Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

خوارج کا باطل عقیدہ

خوارج

خوارج کا باطل عقیدہ

از قلم ساجد محمود انصاری

عقائد اسلام کی تقریباً تمام کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ خوارج وہ گروہ ہے جو گناہ کبیرہ کے مرتکب کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہے اور اس پر ہمیشہ کے لیے جہنم کو واجب قرار دیتا ہے۔ یہ  عقیدہ قرآن و سنت کے صریح نصوص سے متصادم ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ

(سورۃ النسا: آیت 48)

ترجمہ:  بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور شرک سے کم جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔

نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ

(سورۃ الزمر: آیت 53)

ترجمہ: اے نبی ؑ کہہ دیجیے:اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پرزیادتی کی! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا ، بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے ،بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔

اس جیسی متعدد آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے لہٰذا وہ اپنے جس بندے کے لیے چاہتا ہے جو گناہ چاہتا ہے معاف کردیتا ہے، اس کے لیے کسی خاص گناہ کی تخصیص نہیں کی گئی۔

لہٰذا اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، اس لیے اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے معاف کردے گا یا سزا دے کر بالآخر جنت میں داخل  کردے گا۔ احادیث میں اس کی کافی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ حدیثِ شفاعت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کبائر کے مرتکب کو انبیا و اولیا کی شفاعت کے ذریعےمعاف فرمادے گا۔

خوارج کا ظہور سب سے پہلے امام علی علیہ السلام کے زمانے میں ہوا اور ان بدبختوں کی دلیری دیکھیں کہ من کنت مولاہ فعلی مولاہ (جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا ہے) کی فضیلت کے حامل شخص کے بارے میں انہوں نے ہذیان بکنا شروع کردیا اور ان کو دین اسلام سے خارج قرار دے کر ان کے خلاف بغاوت کردی۔

اگر امام علی  علیہ السلام جیسے اولیا کے سردار خوارج کی زبان درازی سے محفوظ نہیں رہے تو عام مسلمانوں کی کیا حیثیت۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جو قرآن و سنت کے  تحفظ و اشاعت میں مقدور بھر حصہ ملاتی رہتی ہے۔مسلم ریاست پاکستان کی مسلح افواج 25 کروڑ مسلمانوں کی محافظ ہیں۔ جہلا کے سوا تمام جاننے والے جانتے ہیں کہ مسلح افواج کے بغیر پاکستان کا وجود ہی برقرار نہیں رہ سکتا۔  مگر خوارج اور ان کے ہمنوا مسلسل پاک فوج کی تکفیر کرنے اور ان پر حملے کرنے کو جائز سمجھتے ہیں۔ وہ نادان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اسلام کی خدمت کررہے ہیں جبکہ وہ اسلام کی جڑ کاٹ رہے ہیں۔ یہ کہاں کی عقلمندی ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کی ہوئی مسلم ریاست کو کمزور کرکے بت پرست ہندؤں  کو اس پر قابض ہونے اوریہاں ہندو راج قائم کرنے کا موقعہ فراہم کیا جائے ؟ خوارج کا دعویٰ تو یہ ہے کہ وہ یہاں اللہ کا کلمہ سربلند کرنا چاہتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ پاکستان کو کمزور کرکے انڈیا کا راستہ ہموار کررہے ہیں۔خوارج احمق یہ بھی نہیں جانتے کہ  افواج ِپاکستان نہ صرف  پاکستان کا دفاع کررہی ہیں بلکہ ایک اعتبار سے افغانستان اور ایران کو بھی انڈیا کے حملوں سے محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔اگر خدانخواستہ پاکستان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوجائے تو افغانستان اور ایران بھی انڈیا کی توسیع پسندی سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ حقیقت یہ کہ پاکستان جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کے مسلم خطے کی ڈھال بنا ہوا ہے۔ پاکستان کی ایٹمی قوت نہ صرف پاکستان کے لیے اہم ہے بلکہ خطے کی تمام مسلم ریاستوں کے دفاع کے لیے ناگزیر ہے۔ کیا افغان بھائی بھول گئے ہیں کہ جب سویت یونین نے ان پر حملہ کیا تو ان کا دفاع کس نے کیا؟ اپنے وطن میں لاکھوں افغانیوں کو کس نے  آباد کیا؟ مگر افسوس کہ انہوں نے اسی تھالی میں چھید کرنا شروع کردیا جس میں وہ کھاتے ہیں۔


