Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

سُنّی مکاتبِ فکر

سُنّی مکاتبِ فکر

سُنّی مکاتبِ فکر

از قلم ساجد محمود انصاری حنبلی

اسلامی عقائد قرآن حکیم اور سنتِ متواترہ پر مبنی ہیں جن پر تقریباً تمام سُنّی مکاتبِ فکر کا اتفاق ہے، تاہم بعض عقائد کی تشریحات میں جزوی  و فروعی اختلافات پائے جاتے ہیں۔یہ اختلافات ایسے نہیں کہ جن کی بنیاد پر ایک دوسرے کی تکفیر کی جائے یا ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کی جائے۔  عقائد کے اعتبار سے اہل سنت کو تین مکاتبِ فکر میں بانٹا جاتا ہے جو کہ درج ذیل ہیں:

1۔ حنبلی مکتبِ فکر

2۔ اشعری مکتبِ فکر

3۔ ماتریدی مکتبِ فکر

  1۔ حنبلی مکتبِ فکر

حنبلی مکتبِ فکر کے بانی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ (164-241 ھ)  ہیں، آپ نے اپنے زمانہ میں پیدا ہونے والے فکری انتشار میں امت کی نہ صرف رہنمائی فرمائی بلکہ سنت کا دفاع کرنے کی پاداش میں آپ کو عین بڑھاپے میں ظلم و ستم برداشت کرنا پڑے۔ آپ کو اہل سنت کا علی الاطلاق امام تسلیم کیا جاتا ہے کیوں کہ معتزلہ کی گمراہی کے جواب میں آپ سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ آپ عزیمت کی راہ کے شہسوار تھے۔جس وقت بڑے بڑے علما نے رخصت کی راہ اختیار کی،  آپ نے  اسلامی عقائد کو ان کی اصل صورت میں محفوظ بنانے کے لیے اپنی جان داؤ پر لگادی۔

معتزلہ کی گمراہی عقل پرستی کا لبادہ اوڑھ کر ظاہر ہوئی تھی، اس لیے لازم تھا کہ عقائد کو عقل کی بجائے  خالصتاً قرآن و سنت کی کسوٹی پر استوار کیا جاتا۔غیب کے معاملات میں عقل کو دخیل کرنے کی بجائے  نصوص کو معیار مانا جاتا۔ اگر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ بھی حکومتی دباؤ میں آکر عقل کو عقیدے کا معیار مان لیتے تو آج ہمیں اسلاف کے اصل عقائد بتانے والا کوئی موجود نہ ہوتا۔معتزلہ نے صفات متشابہات  کو آڑ بنا کر اپنے گمراہ کن عقائد کا پرچار کرنے کی بہت سعی کی مگر امام احمد رحمہ اللہ کی پیہم جدوجہد نے ان کے سارے خواب چکنا چور کردیے اور گمراہی کے سیلاب کے آگے مضبوط بند بن کر کھڑے رہے۔ معتزلہ نے عقلی موشگافیوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی صفات کمال کا انکار کیا  تو امام احمد رحمہ اللہ نے ان کے مقابل تفویض کی راہ پسند کی۔ اگرچہ آپ قرآن و سنت کے ان نصوص میں تاویل کا جواز بھی مانتے تھے جہاں ظاہری معنیٰ صفاتِ ثبوتیہ کی نفی کرتا ہو، تاہم صفات متشابہات میں آپ نے تفویض کو ترجیح دی۔ تفویض کا معنی یہ ہے کہ ان صفات کا معنیٰ  اور کیفیت اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے و ھو معکم این ما کنتم (وہ اللہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو) کی تاویل کی ہے اور فرمایا:
انہ مستوی علی العرش عالم بکل مکان

مزید دریافت کریں
Islam
E-Books
Books & Literature

 اللہ تعالیٰ عرش پر قائم ہے اورہر مقام کا علم رکھتا ہے۔

غرض انہوں نے معیت کی تاویل کرتے ہوئے اسے علم الٰہی قرار دیا۔

(مجموع فتاویٰ ابن تیمیہؒ: جلد 4، صفحہ 181، مطبوعہ شاہ فہد قرآن کمپلیکس، مدینہ منورہ)

امام احمد ؒ کی تاویلات کی مزید مثالین دیکھنے کے لیے امام قاضی ابو یعلیٰ الحنبلی ؒ کی کتاب اِبطال التاویلات ملاحظہ فرمائیے۔

چونکہ معتزلہ نے عقل کے راستے گمراہی پھیلانے کی کوشش کی تھی اس لیے ناگزیر تھا کہ لوگوں کو عقل کی حدودوقیود کے بارے میں آگاہ کیا جاتا اور غیبی امور میں اس کے توہمات کا رد کیا جاتا۔ اس لیے بعض لوگوں کو یہ مغالطہ ہوا کہ شاید امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ سرے  سےعقل کی اہمیت کی ہی نفی کرتے تھے۔ ایسا نہیں ہے۔ جو شخص قرآن حکیم کو دین کا اصل عمود تسلیم کرتا ہو اس کے لیے کیسے ممکن ہے کہ وہ قرآن کے تعقل و تفکر کی دعوت کو رد کردے۔لہٰذا امام احمد تعقل و تفکر کے مخالف نہیں تھے بلکہ غیر ضروری  اور بے محل جستجو اور بال کی کھال اتارنےکے خلاف تھے۔

