Featured Post
اَلاِمَامَۃُ الکُبریٰ: اسلامی نظام حکومت
- Get link
- X
- Other Apps
اَلاِمَامَۃُ الکُبریٰ: اسلامی نظام حکومت

اَلاِمَامَۃُ الکُبریٰ: اسلامی نظام حکومت
اسلامی سیاسی نظام کے لیے جو ہمہ گیر اصطلاح استعمال ہوتی ہے وہ ہے اَلاِمَامَۃُ الکُبریٰ۔
"الإمامة” وہ اصطلاح ہے جو تمام اقسام کی اسلامی حکومتوں کے لیے یکساں طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس میں وہ حکومتیں بھی شامل ہیں جو:
- مکمل طور پر شریعت کے مطابق اور مثالی نوعیت کی ہوں، جیسے خلافتِ راشدہ؛اور وہ بھی جو
- صرف واجبی اور دنیوی امور مثلاً امن و امان، عدل، نظمِ سلطنت اور حدودِ شریعت کی حد تک ہی کارفرما ہوں۔
فقہا کے نزدیک الإمامة کا مقصد "حراستِ دین و سیاستِ دنیا” ہے، جیسا کہ امام الماوردی (المتوفی 450ھ) نے اپنی کتاب الأحكام السلطانية میں فرمایا:
"الإمامة موضوعة لخلافة النبوة في حراسة الدين وسياسة الدنيا به”یعنی امامت اس لیے قائم کی جاتی ہے کہ وہ نبوت کی جانشینی کرتے ہوئے دین کی حفاظت اور دنیا کے نظم و نسق کو دین کے ذریعے سنبھالے۔
حکمران کا لقب: الإمام یا إمام المسلمين
الامامۃ کی اصطلاح کی نبوی بنیاد
"الإمامة” کی اصطلاح دراصل رسول اکرم ﷺ کے ارشادات سے ماخوذ ہے۔ آپ ﷺ نے امت کے نظم و قیادت کے لیے "إمام” اور "جماعت المسلمین” کے الفاظ استعمال فرمائے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امتِ مسلمہ کو ایک منظم قیادت کے تحت رہنا لازم ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ، جَابِرٍ حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ، يَقُولُ كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ قَالَ ” نَعَمْ ” فَقُلْتُ هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ قَالَ ” نَعَمْ وَفِيهِ دَخَنٌ ” . قُلْتُ وَمَا دَخَنُهُ قَالَ ” قَوْمٌ يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي وَيَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ ” . فَقُلْتُ هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ ” نَعَمْ دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا ” . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا . قَالَ ” نَعَمْ قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا ” . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَرَى إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ قَالَ ” تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ ” . فَقُلْتُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلاَ إِمَامٌ قَالَ ” فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرقَ كُلَّهَا وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ عَلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ ” .
(صحیح البخاری: رقم 7084، صحیح مسلم: رقم 1847 وھذا لفظ المسلم)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ (صحیح مسلم: رقم 1844)
جس شخص نے امام (حاکم) کی بیعت کی اور اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا اور دل سے اس کی اطاعت قبول کرلی تو اسے چاہیے کہ اس کی مقدور بھر اطاعت کرے۔
اسلامی نظامِ حکومت کے لیے استعمال ہونے والی دیگر اصطلاحات
1. خلافت (الخلافة)
- لغوی معنی: جانشینی یا نیابت۔
- اصطلاحی معنی: ایسا نظامِ حکومت جس میں حکمران (خلیفہ) اللہ اور رسول ﷺ کے احکام کا نائب بن کر زمین پر شریعت نافذ کرے۔
- قرآنی بنیاد: "إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً” — [البقرہ: 30]
- استعمال:خلفائے راشدین کے دور کو "خلافت راشدہ” کہا جاتا ہے، جو اسلامی نظامِ حکومت کی مثالی شکل ہے۔
2. امارت (الإمارة)
- لغوی معنی: حکم چلانا، سرداری یا قیادت۔
- اصطلاحی معنی: خلافت کے ماتحت یا اس کے جزو کے طور پر کسی علاقے یا فوج پر حکومت۔
- استعمال: "امیر المؤمنین” (مؤمنوں کا سردار) کا لقب اسلامی حکمرانوں کے لیے مستعمل رہا۔
3. سلطنت (السلطنة)
- لغوی معنی: اقتدار یا قوت۔
- اصطلاحی معنی: ایسا نظام جس میں حاکم کو سیاسی و انتظامی قوت حاصل ہو۔
- استعمال: بعد کے ادوار میں جب خلافت کمزور ہوئی تو اسلامی مملکتوں کو "سلطنت” کہا جانے لگا، جیسے:
- سلطنتِ عثمانیہ
- سلطنتِ دہلی
4. حکومتِ شرعیہ (الحكومة الشرعية)
- معنی: وہ حکومت جو شریعت کے اصولوں کے مطابق قائم ہو اور اس کی قانون سازی قرآن و سنت سے ماخوذ ہو۔
- استعمال: فقہا بالخصوص فقہِ حنبلی اور فقہِ جعفری میں یہ اصطلاح کثرت سے ملتی ہے۔مثال: "الحكومة الشرعية هي التي يقيمها الإمام العادل بحسب الشريعة الإسلامية.”