اسلامی جمہوریہ پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے جس کی وجہ سے یہ مسلسل دشمنانِ اسلام کی سازشوں کا محور بنی رہتی ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے قربِ قیامت کی جو نشانیاں بتائی ہیں اس میں ساری دنیا پر اسلام کا غلبہ بھی شامل ہے جو کہ امام مہدی کی آمد کے بعد متوقع ہے۔ امام مہدی کی طاغوتی قوتوں کے ساتھ کئی جنگیں ہوں گی جن میں ایک بہت بڑی جنگ ملحمۃ العظمیٰ بھی شامل ہے۔ بہت سے بھولے لوگ تو یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ یہ جنگیں تلواروں اور نیزوں سے لڑی جائیں گی، تاہم مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان جنگوں میں ایٹمی قوت اہم کردار اداکرے گی۔ جس کی وجہ سے طاغوتی قوتوں کی کوشش ہے کہ کسی طرح پاکستان کی یہ ایٹمی قوت اس سے چھین  کر مسلم دنیا کو اس صلاحیت سے محروم کردیا جائے۔ چونکہ پاکستان کی ایٹمی قوت کی وجہ سے وہ پاکستان سے براہ راست جنگ نہیں کرسکتے اس لیے وہ مختلف طریقوں سے پاکستان کو کمزور بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، انہی کوششوں میں سے ایک خوارج کو پاکستان کے خلاف  کھڑا کرنا ہے۔

کون نہیں جانتا کہ پاکستان بنیادی طور پر اسلام کے نام پر قائم ہوا اور اسی مقصد کے تحت اس کا اسلامی آئین بنایا گیا ہے۔ مگر خوارج یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان ایک سیکولر یا لادین ریاست ہے جو باطل نظام کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے۔  خوارج کی رائے میں پاکستان کا نظام مغربی جمہوری نظام ہے، حال آن کہ ایسا نہیں ہے۔ پاکستان کا نظام اسلامی نظامِ شوریٰ پر قائم ہے، پاکستان کی پارلیمنٹ کا  دستوری نام بھی شوریٰ ہی ہے۔ مغربی جمہوری نظام میں اقتدارِ اعلیٰ کا مالک عوام ہوتے ہیں، وہ اپنی رائے سے جو قانون بھی بنوانا چاہیں اپنے نمائندوں کے ذریعے بنوا سکتے ہیں۔  جبکہ پاکستان کے آئین کے ابتدا میں ہی لکھ دیا گیا گیا ہے کہ اقتدارِ اعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ ہے یعنی اصل حاکمیت عوام کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہے عوامی نمائندے اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے تدوینِ قانون کرسکتے ہیں۔ لہٰذا آئین میں یہ واضح طور پر طے کردیا گیا ہے کہ پاکستان میں کوئی ایسا قانون نافذ نہیں ہوسکتا جو قرآن و سنت کے صریحاً خلاف ہو۔ اگر بالفرض اگر مجلس شوریٰ کوئی قانون ایسا بنادے جس میں خلاف قرآن و سنت ہونے کا شبہہ ہو تو اسے سپریم کورٹ یا  اسلامی شریعت کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔

مزید دریافت کریں
Books & Literature
E-Books
Islam

پاکستان کو لادین ریاست ثابت کرنے کے لیے خوارج کی دوسری دلیل یہ ہوتی ہے  کہ ہمارے حکمران اسلامی شعائر کی پوری طرح پابندی نہیں کرتے۔ ان کے خیال میں حکمرانوں کے لیے لمبی داڑھی رکھنا اور عمامہ پہننا ضروری ہے، بصورتِ دیگر انہیں مسلم حکمران تصور نہیں کیا جائے گا۔حال آن کہ لمبی داڑھی رکھنا شریعت کا لازمی تقاضہ نہیں ہے ۔ علما جانتے ہیں کہ فقہائے اسلام کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ داڑھی بڑھانا سنت ہے یا واجب؟  اگر واجب ہے تو داڑھی کی کتنی مقدار ہونی چاہیے؟  اسی طرح عمامہ پہننا کسی بھی فقیہہ کے نزدیک واجب نہیں بلکہ  جمہور کے ہاںمستحب ہے، البتہ سر ڈھانپنا سنت ہے جس کے لیے رومال یا ٹوپی بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔

خوارج کی تیسری دلیل یہ ہے کہ پاکستان میں مروج قوانین انگریز کے زمانے کے رائج ہیں جیسے 1935 کا ایکٹ۔ واضح رہے کہ 1935 کا ایکٹ  دستوری نوعیت کا نہیں ہے بلکہ اس میں مختلف محکموں کے فرائضِ منصبی اور طریقِ کار کی تفاصیل سے متعلق بحث کی گئی ہے۔  یعنی یہ انتظامی قوانین ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ بیوروکریسی نے کام کیسے کرنا ہے؟  یاد رکھیں ہمارے سرکاری محکموں کی ناقص کارکردگی کی وجہ 1935 کا ایکٹ نہیں ہے بلکہ ہمارے سرکاری ملازمین کی سستی و نا اہلی  اور عدم دلچسپی ہے۔ خداخوفی کے بغیر یہ مسائل حل نہیں کیے جاسکتے۔ قوانین کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں ان کو نافذ کرنے والے جب تک تزکیہ نفس کے مراحل سے نہیں گزرتے ان کی اصلاح ممکن نہیں۔

