Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

کیا زمین ساکن ہے؟

کیا زمین ساکن ہے
قرآن زمین کی دوری حرکت کی تائید نہیں کرتا البتہ زمین کی محوری حرکت کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے۔ اس اعتبار سے زمین نہ تو مکمل طور پر ساکن ہے اور نہ ہی سورج کے گرد گردش کرتی ہے۔

کیا زمین ساکن ہے یا اس میں کسی قسم کی کوئی حرکت پائی جاتی ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں۔

قرآنی اشارات

قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر زمین کے قرار، ثبات اور سکون کا ذکر آیا ہے۔ یہ الفاظ زمین کے "استقرار” (یعنی مضبوطی اور ٹھہراؤ) کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ چند نمایاں آیات درج ذیل ہیں:

1. زمین کو قرار گاہ قرار دینا

وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا
"اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔”
(البقرۃ 2:22)

یہاں "فِرَاش” (بچھونا) سے مراد زمین کی ہم وار اور پر سکون حیثیت ہے۔

2. زمین کا مستقر ہونا

اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا
"اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قرار (ٹھہرنے کی جگہ) بنایا۔”
(غافر 40:64)

"قرار” کا مطلب ہے ایسی جگہ جہاں سکون و ثبات ہو۔

3. زمین کا استقرار اور پہاڑوں کی میخوں کی طرح جڑت

أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا۝ وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا۝
"کیا ہم نے زمین کو گہوارہ اور پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا؟”
(النبأ 78:6-7)

یہاں "مِهَاد” (گہوارہ) بھی سکون اور ٹھہراؤ کا مفہوم دیتا ہے۔

4. زمین کو بچھونا اور راستوں کا جال

هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا
"وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے نرم و تابع بنایا، پس اس کی راہوں پر چلو۔”
(الملک 67:15)

یہاں "ذَلُول” (تابع و نرم) کا مطلب ہے کہ زمین انسان کے لئے قابلِ استعمال اور پائیدار ہے۔

5. زمین کا ساکن ہونا اور آسمان کی چھت

اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً
"اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قرار دیا اور آسمان کو عمارت کی طرح بنایا۔”
(غافر 40:64)

قرآن میں زمین کو بار بار "قرار”، "مستقر”، "مِهاد”، "فِراش” اور "ذلول” جیسے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، جو اس کے ثابت، پُرسکون اور رہائش کے لائق ہونے کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مسلمان مفکرین نے ٹائیکو براہے کے جیو-ہیلیوسینٹرک (Tychonic) ماڈل کو ان قرآنی بیانات سے ہم آہنگ سمجھا ہے، کیونکہ اس ماڈل میں زمین مرکز پر ساکن رہتی ہے۔

جدید مغربی ماہرینِ فلکیات (Astronomers) کی رائے یہ ہے کہ زمین بھی دوسرے سیاروں (Planets) کی طرح ایک سیارہ ہے جو سورج (Sun) کے گرد اپنے مدار (Orbit) میں حرکت کرتی ہے۔ زمین کی اس حرکت کو "دوری حرکت” یا Circulatory Motion کہا جاتا ہے۔ کائنات کے اس ماڈل کو Heliocentric Model (ہیلیو سینٹرک ماڈل: سورج مرکزیت) کہا جاتا ہے۔ یہ تصور سب سے پہلے 16ویں صدی میں نکولس کوپرنیکس (Nicolaus Copernicus) نے منظم طور پر پیش کیا، جس کی تائید بعد میں جوہانس کیپلر (Johannes Kepler) اور گلیلیو گیلیلی (Galileo Galilei) نے بھی کی۔ اُس کے بعد سے مغربی دنیا میں یہی تصور عام ہوگیا۔

مزید دریافت کریں
E-Books
Islam
Books & Literature

لیکن البرٹ آئن سٹائن (Albert Einstein) نے نظریۂ اضافیت (Theory of Relativity) پیش کیا، جس کے مطابق حرکت (Motion) اور سکون (Rest) نسبتی یعنی Relative ہیں۔ اس میں اصل بات یہ ہے کہ مشاہدہ کرنے والا (Observer) کس مقام سے دیکھ رہا ہے، یعنی اس کا Frame of Reference کیا ہے۔ زمین سے دیکھنے والا محسوس کرتا ہے کہ سورج زمین کے گرد گھوم رہا ہے، لیکن اگر ہم سورج پر جا کر زمین کو دیکھیں تو یہ لگے گا کہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔

