Featured Post
سُنّی مکاتبِ فکر
- Get link
- X
- Other Apps
سُنّی مکاتبِ فکر

سُنّی مکاتبِ فکر
از قلم ساجد محمود انصاری حنبلی
اسلامی عقائد قرآن حکیم اور سنتِ متواترہ پر مبنی ہیں جن پر تقریباً تمام سُنّی مکاتبِ فکر کا اتفاق ہے، تاہم بعض عقائد کی تشریحات میں جزوی و فروعی اختلافات پائے جاتے ہیں۔یہ اختلافات ایسے نہیں کہ جن کی بنیاد پر ایک دوسرے کی تکفیر کی جائے یا ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کی جائے۔ عقائد کے اعتبار سے اہل سنت کو تین مکاتبِ فکر میں بانٹا جاتا ہے جو کہ درج ذیل ہیں:
1۔ حنبلی مکتبِ فکر
2۔ اشعری مکتبِ فکر
3۔ ماتریدی مکتبِ فکر
1۔ حنبلی مکتبِ فکر
حنبلی مکتبِ فکر کے بانی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ (164-241 ھ) ہیں، آپ نے اپنے زمانہ میں پیدا ہونے والے فکری انتشار میں امت کی نہ صرف رہنمائی فرمائی بلکہ سنت کا دفاع کرنے کی پاداش میں آپ کو عین بڑھاپے میں ظلم و ستم برداشت کرنا پڑے۔ آپ کو اہل سنت کا علی الاطلاق امام تسلیم کیا جاتا ہے کیوں کہ معتزلہ کی گمراہی کے جواب میں آپ سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ آپ عزیمت کی راہ کے شہسوار تھے۔جس وقت بڑے بڑے علما نے رخصت کی راہ اختیار کی، آپ نے اسلامی عقائد کو ان کی اصل صورت میں محفوظ بنانے کے لیے اپنی جان داؤ پر لگادی۔
اللہ تعالیٰ عرش پر قائم ہے اورہر مقام کا علم رکھتا ہے۔
غرض انہوں نے معیت کی تاویل کرتے ہوئے اسے علم الٰہی قرار دیا۔
(مجموع فتاویٰ ابن تیمیہؒ: جلد 4، صفحہ 181، مطبوعہ شاہ فہد قرآن کمپلیکس، مدینہ منورہ)
امام احمد ؒ کی تاویلات کی مزید مثالین دیکھنے کے لیے امام قاضی ابو یعلیٰ الحنبلی ؒ کی کتاب اِبطال التاویلات ملاحظہ فرمائیے۔
چونکہ معتزلہ نے عقل کے راستے گمراہی پھیلانے کی کوشش کی تھی اس لیے ناگزیر تھا کہ لوگوں کو عقل کی حدودوقیود کے بارے میں آگاہ کیا جاتا اور غیبی امور میں اس کے توہمات کا رد کیا جاتا۔ اس لیے بعض لوگوں کو یہ مغالطہ ہوا کہ شاید امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ سرے سےعقل کی اہمیت کی ہی نفی کرتے تھے۔ ایسا نہیں ہے۔ جو شخص قرآن حکیم کو دین کا اصل عمود تسلیم کرتا ہو اس کے لیے کیسے ممکن ہے کہ وہ قرآن کے تعقل و تفکر کی دعوت کو رد کردے۔لہٰذا امام احمد تعقل و تفکر کے مخالف نہیں تھے بلکہ غیر ضروری اور بے محل جستجو اور بال کی کھال اتارنےکے خلاف تھے۔
امام احمد رحمہ اللہ کی نص ہے کہ ایمان کا تعلق قلب، زبان اور جوارح (اعضائے انسانی) کے اعمال سے عبارت ہے۔یعنی ان کے نزدیک اعمال صالحہ بھی ایمان میں داخل ہیں، اس لیے جتنے اعمال صالحہ بڑھتے جائیں گے ایمان بھی ترقی کرتا جائے گا اور جتنا اعمال صالحہ میں کمی واقع ہوگی ایمان میں بھی اتنی ہی کمی ہوتی جائے گی۔تاہم کسی کے گناہ کی وجہ سے اسے دائرۂ ایمان سے خارج اور دائمی جہنمی قرار نہیں دیا جائے گا۔
شیخ الاسلام اما م ابن تیمیہ الحنبلیؒ حنبلی مکتب فکر کے بارے میں فرماتے ہیں:
فلم تخاطب الحنابلۃ الا بما ورد عن اللہ و رسولہ و اصحابہ والتابعین لھم باحسان الذین ھم اعرف باللہ و احکامہ و سلمنا لھم امرالشریعۃ و ھم قدوتنا فیما اخبروا عن اللہ و شرعہ و قد انصف ما احل علیہم و قد شاقق من خرج عن طریقتھم وادعی ان غیرھم اعلم باللہ منھم او انھم علموا و کتموا لم یفہموا ما اخبروا بہ ۔
ترجمہ:
