔
  • اس لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ان کی تفسیر نہیں بیان کی، تاکہ لوگ انہیں انسانی جسمانی صفات پر قیاس نہ کر لیں اور گمراہی میں نہ پڑیں۔

📖 قرآن میں فرمایا گیا:
"لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ”
(اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں، اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔) [الشورى: 11]

انسانی عقل کی محدودیت

  • انسان کی عقل و فہم محدود ہے۔
  • ہم صرف اسی چیز کو سمجھ سکتے ہیں جو تجربے، مشاہدے یا عقل کی پہنچ میں آئے۔
  • اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی حقیقت لامحدود ہے، اس لیے انسانی عقل اس کو مکمل طور پر سمجھنے سے عاجز ہے۔
  • یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام اور ائمہ اہلِ سنت نے ہمیشہ یہ اصول اپنایا کہ صفاتِ متشابہات کو بلا کیف (کیفیت پوچھے بغیر) تسلیم کیا جائے، یعنی:
    • ان پر ایمان لایا جائے۔
    • ان کی تاویل نہ کی جائے۔
    • اللہ کی ذات و صفات کی مخلوق سے کسی بھی قسم کی مشابہت کا کھل کر رد کیا جائے۔

جنت کی نعمتوں کی مثال

  • جیسا کہ جنت کی نعمتوں کا حال ہے۔
  • قرآن و حدیث میں ان کا ذکر آیا ہے، لیکن ان کی حقیقت ہماری عقل و فہم سے بالاتر ہے۔
  • نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
    "جنت میں وہ نعمتیں ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں، اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا تصور آیا ہے۔” (بخاری و مسلم)

📖 قرآن میں ہے:
"فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ”
(کسی نفس کو خبر نہیں کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کیا چھپا کر رکھی گئی ہے۔) [السجدة: 17]

  • صفاتِ متشابہات کی اصل تفسیر اور کیفیت اللہ کے علم میں ہے، ہم پر لازم ہے کہ ایمان لائیں مگر اس کی حقیقت میں نہ الجھیں۔
  • جنت کی نعمتوں کا حال بھی ایسا ہی ہے: ان کے بارے میں الفاظ تو ملتے ہیں، مگر ان کی اصل حقیقت اور کیفیت ایسی ہے جو انسانی عقل و شعور سے بالاتر ہے۔
  • یہی ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم قرآن و حدیث کی خبر پر یقین کریں اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کو مخلوق کے پیمانوں سے نہ پرکھیں۔ ایمان بالغیب کا تقاضہ ہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات پر بلا چون و چرا ایمان لایا جائے ہاں تشبیہ و تمثیل سے بچنا فرض ہے۔

آپ نے نہایت عمدہ اور بصیرت افروز بات کی ہے۔ بالکل یہی مثال صفاتِ متشابہات کو سمجھنے کے لیے نہایت موزوں ہے۔ آئیے اس کو مزید منظم انداز میں واضح کرتے ہیں:

جہات (Dimensions) کی مثال

  • سائنس اور طبیعات کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ہماری کائنات صرف 3 جہات (لمبائی، چوڑائی، گہرائی) + وقت تک محدود نہیں ہے۔
  • جدید طبیعیات اور String Theory کے مطابق 11، 13 حتیٰ کہ 21 جہات کے ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
  • مگر سوال یہ ہے: کیا انسان اپنی عقل سے ان جہات کا حقیقی تصور کر سکتا ہے؟
    • ہم صرف 3 جہات تک ہی محسوس کر سکتے ہیں۔
    • اس سے اوپر کی جہات ہمارے ادراک اور مشاہدے سے باہر ہیں۔
    • ہم صرف ریاضیاتی طور پر ان کا اظہار کر پاتے ہیں، مگر ان کی حقیقت و کیفیت ہمیں معلوم نہیں۔

صفاتِ متشابہات کا معاملہ

  • بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفاتِ متشابہات کا معاملہ ہے۔
  • ہم ان صفات پر ایمان لاتے ہیں کیونکہ یہ قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہیں، مگر ان کے معنیٰ و مراد اور حقیقت و کیفیت کا ادراک کرنا ہماری عقل کے لیے ناممکن ہے۔
  • جب ایک محدود مخلوق قابل مشاہدہ مخلوق کائنات کی جہات کا تصور نہیں کر سکتی، تو خالقِ کائنات کی صفات کا تصور کیسے کر سکے گی؟

عرش پر قائم ہونا اور صفت العُلو

  • قرآن میں آیا ہے: "الرَّحْمَٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى” (الرحمن عرش پر قائم ہوا)۔
  • اس سے اللہ تعالیٰ کی صفت العُلو (بلندی، برتری) ظاہر ہوتی ہے۔
  • مگر یہ کیفیت ہماری سمجھ سے بالاتر ہے:
    • کیا یہ بلندی جہتِ مکان کی طرح ہے؟ نہیں۔
    • کیا یہ بلندی ہماری تصوراتی اونچائی جیسی ہے؟ نہیں۔
    • بلکہ یہ ایسی بلندی ہے جو مخلوق کی جہات اور مکان و زمان سے بالاتر ہے۔

نتیجہ اور نصیحت

  • جس طرح انسان 21 جہات کا تصور بھی نہیں کر سکتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفات کی حقیقت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
  • ہماری عقل کا کام یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کی حقیقت میں پڑے، بلکہ یہ ہے کہ ان پر ایمان لائے اور اللہ کی عظمت کا اعتراف کرے۔
  • صفاتِ متشابہات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ اللہ ہماری عقل، حواس اور جہات سے ماورا ہے۔

پس امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مسلک ِ اعتقاد ہی سلامتی والا مسلک ہے، اس میں نہ تو فلسفیانہ قیل و قال ہے اور نہ ہی بے جا تعمق کا وبال ہے۔سادہ، عام فہم، دلنشین اور دلپذیر مسلک ہے یہ۔اللہ تعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم پہ قائم رکھے اور سلف صالحین  اور بزرگ سالفین کے منہج پر چلنے کی توفیق عطافرمائے آمین۔

Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

Canal Conflict Boosts Water Crisis

The Qur’anic Chronology of Creation

Basics of the Muslim Cosmology

Al-Jazirah: The First Human Settlement

Seven Continents

Robots Redefined: The Evolution Toward Generalized Cognitive Abilities

How to Buy a Robot?

Developing Leadership Skills in University Students