Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

اَلاِمَامَۃُ الکُبریٰ: اسلامی نظام حکومت

اسلامی نظام حکومت
اسلامی نظام حکومت: الامامۃ الکبریٰ

اَلاِمَامَۃُ الکُبریٰ: اسلامی نظام حکومت

اسلام ایک کامل ضابطۂ حیات ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں — خواہ وہ معاشرتی ہوں یا سیاسی، معاشی ہوں یا اقتصادی، انفرادی ہوں یا اجتماعی — میں کامل اور جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام محض عبادات و عقائد تک محدود نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر نظامِ زندگی ہے جو انسان کی روحانی، اخلاقی، معاشرتی اور ریاستی ضرورتوں کا مکمل حل پیش کرتا ہے۔
اسلام کا سیاسی نظام اپنی بنیاد عدل، مشاورت، مساوات اور خدمتِ خلق جیسے اصولوں پر رکھتا ہے۔ یہ نظام ریاستی نظم و نسق، حکمرانی، قانون سازی، عدلیہ اور حقوقِ عوام کے تمام پہلوؤں میں ایسے رہنما اصول مہیا کرتا ہے جن سے ایک عادلانہ اور فلاحی ریاست کی تشکیل ممکن ہوتی ہے۔

اسلامی سیاسی نظام کے لیے جو ہمہ گیر اصطلاح استعمال ہوتی ہے وہ ہے اَلاِمَامَۃُ الکُبریٰ۔

مزید دریافت کریں
Science
Books & Literature
Politics

"الإمامة” وہ اصطلاح ہے جو تمام اقسام کی اسلامی حکومتوں کے لیے یکساں طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس میں وہ حکومتیں بھی شامل ہیں جو:

  • مکمل طور پر شریعت کے مطابق اور مثالی نوعیت کی ہوں، جیسے خلافتِ راشدہ؛
    اور وہ بھی جو
  • صرف واجبی اور دنیوی امور مثلاً امن و امان، عدل، نظمِ سلطنت اور حدودِ شریعت کی حد تک ہی کارفرما ہوں۔

فقہا کے نزدیک الإمامة کا مقصد "حراستِ دین و سیاستِ دنیا” ہے، جیسا کہ امام الماوردی (المتوفی 450ھ) نے اپنی کتاب الأحكام السلطانية میں فرمایا:

"الإمامة موضوعة لخلافة النبوة في حراسة الدين وسياسة الدنيا به”
یعنی امامت اس لیے قائم کی جاتی ہے کہ وہ نبوت کی جانشینی کرتے ہوئے دین کی حفاظت اور دنیا کے نظم و نسق کو دین کے ذریعے سنبھالے۔

حکمران کا لقب: الإمام یا إمام المسلمين

جب کسی شخص کو امت کی قیادت اور نظمِ اجتماعی سونپا جاتا ہے تو اسے "الإمام” یا "إمام المسلمين” کہا جاتا ہے۔
یہ لقب اس کے اس منصب کی نمائندگی کرتا ہے کہ وہ امت کا سیاسی قائد ہے، جو شریعت کے نفاذ اور عوام کے حقوق کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔

الامامۃ کی اصطلاح کی نبوی بنیاد

"الإمامة” کی اصطلاح دراصل رسول اکرم ﷺ کے ارشادات سے ماخوذ ہے۔ آپ ﷺ نے امت کے نظم و قیادت کے لیے "إمام” اور "جماعت المسلمین” کے الفاظ استعمال فرمائے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امتِ مسلمہ کو ایک منظم قیادت کے تحت رہنا لازم ہے۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ، جَابِرٍ حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ، يَقُولُ كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ قَالَ ‏”‏ نَعَمْ ‏”‏ فَقُلْتُ هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ قَالَ ‏”‏ نَعَمْ وَفِيهِ دَخَنٌ ‏”‏ ‏.‏ قُلْتُ وَمَا دَخَنُهُ قَالَ ‏”‏ قَوْمٌ يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي وَيَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ ‏”‏ ‏.‏ فَقُلْتُ هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ ‏”‏ نَعَمْ دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا ‏”‏ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا ‏.‏ قَالَ ‏”‏ نَعَمْ قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا ‏”‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَرَى إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ قَالَ ‏”‏ تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ ‏”‏ ‏.‏ فَقُلْتُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلاَ إِمَامٌ قَالَ ‏”‏ فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرقَ كُلَّهَا وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ عَلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ ‏”‏ ‏.‏

مزید دریافت کریں
Islam
Economics
E-Books

(صحیح البخاری: رقم 7084، صحیح مسلم: رقم 1847 وھذا لفظ المسلم)

ترجمہ:
حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
لوگ رسول اللہ ﷺ سے خیر (بھلائی) کے بارے میں سوال کیا کرتے تھے، اور میں آپ ﷺ سے شر (فتنوں) کے بارے میں پوچھا کرتا تھا، اس خوف سے کہ کہیں وہ مجھے نہ آ لے۔
میں نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! ہم جاہلیت اور برائی کے دور میں تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس خیر (اسلام) کے ذریعے رہنمائی عطا فرمائی۔
کیا اس خیر کے بعد پھر کوئی شر بھی ہوگا؟
آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں”۔

میں نے عرض کیا:
کیا اس شر کے بعد پھر خیر بھی ہوگی؟
آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں، مگر اس میں کچھ میل (دَخَن) ہوگا۔”

میں نے عرض کیا:
یہ میل کیا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
"ایسے لوگ ہوں گے جو میری سنت کے علاوہ اور طریقے اختیار کریں گے، اور میری ہدایت کے علاوہ راہیں اختیار کریں گے۔ تم ان میں کچھ چیزوں کو پہچانو گے (کہ یہ درست ہیں) اور کچھ کو برا جانو گے (کہ یہ غلط ہیں)۔”

میں نے عرض کیا:
کیا اس خیر کے بعد پھر شر بھی ہوگا؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
"ہاں، ایسے داعی (بلانے والے) ہوں گے جو جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہوں گے، جو ان کی دعوت قبول کرے گا، وہ اسے جہنم میں پھینک دیں گے۔”

مزید دریافت کریں
Islam
Science
Politics

میں نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! ہمیں ان کی علامات بتا دیجئے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"وہ ہماری ہی قوم کے لوگ ہوں گے اور ہماری ہی زبان بولیں گے۔”

میں نے عرض کیا:
اگر میں اس وقت کو پا لوں تو آپ ﷺ کا حکم کیا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
"تم مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام (حکمران) کے ساتھ چمٹے رہو۔”

میں نے عرض کیا:
اگر اس وقت مسلمانوں کی کوئی جماعت اور امام نہ ہو تو؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
"پھر ان تمام فرقوں سے کنارہ کش ہو جاؤ، خواہ تمہیں کسی درخت کی جڑ کاٹ کر کھانی پڑے، یہاں تک کہ تمہیں موت آ جائے اور تم اسی حال میں رہو۔”

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ (صحیح مسلم: رقم 1844)

جس شخص نے امام (حاکم) کی بیعت کی اور اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا اور دل سے اس کی اطاعت قبول کرلی تو اسے چاہیے کہ اس کی مقدور بھر اطاعت کرے۔

اسلامی نظامِ حکومت کے لیے استعمال ہونے والی دیگر اصطلاحات

1. خلافت (الخلافة)

  • لغوی معنی: جانشینی یا نیابت۔
  • اصطلاحی معنی: ایسا نظامِ حکومت جس میں حکمران (خلیفہ) اللہ اور رسول ﷺ کے احکام کا نائب بن کر زمین پر شریعت نافذ کرے۔
  • قرآنی بنیاد: "إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً” — [البقرہ: 30]
  • استعمال:
    خلفائے راشدین کے دور کو "خلافت راشدہ” کہا جاتا ہے، جو اسلامی نظامِ حکومت کی مثالی شکل ہے۔

2. امارت (الإمارة)

  • لغوی معنی: حکم چلانا، سرداری یا قیادت۔
  • اصطلاحی معنی: خلافت کے ماتحت یا اس کے جزو کے طور پر کسی علاقے یا فوج پر حکومت۔
  • استعمال: "امیر المؤمنین” (مؤمنوں کا سردار) کا لقب اسلامی حکمرانوں کے لیے مستعمل رہا۔

3. سلطنت (السلطنة)

  • لغوی معنی: اقتدار یا قوت۔
  • اصطلاحی معنی: ایسا نظام جس میں حاکم کو سیاسی و انتظامی قوت حاصل ہو۔
  • استعمال: بعد کے ادوار میں جب خلافت کمزور ہوئی تو اسلامی مملکتوں کو "سلطنت” کہا جانے لگا، جیسے:
    • سلطنتِ عثمانیہ
    • سلطنتِ دہلی

4. حکومتِ شرعیہ (الحكومة الشرعية)

  • معنی: وہ حکومت جو شریعت کے اصولوں کے مطابق قائم ہو اور اس کی قانون سازی قرآن و سنت سے ماخوذ ہو۔
  • استعمال: فقہا بالخصوص فقہِ حنبلی اور فقہِ جعفری میں یہ اصطلاح کثرت سے ملتی ہے۔
    مثال: "الحكومة الشرعية هي التي يقيمها الإمام العادل بحسب الشريعة الإسلامية.”