حنابلہ صرف اسی بات کے ذریعے خطاب کرتے ہیں جو اللہ، اس کے رسول ﷺ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور ان کے بعد نیک لوگوں (تابعین) سے منقول ہے، جو اللہ اور اس کے احکام کو سب سے بہتر جانتے تھے۔ ہم نے شریعت کے معاملے میں انہی کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا ہے، اور اللہ اور اس کی شریعت کے بارے میں جو کچھ انہوں نے خبر دی ہے اس میں وہی ہمارے لیے نمونہ و پیشوا ہیں۔ جس نے ان پر وہی بات لاگو کی جو ان پر حق کے مطابق ہے اس نے انصاف کیا، اور جس نے ان کے طریقے سے انحراف کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ ان کے سوا کوئی اور اللہ کو ان سے زیادہ جانتا ہے، یا یہ کہ وہ جانتے تھے لیکن انہوں نے چھپا لیا، یا یہ کہ وہ جو کچھ خبر دیتے تھے اسے سمجھتے ہی نہیں تھے — تو ایسے شخص نے ان کی مخالفت کی ہے۔
(مجموع فتاویٰ ابن تیمیہؒ: جلد 4، صفحہ 190 )
2۔ اشعری مکتبِ فکر
امام ابوالحسن اشعری رحمہ اللہ (260-324 ھ) اشعری مکتبِ فکر کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ امام ابوالحسن اشعری رحمہ اللہ جوانی میں معتزلہ کے ہتھے چڑھ گئے تھے اور چالیس سال تک ان کے ساتھ وابستہ رہے تاہم پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں توبہ کی توفیق عنایت فرمائی۔آپ بھی اصلاً امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے افکار سے متاثر ہوکر گمراہ کن نظریات سے تائب ہوئے تھے۔ تاہم وہ امام احمد رحمہ اللہ کی طرح صفات متشابہات میں تفویض کی بجائے تاویل (ظاہری معنیٰ کو مجازی معنیٰ کی طرف پھیرنا) کو ترجیح دیتے تھے۔ مثلاً وجہ اللہ سے ذات الٰہی مراد لیتے، یداللہ سے اللہ تعالیٰ کی قوت و قدرت مراد لیتے، چونکہ وہ امام احمد رحمہ اللہ کے پائے کے عالم نہیں تھے اس لیے ان سے بعض تشریحات میں فروگزاشت ہوئی۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔
امام ابوالحسن اشعری رحمہ اللہ کے مزاج میں عقلیت کا غلبہ تھا۔ آپ عقائد کی تشریحات میں عقل کو غیر معمولی اہمیت دیتے تھے۔تاہم معتزلہ کی طرح صفات الٰہیہ کا انکار کرنے کی بجائے امام احمد رحمہ اللہ کی طرح ان صفات کا اثبات کرتے تھے اور اعمال صالحہ کو ایمان کا جزو مانتے تھے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ الحنبلی رحمہ اللہ نے امام ابوالحسن اشعری رحمہ اللہ سے بعض مسائل میں اختلاف کے باوجود ان کی کافی تعریف و توصیف کی ہے اور انہیں اہل سنت میں شمار کیا ہے۔
ترجمہ:
یہی سبب ہے کہ امام ابو الحسن اشعریؒ اور ان کے اصحاب اہلِ سنت والجماعت میں شمار کیے جاتے تھے، نیز وہ امام احمؒد (بن حنبل) کی طرف منسوب ہوتے، ان کا ذکر کرتے کہ وہ انہی کے پیروکار ہیں اور ان کے راستے پر چلنے والے ہیں۔ اور ان کے بڑے بڑے اصحاب کا امام احمدؒ کے بہت سے اصحاب کے ساتھ موافقت و ہم آہنگی رکھنا معروف ہے۔ حتیٰ کہ امام ابو بکر عبدالعزیز الحنبلیؒ( غلام الخلال) اپنے کلام میں امام ابو الحسنؒ کے دلائل کا ذکر کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے وہ امام احمدؒ کے اصحاب کے دلائل کا ذکر کرتے ہیں، کیونکہ وہ (ابوالحسن اشعریؒ) ان کے نزدیک امام احمد ؒکے اصحاب کے متکلمین میں شمار ہوتے تھے۔
(مجموع فتاویٰ ابن تیمیہؒ، جلد 4، صفحہ 167)
3۔ ماتریدی مکتبِ فکر