5. دار الاسلام (دارُ الإسلام)
- معنی: وہ خطہ یا ریاست جہاں اسلامی قانون نافذ ہو اور مسلمانوں کو اپنے دین پر عمل کی آزادی حاصل ہو۔
- مقابل: "دارُ الحرب” یا "دارُ الکفر”
- فقہی استعمال: فقہا نے اسے سیاسی و قانونی اصطلاح کے طور پر استعمال کیا۔
وجوبِ نصب الامام
امام المسلمین کا تقرر اتنا اہم شرعی تقاضہ ہے کہ بہت سے علما ئے اصول دین نے اسے عقائد کی کتب میں بیان کیا ہے۔ مثال کے طور پر امام ابو حامد الغزالیؒ (متوفیٰ 505 ھ) نے اپنی کتاب الاقتصاد فی الاعتقاد میں فرماتے ہیں:
في بيان وجوب نصب الإمام.ولا ينبغي أن تظن أن وجوب ذلك مأخوذ من العقل، فإنا بينا أن الوجوب يؤخذ من الشرع إلا أن يفسر الواجب بالفعل الذي فيه فائدة وفي تركه أدنى مضرة، وعند ذلك لا ينكر وجوب نصب الإمام لما فيه من الفوائد ودفع المضار في الدنيا، ولكنا نقيم البرهان القطعي الشرعي على وجوبه ولسنا نكتفي بما فيه من إجماع الأمة، بل ننبه على مستند الإجماع ونقول: نظام أمر الدين مقصود لصاحب الشرع عليه السلام قطعاً، وهذه مقدمة قطعية لا يتصور النزاع فيها، ونضيف إليها مقدمة أخرى وهو أنه لا يحصل نظام الدين إلا بإمام مطاع، فيحصل من المقدمتين صحة الدعوى وهو وجوب نصب الإمام.**(الاقتصاد في الاعتقاد، للإمام الغزالي)
ترجمہ:
"امام کے تقرر (نصب الامام) کے وجوب کے بیان میں”
پس ان دونوں مقدموں سے یہ نتیجہ ثابت ہوتا ہے کہ امام (حکمران) کا تقرر واجب ہے۔
وضاحتی تشریح:
امام غزالیؒ اس اقتباس میں نہایت گہری بات فرماتے ہیں:
- نصبِ امام (یعنی ریاستی سربراہ کا تقرر) کوئی اختیاری یا سیاسی معاملہ نہیں، بلکہ شرعی فریضہ ہے۔
- اس کی بنیاد محض عقل یا مصلحت پر نہیں، بلکہ نصوصِ شرع اور مقاصدِ شریعت پر ہے۔
- شریعت کا مقصد دین کے نظام کا قیام ہے، اور نظامِ دین بغیر امام کے ممکن نہیں۔لہٰذا امام کا تقرر واجب شرعی ہے، اور امت کا اس پر اجماع بھی اسی شرعی بنیاد پر قائم ہے۔
امام غزالیؒ کے مطابق:
"اسلامی ریاست یا حکومت کا قیام محض سیاسی ضرورت نہیں بلکہ شرعی فریضہ ہے، کیونکہ نظامِ دین امامِ مطاع کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔”
اسلامی نظامِ حکومت میں مجلسِ شوریٰ کے فرائض
تمہید
وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ’’اور وہ لوگ جو اپنے رب کی بات مانتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور ان کا نظام باہمی مشورے پر قائم ہے، اور وہ ہماری دی ہوئی روزی میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (الشورى: 38)
یہ آیت اسلامی سیاست کی اساس ہے — یعنی اسلامی ریاست کا نظم باہمی مشاورت پر قائم ہو۔
1. مجلسِ شوریٰ کا مفہوم اور حیثیت
قرآن نے نبی کریم ﷺ کو بھی حکم دیا:
وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ’’اور (اے نبی ﷺ) آپ ان سے معاملات میں مشورہ کریں۔‘‘ (آل عمران: 159)
یہ آیت بتاتی ہے کہ اگر نبی ﷺ جیسے صاحبِ وحی کو امت سے مشورہ لینے کا حکم دیا گیا تو بعد کے حکمرانوں پر مشاورت کی ضرورت بدرجۂ اولیٰ لازم ہے۔
2. مجلسِ شوریٰ کی تشکیل