لنکن برنیٹ (Lincoln Barnett) نے اپنی کتاب The Universe and Dr. Einstein (1948) میں اعتراف کیا ہے کہ ہمارے پاس کوئی ایسا تجربہ (Experiment) موجود نہیں جو براہِ راست یہ ثابت کرے کہ زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے۔

مذہبی پس منظر

ہیلیو سینٹرک ماڈل پیش کرنے کے پیچھے ایک بڑا مقصد زمین کی اُس خصوصی حیثیت کو ختم کرنا تھا جو مذاہب اسے دیتے تھے۔ اگر زمین کائنات کا مرکز ہے اور تمام اجرامِ فلکی (Celestial Bodies) اس کے گرد گھومتے ہیں، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ زمین کو خاص مقصد کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ یہ نظریہ انسان کو خالقِ کائنات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس تصور سے نجات پانے کے لئے ہیلیو سینٹرک ماڈل پیش کیا گیا، تاکہ زمین کو محض ایک عام سیارہ قرار دیا جا سکے۔

جیو سینٹرک ماڈل

کوپرنیکس سے پہلے دنیا بھر کے ماہرینِ فلکیات اس بات پر متفق تھے کہ زمین ساکن ہے، جبکہ سورج، چاند اور سیارے زمین کے گرد گھومتے ہیں۔ اس نظریے کو Geocentric Model (جیو سینٹرک ماڈل: زمین مرکزیت) کہا جاتا ہے۔ مسلم ماہرینِ فلکیات اور مفسرینِ قرآن بھی زمین کو ساکن مانتے رہے ہیں۔ قرآنِ حکیم میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ زمین ایک سیارہ ہے جو سورج کے گرد گھومتی ہے۔ البتہ قرآن میں زمین کی محوری حرکت کی طرف قوی اشارہ کیا گیا ہے۔

جمہور مفسرین نے قرانی آیات کی تشریح جیوسنٹرک ماڈل کے مطابق کی ہے جس میں سورج کوزمین کے گرد گردش کرتا ہوا تسلیم کیا جاتا ہے۔ امام المتکلمین امام فخرالدین الرازی ؒ نے بھی اپنی تفسیر کبیر میں جیو سنٹرک ماڈل کو درست تسلیم کیا ہے اور سورج کے طلوع و غروب کے مشاہدے کے مطابق ہی فلکیاتی آیات کی تشریح کی ہے۔

زمین کی دَوری حرکت کا مشاہدہ؟

یہ حقیقت ہے کہ آج تک کسی انسان نے براہِ راست زمین کو سورج کے گرد حرکت کرتے نہیں دیکھا۔ جو کچھ ہمیں دکھایا جاتا ہے وہ سب کمپیوٹر کی بنائی ہوئی Simulations ہیں، کسی حقیقی ویڈیو یا خلائی شٹل (Space Shuttle) کی فوٹیج نہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ زمین سورج کے گرد حرکت کرتی ہے، مشاہدہ نہیں بلکہ ایک Scientific Hypothesis (سائنسی مفروضہ) ہے۔ اس کے برعکس سورج کا مشرق سے طلوع اور مغرب میں غروب ہونا ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے جسے ہر شخص روزانہ دیکھتا ہے۔

منازل شمس و قمر

چاند زمین کے گرد گردش کرتا ہے اور تقریباً 28 دن میں دائرۂ بروج (Zodiac) کا ایک چکر مکمل کر لیتا ہے۔ سورج بھی اسی دائرۂ بروج میں حرکت کرتا محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کا چکر بہت بڑا ہے جو 365 دن (یعنی ایک شمسی سال) میں مکمل ہوتا ہے۔ ان مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سورج اور چاند دونوں ہی زمین کے گرد حرکت کرتے ہیں۔

سیاروں کی الٹی چال

سیارے بھی دائرۂ بروج میں حرکت کرتے ہیں لیکن کبھی کبھار وہ پیچھے کی طرف جاتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ اسے Retrograde Motion (ریٹروگریڈ موشن: الٹی چال) کہتے ہیں۔ جیوسینٹرک ماڈل میں اس کی وضاحت اطمینان بخش نہ تھی، لیکن جب سیاروں کی حرکات کو زیادہ باریکی سے سمجھا گیا تو یہ نتیجہ نکلا کہ سیارے سورج کے گرد حرکت کرتے ہیں، اور اسی بنا پر یہ مانا گیا کہ زمین بھی سورج کے گرد گھومتی ہے۔ مگر یہ اب تک براہِ راست مشاہدے سے ثابت نہیں ہوسکا۔