امام احمد رحمہ اللہ کی نص ہے کہ ایمان  کا تعلق قلب، زبان اور جوارح (اعضائے انسانی) کے اعمال سے عبارت ہے۔یعنی ان کے نزدیک اعمال صالحہ بھی ایمان میں داخل ہیں، اس لیے جتنے اعمال صالحہ بڑھتے جائیں گے ایمان بھی ترقی کرتا جائے گا اور جتنا اعمال صالحہ میں کمی واقع ہوگی ایمان میں بھی اتنی ہی کمی ہوتی جائے گی۔تاہم کسی کے گناہ کی وجہ سے اسے دائرۂ ایمان سے خارج اور دائمی جہنمی قرار نہیں دیا جائے گا۔

شیخ الاسلام اما م ابن تیمیہ الحنبلیؒ حنبلی مکتب فکر کے بارے میں فرماتے ہیں:

فلم تخاطب الحنابلۃ الا بما ورد عن اللہ و رسولہ و اصحابہ والتابعین لھم باحسان الذین ھم اعرف باللہ و احکامہ و سلمنا لھم امرالشریعۃ و ھم قدوتنا فیما اخبروا عن اللہ و شرعہ و قد انصف ما احل علیہم و قد شاقق من خرج عن طریقتھم وادعی ان غیرھم اعلم باللہ منھم  او انھم علموا و کتموا لم یفہموا ما اخبروا بہ ۔

ترجمہ:

حنابلہ صرف اسی بات کے ذریعے خطاب کرتے ہیں جو اللہ، اس کے رسول ﷺ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور ان کے بعد نیک لوگوں (تابعین) سے منقول ہے، جو اللہ اور اس کے احکام کو سب سے بہتر جانتے تھے۔ ہم نے شریعت کے معاملے میں انہی کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا ہے، اور اللہ اور اس کی شریعت کے بارے میں جو کچھ انہوں نے خبر دی ہے اس میں وہی ہمارے لیے نمونہ و پیشوا ہیں۔ جس نے ان پر وہی بات لاگو کی جو ان پر حق کے مطابق ہے اس نے انصاف کیا، اور جس نے ان کے طریقے سے انحراف کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ ان کے سوا کوئی اور اللہ کو ان سے زیادہ جانتا ہے، یا یہ کہ وہ جانتے تھے لیکن انہوں نے چھپا لیا، یا یہ کہ وہ جو کچھ خبر دیتے تھے اسے سمجھتے ہی نہیں تھے — تو ایسے شخص نے ان کی مخالفت کی ہے۔

(مجموع فتاویٰ ابن تیمیہؒ: جلد 4، صفحہ 190 )

2۔ اشعری مکتبِ فکر

امام ابوالحسن اشعری رحمہ اللہ (260-324 ھ) اشعری مکتبِ فکر کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ امام ابوالحسن اشعری رحمہ اللہ جوانی میں معتزلہ کے ہتھے چڑھ گئے تھے اور چالیس سال تک ان کے ساتھ وابستہ رہے تاہم پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں توبہ کی توفیق عنایت فرمائی۔آپ بھی اصلاً امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے افکار سے متاثر ہوکر گمراہ کن نظریات سے تائب ہوئے تھے۔ تاہم وہ امام احمد رحمہ اللہ کی طرح صفات متشابہات میں تفویض کی بجائے تاویل (ظاہری معنیٰ کو مجازی معنیٰ کی طرف پھیرنا) کو ترجیح دیتے تھے۔ مثلاً وجہ  اللہ سے ذات الٰہی مراد لیتے، یداللہ سے اللہ تعالیٰ کی قوت و قدرت مراد لیتے، چونکہ وہ امام احمد رحمہ اللہ کے پائے کے عالم نہیں تھے  اس لیے ان سے بعض تشریحات میں فروگزاشت ہوئی۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔

امام ابوالحسن اشعری رحمہ اللہ کے مزاج میں عقلیت کا غلبہ تھا۔ آپ عقائد کی تشریحات میں عقل کو غیر معمولی اہمیت دیتے تھے۔تاہم معتزلہ کی طرح صفات الٰہیہ کا انکار کرنے کی بجائے امام احمد رحمہ اللہ کی طرح ان صفات کا اثبات کرتے تھے اور اعمال صالحہ کو ایمان کا جزو مانتے تھے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ الحنبلی رحمہ اللہ نے امام ابوالحسن اشعری رحمہ اللہ سے بعض مسائل میں اختلاف کے باوجود ان  کی کافی تعریف و توصیف کی ہے اور انہیں اہل سنت میں شمار کیا ہے۔