اسلامی حکومت میں مجلسِ شوریٰ ایسے اہل افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو:
- علمِ دین، فہمِ شریعت اور عقلِ سلیم رکھتے ہوں،
- امانت، عدل اور تقویٰ میں معروف ہوں،
- عوام کے نمائندہ حیثیت سے امت کی رائے کی ترجمانی کرسکیں۔
یہ مجلس محض ایک علامتی ادارہ نہیں بلکہ نظامِ حکومت کا مشاورتی دماغ ہے جو امامِ وقت کو رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
3. مجلسِ شوریٰ کے بنیادی فرائض
(1) قانون سازی اور اجتہادی امور میں مشورہ
- مجلسِ شوریٰ کا سب سے اہم فریضہ یہ ہے کہ وہ ایسے معاملات میں جہاں قرآن و سنت خاموش ہوں، اجتہادی بنیادوں پر قانون سازی میں معاونت کرے۔
- شوریٰ کے اراکین فقہا اور ماہرینِ علم ہوتے ہیں جو نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں نئے پیش آمدہ مسائل پر رائے دیتے ہیں۔
- یہ قانون سازی شریعت کے تابع ہوتی ہے، اس سے ماورا نہیں۔
سیدنا عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کے ادوار میں بھی پیچیدہ معاملات جیسے بیت المال، مفتوحہ اراضی اور عدالتی نظام میں شوریٰ کی رائے سے فیصلے کیے گئے۔
(2) امام یا خلیفہ کے فیصلوں میں رہنمائی
- خلیفہ کو شوریٰ کی رائے حاصل کرنا واجب کے درجہ کے قریب ہے۔
- اہم قومی، عسکری یا مالی فیصلوں میں امامِ وقت شوریٰ کے سامنے معاملہ رکھتا ہے، تاکہ اجتماعی بصیرت سے درست فیصلہ سامنے آئے۔
- نبی ﷺ نے غزوۂ اُحد میں صحابہ سے مشورہ کیا اور اکثریتی رائے پر عمل کیا، حالانکہ آپ کی رائے مختلف تھی — یہ شوریٰ کی عملی نظیر ہے۔
(3) نظمِ حکومت اور انتظامی اُمور میں معاونت
- مجلسِ شوریٰ ریاست کے عمومی نظم، مالی امور، عدالتی نظام، تعلیم، تجارت اور داخلی و خارجی پالیسی میں امام کو تجاویز دیتی ہے۔
- یہ ادارہ عوام کے مسائل اور شکایات امام تک پہنچاتا ہے اور ریاستی پالیسیوں میں توازن پیدا کرتا ہے۔
(4) احتسابِ حکمران (Accountability of the Ruler)
- شوریٰ کا فریضہ صرف مشورہ دینا نہیں بلکہ حکمران کے اعمال پر نظر رکھنا بھی ہے۔
- اگر امام حدودِ شریعت سے تجاوز کرے تو شوریٰ اسے متنبہ کرے، اور اگر وہ اصلاح نہ کرے تو امت کے حق میں اس کی خلافت کو منسوخ کرنے کی سفارش کرسکتی ہے۔
- امام ماوردی نے ’’الاحکام السلطانیہ‘‘ میں لکھا: ’’اگر امام شریعت کے خلاف ظلم پر قائم رہے تو اہلِ حل و عقد کو اختیار ہے کہ اسے معزول کر دیں۔‘‘
(5) مالی امور کی نگرانی
- شوریٰ بیت المال کی آمد و خرچ کی نگرانی کرتی ہے تاکہ مالی عدل قائم رہے۔
- سیدنا عمرؓ کے دور میں بیت المال کے محاسبہ اور نگرانی کے لیے اصحابِ شوریٰ باقاعدہ ذمہ دار تھے۔
(6) عوامی نمائندگی اور رائے کا انعکاس
- شوریٰ عوام اور حکومت کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتی ہے۔
- عوامی فلاح، معاشرتی مسائل، تعلیم، صحت، امن و انصاف جیسے امور میں شوریٰ عوامی مشاورت کے نتائج خلیفہ تک پہنچاتی ہے۔
(7) خارجہ پالیسی اور جنگ و امن کے فیصلے
- اسلامی ریاست میں جنگ یا امن کا فیصلہ کسی ایک فرد کی رائے سے نہیں بلکہ اجتماعی مشاورت سے ہوتا ہے۔