حقیقت یہ ہے کہ نہ تو جیو سینٹرک ماڈل مکمل طور پر درست ہے اور نہ ہی ہیلیو سینٹرک ماڈل۔ دونوں میں خامیاں ہیں۔ قرآنِ حکیم کا نقطۂ نظر ان دونوں سے مختلف اور منفرد ہے۔ قرآن سورج اور چاند کی حرکت کا ذکر کرتا ہے مگر زمین کے سورج کے گرد گھومنے کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ گویا قرآن کا نظریہ نہ تو مکمل جیو سینٹرک ہے اور نہ ہی خالص ہیلیو سینٹرک، بلکہ ایک الگ اور اعلیٰ تصور ہے جو مشاہدے اور وحی دونوں سے ہم آہنگ ہے۔

مزید دریافت کریں
Islam
E-Books
Books & Literature

ہماری رائے میں ٹائیکو براہے کا ماڈل قرآنی ماڈل کے قریب ترین ہے۔

ٹائیکو براہے ماڈل

16ویں صدی میں ڈینمارک کے ماہرِ فلکیات "ٹائیکو براہے” (Tycho Brahe) نے ایک ایسا ماڈل پیش کیا جو جیو سینٹرزم (زمین مرکزیت) اور ہیلیو سینٹرزم (سورج مرکزیت) دونوں کے عناصر کو ملا کر بنایا گیا تھا۔ اس کے مشاہدات، جو اُس زمانے کے سب سے جدید آلات کے ذریعے کیے گئے، ایک ایسے نظام کی بنیاد بنے جس میں:

  • زمین کائنات کے مرکز پر ساکن رہتی ہے۔
  • چاند اور سورج زمین کے گرد گھومتے ہیں۔
  • سیارے سورج کے گرد گردش کرتے ہیں۔

براہے کا یہ ماڈل بہتر مشاہدات کی وضاحت کرتا تھا جبکہ زمین کی مرکزیت کو بھی برقرار رکھتا تھا۔
اسلامی نقطۂ نظر سے، "ٹائیکونین نظام” (Tychonian system) قرآن کی اُن آیات سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے جن میں زمین کی مضبوطی اور ثبات کا ذکر کیا گیا ہے۔

ذیل میں جیو سینٹرک (Geocentric)، ہیلیو سینٹرک (Heliocentric) اور ٹائیکونین (Tychonic) ماڈلز کا تقابلی جائزہ ایک جدول کی صورت میں پیش کیا گیا ہے:

فلکیاتی ماڈلز کا موازنہ

پہلو / ماڈلجیو سینٹرک (Geocentric)ہیلیو سینٹرک (Heliocentric)ٹائیکونین (Tychonic)
مرکززمین مرکز ہےسورج مرکز ہےزمین مرکز ہے
زمین کی حالتزمین ساکن ہےزمین سورج کے گرد حرکت کرتی ہےزمین ساکن ہے
سورج کی حرکتسورج زمین کے گرد گھومتا ہےسورج ساکن ہے، زمین اس کے گرد گھومتی ہےسورج زمین کے گرد گھومتا ہے
چاند کی حرکتچاند زمین کے گرد گھومتا ہےچاند زمین کے گرد گھومتا ہےچاند زمین کے گرد گھومتا ہے
سیاروں کی حرکتسیارے زمین کے گرد گھومتے ہیںسیارے سورج کے گرد گھومتے ہیںسیارے سورج کے گرد گھومتے ہیں، اور سورج زمین کے گرد گھومتا ہے
فائدہ/وجہمذہبی اور قدیم فلسفیانہ تصور کی تائید کرتا ہےمشاہداتی اور سائنسی اعتبار سے زیادہ درستدونوں کو ملانے والا درمیانی ماڈل، مذہبی تصور کے قریب اور مشاہدات سے ہم آہنگ
نمایاں مؤیدبطلیموس (Ptolemy)کوپرنیکس (Copernicus)، کیپلر (Kepler)، گلیلیو (Galileo)ٹائیکو براہے (Tycho Brahe)

خلاصہ

  • جیو سینٹرک: قدیم یونانی و اسلامی دور میں زیادہ مقبول، مذہبی متون سے ہم آہنگ۔
  • ہیلیو سینٹرک: جدید سائنس کا بنیادی ماڈل، مگر اُس وقت مذہبی حلقوں میں متنازعہ۔
  • ٹائیکونین: درمیانی راستہ، جس نے زمین کی مرکزیت کو برقرار رکھا اور ساتھ ہی سیاروں کے جدید مشاہدات کو تسلیم کیا۔