مزید دریافت کریں
Islam
Books & Literature
E-Books

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں:
ولھذا لما کان ابوالحسن الاشعری و اصحابہ منتسبین الی السنۃ والجماعۃ: کان منتحلا للامام احمد ذاکرا انہ مقتد بہ متبع سبیلہ و کان اعیان اصحابہ من الموافقۃ والمؤالفۃ لکثیر من اصحاب الامام احمد  ما ھو معروف۔ حتی ابابکر عبدالعزیز یذکر من حجج ابی الحسن فی کلامہ مثل ما یذکر من حجج اصحابہ لانہ کان عندہ من متکلمۃ اصحابہ۔

 ترجمہ:

یہی سبب ہے کہ امام ابو الحسن اشعریؒ اور ان کے اصحاب اہلِ سنت والجماعت میں شمار کیے جاتے تھے، نیز وہ امام احمؒد (بن حنبل) کی طرف منسوب ہوتے، ان کا ذکر کرتے کہ وہ انہی کے پیروکار ہیں اور ان کے راستے پر چلنے والے ہیں۔ اور ان کے بڑے بڑے اصحاب کا امام احمدؒ کے بہت سے اصحاب کے ساتھ موافقت و ہم آہنگی رکھنا معروف ہے۔ حتیٰ کہ امام ابو بکر عبدالعزیز الحنبلیؒ( غلام الخلال) اپنے کلام میں امام ابو الحسنؒ کے دلائل کا ذکر کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے وہ امام احمدؒ کے اصحاب کے دلائل کا ذکر کرتے ہیں، کیونکہ وہ (ابوالحسن اشعریؒ)  ان کے نزدیک امام احمد ؒکے اصحاب کے متکلمین میں شمار ہوتے تھے۔

(مجموع فتاویٰ ابن تیمیہؒ، جلد 4، صفحہ 167)

3۔ ماتریدی مکتبِ فکر

اما ابومنصور ماتریدی رحمہ اللہ تعالیٰ (متوفیٰ 33 ھ) امام ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ کے ہم عصر تھے۔وہ تاویل اور تفویض دونوں کے جوازکے قائل تھے۔بلکہ ماتریدی مکتبِ فکر کے نزدیک تفویض تاویل اجمالی ہے اور نصوص کو ظاہر سے مجاز کی طرف پھیرنا تاویل تفصیلی ہے۔ ان کے نزدیک یہ دونوں پہلو جائز ہیں، تاہم ان کی رائے میں اعمال صالحہ ایمان میں داخل نہیں ہیں بلکہ ایمان صرف قلبی اور زبانی تصدیق کا نام ہے۔اس بنیاد پر ان کا کہنا یہ ہے کہ ایمان میں کمی اور زیادتی نہیں ہوتی۔ جو لوگ ایمان میں کمی اور زیادتی کے قائل نہیں انہیں عام طور پر مُرجِئہ کہا جاتا ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ ان کے بارے میں فرماتے ہیں:

و اماالمرجئہ فلیسوا من ھذہ البدع المعظلۃ بل قد دخل فی قولھم طوائف من اھل افقہ والعبادۃ وما کانوا یعدون الا من اھل السنۃ۔

ترجمہ:

رہی بات مرجئہ کی، تو وہ ان گمراہ کن بدعتیوں میں سے نہیں ہیں، بلکہ ان کے قول میں فقہ اور عبادت کے اہل لوگوں کے کچھ گروہ داخل ہو گئے تھے، اور انہیں اہلِ سنت ہی میں شمار کیا جاتا تھا۔

(مجموع فتاویٰ ابن تیمیہؒ: جلد 3، صفحہ 357)

غرض ماتریدی بھی اہل سنت والجماعت میں داخل ہیں اور انہیں بدعتی کہنا جائز نہیں۔

معتزلہ نے سب سے زیادہ زور کلام اللہ کے مخلوق ہونے پر دیا اور اسی کا رد تمام اعلمائے اہل سنت کرتے رہے اس لیے عقائد کے بارے میں مباحث کو علم الکلام کا نام دیا گیا۔  مذکورہ بالا سُنی مکاتبِ فکرنے اپنے اپنے انداز میں معتزلہ کا رد کیا۔ ان علمی مباحث کا تعلق چونکہ قرآن و سنت سے زیادہ عقل سے ہے اس لیے انہیں عقلی مباحث بھی کہا جاتا ہے۔ان مباحث کا تعلق عقل سے ہونے کی وجہ سے سُنّی مکاتبِ فکر میں بھی بعض علمی اختلافات واقع ہوئے ہیں، مگر یہ اختلافات ایسے نہیں ہیں کہ ان کی بنیاد پر ایک دوسرے کی تکفیر یا تبدیع کی جائے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو فہمِ سلیم عطا فرمائے اور دین اسلام پر ثابت قدم رکھے۔ آمین  

Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

Canal Conflict Boosts Water Crisis

The Qur’anic Chronology of Creation

Basics of the Muslim Cosmology

Al-Jazirah: The First Human Settlement

Seven Continents

Robots Redefined: The Evolution Toward Generalized Cognitive Abilities

How to Buy a Robot?

Developing Leadership Skills in University Students