5. دار الاسلام (دارُ الإسلام)

  • معنی: وہ خطہ یا ریاست جہاں اسلامی قانون نافذ ہو اور مسلمانوں کو اپنے دین پر عمل کی آزادی حاصل ہو۔
  • مقابل: "دارُ الحرب” یا "دارُ الکفر”
  • فقہی استعمال: فقہا نے اسے سیاسی و قانونی اصطلاح کے طور پر استعمال کیا۔

وجوبِ نصب الامام

امام المسلمین کا تقرر اتنا اہم شرعی تقاضہ ہے کہ بہت سے علما ئے اصول دین نے اسے عقائد کی کتب میں بیان کیا ہے۔ مثال کے طور پر امام ابو حامد الغزالیؒ (متوفیٰ 505 ھ) نے اپنی کتاب الاقتصاد فی الاعتقاد میں فرماتے ہیں:

في بيان وجوب نصب الإمام.
ولا ينبغي أن تظن أن وجوب ذلك مأخوذ من العقل، فإنا بينا أن الوجوب يؤخذ من الشرع إلا أن يفسر الواجب بالفعل الذي فيه فائدة وفي تركه أدنى مضرة، وعند ذلك لا ينكر وجوب نصب الإمام لما فيه من الفوائد ودفع المضار في الدنيا، ولكنا نقيم البرهان القطعي الشرعي على وجوبه ولسنا نكتفي بما فيه من إجماع الأمة، بل ننبه على مستند الإجماع ونقول: نظام أمر الدين مقصود لصاحب الشرع عليه السلام قطعاً، وهذه مقدمة قطعية لا يتصور النزاع فيها، ونضيف إليها مقدمة أخرى وهو أنه لا يحصل نظام الدين إلا بإمام مطاع، فيحصل من المقدمتين صحة الدعوى وهو وجوب نصب الإمام.**
(الاقتصاد في الاعتقاد، للإمام الغزالي)

ترجمہ:

"امام کے تقرر (نصب الامام) کے وجوب کے بیان میں”

اور یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ امام کے نصب کا وجوب (یعنی فرض ہونا) محض عقل سے ماخوذ ہے،
کیونکہ ہم نے واضح کر دیا ہے کہ وجوب کا ثبوت شرع سے حاصل ہوتا ہے،
الا یہ کہ ہم “واجب” کی تعریف اس فعل کے طور پر کریں جس میں فائدہ ہو اور جس کے ترک میں نقصان ہو،
تو اس لحاظ سے بھی امام کا تقرر واجب ہونے میں کوئی اختلاف نہیں —
کیونکہ اس میں بے شمار فوائد اور دنیاوی نقصانات کے ازالے کی مصلحت پائی جاتی ہے۔

تاہم ہم اس کے وجوب پر صرف عقلی فائدے پر نہیں بلکہ قطعی شرعی دلیل قائم کرتے ہیں،
اور محض امت کے اجماع پر اکتفا نہیں کرتے، بلکہ اس اجماع کی بنیاد کو واضح کرتے ہیں۔

مزید دریافت کریں
Economics
Books & Literature
E-Books

ہم کہتے ہیں:
دین کے نظام کا برقرار رہنا بلاشبہ صاحبِ شریعت (یعنی رسول اکرم ﷺ) کا مقصود ہے —
یہ ایک قطعی مقدمہ ہے جس میں کوئی نزاع ممکن نہیں۔

پھر ہم ایک دوسرا مقدمہ شامل کرتے ہیں:
یہ کہ دین کا نظام امامِ مطاع (یعنی اطاعت کے لائق حکمران) کے بغیر قائم نہیں ہو سکتا۔

پس ان دونوں مقدموں سے یہ نتیجہ ثابت ہوتا ہے کہ امام (حکمران) کا تقرر واجب ہے۔

وضاحتی تشریح:

امام غزالیؒ اس اقتباس میں نہایت گہری بات فرماتے ہیں:

  1. نصبِ امام (یعنی ریاستی سربراہ کا تقرر) کوئی اختیاری یا سیاسی معاملہ نہیں، بلکہ شرعی فریضہ ہے۔
  2. اس کی بنیاد محض عقل یا مصلحت پر نہیں، بلکہ نصوصِ شرع اور مقاصدِ شریعت پر ہے۔
  3. شریعت کا مقصد دین کے نظام کا قیام ہے، اور نظامِ دین بغیر امام کے ممکن نہیں۔
    لہٰذا امام کا تقرر واجب شرعی ہے، اور امت کا اس پر اجماع بھی اسی شرعی بنیاد پر قائم ہے۔

امام غزالیؒ کے مطابق:

"اسلامی ریاست یا حکومت کا قیام محض سیاسی ضرورت نہیں بلکہ شرعی فریضہ ہے، کیونکہ نظامِ دین امامِ مطاع کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔”

بہت خوب — ’’اسلامی نظامِ حکومت میں مجلسِ شوریٰ کے فرائض‘‘ ایک نہایت اہم اور بنیادی عنوان ہے، کیونکہ شوریٰ (consultative council) اسلامی حکومت کا دل ہے۔
ذیل میں میں اس عنوان پر ایک جامع، مدلل اور معیاری مضمون پیش کر رہا ہوں جو علمی و امتحانی سطح (CSS یا اسلامیات مقالہ) کے معیار کے مطابق ہے۔


اسلامی نظامِ حکومت میں مجلسِ شوریٰ کے فرائض

تمہید

اسلامی نظامِ حکومت کی بنیاد عدل، مشاورت اور امانت پر رکھی گئی ہے۔
قرآن مجید نے مسلمانوں کے نظمِ اجتماعی کی تین نمایاں صفات بیان کیں:

وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ
’’اور وہ لوگ جو اپنے رب کی بات مانتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور ان کا نظام باہمی مشورے پر قائم ہے، اور وہ ہماری دی ہوئی روزی میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (الشورى: 38)

یہ آیت اسلامی سیاست کی اساس ہے — یعنی اسلامی ریاست کا نظم باہمی مشاورت پر قائم ہو۔

1. مجلسِ شوریٰ کا مفہوم اور حیثیت

’’شوریٰ‘‘ عربی لفظ ’’شور‘‘ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں ’’کسی چیز کو ظاہر کر کے اس میں سے بہتر پہلو اختیار کرنا‘‘۔
اسلامی اصطلاح میں شوریٰ اس ادارے کو کہا جاتا ہے جو خلیفہ یا امامِ وقت کو قومی و شرعی معاملات میں مشورہ دیتا ہے تاکہ فیصلے عقل، علم اور عدل کی بنیاد پر ہوں۔

قرآن نے نبی کریم ﷺ کو بھی حکم دیا:

وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ
’’اور (اے نبی ﷺ) آپ ان سے معاملات میں مشورہ کریں۔‘‘ (آل عمران: 159)

یہ آیت بتاتی ہے کہ اگر نبی ﷺ جیسے صاحبِ وحی کو امت سے مشورہ لینے کا حکم دیا گیا تو بعد کے حکمرانوں پر مشاورت کی ضرورت بدرجۂ اولیٰ لازم ہے۔


2. مجلسِ شوریٰ کی تشکیل

اسلامی حکومت میں مجلسِ شوریٰ ایسے اہل افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو:

  • علمِ دین، فہمِ شریعت اور عقلِ سلیم رکھتے ہوں،
  • امانت، عدل اور تقویٰ میں معروف ہوں،
  • عوام کے نمائندہ حیثیت سے امت کی رائے کی ترجمانی کرسکیں۔

یہ مجلس محض ایک علامتی ادارہ نہیں بلکہ نظامِ حکومت کا مشاورتی دماغ ہے جو امامِ وقت کو رہنمائی فراہم کرتی ہے۔


3. مجلسِ شوریٰ کے بنیادی فرائض

(1) قانون سازی اور اجتہادی امور میں مشورہ

  • مجلسِ شوریٰ کا سب سے اہم فریضہ یہ ہے کہ وہ ایسے معاملات میں جہاں قرآن و سنت خاموش ہوں، اجتہادی بنیادوں پر قانون سازی میں معاونت کرے۔
  • شوریٰ کے اراکین فقہا اور ماہرینِ علم ہوتے ہیں جو نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں نئے پیش آمدہ مسائل پر رائے دیتے ہیں۔
  • یہ قانون سازی شریعت کے تابع ہوتی ہے، اس سے ماورا نہیں۔

سیدنا عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کے ادوار میں بھی پیچیدہ معاملات جیسے بیت المال، مفتوحہ اراضی اور عدالتی نظام میں شوریٰ کی رائے سے فیصلے کیے گئے۔


(2) امام یا خلیفہ کے فیصلوں میں رہنمائی

  • خلیفہ کو شوریٰ کی رائے حاصل کرنا واجب کے درجہ کے قریب ہے۔
  • اہم قومی، عسکری یا مالی فیصلوں میں امامِ وقت شوریٰ کے سامنے معاملہ رکھتا ہے، تاکہ اجتماعی بصیرت سے درست فیصلہ سامنے آئے۔
  • نبی ﷺ نے غزوۂ اُحد میں صحابہ سے مشورہ کیا اور اکثریتی رائے پر عمل کیا، حالانکہ آپ کی رائے مختلف تھی — یہ شوریٰ کی عملی نظیر ہے۔

(3) نظمِ حکومت اور انتظامی اُمور میں معاونت

  • مجلسِ شوریٰ ریاست کے عمومی نظم، مالی امور، عدالتی نظام، تعلیم، تجارت اور داخلی و خارجی پالیسی میں امام کو تجاویز دیتی ہے۔
  • یہ ادارہ عوام کے مسائل اور شکایات امام تک پہنچاتا ہے اور ریاستی پالیسیوں میں توازن پیدا کرتا ہے۔