- نبی ﷺ نے بدر، اُحد اور خندق جیسے مواقع پر شوریٰ سے مشورہ فرمایا، اور خلفائے راشدین نے بھی جنگی منصوبہ بندی میں اہلِ رائے سے مشاورت کی۔
4. مجلسِ شوریٰ کے فیصلوں کی حیثیت
اسلامی فقہا کے نزدیک:
- اگر کسی معاملے میں شرعی نص موجود ہو، تو شوریٰ کی رائے نص کے تابع ہوگی۔
- اگر نص موجود نہ ہو، تو شوریٰ کا فیصلہ اجتہادی حیثیت رکھتا ہے اور امام پر اس کی پیروی لازم ہے، خصوصاً اگر وہ کثرتِ رائے سے طے کیا گیا ہو۔
یہی وجہ ہے کہ سیدنا عمرؓ نے اراضی کے مسئلے پر کثرتِ رائے کے مطابق فیصلہ نافذ کیا، حالانکہ مجاہدین کی ایک بڑی تعداد مخالف تھی۔
5. مجلسِ شوریٰ اور جدید تقاضے
6. خلاصہ اور نتیجہ
یعنی: اسلام میں شوریٰ حکومت کا ضمیر ہے، اور ضمیر کے بغیر کوئی نظام زندہ نہیں رہ سکتا۔
جدید اسلامی نظامِ حکومت میں دو ایوانی مجلسِ شوریٰ کی ضرورت اور ساخت
1. عصرِ حاضر کی تخصصی نوعیت
“وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ” (آلِ عمران: 159)"اور (اے نبی) ان سے معاملات میں مشورہ کیجئے۔”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اجتماعی فیصلے ان لوگوں کی مشاورت سے ہوں جو علم، بصیرت اور تجربہ رکھتے ہوں۔
2. دو ایوانی مجلسِ شوریٰ کی تجویز
اسلامی ریاست میں مشاورت کا دائرہ وسیع اور جامع ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے مجلسِ شوریٰ کو دو ایوانوں میں تقسیم کرنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ عین مصلحت کے مطابق بھی ہے:
(الف) دارُالعلماء (Upper House)
- یہ ایوان فقہی، شرعی اور اخلاقی رہنمائی فراہم کرے گا۔
- اس میں وہ علما، فقہا اور مجتہدین شامل ہوں جو قرآن، سنت، اصولِ فقہ، اور اسلامی قانون کے ماہر ہوں۔
- یہ ادارہ قوانین کی تدوین و تشریح، اہم قومی پالیسیوں کی نگرانی، اور شریعت سے مطابقت کی جانچ کرے گا۔
- اس کے اراکین کا انتخاب سلیکشن (Selection) کی بنیاد پر ہو، یعنی علمی قابلیت، فقہی بصیرت اور دینی دیانت کی بنیاد پر، نہ کہ عوامی ووٹ سے۔
- اسے موجودہ دور کی اصطلاح میں “مجلسِ علما” یا “اسلامی سپریم کونسل” بھی کہا جا سکتا ہے۔
(ب) دارُالعوام (Lower House)
- اس ایوان میں عوامی نمائندے شامل ہوں گے جنہیں الیکشن کے ذریعے عوام منتخب کریں گے۔
- یہ ایوان عوامی مسائل، معاشی و سماجی اصلاحات، بجٹ اور ریاستی منصوبوں سے متعلق مشاورت کرے گا۔
- عوامی ایوان کا کام حکومت کو عوامی امنگوں اور ضروریات سے باخبر رکھنا ہے تاکہ نظامِ حکومت میں عوامی شمولیت برقرار رہے۔
3. دو ایوانوں کے درمیان توازن
- دارالعوام حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرے گا، جبکہ دارالعلماء قانون سازی کی شرعی نگرانی کا فریضہ انجام دے گا۔
- دارالعوام میں پیش کیے گئے بل یا تجاویز دارالعلماء کی منظوری کے بغیر قانون نہیں بن سکیں گی، تاکہ شریعت سے انحراف نہ ہو۔
- اسی طرح دارالعلماء بھی کسی فیصلے کو عوامی مفاد کے بغیر نافذ نہ کرے، تاکہ حکومتی نظام عوام سے کٹا ہوا نہ ہو۔
4. تاریخی نظائر
- خلفائے راشدین کے دور میں اگرچہ مجلسِ شوریٰ ایک ہی نوعیت کی تھی، مگر اس میں ماہرینِ فقہ، اہلِ رائے، اور قبائلی نمائندے سب شامل تھے۔
- عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی مجلسِ شوریٰ میں زید بن ثابت (فقہ و میراث کے ماہر)، عبدالرحمن بن عوف (سیاسی و انتظامی بصیرت والے)، اور علی بن ابی طالب (قضایا کے ماہر) شامل تھے — یعنی عملی طور پر تخصصی نمائندگی پہلے سے موجود تھی۔
5. موجودہ دور کے لیے افادیت
- یہ نظام اسلامی روح کے مطابق بھی ہے اور جدید ریاستی تقاضوں کے لیے موزوں بھی۔
- اس سے نہ صرف علما کا علمی کردار محفوظ رہے گا بلکہ عوامی نمائندگی اور سیاسی استحکام بھی برقرار رہے گا۔
- اس طرح اسلامی نظامِ حکومت میں علم، عدل، اور عوامی شمولیت — تینوں عناصر کا امتزاج ممکن ہو سکے گا۔
تدوینِ قانون کے عناصر
1. شریعت سازی صرف اللہ کا حق ہے
إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ’’حکم (قانون سازی) کا حق صرف اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘ (یوسف: 40)
اس آیت کے مطابق کوئی انسان، بادشاہ، پارلیمنٹ یا جماعت اس معنی میں قانون ساز نہیں بن سکتی کہ وہ اللہ کے نازل کردہ احکام کے برعکس یا ان سے ماورا قانون وضع کرے۔ یہ ’’تشریع من دون اللہ‘‘ کہلاتا ہے، اور یہی وہ چیز ہے جسے قرآن شرک اور طغیان سے تعبیر کرتا ہے۔
2. تدوینِ قانون کا مطلب کیا ہے؟
- قرآن و سنت کے موجودہ احکام،
- فقہا کی تشریحات،
- اجماع اور قیاس کی بنیاد پر طے شدہ اصول،کو ایک منظم اور مدون شکل میں پیش کیا جائے تاکہ عدلیہ، انتظامیہ اور عوام کے لیے ان پر عمل آسان ہو۔
3. فقہا کا عملِ تدوین دراصل اجتہاد ہے، تشریع نہیں
4. خلافتِ راشدہ میں عملی مثال
5. عصرِ حاضر میں تدوینِ قانون کا مقصد
اسی لیے فقہا کہتے ہیں کہ:
"ما لا نص فیه فالمجتهد فیه مصیب إن اجتهد وأصاب، مأجور إن اجتهد وأخطأ.”یعنی "جس معاملے میں نص نہ ہو، اس میں مجتہد اگر درست اجتہاد کرے تو اجرین، اور اگر خطا کرے تو ایک اجر پاتا ہے۔”
یہ جملہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ انسانی اجتہاد شریعت سازی نہیں بلکہ فہمِ شریعت کا ذریعہ ہے۔
6. تدوینِ قانون اور شریعت سازی کا خلاصہ فرق
| پہلو | تدوینِ قانون | شریعت سازی |
|---|---|---|
| تعریف | قرآن و سنت سے مستنبط احکام کو منظم و مدون کرنا | وحی سے ہٹ کر خودساختہ قوانین بنانا |
| ماخذ | وحی (قرآن و سنت)، اجماع، قیاس | انسانی عقل، خواہشات یا اکثریتی رائے |
| مقصد | عدل و انصاف کے لیے شریعت کی عملی تطبیق | انسان کو شارعِ حقیقی کے مقابل لا کھڑا کرنا |
| حکمِ شرعی | جائز، بلکہ ضروری (نظامِ عدل کے قیام کے لیے) | حرام، کیونکہ یہ تشریع من دون اللہ ہے |
طریقۂ انتخاب
خلفائے راشدین کے طریقۂ انتخاب کا جائزہ
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ (الشورى: 38)’’اور ان کے تمام معاملات باہمی مشورے سے طے پاتے ہیں۔‘‘
خلفائے راشدین نے اسی قرآنی اصول کی روشنی میں انتخابِ خلافت کا عملی نمونہ پیش کیا۔
1. خلافتِ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا انتخاب
(الف) پس منظر
(ب) انتخاب کا عمل