اما ابومنصور ماتریدی رحمہ اللہ تعالیٰ (متوفیٰ 33 ھ) امام ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ کے ہم عصر تھے۔وہ تاویل اور تفویض دونوں کے جوازکے قائل تھے۔بلکہ ماتریدی مکتبِ فکر کے نزدیک تفویض تاویل اجمالی ہے اور نصوص کو ظاہر سے مجاز کی طرف پھیرنا تاویل تفصیلی ہے۔ ان کے نزدیک یہ دونوں پہلو جائز ہیں، تاہم ان کی رائے میں اعمال صالحہ ایمان میں داخل نہیں ہیں بلکہ ایمان صرف قلبی اور زبانی تصدیق کا نام ہے۔اس بنیاد پر ان کا کہنا یہ ہے کہ ایمان میں کمی اور زیادتی نہیں ہوتی۔ جو لوگ ایمان میں کمی اور زیادتی کے قائل نہیں انہیں عام طور پر مُرجِئہ کہا جاتا ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ ان کے بارے میں فرماتے ہیں:
و اماالمرجئہ فلیسوا من ھذہ البدع المعظلۃ بل قد دخل فی قولھم طوائف من اھل افقہ والعبادۃ وما کانوا یعدون الا من اھل السنۃ۔
ترجمہ:
رہی بات مرجئہ کی، تو وہ ان گمراہ کن بدعتیوں میں سے نہیں ہیں، بلکہ ان کے قول میں فقہ اور عبادت کے اہل لوگوں کے کچھ گروہ داخل ہو گئے تھے، اور انہیں اہلِ سنت ہی میں شمار کیا جاتا تھا۔
(مجموع فتاویٰ ابن تیمیہؒ: جلد 3، صفحہ 357)
غرض ماتریدی بھی اہل سنت والجماعت میں داخل ہیں اور انہیں بدعتی کہنا جائز نہیں۔
معتزلہ نے سب سے زیادہ زور کلام اللہ کے مخلوق ہونے پر دیا اور اسی کا رد تمام اعلمائے اہل سنت کرتے رہے اس لیے عقائد کے بارے میں مباحث کو علم الکلام کا نام دیا گیا۔ مذکورہ بالا سُنی مکاتبِ فکرنے اپنے اپنے انداز میں معتزلہ کا رد کیا۔ ان علمی مباحث کا تعلق چونکہ قرآن و سنت سے زیادہ عقل سے ہے اس لیے انہیں عقلی مباحث بھی کہا جاتا ہے۔ان مباحث کا تعلق عقل سے ہونے کی وجہ سے سُنّی مکاتبِ فکر میں بھی بعض علمی اختلافات واقع ہوئے ہیں، مگر یہ اختلافات ایسے نہیں ہیں کہ ان کی بنیاد پر ایک دوسرے کی تکفیر یا تبدیع کی جائے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو فہمِ سلیم عطا فرمائے اور دین اسلام پر ثابت قدم رکھے۔ آمین
- Get link
- X
- Other Apps
Categories of Topics
Categories of Topics
- Anthropology
- Anthropomorphism
- Aqidah
- Arabian Peninsula
- Arabic Language
- Arabs
- Archaeology
- Artificial Intelligence
- Asia
- Astronomy
- Atheism
- Australia
- Bangladesh
- Barzakh
- Big Bang Theory
- Biography
- Biology
- Black Hole
- Budhism
- cardiac health
- Catholic Church
- Charity
- Chemistry
- China
- Christianity
- Civil Law
- Climate Change
- Continents
- Cosmology
- Criminal Law
- Crypto-Politics
- Cryptocurrency
- CSS
- CSS Essays
- CSS Exams
- Current Account Deficit
- Current Affairs
- Cyber
- Dajjal
- Daleel at-Talib
- Dan Gibson’s Theory
- Dark Energy
- Deepfake technology
- Deforestation
- Deism
- digital firewall
- Distinctive Aspects of Islam
- Divine Remembrance
- Dragons and Dinosaurs
- Earthquakes
- Eclipse
- Ecology
- Economy
- Education
- Egypt
- Eid-ul-Fitr
- Elon Musk
- Emotional Intelligence
- Energy
- Energy Crisis
- Environment
- Eschatology
- Esfahan
- Europe
- Evolution
- Evolution of Stars
- Family Law
- Fasting
- Feminism
- Fiqh
- Food Law
- Funerals
- Galaxy
- Gaza
- General Knowledge
- Genes
- Genetics
- Genital Worship
- Genocide Convention
- Geography
- Geology
- Geopolitics
- Global Affairs