(4) احتسابِ حکمران (Accountability of the Ruler)

  • شوریٰ کا فریضہ صرف مشورہ دینا نہیں بلکہ حکمران کے اعمال پر نظر رکھنا بھی ہے۔
  • اگر امام حدودِ شریعت سے تجاوز کرے تو شوریٰ اسے متنبہ کرے، اور اگر وہ اصلاح نہ کرے تو امت کے حق میں اس کی خلافت کو منسوخ کرنے کی سفارش کرسکتی ہے۔
  • امام ماوردی نے ’’الاحکام السلطانیہ‘‘ میں لکھا: ’’اگر امام شریعت کے خلاف ظلم پر قائم رہے تو اہلِ حل و عقد کو اختیار ہے کہ اسے معزول کر دیں۔‘‘

(5) مالی امور کی نگرانی

  • شوریٰ بیت المال کی آمد و خرچ کی نگرانی کرتی ہے تاکہ مالی عدل قائم رہے۔
  • سیدنا عمرؓ کے دور میں بیت المال کے محاسبہ اور نگرانی کے لیے اصحابِ شوریٰ باقاعدہ ذمہ دار تھے۔

(6) عوامی نمائندگی اور رائے کا انعکاس

  • شوریٰ عوام اور حکومت کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتی ہے۔
  • عوامی فلاح، معاشرتی مسائل، تعلیم، صحت، امن و انصاف جیسے امور میں شوریٰ عوامی مشاورت کے نتائج خلیفہ تک پہنچاتی ہے۔

(7) خارجہ پالیسی اور جنگ و امن کے فیصلے

  • اسلامی ریاست میں جنگ یا امن کا فیصلہ کسی ایک فرد کی رائے سے نہیں بلکہ اجتماعی مشاورت سے ہوتا ہے۔
  • نبی ﷺ نے بدر، اُحد اور خندق جیسے مواقع پر شوریٰ سے مشورہ فرمایا، اور خلفائے راشدین نے بھی جنگی منصوبہ بندی میں اہلِ رائے سے مشاورت کی۔

4. مجلسِ شوریٰ کے فیصلوں کی حیثیت

اسلامی فقہا کے نزدیک:

  • اگر کسی معاملے میں شرعی نص موجود ہو، تو شوریٰ کی رائے نص کے تابع ہوگی۔
  • اگر نص موجود نہ ہو، تو شوریٰ کا فیصلہ اجتہادی حیثیت رکھتا ہے اور امام پر اس کی پیروی لازم ہے، خصوصاً اگر وہ کثرتِ رائے سے طے کیا گیا ہو۔

یہی وجہ ہے کہ سیدنا عمرؓ نے اراضی کے مسئلے پر کثرتِ رائے کے مطابق فیصلہ نافذ کیا، حالانکہ مجاہدین کی ایک بڑی تعداد مخالف تھی۔

5. مجلسِ شوریٰ اور جدید تقاضے

عصرِ حاضر میں اسلامی ریاستوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ شوریٰ کو فعال ادارہ بنائیں —
جس میں علما، ماہرینِ قانون، معیشت، دفاع، تعلیم، اور عوامی نمائندے شامل ہوں۔
اس طرح شوریٰ محض مذہبی ادارہ نہیں بلکہ اسلامی پارلیمنٹ کا کردار ادا کر سکتی ہے،
تاہم فرق یہ ہے کہ اس کی قانون سازی قرآن و سنت کی بالادستی میں رہتی ہے۔

6. خلاصہ اور نتیجہ

مجلسِ شوریٰ اسلامی حکومت کا بنیادی ستون ہے۔
یہ نہ صرف مشورہ دینے والا ادارہ ہے بلکہ عدل، شفافیت، اجتہاد اور اجتماعی بصیرت کا مرکز ہے۔
اسلامی جمہوریت دراصل اسی شوریٰ کے اصول پر قائم ہے، جہاں فیصلے افراد کی خواہش پر نہیں بلکہ اجتماعی دانش اور شریعت کے رہنما اصولوں پر کیے جاتے ہیں۔

یعنی: اسلام میں شوریٰ حکومت کا ضمیر ہے، اور ضمیر کے بغیر کوئی نظام زندہ نہیں رہ سکتا۔

جدید اسلامی نظامِ حکومت میں دو ایوانی مجلسِ شوریٰ کی ضرورت اور ساخت

1. عصرِ حاضر کی تخصصی نوعیت

موجودہ دور کو بجا طور پر “تخصصات کا دور” کہا جاتا ہے۔ جدید زندگی کے ہر میدان میں الگ الگ ماہرین درکار ہوتے ہیں — معیشت، سیاست، قانون، تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، دفاع، صحت، زراعت، اور ابلاغ عامہ وغیرہ۔ ایک فرد یا ایک ہی طبقہ ان تمام شعبوں پر مکمل عبور نہیں رکھ سکتا۔
اسلام کا اصولِ شوریٰ اسی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ اجتماعی امور میں ماہرین سے مشورہ لیا جائے:

“وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ” (آلِ عمران: 159)
"اور (اے نبی) ان سے معاملات میں مشورہ کیجئے۔”

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اجتماعی فیصلے ان لوگوں کی مشاورت سے ہوں جو علم، بصیرت اور تجربہ رکھتے ہوں۔


2. دو ایوانی مجلسِ شوریٰ کی تجویز

اسلامی ریاست میں مشاورت کا دائرہ وسیع اور جامع ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے مجلسِ شوریٰ کو دو ایوانوں میں تقسیم کرنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ عین مصلحت کے مطابق بھی ہے:

(الف) دارُالعلماء (Upper House)
  • یہ ایوان فقہی، شرعی اور اخلاقی رہنمائی فراہم کرے گا۔
  • اس میں وہ علما، فقہا اور مجتہدین شامل ہوں جو قرآن، سنت، اصولِ فقہ، اور اسلامی قانون کے ماہر ہوں۔
  • یہ ادارہ قوانین کی تدوین و تشریح، اہم قومی پالیسیوں کی نگرانی، اور شریعت سے مطابقت کی جانچ کرے گا۔
  • اس کے اراکین کا انتخاب سلیکشن (Selection) کی بنیاد پر ہو، یعنی علمی قابلیت، فقہی بصیرت اور دینی دیانت کی بنیاد پر، نہ کہ عوامی ووٹ سے۔
  • اسے موجودہ دور کی اصطلاح میں “مجلسِ علما” یا “اسلامی سپریم کونسل” بھی کہا جا سکتا ہے۔
(ب) دارُالعوام (Lower House)
  • اس ایوان میں عوامی نمائندے شامل ہوں گے جنہیں الیکشن کے ذریعے عوام منتخب کریں گے۔
  • یہ ایوان عوامی مسائل، معاشی و سماجی اصلاحات، بجٹ اور ریاستی منصوبوں سے متعلق مشاورت کرے گا۔
  • عوامی ایوان کا کام حکومت کو عوامی امنگوں اور ضروریات سے باخبر رکھنا ہے تاکہ نظامِ حکومت میں عوامی شمولیت برقرار رہے۔

3. دو ایوانوں کے درمیان توازن

  • دارالعوام حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرے گا، جبکہ دارالعلماء قانون سازی کی شرعی نگرانی کا فریضہ انجام دے گا۔
  • دارالعوام میں پیش کیے گئے بل یا تجاویز دارالعلماء کی منظوری کے بغیر قانون نہیں بن سکیں گی، تاکہ شریعت سے انحراف نہ ہو۔
  • اسی طرح دارالعلماء بھی کسی فیصلے کو عوامی مفاد کے بغیر نافذ نہ کرے، تاکہ حکومتی نظام عوام سے کٹا ہوا نہ ہو۔

4. تاریخی نظائر

  • خلفائے راشدین کے دور میں اگرچہ مجلسِ شوریٰ ایک ہی نوعیت کی تھی، مگر اس میں ماہرینِ فقہ، اہلِ رائے، اور قبائلی نمائندے سب شامل تھے۔
  • عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی مجلسِ شوریٰ میں زید بن ثابت (فقہ و میراث کے ماہر)، عبدالرحمن بن عوف (سیاسی و انتظامی بصیرت والے)، اور علی بن ابی طالب (قضایا کے ماہر) شامل تھے — یعنی عملی طور پر تخصصی نمائندگی پہلے سے موجود تھی۔

5. موجودہ دور کے لیے افادیت

  • یہ نظام اسلامی روح کے مطابق بھی ہے اور جدید ریاستی تقاضوں کے لیے موزوں بھی۔
  • اس سے نہ صرف علما کا علمی کردار محفوظ رہے گا بلکہ عوامی نمائندگی اور سیاسی استحکام بھی برقرار رہے گا۔
  • اس طرح اسلامی نظامِ حکومت میں علم، عدل، اور عوامی شمولیت — تینوں عناصر کا امتزاج ممکن ہو سکے گا۔

تدوینِ قانون کے عناصر

1. شریعت سازی صرف اللہ کا حق ہے

اسلامی عقیدہ کی رو سے تشریعِ احکام (یعنی قانون بنانا بطورِ حاکمِ مطلق) صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ
’’حکم (قانون سازی) کا حق صرف اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘ (یوسف: 40)

اس آیت کے مطابق کوئی انسان، بادشاہ، پارلیمنٹ یا جماعت اس معنی میں قانون ساز نہیں بن سکتی کہ وہ اللہ کے نازل کردہ احکام کے برعکس یا ان سے ماورا قانون وضع کرے۔ یہ ’’تشریع من دون اللہ‘‘ کہلاتا ہے، اور یہی وہ چیز ہے جسے قرآن شرک اور طغیان سے تعبیر کرتا ہے۔