’’ابوبکرؓ وہ ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے نماز میں اپنا نائب بنایا، لہٰذا ہم ان کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔‘‘پھر سب نے بیعتِ عامہ کے ذریعے ابوبکرؓ کو خلیفہ تسلیم کیا۔
(ج) نتیجہ
2. خلافتِ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا انتخاب
(الف) انتخاب کا طریقہ
(ب) امت کی تائید
3. خلافتِ عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا انتخاب
(الف) پس منظر
(ب) انتخاب کا عمل
(ج) خصوصیت
4. خلافتِ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا انتخاب
(الف) حالات
(ب) انتخاب
5. خلفائے راشدین کے انتخاب سے حاصل اصول
(1) خلافت کا قیام عوامی رضامندی سے
(2) اہلِ حل و عقد کی حیثیت
(3) موروثی بادشاہت کی نفی
(4) مشاورت کا تسلسل
6. خلفائے راشدین کے انتخاب سے اسلامی جمہوریت کے خدوخال
| پہلو | خلافتِ راشدہ | جدید جمہوریت |
|---|---|---|
| انتخاب کا ذریعہ | بیعت و مشاورت (اہلِ حل و عقد) | ووٹ و انتخابات |
| قانون کی بالادستی | قرآن و سنت | عوامی مرضی |
| اقتدار کی نوعیت | امانت | حقِ اقتدارِ عوام |
| حاکم کی ذمہ داری | شریعت کا نفاذ اور عدل کا قیام | عوامی خواہشات کی نمائندگی |
| احتساب کا نظام | شوریٰ و امت | پارلیمنٹ یا عدلیہ |
7. نتیجہ
"لا خلافة إلا عن مشورة” — خلافت صرف مشاورت سے ہی قائم ہو سکتی ہے۔
اسلام میں ’’جمہور‘‘ کا تصور
اسلامی فقہ اور اصول میں ’’جمہور‘‘ کا لفظ ہمیشہ علما کی اکثریت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ فقہا جب کسی رائے کے حق میں ’’قول الجمہور‘‘ لکھتے ہیں تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ رائے اکثریتِ علما کی متفقہ یا ترجیحی رائے ہے۔ فقہ اسلامی کی صدیوں پر محیط روایت نے ’’اکثریت‘‘ کو ہمیشہ غلبۂ دلیل، وسعتِ علم اور اجتہادی توازن کا نشان سمجھا ہے۔
اسی ’’جمہور‘‘ سے لفظ جمہوریت وجود میں آیا۔ اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ جمہوریت کا بنیادی تصور اسلام میں اجنبی نہیں ہے۔ البتہ اسلامی جمہوریت کا محور اللہ کی حاکمیت اور وحیِ الٰہی ہے، جبکہ مغربی جمہوریت کا مدار عوام کی مطلق خودمختاری پر ہے۔
اسلامی جمہوریت کا نظریاتی منہاج
وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ (الشوریٰ: 38)’’اور ان کے تمام کام باہمی مشورے سے طے پاتے ہیں۔‘‘
مغربی ڈیموکریسی اور اس کی فکری اساس
اسلامی اور مغربی جمہوریت کا بنیادی فرق
خلافتِ راشدہ میں جمہوری عمل کی مثال
جمہوریت کی ضرورت — آج کے دور میں شوریٰ کا تقاضا
نبی کریم ﷺ کے بعد وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ نہ آج ہمارے درمیان رسول اللہ ﷺ موجود ہیں کہ وہ براہِ راست فیصلے فرمائیں، نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسے متقی، عادل اور فقیہ رہنما موجود ہیں جن کی بصیرت پر امت متفق ہو جاتی۔
وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ (آل عمران: 159)’’اور آپ ﷺ ان سے امور میں مشورہ کیجیے۔‘‘