- Global Crisis
- Global Warming
- Globalization
- Golden Bird
- Gravity
- Hadith
- Hajj
- Hajj Rituals
- Halal and Haram
- Halal Food
- Hanafi
- Hanbali
- Hanbali Aqidah
- Hanbali Madhab
- Hashimi Fiqh
- Hayy ibn Yaqzan
- health
- Heer Ranjha
- Highest Mountains
- Hijab
- Hindu Mythology
- History
- Holography
- Holy Scriptures
- Homosexuality
- Human
- Human Rights
- Ibn Sina’
- Ibn Taymiyyah
- Imam Ahmad bin Hanbal R.A
- Imam Al-Mahdi
- Imam Ali
- Impact on Society
- India
- Indonesia
- International Affairs
- International Law
- International Relations
- Iran
- Iran's Economy
- Islam
- Islamic Beliefs
- Islamic Civilization
- Islamic eschatology
- Islamic Festivals
- Islamic Golden Age
- Islamic History
- Islamic Laws
- islamic medicine
- Islamic Rituals
- Islamic Social System
- Islamic values
- Islamic worship
- Islamophobia
- Jesus
- Jewish eschatology
- Kabbalah
- Karbala
- Kings of Egypt
- Languages
- Largest Deserts
- Largest Lakes
- Leadership Skills
- LGBT Pride
- Lithium
- litrature
- Longest Rivers
- Lunar Cataclysm
- Makkah
- Maliki
- Mathematical Cartography
- Mathematics
- Microplastic
- Milky Way
- Modern World
- Music
- Muslim Cosmology
- Muslim History
- Muslim Parenting
- Muslim Ummah
- Mysterious sagas
- Neuralink
- Neurochemistry
- Neurology
- Neuroscience
- North America
- Oceans
- Organic Evolution
- PAF
- Pakistan
- Pakistan Affairs
- Pakistan’s Constitution
- Palestine
- Pedagogy
- Petroleum Warehouses
- Philosophy
- Phsycology
- Physics
- Political Science
- Politics
- Populism
- Pornography
- Poverty
- Pragmatic Theory of Truth
- Prophet Adam
- Prophet Ibrahim
- Prophet Muhammad (PBUH)
- Prophet Yousuf (AS)
- Prophethood
- Psychology
- Public Administration
- Punjab Government
- Quantum Computing
- Quantum Physics
- Qur'an
- Quran
- Rape
- Red Heifer
- Robointelligence
- Sahabah
- Salah
- Saudi Arabia
- Sawm
- Science
- Seerah
- SeismoAlert
- Seismology
- Self-Purification
- Shafi'ee
- Shariah
- Shaytan
- slamic morality
- Slavery
- Smoking
- Social Media
- Solar Eclipse
- Solar System
- South America
- Space
- Space Solar
- Spiritual Impact of Hajj
- Spiritual Impacts
- Sunnah
- SWOT Analysis
- Tafsir
- Taghut
- Tawhid
- Tazkiyah
- Technology
- Technonlogy
- Terrorism
- testing
- The Earth
- The Gays of Gomorrah
- The Hebrew Hajirah
- The James Webb Space Telescope
- The Messiah
- The solar cycle
- The Structure of Ka’abah
- The Sun
- The Universe
- Time Travelling
- Trading
- Transparency International (TI)
- Travelling
- Truth
- Tsunami
- Turkestan
- Turkey
- U.S.-Saudi petrodollar pact
- Umrah
- Unemployment
- United Nations Organization
- Universal Hijri Calendar
- Urdu
- Usul
- Volcanic erruption
- Wahhabism
- War
- Waris Shah
- Waterfalls
- Weather Forecasting
- West
- Wildlife
- Wisdom
- Ya’juj and Ma’juj
- Zakat
- Zakat al-Fitr
- Zamzam Well
- Zionism