2. تدوینِ قانون کا مطلب کیا ہے؟

تدوینِ قانون سے مراد یہ نہیں ہے کہ انسان از خود احکام بنائے،
بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ:

  • قرآن و سنت کے موجودہ احکام،
  • فقہا کی تشریحات،
  • اجماع اور قیاس کی بنیاد پر طے شدہ اصول،
    کو ایک منظم اور مدون شکل میں پیش کیا جائے تاکہ عدلیہ، انتظامیہ اور عوام کے لیے ان پر عمل آسان ہو۔

یعنی علما و مجتہدین قانون کو ’’پیدا‘‘ نہیں کرتے، بلکہ ’’ترتیب‘‘ دیتے ہیں۔
یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے محدثین نے احادیث کو جمع کر کے صحیح، حسن، ضعیف کی درجہ بندی کی — اس سے وہ خود شارع نہیں بن گئے، بلکہ شارعِ حقیقی (اللہ و رسول) کے کلام کو منضبط اور منظم کیا۔

3. فقہا کا عملِ تدوین دراصل اجتہاد ہے، تشریع نہیں

فقہا جب قرآن و سنت سے استنباط کرتے ہیں تو وہ اپنی طرف سے نئے احکام نہیں بناتے، بلکہ نصوصِ شرعیہ سے احکام اخذ (derive) کرتے ہیں۔
یہی عمل ’’اجتہاد‘‘ کہلاتا ہے۔
لہٰذا تدوینِ قانون دراصل اجتہادِ جمعی (collective ijtihad) کی شکل ہے۔
فقہا نے ہمیشہ اسی طرح شریعت کے مختلف ابواب کی تفہیم کو منظم کر کے فقہی متون بنائیں — جیسے الہدایہ، المقنع، المجموع، اور بدایۃ المجتہد۔
کیا ان سب نے شریعت بنائی؟ نہیں۔ بلکہ شریعت کی تفہیم اور تطبیق کو آسان بنایا۔

4. خلافتِ راشدہ میں عملی مثال

سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا مفتوحہ اراضی کے بارے میں فیصلہ ایک روشن مثال ہے۔
قرآن و سنت میں مفتوحہ اراضی کی تفصیلی تقسیم کا حکم واضح نہیں تھا۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اجتماعی مشاورت کے ذریعے یہ طے کیا کہ زمین مجاہدین میں تقسیم نہیں کی جائے گی بلکہ بیت المال کی ملکیت رہے گی۔
یہ ایک قانونی فیصلہ تھا، مگر کسی نے اسے ’’شریعت سازی‘‘ نہیں کہا — کیونکہ یہ قرآن و سنت کی روح کے مطابق اجتہادی قانون تھا۔

5. عصرِ حاضر میں تدوینِ قانون کا مقصد

آج جب اسلامی ریاستیں جدید نظامِ عدل اور انتظام چلاتی ہیں، تو انہیں
قوانین کی ایک منظم کتاب (Code) کی ضرورت ہوتی ہے — تاکہ عدالتیں مختلف فقہی اقوال میں رہنمائی لے سکیں۔
یہ عمل محض فقہی تنظیم (legal codification) ہے، نہ کہ ’’الٰہی احکام میں اضافہ‘‘۔

اسی لیے فقہا کہتے ہیں کہ:

"ما لا نص فیه فالمجتهد فیه مصیب إن اجتهد وأصاب، مأجور إن اجتهد وأخطأ.”
یعنی "جس معاملے میں نص نہ ہو، اس میں مجتہد اگر درست اجتہاد کرے تو اجرین، اور اگر خطا کرے تو ایک اجر پاتا ہے۔”

یہ جملہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ انسانی اجتہاد شریعت سازی نہیں بلکہ فہمِ شریعت کا ذریعہ ہے۔

6. تدوینِ قانون اور شریعت سازی کا خلاصہ فرق

پہلوتدوینِ قانونشریعت سازی
تعریفقرآن و سنت سے مستنبط احکام کو منظم و مدون کرناوحی سے ہٹ کر خودساختہ قوانین بنانا
ماخذوحی (قرآن و سنت)، اجماع، قیاسانسانی عقل، خواہشات یا اکثریتی رائے
مقصدعدل و انصاف کے لیے شریعت کی عملی تطبیقانسان کو شارعِ حقیقی کے مقابل لا کھڑا کرنا
حکمِ شرعیجائز، بلکہ ضروری (نظامِ عدل کے قیام کے لیے)حرام، کیونکہ یہ تشریع من دون اللہ ہے

پس واضح ہوا کہ تدوینِ قانون شریعت سازی نہیں بلکہ شریعت فہمی اور شریعت تطبیق کا عمل ہے۔
یہ وہی کام ہے جو ہر دور میں ائمہ و فقہا کرتے رہے ہیں۔
اسلامی ریاست کی پارلیمنٹ یا مجلسِ شوریٰ اگر قرآن و سنت کے دائرے میں رہتے ہوئے قوانین کی ترتیب، تدوین یا اجتہادی تشریحات کرے تو یہ عینِ اسلام ہے، نہ کہ مغربیت۔

طریقۂ انتخاب


اسلامی سیاسی نظام کی روح کو سمجھنے کے لیے خلفائے راشدین کے طریقۂ انتخاب کا مطالعہ نہایت اہم ہے، کیونکہ یہی دورِ خلافت راشدہ اسلامی جمہوریت اور شورائی نظام کی عملی تفسیر ہے۔
ذیل میں اس عنوان پر ایک مفصل، معیاری اور مدلل مضمون پیش کیا جا رہا ہے جو علمی و تحقیقی معیار پر پورا اترتا ہے۔

خلفائے راشدین کے طریقۂ انتخاب کا جائزہ

اسلامی حکومت کی اساس ’’امامت‘‘ یا ’’خلافت‘‘ پر ہے، جس کا مقصد دین کی حفاظت، عدل کا قیام، اور امت کے اجتماعی امور کی تنظیم ہے۔
اسلام میں حکومت کا تصور الٰہی اقتدار کی نیابت ہے، نہ کہ مطلق بادشاہت۔
لہٰذا خلیفہ کا انتخاب کسی موروثی یا آمرانہ طریقے سے نہیں بلکہ امت کی رضا اور مشاورت سے عمل میں آنا چاہیے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے:

وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ (الشورى: 38)
’’اور ان کے تمام معاملات باہمی مشورے سے طے پاتے ہیں۔‘‘

خلفائے راشدین نے اسی قرآنی اصول کی روشنی میں انتخابِ خلافت کا عملی نمونہ پیش کیا۔

1. خلافتِ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا انتخاب

(الف) پس منظر

نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد مسلمانوں پر سب سے بڑا مسئلہ قیادت کا تعین تھا۔
انصار و مہاجرین دونوں اپنے اپنے نمائندہ طبقے کے طور پر قیادت کے خواہاں تھے۔
سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار جمع ہوئے تاکہ خلیفہ کا انتخاب کریں۔

(ب) انتخاب کا عمل

مہاجرین میں سے سیدنا عمر بن الخطابؓ، ابوعبیدہؓ اور دیگر اکابر وہاں پہنچے۔
گفتگو کے بعد سیدنا عمرؓ نے فرمایا:

’’ابوبکرؓ وہ ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے نماز میں اپنا نائب بنایا، لہٰذا ہم ان کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔‘‘
پھر سب نے بیعتِ عامہ کے ذریعے ابوبکرؓ کو خلیفہ تسلیم کیا۔

(ج) نتیجہ

یہ انتخاب کسی وراثت یا تلوار کے زور پر نہیں بلکہ اہلِ حل و عقد کی مشاورت اور اجماعِ امت سے ہوا۔
یہ اسلامی جمہوری عمل کی پہلی روشن مثال تھی۔

2. خلافتِ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا انتخاب

(الف) انتخاب کا طریقہ

سیدنا ابوبکرؓ نے اپنی وفات کے وقت امت میں انتشار سے بچنے کے لیے
اہلِ شوریٰ سے مشورہ کیا اور ان کی رضامندی سے سیدنا عمرؓ کو خلیفہ نامزد کیا۔
ان کی نامزدگی محض ذاتی فیصلہ نہیں تھی بلکہ اجماعِ صحابہ سے توثیق یافتہ تھی۔

(ب) امت کی تائید

تمام صحابہ، خصوصاً انصار و مہاجرین نے اس فیصلے پر اعتماد کا اظہار کیا اور بیعتِ عامہ کی۔
یہ دراصل نامزدگی بذریعہ مشاورت تھی — یعنی خلیفہ اپنے بعد جانشین کی سفارش کرسکتا ہے مگر فیصلہ امت کی رضا پر منحصر ہوگا۔


3. خلافتِ عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا انتخاب

(الف) پس منظر

جب سیدنا عمرؓ شدید زخمی ہوئے تو انہوں نے چھ رکنی شوریٰ کونسل تشکیل دی،
جس میں یہ صحابہ شامل تھے:
عثمانؓ، علیؓ، طلحہؓ، زبیرؓ، عبدالرحمن بن عوفؓ اور سعد بن ابی وقاصؓ۔

(ب) انتخاب کا عمل

سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ نے عوامی رائے معلوم کی، مدینہ کے بڑے اہلِ علم، مہاجرین، انصار، عورتوں اور حتیٰ کہ نوجوانوں سے مشورہ کیا۔
اکثریت نے حضرت عثمانؓ کے حق میں رائے دی، چنانچہ وہ خلیفہ منتخب ہوئے۔