جب متعدد اہلِ علم و بصیرت کسی معاملے میں غور کریں تو اکثریت کی رائے دراصل اجتماعی عقل کا اظہار ہوتی ہے، جو انفرادی خطا سے زیادہ محفوظ ہوتی ہے۔
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
إِنَّ يَدَ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ’’بے شک اللہ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے۔‘‘ (ترمذی)
قانون سازی اور شریعت سازی میں فرق
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قانون سازی (Legislation) اور شریعت سازی (Divine Legislation) ایک ہی چیز نہیں۔
- شریعت سازی اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔
- قانون سازی دراصل علما اور اجتہادی اداروں کا وہ عمل ہے جس میں وہ قرآن و سنت کی روشنی میں موجود مسائل کا نظم، تدوین اور اطلاق کرتے ہیں۔
اسلامی جمہوریت کے بنیادی اصول
- حاکمیتِ الٰہیہ:قانون سازی کا بنیادی ماخذ اللہ تعالیٰ کی وحی ہے۔
- شورائیت:اجتماعی فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔
- اجتماعی فلاح:فیصلے امت کی عمومی بھلائی کے لیے ہوتے ہیں۔
- عدالت و مساوات:سب شہری قانون کے سامنے برابر ہیں۔
- اہلیت کی بنیاد پر قیادت:قیادت صرف اہلِ تقویٰ اور اہلِ علم کو حاصل ہے۔
- حدودِ الٰہی کی پابندی:کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں ہو سکتا۔
اسلامی جمہوریت اور مغربی ڈیموکریسی کا تقابلی جائزہ
| پہلو | اسلامی جمہوریت | مغربی ڈیموکریسی |
|---|---|---|
| قانون کا ماخذ | قرآن، سنت، اجماع، قیاس | عوامی رائے |
| حاکمیت | اللہ تعالیٰ کی | عوام کی |
| فیصلہ سازی | اہلِ علم و تقویٰ کی مشاورت | عوامی نمائندوں کی رائے |
| رائے دہی کی حدود | شریعت کے دائرے میں | غیر محدود، حتیٰ کہ مذہب مخالف بھی |
| ریاست کا مقصد | عدل، خیر اور فلاحِ امت | فرد کی آزادی اور مفاد |
| اکثریت کی حیثیت | مشاورتی و اجتہادی | مطلق و فیصلہ کن |
نتیجہ
الامامۃ کے اصول و مقاصد
اسلامی نظامِ حکومت سے مراد وہ طرزِ حکومت ہے جو قرآن و سنت کے اصولوں، احکام اور مقاصد پر قائم ہو۔ اس نظام میں اقتدارِ اعلیٰ (Sovereignty) اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہوتا ہے، جبکہ انسانوں کو صرف خلافت یا نیابت کے طور پر حکومت کا حق حاصل ہوتا ہے۔ اس کے بنیادی تصورات، اصول اور مقاصد درج ذیل ہیں:
1. اقتدارِ اعلیٰ اللہ کے لیے
اسلامی حکومت کی بنیاد اس عقیدے پر ہے کہ قانون سازی اور حاکمیت کا اصل حق صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے:
"إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ”(الحکم صرف اللہ ہی کا ہے) — [یوسف: 40]
یعنی ریاست کا قانون، اخلاق، معیشت، عدل اور سیاست سب قرآن و سنت کے تابع ہوں گے۔
2. خلافت یا نیابتِ انسان
اسلامی نظام میں حکمران کو مطلق العنان بادشاہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا نائب (خلیفہ) تصور کیا جاتا ہے، جو شریعت کے دائرے میں رہ کر فیصلے کرے گا۔
"إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً” — [البقرہ: 30]
