Featured Post
کیا زمین ساکن ہے؟
- Get link
- X
- Other Apps
کیا زمین ساکن ہے؟

کیا زمین ساکن ہے یا اس میں کسی قسم کی کوئی حرکت پائی جاتی ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں۔
قرآنی اشارات
قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر زمین کے قرار، ثبات اور سکون کا ذکر آیا ہے۔ یہ الفاظ زمین کے "استقرار” (یعنی مضبوطی اور ٹھہراؤ) کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ چند نمایاں آیات درج ذیل ہیں:
1. زمین کو قرار گاہ قرار دینا
وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا"اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔”(البقرۃ 2:22)
یہاں "فِرَاش” (بچھونا) سے مراد زمین کی ہم وار اور پر سکون حیثیت ہے۔
2. زمین کا مستقر ہونا
اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا"اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قرار (ٹھہرنے کی جگہ) بنایا۔”(غافر 40:64)
"قرار” کا مطلب ہے ایسی جگہ جہاں سکون و ثبات ہو۔
3. زمین کا استقرار اور پہاڑوں کی میخوں کی طرح جڑت
أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا"کیا ہم نے زمین کو گہوارہ اور پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا؟”(النبأ 78:6-7)
یہاں "مِهَاد” (گہوارہ) بھی سکون اور ٹھہراؤ کا مفہوم دیتا ہے۔
4. زمین کو بچھونا اور راستوں کا جال
هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا"وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے نرم و تابع بنایا، پس اس کی راہوں پر چلو۔”(الملک 67:15)
یہاں "ذَلُول” (تابع و نرم) کا مطلب ہے کہ زمین انسان کے لئے قابلِ استعمال اور پائیدار ہے۔
5. زمین کا ساکن ہونا اور آسمان کی چھت
اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً"اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قرار دیا اور آسمان کو عمارت کی طرح بنایا۔”(غافر 40:64)
قرآن میں زمین کو بار بار "قرار”، "مستقر”، "مِهاد”، "فِراش” اور "ذلول” جیسے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، جو اس کے ثابت، پُرسکون اور رہائش کے لائق ہونے کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مسلمان مفکرین نے ٹائیکو براہے کے جیو-ہیلیوسینٹرک (Tychonic) ماڈل کو ان قرآنی بیانات سے ہم آہنگ سمجھا ہے، کیونکہ اس ماڈل میں زمین مرکز پر ساکن رہتی ہے۔
جدید مغربی ماہرینِ فلکیات (Astronomers) کی رائے یہ ہے کہ زمین بھی دوسرے سیاروں (Planets) کی طرح ایک سیارہ ہے جو سورج (Sun) کے گرد اپنے مدار (Orbit) میں حرکت کرتی ہے۔ زمین کی اس حرکت کو "دوری حرکت” یا Circulatory Motion کہا جاتا ہے۔ کائنات کے اس ماڈل کو Heliocentric Model (ہیلیو سینٹرک ماڈل: سورج مرکزیت) کہا جاتا ہے۔ یہ تصور سب سے پہلے 16ویں صدی میں نکولس کوپرنیکس (Nicolaus Copernicus) نے منظم طور پر پیش کیا، جس کی تائید بعد میں جوہانس کیپلر (Johannes Kepler) اور گلیلیو گیلیلی (Galileo Galilei) نے بھی کی۔ اُس کے بعد سے مغربی دنیا میں یہی تصور عام ہوگیا۔
لیکن البرٹ آئن سٹائن (Albert Einstein) نے نظریۂ اضافیت (Theory of Relativity) پیش کیا، جس کے مطابق حرکت (Motion) اور سکون (Rest) نسبتی یعنی Relative ہیں۔ اس میں اصل بات یہ ہے کہ مشاہدہ کرنے والا (Observer) کس مقام سے دیکھ رہا ہے، یعنی اس کا Frame of Reference کیا ہے۔ زمین سے دیکھنے والا محسوس کرتا ہے کہ سورج زمین کے گرد گھوم رہا ہے، لیکن اگر ہم سورج پر جا کر زمین کو دیکھیں تو یہ لگے گا کہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔
لنکن برنیٹ (Lincoln Barnett) نے اپنی کتاب The Universe and Dr. Einstein (1948) میں اعتراف کیا ہے کہ ہمارے پاس کوئی ایسا تجربہ (Experiment) موجود نہیں جو براہِ راست یہ ثابت کرے کہ زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے۔
مذہبی پس منظر
ہیلیو سینٹرک ماڈل پیش کرنے کے پیچھے ایک بڑا مقصد زمین کی اُس خصوصی حیثیت کو ختم کرنا تھا جو مذاہب اسے دیتے تھے۔ اگر زمین کائنات کا مرکز ہے اور تمام اجرامِ فلکی (Celestial Bodies) اس کے گرد گھومتے ہیں، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ زمین کو خاص مقصد کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ یہ نظریہ انسان کو خالقِ کائنات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس تصور سے نجات پانے کے لئے ہیلیو سینٹرک ماڈل پیش کیا گیا، تاکہ زمین کو محض ایک عام سیارہ قرار دیا جا سکے۔
جیو سینٹرک ماڈل
کوپرنیکس سے پہلے دنیا بھر کے ماہرینِ فلکیات اس بات پر متفق تھے کہ زمین ساکن ہے، جبکہ سورج، چاند اور سیارے زمین کے گرد گھومتے ہیں۔ اس نظریے کو Geocentric Model (جیو سینٹرک ماڈل: زمین مرکزیت) کہا جاتا ہے۔ مسلم ماہرینِ فلکیات اور مفسرینِ قرآن بھی زمین کو ساکن مانتے رہے ہیں۔ قرآنِ حکیم میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ زمین ایک سیارہ ہے جو سورج کے گرد گھومتی ہے۔ البتہ قرآن میں زمین کی محوری حرکت کی طرف قوی اشارہ کیا گیا ہے۔
جمہور مفسرین نے قرانی آیات کی تشریح جیوسنٹرک ماڈل کے مطابق کی ہے جس میں سورج کوزمین کے گرد گردش کرتا ہوا تسلیم کیا جاتا ہے۔ امام المتکلمین امام فخرالدین الرازی ؒ نے بھی اپنی تفسیر کبیر میں جیو سنٹرک ماڈل کو درست تسلیم کیا ہے اور سورج کے طلوع و غروب کے مشاہدے کے مطابق ہی فلکیاتی آیات کی تشریح کی ہے۔
زمین کی دَوری حرکت کا مشاہدہ؟
یہ حقیقت ہے کہ آج تک کسی انسان نے براہِ راست زمین کو سورج کے گرد حرکت کرتے نہیں دیکھا۔ جو کچھ ہمیں دکھایا جاتا ہے وہ سب کمپیوٹر کی بنائی ہوئی Simulations ہیں، کسی حقیقی ویڈیو یا خلائی شٹل (Space Shuttle) کی فوٹیج نہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ زمین سورج کے گرد حرکت کرتی ہے، مشاہدہ نہیں بلکہ ایک Scientific Hypothesis (سائنسی مفروضہ) ہے۔ اس کے برعکس سورج کا مشرق سے طلوع اور مغرب میں غروب ہونا ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے جسے ہر شخص روزانہ دیکھتا ہے۔
منازل شمس و قمر
چاند زمین کے گرد گردش کرتا ہے اور تقریباً 28 دن میں دائرۂ بروج (Zodiac) کا ایک چکر مکمل کر لیتا ہے۔ سورج بھی اسی دائرۂ بروج میں حرکت کرتا محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کا چکر بہت بڑا ہے جو 365 دن (یعنی ایک شمسی سال) میں مکمل ہوتا ہے۔ ان مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سورج اور چاند دونوں ہی زمین کے گرد حرکت کرتے ہیں۔
سیاروں کی الٹی چال
سیارے بھی دائرۂ بروج میں حرکت کرتے ہیں لیکن کبھی کبھار وہ پیچھے کی طرف جاتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ اسے Retrograde Motion (ریٹروگریڈ موشن: الٹی چال) کہتے ہیں۔ جیوسینٹرک ماڈل میں اس کی وضاحت اطمینان بخش نہ تھی، لیکن جب سیاروں کی حرکات کو زیادہ باریکی سے سمجھا گیا تو یہ نتیجہ نکلا کہ سیارے سورج کے گرد حرکت کرتے ہیں، اور اسی بنا پر یہ مانا گیا کہ زمین بھی سورج کے گرد گھومتی ہے۔ مگر یہ اب تک براہِ راست مشاہدے سے ثابت نہیں ہوسکا۔