(ج) خصوصیت

یہ پہلا موقع تھا جب باضابطہ شورائی کمیٹی نے خلیفہ کا انتخاب کیا —
یہ اسلامی طرزِ جمہوریت کا منظم اور اجتماعی ماڈل تھا، جس میں عوامی مشاورت کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔

4. خلافتِ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا انتخاب

(الف) حالات

حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد امت شدید اضطراب میں مبتلا تھی۔
مدینہ کے اہلِ علم و فضیلت نے اتفاقِ رائے سے حضرت علیؓ کو خلافت کی پیشکش کی۔

(ب) انتخاب

حضرت علیؓ نے ابتدا میں قبول کرنے سے انکار کیا لیکن اصرار کے بعد بیعتِ عامہ سے انہیں خلیفہ تسلیم کیا گیا۔
یہ انتخاب بھی عوامی تائید اور مشاورت کے نتیجے میں ہوا، اگرچہ سیاسی حالات پیچیدہ تھے۔

5. خلفائے راشدین کے انتخاب سے حاصل اصول

(1) خلافت کا قیام عوامی رضامندی سے

کسی خلیفہ نے تلوار یا زور سے اقتدار حاصل نہیں کیا، بلکہ مشاورت، بیعت اور رضا سے کیا۔
یہ اسلامی جمہوریت کا بنیادی اصول ہے۔

(2) اہلِ حل و عقد کی حیثیت

ہر انتخاب میں ’’اہلِ حل و عقد‘‘ یعنی امت کے باشعور اور معتبر افراد فیصلہ کن کردار میں نظر آتے ہیں۔
یہی مجلسِ شوریٰ یا انتخابی کونسل کا اسلامی تصور ہے۔

(3) موروثی بادشاہت کی نفی

کسی خلیفہ نے اپنے خاندان کے کسی فرد کو زبردستی جانشین نہیں بنایا۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام میں اقتدار موروثی نہیں بلکہ امانت ہے۔

(4) مشاورت کا تسلسل

ہر خلیفہ نے اپنے پیش رو کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے امت کی مشاورت کو لازم رکھا۔
یہ تسلسل شوریٰ کے اصول کو ’’اسلامی آئینی روایت‘‘ بناتا ہے۔


6. خلفائے راشدین کے انتخاب سے اسلامی جمہوریت کے خدوخال

پہلوخلافتِ راشدہجدید جمہوریت
انتخاب کا ذریعہبیعت و مشاورت (اہلِ حل و عقد)ووٹ و انتخابات
قانون کی بالادستیقرآن و سنتعوامی مرضی
اقتدار کی نوعیتامانتحقِ اقتدارِ عوام
حاکم کی ذمہ داریشریعت کا نفاذ اور عدل کا قیامعوامی خواہشات کی نمائندگی
احتساب کا نظامشوریٰ و امتپارلیمنٹ یا عدلیہ

7. نتیجہ

خلفائے راشدین کا طریقۂ انتخاب اس حقیقت کا مظہر ہے کہ اسلام میں حکومت عوامی مشاورت اور اخلاقی ذمہ داری پر قائم ہوتی ہے۔
یہ نظام نہ تو آمریت ہے نہ مغربی جمہوریت کی آزاد روی — بلکہ ایک الٰہی جمہوریت ہے جس میں شریعت کی بالادستی اور امت کی شمولیت دونوں محفوظ ہیں۔

خلافتِ راشدہ کا یہ نظام آج بھی امت کے لیے سیاسی عدل، شورائی عمل اور اجتماعی بصیرت کا مثالی ماڈل ہے،
جس کی بنیاد اس اصول پر ہے:

"لا خلافة إلا عن مشورة” — خلافت صرف مشاورت سے ہی قائم ہو سکتی ہے۔

اسلام میں ’’جمہور‘‘ کا تصور

اسلامی فقہ اور اصول میں ’’جمہور‘‘ کا لفظ ہمیشہ علما کی اکثریت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ فقہا جب کسی رائے کے حق میں ’’قول الجمہور‘‘ لکھتے ہیں تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ رائے اکثریتِ علما کی متفقہ یا ترجیحی رائے ہے۔ فقہ اسلامی کی صدیوں پر محیط روایت نے ’’اکثریت‘‘ کو ہمیشہ غلبۂ دلیل، وسعتِ علم اور اجتہادی توازن کا نشان سمجھا ہے۔

اسی ’’جمہور‘‘ سے لفظ جمہوریت وجود میں آیا۔ اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ جمہوریت کا بنیادی تصور اسلام میں اجنبی نہیں ہے۔ البتہ اسلامی جمہوریت کا محور اللہ کی حاکمیت اور وحیِ الٰہی ہے، جبکہ مغربی جمہوریت کا مدار عوام کی مطلق خودمختاری پر ہے۔

اسلامی جمہوریت کا نظریاتی منہاج

اسلامی جمہوریت میں قانون سازی اور ریاستی نظم کا اصل سرچشمہ قرآن، سنت، اجماعِ امت اور قیاسِ مجتہد ہیں۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:

وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ (الشوریٰ: 38)
’’اور ان کے تمام کام باہمی مشورے سے طے پاتے ہیں۔‘‘

یہ آیت اسلام کے اجتماعی اصولِ سیاست کا بنیادی ستون ہے۔ اسلامی نظامِ حکومت میں شوریٰ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اور اہلِ علم و تقویٰ کی مشاورت کے بغیر کوئی اہم فیصلہ نہیں کیا جاتا۔
چنانچہ اسلامی جمہوریت میں جمہور کی رائے، دراصل علماء و اہلِ بصیرت کی اجتماعی بصیرت کا مظہر ہوتی ہے، جو وحی کے تابع رہ کر امت کے مفاد میں فیصلے کرتی ہے۔


مغربی ڈیموکریسی اور اس کی فکری اساس

مغربی جمہوریت ایک خالص انسانی نظریہ ہے جس میں حاکمیت کا سرچشمہ عوام قرار پاتے ہیں۔ وہاں قانون سازی کا حق عوام یا ان کے نمائندوں کو حاصل ہے، چاہے وہ قانون دینی اصولوں سے متصادم ہی کیوں نہ ہو۔
یہ تصور دراصل یورپ کے قرونِ وسطیٰ کے مذہبی جبر کے ردعمل میں پیدا ہوا، جہاں کلیسا کی مطلق العنانیت کے خلاف عوام نے بغاوت کی۔
اس طرح مغربی جمہوریت کا فلسفہ سیکولر ہیومن ازم سے جڑا ہوا ہے — یعنی انسان ہی قانون کا خالق، مفسر اور منبع ہے۔

اسلام اس تصور کو اصولی طور پر رد کرتا ہے، کیونکہ قانون سازی کا مطلق حق صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔
البتہ اگر کسی معاملے میں قرآن و سنت خاموش ہوں اور وہ خالصتاً اجتماعی مصلحت سے متعلق ہو، تو اس میں عوامی رائے اور اکثریت کی مشاورت اختیار کرنا عین اسلامی ہے۔

اسلامی اور مغربی جمہوریت کا بنیادی فرق

اسلامی جمہوریت الٰہی حدود میں رہ کر عوامی رائے کو تسلیم کرتی ہے، جبکہ مغربی جمہوریت الٰہی حدود سے آزاد ہے۔
اسلام میں عوامی رائے کو ’’منبعِ قانون‘‘ نہیں بلکہ ’’آلۂ مشاورت‘‘ مانا گیا ہے۔ اس طرح اسلامی جمہوریت دراصل شوریٰ پر مبنی نظام ہے، نہ کہ لامحدود عوامی خودمختاری پر۔

خلافتِ راشدہ میں جمہوری عمل کی مثال

اسلامی جمہوریت کا سب سے روشن نمونہ خلافتِ راشدہ میں ملتا ہے۔
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب عراق و ایران کی فتوحات ہوئیں تو یہ مسئلہ سامنے آیا کہ مفتوحہ زمینوں کو مجاہدین میں تقسیم کیا جائے یا نہیں؟
بعض مجاہدین کی رائے تھی کہ زمین تقسیم کر دی جائے، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور اکابر صحابہ کو اندیشہ تھا کہ اس سے مسلمانوں میں جاگیرداری اور طبقاتی تفاوت پیدا ہو جائے گا۔

چنانچہ انہوں نے ایک وسیع شوریٰ قائم کی جس میں کئی دن بحث و مشاورت ہوتی رہی۔ آخرکار اکثریت کی رائے سے یہ طے پایا کہ زمین ریاستی ملکیت رہے گی اور اس کی پیداوار بیت المال میں جمع ہو گی تاکہ تمام مسلمانوں کی فلاح کے لیے استعمال ہو۔
یہ فیصلہ وحی سے نہیں بلکہ انسانی مشاورت سے طے پایا، مگر چونکہ یہ عدل، مساوات اور مصلحتِ عامہ کے اصولوں پر مبنی تھا، اس لیے اسے نافذ کر دیا گیا۔

جمہوریت کی ضرورت — آج کے دور میں شوریٰ کا تقاضا

نبی کریم ﷺ کے بعد وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ نہ آج ہمارے درمیان رسول اللہ ﷺ موجود ہیں کہ وہ براہِ راست فیصلے فرمائیں، نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسے متقی، عادل اور فقیہ رہنما موجود ہیں جن کی بصیرت پر امت متفق ہو جاتی۔