زمین کی محوری حرکت اور دن رات کا بننا قرآن کی روشنی میں

1. دن اور رات کے آنے جانے کا ذکر

يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ
"وہی (اللہ) ہے جو رات کو دن پر لپیٹ دیتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا ہے۔”
(الزمر 39:5)

یہاں "يُكَوِّرُ” (لپیٹ دینا، گول گول لپیٹنا) کا لفظ استعمال ہوا ہے، جو زمین کی گولائی (Sphericity) اور اس کی محوری گردش (Rotation) کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جب زمین اپنی محور پر گھومتی ہے تو دن اور رات ایک دوسرے پر لپیٹتے رہتے ہیں۔

2. رات اور دن کا بدل بدل کر آنا

يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ
"وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔”
(لقمان 31:29)

"يُولِجُ” (داخل کرتا ہے) اس تدریجی عمل (Gradual Process) کو ظاہر کرتا ہے۔ زمین کی گردش کی وجہ سے آہستہ آہستہ روشنی بڑھتی ہے (صبح) اور پھر گھٹتی ہے (شام)۔

3. دن رات کا مسلسل پیچھا کرنا

لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ
"نہ سورج کے بس میں ہے کہ چاند کو پکڑ لے اور نہ رات دن پر سبقت کر سکتی ہے۔ سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔”
(یس 36:40)

اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ رات اور دن ایک مقررہ نظام کے تحت ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب زمین اپنی Axis (محور) پر مسلسل گھوم رہی ہو۔

4. اللہ نے رات اور دن کو نشانیاں بنایا

وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ
"اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا۔”
(بنی اسرائیل 17:12)

دن اور رات دراصل زمین کی محوری گردش (Earth’s Rotation) کی بدولت ہیں، جس سے یہ اللہ کی قدرت کی نشانی بن جاتے ہیں۔

سائنسی وضاحت

  • زمین اپنے محور (Axis) پر تقریباً 24 گھنٹوں میں ایک چکر مکمل کرتی ہے۔
  • جب زمین کا ایک حصہ سورج کی طرف ہوتا ہے تو وہاں دن (Day) ہوتا ہے، اور دوسرا حصہ سورج سے پیچھے ہوتا ہے تو وہاں رات (Night) ہوتی ہے۔
  • قرآن نے "لپیٹنے” اور "داخل کرنے” کے الفاظ استعمال کرکے اس حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا ہے۔

خلاصہ

قرآن کریم کی متعدد آیات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ:

  • زمین کروی ہے (Spherical Earth)۔
  • زمین اپنے محور پر گردش (Rotation on Axis) کر رہی ہے۔
  • اسی گردش کے نتیجے میں دن اور رات کا نظام قائم ہے۔

دن اور رات کا سبب

1. بادی النظر (ظاہری مشاہدہ)

  • انسان زمین پر کھڑا ہو کر دیکھتا ہے کہ سورج مشرق سے نکلتا ہے اور مغرب میں غروب ہوتا ہے۔
  • یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سورج زمین کے گرد گھوم رہا ہے اور اسی گردش سے دن اور رات بنتے ہیں۔

2. حقیقی حرکت (سائنسی حقیقت)

  • حقیقت میں زمین اپنے محور پر گھومنے (Rotation) کی وجہ سے دن اور رات پیدا ہوتے ہیں۔
  • قرآن کریم نے دن اور رات کو بیان کرتے وقت ہمیشہ زمین کی گردش اور لپیٹنے/داخل کرنے کے الفاظ استعمال کیے ہیں، نہ کہ سورج کے چکر کو دن و رات کا سبب بتایا ہے۔

پس قرآن زمین کی دوری حرکت کی تائید نہیں کرتا البتہ زمین کی محوری حرکت کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے۔ اس اعتبار سے زمین نہ تو مکمل طور پر ساکن ہے اور نہ ہی سورج کے گرد گردش کرتی ہے۔

Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

Canal Conflict Boosts Water Crisis

The Qur’anic Chronology of Creation

Basics of the Muslim Cosmology

Al-Jazirah: The First Human Settlement

Seven Continents

Robots Redefined: The Evolution Toward Generalized Cognitive Abilities

How to Buy a Robot?

Developing Leadership Skills in University Students