حقیقت یہ ہے کہ نہ تو جیو سینٹرک ماڈل مکمل طور پر درست ہے اور نہ ہی ہیلیو سینٹرک ماڈل۔ دونوں میں خامیاں ہیں۔ قرآنِ حکیم کا نقطۂ نظر ان دونوں سے مختلف اور منفرد ہے۔ قرآن سورج اور چاند کی حرکت کا ذکر کرتا ہے مگر زمین کے سورج کے گرد گھومنے کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ گویا قرآن کا نظریہ نہ تو مکمل جیو سینٹرک ہے اور نہ ہی خالص ہیلیو سینٹرک، بلکہ ایک الگ اور اعلیٰ تصور ہے جو مشاہدے اور وحی دونوں سے ہم آہنگ ہے۔
ہماری رائے میں ٹائیکو براہے کا ماڈل قرآنی ماڈل کے قریب ترین ہے۔
ٹائیکو براہے ماڈل
16ویں صدی میں ڈینمارک کے ماہرِ فلکیات "ٹائیکو براہے” (Tycho Brahe) نے ایک ایسا ماڈل پیش کیا جو جیو سینٹرزم (زمین مرکزیت) اور ہیلیو سینٹرزم (سورج مرکزیت) دونوں کے عناصر کو ملا کر بنایا گیا تھا۔ اس کے مشاہدات، جو اُس زمانے کے سب سے جدید آلات کے ذریعے کیے گئے، ایک ایسے نظام کی بنیاد بنے جس میں:
- زمین کائنات کے مرکز پر ساکن رہتی ہے۔
- چاند اور سورج زمین کے گرد گھومتے ہیں۔
- سیارے سورج کے گرد گردش کرتے ہیں۔
ذیل میں جیو سینٹرک (Geocentric)، ہیلیو سینٹرک (Heliocentric) اور ٹائیکونین (Tychonic) ماڈلز کا تقابلی جائزہ ایک جدول کی صورت میں پیش کیا گیا ہے:
فلکیاتی ماڈلز کا موازنہ
| پہلو / ماڈل | جیو سینٹرک (Geocentric) | ہیلیو سینٹرک (Heliocentric) | ٹائیکونین (Tychonic) |
|---|---|---|---|
| مرکز | زمین مرکز ہے | سورج مرکز ہے | زمین مرکز ہے |
| زمین کی حالت | زمین ساکن ہے | زمین سورج کے گرد حرکت کرتی ہے | زمین ساکن ہے |
| سورج کی حرکت | سورج زمین کے گرد گھومتا ہے | سورج ساکن ہے، زمین اس کے گرد گھومتی ہے | سورج زمین کے گرد گھومتا ہے |
| چاند کی حرکت | چاند زمین کے گرد گھومتا ہے | چاند زمین کے گرد گھومتا ہے | چاند زمین کے گرد گھومتا ہے |
| سیاروں کی حرکت | سیارے زمین کے گرد گھومتے ہیں | سیارے سورج کے گرد گھومتے ہیں | سیارے سورج کے گرد گھومتے ہیں، اور سورج زمین کے گرد گھومتا ہے |
| فائدہ/وجہ | مذہبی اور قدیم فلسفیانہ تصور کی تائید کرتا ہے | مشاہداتی اور سائنسی اعتبار سے زیادہ درست | دونوں کو ملانے والا درمیانی ماڈل، مذہبی تصور کے قریب اور مشاہدات سے ہم آہنگ |
| نمایاں مؤید | بطلیموس (Ptolemy) | کوپرنیکس (Copernicus)، کیپلر (Kepler)، گلیلیو (Galileo) | ٹائیکو براہے (Tycho Brahe) |
خلاصہ
- جیو سینٹرک: قدیم یونانی و اسلامی دور میں زیادہ مقبول، مذہبی متون سے ہم آہنگ۔
- ہیلیو سینٹرک: جدید سائنس کا بنیادی ماڈل، مگر اُس وقت مذہبی حلقوں میں متنازعہ۔
- ٹائیکونین: درمیانی راستہ، جس نے زمین کی مرکزیت کو برقرار رکھا اور ساتھ ہی سیاروں کے جدید مشاہدات کو تسلیم کیا۔
زمین کی محوری حرکت اور دن رات کا بننا قرآن کی روشنی میں
1. دن اور رات کے آنے جانے کا ذکر
يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ"وہی (اللہ) ہے جو رات کو دن پر لپیٹ دیتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا ہے۔”(الزمر 39:5)
یہاں "يُكَوِّرُ” (لپیٹ دینا، گول گول لپیٹنا) کا لفظ استعمال ہوا ہے، جو زمین کی گولائی (Sphericity) اور اس کی محوری گردش (Rotation) کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جب زمین اپنی محور پر گھومتی ہے تو دن اور رات ایک دوسرے پر لپیٹتے رہتے ہیں۔
2. رات اور دن کا بدل بدل کر آنا
يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ"وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔”(لقمان 31:29)
"يُولِجُ” (داخل کرتا ہے) اس تدریجی عمل (Gradual Process) کو ظاہر کرتا ہے۔ زمین کی گردش کی وجہ سے آہستہ آہستہ روشنی بڑھتی ہے (صبح) اور پھر گھٹتی ہے (شام)۔