اب جب علما، فقہا اور دانشور کسی مسئلے میں مختلف آرا رکھتے ہیں، تو ایک عالم کی رائے کو دوسرے پر ترجیح دینا مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ ہر ایک کی رائے علم، تقویٰ اور اخلاص پر مبنی ہوتی ہے۔
ایسی صورت میں اختلاف سے بچنے اور اجتماعی نظم قائم رکھنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ کثرتِ رائے سے درست رائے کا تعین کیا جائے۔

مزید دریافت کریں
Books & Literature
Science
Islam

یہی وہ موقع ہے جہاں اسلامی جمہوریت ایک دینی ضرورت بن جاتی ہے۔
شریعت نے بھی اجتماعی امور میں شوریٰ کو لازم قرار دیا ہے:

وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ (آل عمران: 159)
’’اور آپ ﷺ ان سے امور میں مشورہ کیجیے۔‘‘

جب متعدد اہلِ علم و بصیرت کسی معاملے میں غور کریں تو اکثریت کی رائے دراصل اجتماعی عقل کا اظہار ہوتی ہے، جو انفرادی خطا سے زیادہ محفوظ ہوتی ہے۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

إِنَّ يَدَ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ
’’بے شک اللہ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے۔‘‘ (ترمذی)

یعنی اجتماعیت اور اکثریت کے ساتھ برکت اور توفیق ہے۔
پس اسلامی جمہوریت دراصل اختلافات کو نظم و اتفاق میں بدلنے کا ایک شرعی طریقہ ہے، جو امت کو فتنہ و انتشار سے محفوظ رکھتا ہے۔


قانون سازی اور شریعت سازی میں فرق

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قانون سازی (Legislation) اور شریعت سازی (Divine Legislation) ایک ہی چیز نہیں۔

  • شریعت سازی اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔
  • قانون سازی دراصل علما اور اجتہادی اداروں کا وہ عمل ہے جس میں وہ قرآن و سنت کی روشنی میں موجود مسائل کا نظم، تدوین اور اطلاق کرتے ہیں۔

چونکہ قرآن و سنت نے تمام مسائل کو صراحت سے بیان نہیں کیا، اس لیے فقہا نے نصوص سے اصول اخذ کر کے قوانین مرتب کیے۔ اسی عمل کو آج قانون سازی کہا جاتا ہے، جو دراصل اجتہاد ہی کی جدید شکل ہے۔
خوارج نے اسی فرق کو نہ سمجھنے کے باعث ہر انسانی مشاورت کو ’’شرک‘‘ یا ’’شریعت سازی‘‘ قرار دیا، حالانکہ فقہ کی پوری تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ شریعت کی تعبیر و تدوین انسانوں کے ذریعے ہی ممکن ہوئی۔

اسلامی جمہوریت کے بنیادی اصول

  1. حاکمیتِ الٰہیہ:
    قانون سازی کا بنیادی ماخذ اللہ تعالیٰ کی وحی ہے۔
  2. شورائیت:
    اجتماعی فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔
  3. اجتماعی فلاح:
    فیصلے امت کی عمومی بھلائی کے لیے ہوتے ہیں۔
  4. عدالت و مساوات:
    سب شہری قانون کے سامنے برابر ہیں۔
  5. اہلیت کی بنیاد پر قیادت:
    قیادت صرف اہلِ تقویٰ اور اہلِ علم کو حاصل ہے۔
  6. حدودِ الٰہی کی پابندی:
    کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں ہو سکتا۔

اسلامی جمہوریت اور مغربی ڈیموکریسی کا تقابلی جائزہ

پہلواسلامی جمہوریتمغربی ڈیموکریسی
قانون کا ماخذقرآن، سنت، اجماع، قیاسعوامی رائے
حاکمیتاللہ تعالیٰ کیعوام کی
فیصلہ سازیاہلِ علم و تقویٰ کی مشاورتعوامی نمائندوں کی رائے
رائے دہی کی حدودشریعت کے دائرے میںغیر محدود، حتیٰ کہ مذہب مخالف بھی
ریاست کا مقصدعدل، خیر اور فلاحِ امتفرد کی آزادی اور مفاد
اکثریت کی حیثیتمشاورتی و اجتہادیمطلق و فیصلہ کن

نتیجہ

اسلامی جمہوریت کوئی مغربی نقالی نہیں بلکہ قرآن و سنت کے اصولِ شوریٰ اور اجماع کی جدید تعبیر ہے۔
یہ نظام وحیِ الٰہی کے تابع ہے، اس کے متوازی نہیں۔ اس میں عوامی رائے کو وہی حیثیت حاصل ہے جو فقہ میں ’’قولِ جمہور‘‘ کو حاصل ہے — یعنی اختلاف کے باوجود اکثریت کی رائے کو فتنہ و انتشار سے بچنے کے لیے معیار بنایا جائے۔

آج جب نہ وحی کی رہنمائی براہِ راست میسر ہے، نہ صحابہ جیسی بصیرت رکھنے والے قائدین، تو امت کے اتحاد و نظم کے لیے یہی طریقہ سب سے محفوظ ہے کہ کثرتِ رائے سے درست رائے کا تعین کیا جائے۔
اسلامی جمہوریت اس لحاظ سے وحی اور عقل، دین اور دنیا، فرد اور اجتماع کے درمیان ایک متوازن نظام ہے جو امت کو عدل، اتفاق اور خیرِ عامہ کی راہ دکھاتا ہے۔

الامامۃ کے اصول و مقاصد

اسلامی نظامِ حکومت سے مراد وہ طرزِ حکومت ہے جو قرآن و سنت کے اصولوں، احکام اور مقاصد پر قائم ہو۔ اس نظام میں اقتدارِ اعلیٰ (Sovereignty) اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہوتا ہے، جبکہ انسانوں کو صرف خلافت یا نیابت کے طور پر حکومت کا حق حاصل ہوتا ہے۔ اس کے بنیادی تصورات، اصول اور مقاصد درج ذیل ہیں:

1. اقتدارِ اعلیٰ اللہ کے لیے

اسلامی حکومت کی بنیاد اس عقیدے پر ہے کہ قانون سازی اور حاکمیت کا اصل حق صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے:

"إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ”
(الحکم صرف اللہ ہی کا ہے) — [یوسف: 40]

یعنی ریاست کا قانون، اخلاق، معیشت، عدل اور سیاست سب قرآن و سنت کے تابع ہوں گے۔

2. خلافت یا نیابتِ انسان

اسلامی نظام میں حکمران کو مطلق العنان بادشاہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا نائب (خلیفہ) تصور کیا جاتا ہے، جو شریعت کے دائرے میں رہ کر فیصلے کرے گا۔

"إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً” — [البقرہ: 30]

یہ خلافت ذمہ داری اور امانت ہے، طاقت یا ذاتی اختیار نہیں۔

3. شوریٰ (مشاورت) کا اصول

اسلامی نظامِ حکومت میں اجتماعی مشورے کو بڑی اہمیت حاصل ہے:

"وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” — [الشورى: 38]

حکمران، اہلِ شوریٰ (علماء، ماہرین، اور عوام کے نمائندے) کے مشورے سے فیصلے کرتا ہے۔ یہ جمہوریت سے مختلف اس لیے ہے کہ مشاورت شریعت کے تابع ہوتی ہے، نہ کہ عوامی خواہشات کے۔

4. عدل و انصاف کا قیام

اسلامی حکومت کا سب سے اہم مقصد عدل کا قیام ہے:

"إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” — [النحل: 90]

یعنی ہر شخص کے حقوق محفوظ ہوں — خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، حاکم ہو یا محکوم۔

5. قانون سازی کا ماخذ

اسلامی نظام میں قانون سازی کا منبع یہ ہیں:

  1. قرآنِ مجید
  2. سنتِ رسول ﷺ
  3. اجماعِ امت
  4. قیاسِ شرعی

ریاست کی پارلیمنٹ یا اسمبلی کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی جو شریعت کے خلاف ہو۔

6. حکمران کی صفات اور ذمہ داریاں

  • دیندار، عادل اور اہل شخص ہونا چاہیے۔
  • شریعت کے مطابق فیصلے کرے۔
  • عوام کے حقوق کا محافظ ہو۔
  • بیت المال کو امانت سمجھے، ذاتی ملکیت نہیں۔

7. شہریوں کے حقوق

اسلامی حکومت میں ہر شہری کو درج ذیل حقوق حاصل ہوتے ہیں:

  • جان، مال، عزت اور مذہب کی حفاظت
  • عدل و مساوات
  • اظہارِ رائے کی آزادی (شریعت کے دائرے میں)
  • معاشی انصاف اور بنیادی ضروریات کی ضمانت

8. اقلیتوں کا تحفظ

اسلام غیر مسلم شہریوں (اہلِ ذمہ) کے حقوق کی حفاظت کا ضامن ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

"جس نے کسی ذمی پر ظلم کیا، میں قیامت کے دن اس کا مخالف ہوں گا۔”

9. احتسابِ حکمران

اسلامی نظام میں حکمران قانون سے بالاتر نہیں ہوتا۔
حضرت عمرؓ کے زمانے میں عام آدمی نے خلیفہ سے پوچھا: "یہ کپڑا کہاں سے لیا؟” — تو خلیفہ نے وضاحت دی۔
یعنی عوام کو حاکم سے سوال کرنے کا حق حاصل ہے۔

10. مقصدِ اعلیٰ: اقامتِ دین اور فلاحِ انسانیت

اسلامی حکومت کا مقصد صرف سیاسی نظم نہیں بلکہ دینِ اسلام کا قیام اور انسانی فلاح ہے:

"الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ…” — [الحج: 41]

