The Qur’anic Chronology of Creation

انسان ہمیشہ سے اس سوال سے دوچار رہا ہے کہ آیا وہ اپنی زندگی کا خالق خود ہے یا کسی پہلے سے طے شدہ نظام کے تحت چل رہا ہے۔ تقدیر کا مسئلہ دراصل اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ اسلامی فکر میں تقدیر کو نہ سادہ جبر میں قید کیا گیا ہے اور نہ ہی مطلق آزادی کا نام دیا گیا ہے، بلکہ یہ ایک ایسا متوازن تصور ہے جو انسانی تجربے، اخلاقی ذمہ داری اور الٰہی حکمت تینوں کو باہم مربوط کرتا ہے۔
جدید علمِ حیاتیات اور سماجی علوم نے بھی اس مسئلے کو نئے زاویے دیے ہیں۔ اگر ہم انسانی تقدیر کو بائیولوجی اور بائیوگرافی کے دو دائروں میں دیکھیں تو اسلامی عقیدۂ تقدیر نہ صرف واضح ہو جاتا ہے بلکہ عقلی اور سائنسی طور پر قابلِ فہم بھی بن جاتا ہے۔
بائیولوجی سے متعلق تقدیر وہ دائرہ ہے جس میں انسان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ انسان یہ انتخاب نہیں کرتا کہ وہ کب، کہاں اور کس خاندان میں پیدا ہوگا۔ اس کا رنگ، قد، جسمانی ساخت، دماغی صلاحیت، اعصابی نظام، قوتِ مدافعت، عمر اور بہت سی بیماریوں کے امکانات اس کے جینیاتی نظام میں پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔
قرآن مجید اس حقیقت کو مختلف اسالیب میں بیان کرتا ہے کہ انسان کی تخلیق ایک متعین انداز کے تحت ہوئی ہے:
“اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ”
جدید جینیات بتاتی ہے کہ انسان کے ڈی این اے میں اس کی بہت سی جسمانی اور ذہنی خصوصیات کوڈ کی صورت میں محفوظ ہوتی ہیں۔ انسان چاہے بھی تو اپنی بنیادی جینیاتی ساخت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ اس اعتبار سے انسان واقعی مجبور ہے۔
البتہ جدید سائنس، خصوصاً ایپی جنیٹکس، نے یہ واضح کیا ہے کہ ماحول، غذا، عادات اور نفسیاتی کیفیت بعض جینز کو فعال یا غیر فعال کر سکتی ہیں۔ یہ دریافت اس بات کی تائید کرتی ہے کہ بائیولوجی میں بھی انسان کو معمولی درجے کا اختیار دیا گیا ہے، مگر یہ اختیار بنیادی نہیں بلکہ ثانوی ہے۔ اصل ڈھانچہ پھر بھی انسان کے اختیار سے باہر رہتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی تصورِ تقدیر اور جدید حیاتیاتی علم ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔
انسانی تقدیر کا دوسرا پہلو بائیوگرافی سے متعلق ہے، اور یہی پہلو انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔ بائیوگرافی سے مراد انسان کی زندگی کی کہانی ہے، جو اس کے فیصلوں، نیتوں، اعمال اور اخلاقی ترجیحات سے بنتی ہے۔
“وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ”
یعنی ہم نے اسے خیر و شر کے دونوں راستے دکھا دیے۔
یہ دکھانا ہی اصل آزادی ہے۔ انسان کو راستہ بتایا گیا، مگر اس پر چلنے یا نہ چلنے کا فیصلہ اس کے اپنے ہاتھ میں رکھا گیا۔ اسی آزادی کی بنیاد پر اسے مکلف بنایا گیا ہے۔ اگر انسان مجبور ہوتا تو نہ نبی بھیجے جاتے، نہ کتابیں نازل ہوتیں، اور نہ ہی حساب و کتاب کا کوئی تصور باقی رہتا۔
اخلاق، کردار، نیت، عبادت، ظلم و عدل، سچ و جھوٹ—یہ سب بائیوگرافی کے عناصر ہیں، اور ان میں انسان کو حقیقی اختیار حاصل ہے۔ یہی اختیار اسے اخلاقی مخلوق بناتا ہے، محض حیاتیاتی وجود نہیں۔
اکثر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر سب کچھ اللہ کے ارادے سے ہے تو انسان کا اختیار محض وہم ہے۔ لیکن یہ اعتراض دراصل خدا کے ارادے کو ایک سطح پر سمجھنے کا نتیجہ ہے۔
اسلامی فکر کے مطابق:
یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید ایک طرف یہ کہتا ہے کہ:
“وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ”
اور دوسری طرف انسان کو عمل، تقویٰ اور ذمہ داری کا مکلف بھی ٹھہراتا ہے۔ یہ تضاد نہیں بلکہ سطحوں کا فرق ہے۔
رزق وہ واحد موضوع ہے جہاں تقدیر کے دونوں پہلو پوری طرح باہم جڑ جاتے ہیں۔ رزق کا تعلق بائیولوجی سے بھی ہے اور بائیوگرافی سے بھی۔
بائیولوجی کے اعتبار سے انسان کی صحت، قوت، ذہانت اور حالات اس کی کمائی کی استعداد طے کرتے ہیں۔ ہر شخص یکساں وسائل اور صلاحیتوں کے ساتھ پیدا نہیں ہوتا۔
لیکن بائیوگرافی کے اعتبار سے انسان یہ خود طے کرتا ہے کہ:
اسی لیے قرآن مجید ایک طرف رزق کو اللہ کی طرف منسوب کرتا ہے، اور دوسری طرف انسان کو زمین میں چل پھر کر رزق تلاش کرنے کا حکم دیتا ہے۔