خوارج کا ایک اعتراض یہ بھی ہوتا ہے کہ ہماری عدالتیں انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ہماری رائے میں اس کا سبب قوانین نہیں بلکہ رشوت ستانی کی لت ہے رشوت ستانی کی لت ختم کرنے کے لیے مزید قانون سازی کی جاسکتی ہے  مگر اس کا اصل حل بھی تزکیہ نفس ہے۔ بعض جذباتی لوگ جو ایک جانب شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کررہے ہوتے ہیں دوسری سانس میں چین کے سخت گیر قوانین کی مثالیں دینا شروع کردیتے ہیں۔ہماری شریعت مالی اور جانی معاملات کو یکساں مقام پر نہیں رکھتی۔ شریعت نے جتنی سخت سزائیں جانی نقصان کے لیے مقرر کی ہیں اتنی سخت سزائیں مالی معاملات کے لیے مقرر نہیں کیں۔ اس لیے محض رشوت یا غبن  کی بنیاد پر کسی کی جان لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن لوگ اپنی خواہشِ نفس کو ہی شریعت بنادیتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر بعض قوانین میں اصلاح کی ضرورت ہے یا نئے قوانین کی ضرورت ہے تو اس  کاحل بھی سیاسی ہے جنگی نہیں۔

مزید دریافت کریں
E-Books
Books & Literature
Islam

غرض خوارج کی کوئی ایسی دلیل نہیں جس کی بنیاد پر ان کے افواجِ پاکستان پر حملوں کو جائز قرار دیا جاسکے یا ان کی کسی بھی درجے میں ان کی حمایت کی جاسکے۔لہٰذا خوارج کا تعلق کسی بھی مسلک سے ہو ، ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ان کی دہشت گردی کی کاروائیوں کی نہ صرف  شدیدمذمت کرتے ہیں بلکہ افواج پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ خوارج کو ہر سطح پر شکست دی جائے۔ سوشل میڈیا پرخوارج کے حمایتیوں کی سرکوبی کی جائے اور وہ تمام راستے بند کیے جائیں جن کے ذریعے خوارج کے پروپیگنڈے  کو تقویت ملتی ہے اور ان اداروں کو بھی قومی دھارے میں لایا جائے جو خوارج کے پروپیگنڈے کو پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں یعنی دینی مدارس۔

لہٰذا خوارج کو ہوش کے ناخن لینے چاہییں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مسلح افواج اور نہتے عوام پر حملے کرنے کی بجائے پاک فوج کے دست و بازو بنیں۔ مانا کہ افواج پاکستان سمیت ہم سب میں اخلاقی کمزوریاں موجود ہیں، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان اخلاقی خرابیوں کی بنیاد پر ان کو مرتد قرادے دیا جائے اور ان پر حملے شروع کردیے جائیں۔اسلام نے جہاد کی اجازت اعلانیہ کفار سے لڑنے کے لیے دی ہے جو اسلام کو ماننے کے دعوےدار نہیں، جہاد کی اجازت  مسلمانوں کی حفاظت کرنے والی پاک فوج سے لڑنے کے لیے نہیں۔اگر خوارج باز نہ آئے تو ان کا انجام  دنیا اور آخرت میں بہت خوفناک ہونے والا ہے۔  دنیا میں پاک فوج ان کو خا چاٹنے پر مجبور کردے گی اور آخرت میں اللہ تعالیٰ انہیں جہنم کی آگ میں جھونک دیں گے۔رسول اکرم ﷺ نے خوارج کو جہنم کے کتے قرار دیا ہے (سنن ابن ماجہ)

سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام نے فرمایا کہ درج ذیل آیت خوارج پر صادق آتی ہے:

اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا

(سورۃ الکہف: آیت 104)

ترجمہ:ان کی دنیا میں کی گئی ساری جدوجہد بےکار ہوگئی جبکہ وہ یہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کررہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں شیطان کے وسوسوں سے محفوظ فرمائے اور دین کی صحیح خطوط پر خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

مزید دریافت کریں
Islam
Books & Literature
E-Books

اللھم انصر من نصر دین محمدا واجعلنا منھم واخذل من خذل دین محمدا ولا تجعلنا منھم۔ آمین

Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

Canal Conflict Boosts Water Crisis

The Qur’anic Chronology of Creation

Basics of the Muslim Cosmology

Al-Jazirah: The First Human Settlement

Seven Continents

Robots Redefined: The Evolution Toward Generalized Cognitive Abilities

How to Buy a Robot?

Developing Leadership Skills in University Students