3. دن رات کا مسلسل پیچھا کرنا
لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ"نہ سورج کے بس میں ہے کہ چاند کو پکڑ لے اور نہ رات دن پر سبقت کر سکتی ہے۔ سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔”(یس 36:40)
اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ رات اور دن ایک مقررہ نظام کے تحت ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب زمین اپنی Axis (محور) پر مسلسل گھوم رہی ہو۔
4. اللہ نے رات اور دن کو نشانیاں بنایا
وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ"اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا۔”(بنی اسرائیل 17:12)
دن اور رات دراصل زمین کی محوری گردش (Earth’s Rotation) کی بدولت ہیں، جس سے یہ اللہ کی قدرت کی نشانی بن جاتے ہیں۔
سائنسی وضاحت
- زمین اپنے محور (Axis) پر تقریباً 24 گھنٹوں میں ایک چکر مکمل کرتی ہے۔
- جب زمین کا ایک حصہ سورج کی طرف ہوتا ہے تو وہاں دن (Day) ہوتا ہے، اور دوسرا حصہ سورج سے پیچھے ہوتا ہے تو وہاں رات (Night) ہوتی ہے۔
- قرآن نے "لپیٹنے” اور "داخل کرنے” کے الفاظ استعمال کرکے اس حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا ہے۔
خلاصہ
قرآن کریم کی متعدد آیات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ:
- زمین کروی ہے (Spherical Earth)۔
- زمین اپنے محور پر گردش (Rotation on Axis) کر رہی ہے۔
- اسی گردش کے نتیجے میں دن اور رات کا نظام قائم ہے۔
دن اور رات کا سبب
1. بادی النظر (ظاہری مشاہدہ)
- انسان زمین پر کھڑا ہو کر دیکھتا ہے کہ سورج مشرق سے نکلتا ہے اور مغرب میں غروب ہوتا ہے۔
- یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سورج زمین کے گرد گھوم رہا ہے اور اسی گردش سے دن اور رات بنتے ہیں۔
2. حقیقی حرکت (سائنسی حقیقت)
- حقیقت میں زمین اپنے محور پر گھومنے (Rotation) کی وجہ سے دن اور رات پیدا ہوتے ہیں۔
- قرآن کریم نے دن اور رات کو بیان کرتے وقت ہمیشہ زمین کی گردش اور لپیٹنے/داخل کرنے کے الفاظ استعمال کیے ہیں، نہ کہ سورج کے چکر کو دن و رات کا سبب بتایا ہے۔
پس قرآن زمین کی دوری حرکت کی تائید نہیں کرتا البتہ زمین کی محوری حرکت کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے۔ اس اعتبار سے زمین نہ تو مکمل طور پر ساکن ہے اور نہ ہی سورج کے گرد گردش کرتی ہے۔
- Get link
- X
- Other Apps
Categories of Topics
Categories of Topics
- Anthropology
- Anthropomorphism
- Aqidah
- Arabian Peninsula
- Arabic Language
- Arabs
- Archaeology
- Artificial Intelligence
- Asia
- Astronomy
- Atheism
- Australia
- Bangladesh
- Barzakh
- Big Bang Theory
- Biography
- Biology
- Black Hole
- Budhism
- cardiac health
- Catholic Church
- Charity
- Chemistry
- China
- Christianity
- Civil Law
- Climate Change
- Continents
- Cosmology
- Criminal Law
- Crypto-Politics
- Cryptocurrency
- CSS
- CSS Essays
- CSS Exams
- Current Account Deficit
- Current Affairs
- Cyber
- Dajjal
- Daleel at-Talib
- Dan Gibson’s Theory
- Dark Energy
- Deepfake technology
- Deforestation
- Deism
- digital firewall
- Distinctive Aspects of Islam
- Divine Remembrance
- Dragons and Dinosaurs
- Earthquakes
- Eclipse
- Ecology
- Economy
- Education
- Egypt
- Eid-ul-Fitr
- Elon Musk
- Emotional Intelligence
- Energy
- Energy Crisis
- Environment
- Eschatology
- Esfahan
- Europe
- Evolution
- Evolution of Stars
- Family Law
- Fasting