امنِ عامہ کا قیام: مقاصدِ شریعت اور مقاصدِ خلافت کی اساس

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
(سورۃ النور، آیت 55)

ترجمہ:

"اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ وہ ضرور انہیں زمین میں اقتدار بخشے گا، جیسے ان سے پہلے والوں کو اقتدار بخشا گیا، اور ان کے لیے ان کے دین کو مضبوطی کے ساتھ قائم کر دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، اور ان کے خوف کے بعد انہیں امن عطا کرے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کرے تو وہی لوگ نافرمان ہیں۔”

اسلامی نقطۂ نظر سے امن محض ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ مقاصدِ شریعت (مقاصد الشرع) اور مقاصدِ خلافت دونوں کی تکمیل کے لیے بنیادی شرط ہے۔
شریعتِ اسلامی کے تمام مقاصد — جیسے حفظِ دین، حفظِ نفس، حفظِ عقل، حفظِ نسل، اور حفظِ مال — اسی وقت پورے ہو سکتے ہیں جب معاشرہ امن و امان کا گہوارہ ہو۔
جہاں خوف، انتشار یا ظلم غالب ہوں، وہاں نہ دین محفوظ رہتا ہے، نہ جان و مال، نہ عزت و نسل۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور (آیت 55) میں وعدہ فرمایا کہ ایمان و عملِ صالح پر مبنی حکومت کو وہ خوف کے بعد امن عطا کرے گا،
اور سورۃ قریش میں مکہ کے امن کو بطور نعمت یاد کرتے ہوئے فرمایا:

مزید دریافت کریں
Politics
Economics
E-Books

یہی اصول خلافتِ راشدہ کے دور میں عملی صورت اختیار کرتا ہے، جہاں خلفائے راشدینؓ نے امن کو ریاستی ترجیحِ اوّل بنایا —کیونکہ امن کے بغیر نہ عدل قائم ہو سکتا ہے، نہ تعلیم و معیشت پھل سکتی ہے، نہ دعوت و تبلیغ ممکن ہے، اور نہ ہی عبادات و معاملات میں نظم قائم رہ سکتا ہے۔

پس یہ کہا جا سکتا ہے کہ:

امن کا قیام وہ بنیاد ہے جس پر شریعت کے تمام مقاصد اور خلافت کے تمام اہداف قائم ہیں۔

عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:
بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَشَكَا إِلَيْهِ الْفَاقَةَ، ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ فَشَكَا إِلَيْهِ قَطْعَ السَّبِيلِ،
فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ:
«يَا عَدِيُّ، هَلْ رَأَيْتَ الْحِيرَةَ؟»
قُلْتُ: لَمْ أَرَهَا وَقَدْ أُنْبِئْتُ عَنْهَا،
قَالَ:
«فَإِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ لَتَرَيَنَّ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ، لَا تَخَافُ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ».

(صحیح بخاری، حدیث: 3595)

ترجمہ:

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص نے آ کر فقر و فاقہ کی شکایت کی،
پھر دوسرا آیا اور قافلوں پر حملوں (ڈاکہ زنی) کی شکایت کی۔
اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"اے عدی! کیا تم نے حیرہ (عراق کا شہر) دیکھا ہے؟”
میں نے عرض کیا: نہیں، لیکن اس کے بارے میں سنا ضرور ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"اگر تمہاری عمر دراز ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ایک عورت (تنہا) حیرہ سے سفر کرے گی، یہاں تک کہ وہ مکہ پہنچ کر کعبہ کا طواف کرے گی، اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہوگا۔”

تاریخی تحقق و پیشگوئی کی تکمیل:

یہ پیشگوئی بعثتِ نبوی کے وقت کی گئی، جب پورا عرب لوٹ مار، جنگ و جدال، اور خوف و فتنہ میں مبتلا تھا۔
مگر چند سال بعد، خلافتِ فاروقی (حضرت عمر بن خطابؓ) کے دور میں
اسلامی ریاست نے عدل و امن کے وہ آثار پیدا کیے کہ
عدی بن حاتمؓ خود فرماتے ہیں:

"میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک عورت حیرہ سے اکیلی روانہ ہوئی اور مکہ مکرمہ پہنچی، اسے راستے بھر کسی کا خوف نہیں تھا۔”
(بخاری: 3595)

یہی وہ زمانہ تھا جب رسول اکرم ﷺ کی پیشگوئی پوری طرح ظاہر ہوئی، اور قرآنِ کریم کی آیت «وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا» (النور: 55) کا مصداق خلافتِ راشدہ کا دور قرار پایا۔

نتیجہ:

یہ حدیث اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اسلامی حکومت کا سب سے نمایاں ثمرہ امن و عدل کا قیام ہے۔ نبوت کے عہد میں جس امن کی بشارت دی گئی تھی، وہ سیدنا عمرؓ کے دور میں عملاً پوری ہوئی — جہاں نہ صرف داخلی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی امن، قانون، اور عدل کی مثالیں قائم ہوئیں۔

1. خلافتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ — ارتداد کے فتنے کے باوجود امن کا قیام

رسول اللہ ﷺ کے وصال کے فوراً بعد پورا عرب خوف و انتشار میں مبتلا ہوگیا۔
کئی قبائل زکوٰۃ سے انکار کر گئے اور بعض نے نبوت کے جھوٹے دعوے کر دیے۔
یہ دور عین اس آیت میں بیان کردہ “خوف” کی کیفیت کا مظہر تھا۔
مگر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے پختہ ایمان اور غیر متزلزل عزم سے ان تمام فتنوں کو کچل دیا،
زکوٰۃ کا نظام بحال کیا، اور اسلامی ریاست میں پھر سے امن و وحدت قائم کر دی۔
یوں اللہ نے اُن کے ذریعے "من بعد خوفهم أمنا” کا وعدہ پورا کر دکھایا۔

2. خلافتِ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ — داخلی عدل و خارجی امن

حضرت عمرؓ کے دور میں اسلامی ریاست اپنی مضبوط ترین شکل میں ظاہر ہوئی۔
ان کے عدل و انصاف نے رعایا کو خوف سے نجات دی اور قانونی و سماجی امن کو ممکن بنایا۔
ان کے دور میں فتوحات وسیع ہوئیں، مگر فتوحات کے باوجود رعایا کو امن نصیب ہوا۔
آپؓ نے انتظامی تقسیم (ولایات، قضاء، بیت المال، پولیس) قائم کی —
جس سے ریاستی نظم و قانون مضبوط ہوا اور رعایا امن و عدل کے سائے میں پروان چڑھی۔
یہ وہی امن تھا جس کا وعدہ اللہ نے ایمان والوں سے کیا تھا۔

3. خلافتِ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ — معاشی امن اور خوشحالی

حضرت عثمانؓ کے دور میں اسلامی سلطنت کا رقبہ بے حد بڑھا،
اور وسائلِ دولت میں کثرت پیدا ہوئی۔
انہوں نے بحری بیڑہ قائم کیا، تجارتی راستے محفوظ کیے،
اور رعایا کے لیے معاشی خوشحالی کے دروازے کھول دیے۔
یہ معاشی امن و استحکام بھی اسی وعدے کی تکمیل تھی کہ اللہ
“امن و استقرار” ایمان والوں کے لیے مقدر کر دیتا ہے۔

4. خلافتِ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ — فتنوں کے باوجود عدل کی بحالی کی جدوجہد

حضرت علیؓ کے عہد میں داخلی فتنوں نے سر اٹھایا، مگر انہوں نے ہر لمحہ امت کو باہمی قتال سے روکنے اور عدل کی بحالی کے لیے کوشش کی۔
ان کی نیت اور جہد مسلسل اللہ کے وعدے والے امن کی بحالی تھی۔
اگرچہ بغاوتوں نے اس امن کو عارضی طور پر متاثر کیا، ایک طرف شامیوں نے بغاوت کردی تو دوسری جانب جب صلح کی سورت پیدا ہونے لگی تو خوارج نے عَلَم بغاوت بلند کردیا، مگر امام علی علیہ السلام نے کمال بصیرت و فراست کے ساتھ ان بغاوتوں کو کچل کر امن قائم کیا۔
مگر ان کی اصولی سیاست نے امت کو بتا دیا کہ امن کا قیام صرف عدل، شوریٰ اور تقویٰ سے ممکن ہے۔

امامت کا تسلسل

بلا شبہہ نبی ﷺ کی وفات کے بعد خلافتِ راشدہ امت کا سنہری ترین دور تھا۔ خلافتِ راشدہ تیس سال تک قائم رہی، اس کے بعد اسلامی حکومت کا وہ معیار قائم نہ رہا جو خلافت راشدہ کا خاصہ تھا۔ تاہم اس کے بعد بھی اسلام کا دنیا میں غلبہ نہ صرف برقرار رہا بلکہ کچھ عرصہ تک اس میں اضافہ ہوتا رہا۔ اگرچہ خلافتِ عباسیہ کے بعد دنیا میں اسلام کا غلبہ کم ہوگیا مگر پھر بھی اسلامی نظام حکومت کسی نہ کسی شکل میں قائم رہا۔ مسلمان دنیا کے ایک وسیع خطے پر نہ صرف حکمرانی کرتے رہے بلکہ انہیں داخلی امن بھی حاصل رہا۔ سلطنتِ عثمانیہ میں بھی مجموعی طور امت میں امن قائم رہا، طوائف الملوکی کے سوا اکثر زمانے میں امن کی فضا برقرار رہی۔

اسلامی نظامِ حکومت سے متعلق اکثر احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ امامتِ کبریٰ کی بہترین صورت خلافت علیٰ منھاج النبوۃ ہی ہے تاہم، نبی ﷺ نے خلافتِ راشدہ کے بعد کے ادوار میں قائم ہونے والی مسلم حکومتوں کے بارے میں یہ نہیں فرمایا کہ ان کے خلاف خروج کیا جائے یا ان ادوار میں حکومتوں کے احکام کو مطلقاً تسلیم نہ کیا جائے، اس کے برعکس نبی ﷺ نے خروج سے سختی سے منع فرمایا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خلافت کا بنیادی مقصد قیام امن ہے، اگر خلافت کے قیام کے لیے مسلم ریاست کے امن کو ہی تہہ و بالا کردیا جائے تو خلافت کے قیام کا مقصد تو فوت ہوگیا۔

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ يَزَالُ الإِسْلاَمُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَىْ عَشَرَ خَلِيفَةً ‏”‏

(صحیح مسلم: رقم 1821)

ترجمہ:

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ 12 خلفأ کے زمانے تک اسلام دنیا میں غالب رہے گا۔

اس صحیح حدیث مبارکہ میں نبی ﷺ نے خلافتِ راشدہ کے بعد آنے والے حکمرانوں کے لیے بھی خلیفہ کا لفظ استعمال فرمایا۔ عربی زبان میں خلیفہ کا ایک مطلب حکمران بھی ہوتا ہے، جیسا کہ سورہ نور کی مذکورہ بالا آیت میں ذکر ہوا۔ حال آن کہ انہی بارہ خلفا کے زمانہ میں سے ایک حکمران یزید ملعون کے دور میں نبی ﷺ کی وفات کے بعد امت مسلمہ کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ واقعہ کربلا کی شکل میں رونما ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے خلافتِ راشدہ کے بعد کے خلفا (یزید کے سوا) کی حکومت کو یک گونہ جواز فراہم کردیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان حکمرانوں کی تمام تر خامیوں اور خرابیوں کے باوجود اسلامی حکومت کا بنیادی ظاہری ڈھانچہ قائم رہا۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ عَلَيْكَ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ ‏”

(صحیح مسلم: رقم 1836)

ترجمہ:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم پر مسلم حکمرانوں کا حکم سننا اور ان کی اطاعت واجب ہے ، خواہ تم تنگدستی کا شکار ہو یا خوش حال ہو، خواہ تمہیں اچھا لگے یا برا لگے، خواہ دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے۔

سیدنا حزیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لاَ يَهْتَدُونَ بِهُدَاىَ وَلاَ يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ ‏”‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ قَالَ ‏”‏ تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلأَمِيرِ وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ وَأُخِذَ مَالُكَ فَاسْمَعْ وَأَطِعْ ‏”‏ ‏.‏

(صحیح مسلم: رقم 1847)

ترجمہ:

"میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو نہ میری ہدایت کے مطابق چلیں گے اور نہ میری سنت پر عمل کریں گے، اور ان میں ایسے لوگ ہوں گے جن کے دل شیطانوں کے دل جیسے ہوں گے مگر جسم انسانوں کے ہوں گے۔”

میں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! اگر میں ایسے زمانے کو پا لوں تو کیا کروں؟”

آپ ﷺ نے فرمایا:
"اپنے حکمران کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، خواہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں اور تمہارا مال چھین لیا جائے، پھر بھی سنو اور اطاعت کرو۔”

بظاہر یہ بات بہت عجیب لگتی ہے کہ ظالم حکمرانوں کی اطاعت کا بھی حکم دیا جارہا ہے، مگر جب ہم اس حکم کی حکمت پر غور کرتے ہیں تو عش عش کر اٹھتے ہیں۔ اس حکم میں حکمت یہی ہے کہ اگر ظالم حکمران کے خلاف ظلم کےسبب خروج یعنی مسلح جنگ کی اجازت دے دی جائے تو مقاصد شریعت فوت ہوجاتے ہیں، ظلم تو فرض کرو گنتی کے چند لوگوں پر ہورہا ہوگا مگر خروج کے نتیجے میں جو سینکڑوں لوگوں کی جانیں تلف ہوں گی اس کا کیا؟ ظلم کو روکنے کا مقصد انسانی جان کے ضیاع کو روکنا ہے، مگر خروج کے نتیجے میں تو اس سے بھی بڑا جانی ضیاع لازماً ہوگا۔پھر عقلمندی ظلم برداشت کرنے میں ہے یا خروج کرنے میں؟

خروج کی ممانعت

1. خلافت کا بنیادی مقصد: امن و نظام کا قیام

اسلامی نظامِ حکومت کا مقصد صرف ظاہری حکمرانی یا اقتدار نہیں، بلکہ شریعت کے مقاصد (مقاصدِ شریعت) کے تحفظ کے لیے امن و عدل کا قیام ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا” (النور: 55)
"اور وہ ان کے خوف کے بعد انہیں امن میں بدل دے گا۔”

اس آیت سے ظاہر ہے کہ اسلامی حکومت کا پہلا ثمرہ امن ہے۔ اگر خلافت یا حکومت کے قیام کے نام پر ہی امن تباہ ہوجائے، تو دراصل مقصودِ شریعت ہی فوت ہوجاتا ہے۔

2. نبی اکرم ﷺ کی ہدایات: خروج سے ممانعت

احادیثِ نبویہ سے واضح ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے فاسق یا جابر حکمرانوں کے خلاف خروج (بغاوت) کی اجازت نہیں دی، جب تک وہ کفرِ بواح (کھلا کفر) نہ کریں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:

"إلا أن تروا كفراً بواحاً عندكم من الله فيه برهان.”
(صحیح بخاری، حدیث: 7056؛ صحیح مسلم، حدیث: 1709)
"جب تک تم حکمرانوں میں کھلا کفر نہ دیکھو جس پر تمہارے پاس اللہ کی واضح دلیل ہو، اس وقت تک ان کے خلاف نہ اٹھو۔”

یہ اس لیے ہے کہ خروج سے خونریزی، فتنہ، اور انتشار پیدا ہوتا ہے، جو شریعت کے اس اصول کے خلاف ہے کہ

"درء المفاسد مقدم على جلب المصالح”
یعنی "فساد کو روکنا، مصلحت حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہے۔”

3. خلافتِ راشدہ کے بعد کے ادوار

خلافتِ راشدہ کے بعد اسلامی حکومتوں نے امامت و سلطنت کی مختلف شکلیں اختیار کیں — جیسے بنو امیہ، بنو عباس، عثمانی خلافت وغیرہ۔
ان حکومتوں میں اگرچہ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کی کامل صورت باقی نہ رہی، لیکن امام المہدی کے ظہور تک، امت کے اجتماعی نظم کو قائم رکھنے کے لیے ایسے نظام کی اطاعت لازم قرار دی گئی۔

ائمہ کرام نے واضح فرمایا کہ:

"اگر حکمران فاسق بھی ہو، تب بھی اس کی اطاعت واجب ہے، جب تک وہ نماز قائم رکھے اور کھلا کفر نہ کرے۔”
(شرح السنہ للبغوی، ج 10، ص 39)

4. خروج کے نقصانات اور امن کی ضرورت

اسلامی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جب بھی مسلم گروہوں نے سیاسی تبدیلی کے لیے خروج کیا، نتیجہ خونریزی، امت کی تقسیم، اور بیرونی دشمنوں کی مداخلت کی صورت میں نکلا۔
مثلاً:

  • خوارج کا خروج → امت میں شدید قتل و غارت۔
  • عباسی و اموی فتنوں کے بعد صدیوں تک سیاسی عدم استحکام۔

لہٰذا علماء نے قرار دیا کہ اگر حکومت میں ناانصافی ہو مگر امن و عدلِ عامہ قائم ہو، تو ایسی حکومت کو برقرار رکھنا خروج سے بہتر ہے۔

5. نتیجہ: شریعت کا توازن

اسلام نے نہ تو مطلق اطاعت کا حکم دیا کہ ظلم برداشت کیا جائے،
اور نہ انتشار کی اجازت دی کہ امن برباد ہوجائے۔
بلکہ شریعت کا اصول یہ ہے:

  • ظلم کے خلاف اصلاح و نصیحت کی جائے،
  • لیکن امنِ عامہ کو نقصان پہنچانے والا خروج ممنوع ہے۔

اس طرح خلافت یا حکومت کا مقصد — یعنی شریعت کا نفاذ، عدل کا قیام، اور امن کا تحفظ — باقی رہتا ہے۔

کفر بواح اور تکفیر

خوارج نے مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج کرنے کے لیے یہ طریقہ اپنایا ہے کہ ثابت کیا جائے کہ مسلم حکمران کفر بواح (کھلے کفر) کا مرتکب ہورہے ہیں۔ لہٰذا خوارج نے تکفیر کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ اکثر تکفیری تحریکیں جیسے حزب التحریر، الاخوان، المہاجرون، القاعدہ وغیرہ تکفیر کو اپنا بنیادی ہتھیار بناتے ہیں۔ کتنے ظالم ہیں یہ لوگ کہ بت پرستوں کو تو چھوڑ دیتے ہیں مگر اہل اسلام کو قتل کرتے ہیں۔

Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

Canal Conflict Boosts Water Crisis

The Qur’anic Chronology of Creation

Basics of the Muslim Cosmology

Al-Jazirah: The First Human Settlement

Seven Continents

Robots Redefined: The Evolution Toward Generalized Cognitive Abilities

How to Buy a Robot?

Developing Leadership Skills in University Students