- Feminism
- Fiqh
- Food Law
- Funerals
- Galaxy
- Gaza
- General Knowledge
- Genes
- Genetics
- Genital Worship
- Genocide Convention
- Geography
- Geology
- Geopolitics
- Global Affairs
- Global Crisis
- Global Warming
- Globalization
- Golden Bird
- Gravity
- Hadith
- Hajj
- Hajj Rituals
- Halal and Haram
- Halal Food
- Hanafi
- Hanbali
- Hanbali Aqidah
- Hanbali Madhab
- Hashimi Fiqh
- Hayy ibn Yaqzan
- health
- Heer Ranjha
- Highest Mountains
- Hijab
- Hindu Mythology
- History
- Holography
- Holy Scriptures
- Homosexuality
- Human
- Human Rights
- Ibn Sina’
- Ibn Taymiyyah
- Imam Ahmad bin Hanbal R.A
- Imam Al-Mahdi
- Imam Ali
- Impact on Society
- India
- Indonesia
- International Affairs
- International Law
- International Relations
- Iran
- Iran's Economy
- Islam
- Islamic Beliefs
- Islamic Civilization
- Islamic eschatology
- Islamic Festivals
- Islamic Golden Age
- Islamic History
- Islamic Laws
- islamic medicine
- Islamic Rituals
- Islamic Social System
- Islamic values
- Islamic worship
- Islamophobia
- Jesus
- Jewish eschatology
- Kabbalah
- Karbala
- Kings of Egypt
- Languages
- Largest Deserts
- Largest Lakes
- Leadership Skills
- LGBT Pride
- Lithium
- litrature
- Longest Rivers
- Lunar Cataclysm
- Makkah
- Maliki
- Mathematical Cartography
- Mathematics
- Microplastic
- Milky Way
- Modern World
- Music
- Muslim Cosmology
- Muslim History
- Muslim Parenting
- Muslim Ummah
- Mysterious sagas
- Neuralink
- Neurochemistry
- Neurology
- Neuroscience
- North America
- Oceans
- Organic Evolution
- PAF
- Pakistan
- Pakistan Affairs
- Pakistan’s Constitution
- Palestine
- Pedagogy
- Petroleum Warehouses
- Philosophy
- Phsycology
- Physics
- Political Science
- Politics
- Populism
- Pornography
- Poverty
- Pragmatic Theory of Truth
- Prophet Adam
- Prophet Ibrahim
- Prophet Muhammad (PBUH)
- Prophet Yousuf (AS)
- Prophethood
- Psychology
- Public Administration
- Punjab Government
- Quantum Computing
- Quantum Physics
- Qur'an
- Quran
- Rape
- Red Heifer
- Robointelligence
- Sahabah
- Salah
- Saudi Arabia
- Sawm
- Science
- Seerah
- SeismoAlert
- Seismology
- Self-Purification
- Shafi'ee
- Shariah
- Shaytan
- slamic morality
- Slavery
- Smoking
- Social Media
- Solar Eclipse
- Solar System
- South America
- Space
- Space Solar
- Spiritual Impact of Hajj
- Spiritual Impacts
- Sunnah
- SWOT Analysis
- Tafsir
- Taghut
- Tawhid
- Tazkiyah
- Technology
- Technonlogy
- Terrorism
- testing
- The Earth
- The Gays of Gomorrah
- The Hebrew Hajirah
- The James Webb Space Telescope
- The Messiah
- The solar cycle
- The Structure of Ka’abah
- The Sun
- The Universe
- Time Travelling
- Trading
- Transparency International (TI)
- Travelling
- Truth
- Tsunami
- Turkestan
- Turkey
- U.S.-Saudi petrodollar pact
- Umrah
- Unemployment
- United Nations Organization
- Universal Hijri Calendar
- Urdu
- Usul
- Volcanic erruption
- Wahhabism
- War
- Waris Shah
- Waterfalls
- Weather Forecasting
- West
- Wildlife
- Wisdom
- Ya’juj and Ma’juj
- Zakat
- Zakat al-Fitr
- Zamzam Well
- Zionism