یہ خلافت ذمہ داری اور امانت ہے، طاقت یا ذاتی اختیار نہیں۔
3. شوریٰ (مشاورت) کا اصول
اسلامی نظامِ حکومت میں اجتماعی مشورے کو بڑی اہمیت حاصل ہے:
"وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” — [الشورى: 38]
حکمران، اہلِ شوریٰ (علماء، ماہرین، اور عوام کے نمائندے) کے مشورے سے فیصلے کرتا ہے۔ یہ جمہوریت سے مختلف اس لیے ہے کہ مشاورت شریعت کے تابع ہوتی ہے، نہ کہ عوامی خواہشات کے۔
4. عدل و انصاف کا قیام
اسلامی حکومت کا سب سے اہم مقصد عدل کا قیام ہے:
"إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” — [النحل: 90]
یعنی ہر شخص کے حقوق محفوظ ہوں — خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، حاکم ہو یا محکوم۔
5. قانون سازی کا ماخذ
اسلامی نظام میں قانون سازی کا منبع یہ ہیں:
- قرآنِ مجید
- سنتِ رسول ﷺ
- اجماعِ امت
- قیاسِ شرعی
ریاست کی پارلیمنٹ یا اسمبلی کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی جو شریعت کے خلاف ہو۔
6. حکمران کی صفات اور ذمہ داریاں
- دیندار، عادل اور اہل شخص ہونا چاہیے۔
- شریعت کے مطابق فیصلے کرے۔
- عوام کے حقوق کا محافظ ہو۔
- بیت المال کو امانت سمجھے، ذاتی ملکیت نہیں۔
7. شہریوں کے حقوق
اسلامی حکومت میں ہر شہری کو درج ذیل حقوق حاصل ہوتے ہیں:
- جان، مال، عزت اور مذہب کی حفاظت
- عدل و مساوات
- اظہارِ رائے کی آزادی (شریعت کے دائرے میں)
- معاشی انصاف اور بنیادی ضروریات کی ضمانت
8. اقلیتوں کا تحفظ
اسلام غیر مسلم شہریوں (اہلِ ذمہ) کے حقوق کی حفاظت کا ضامن ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
"جس نے کسی ذمی پر ظلم کیا، میں قیامت کے دن اس کا مخالف ہوں گا۔”
9. احتسابِ حکمران
10. مقصدِ اعلیٰ: اقامتِ دین اور فلاحِ انسانیت
اسلامی حکومت کا مقصد صرف سیاسی نظم نہیں بلکہ دینِ اسلام کا قیام اور انسانی فلاح ہے:
"الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ…” — [الحج: 41]
امنِ عامہ کا قیام: مقاصدِ شریعت اور مقاصدِ خلافت کی اساس
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:
"اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ وہ ضرور انہیں زمین میں اقتدار بخشے گا، جیسے ان سے پہلے والوں کو اقتدار بخشا گیا، اور ان کے لیے ان کے دین کو مضبوطی کے ساتھ قائم کر دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، اور ان کے خوف کے بعد انہیں امن عطا کرے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کرے تو وہی لوگ نافرمان ہیں۔”
یہی اصول خلافتِ راشدہ کے دور میں عملی صورت اختیار کرتا ہے، جہاں خلفائے راشدینؓ نے امن کو ریاستی ترجیحِ اوّل بنایا —کیونکہ امن کے بغیر نہ عدل قائم ہو سکتا ہے، نہ تعلیم و معیشت پھل سکتی ہے، نہ دعوت و تبلیغ ممکن ہے، اور نہ ہی عبادات و معاملات میں نظم قائم رہ سکتا ہے۔
پس یہ کہا جا سکتا ہے کہ:
امن کا قیام وہ بنیاد ہے جس پر شریعت کے تمام مقاصد اور خلافت کے تمام اہداف قائم ہیں۔
(صحیح بخاری، حدیث: 3595)
ترجمہ:
"اے عدی! کیا تم نے حیرہ (عراق کا شہر) دیکھا ہے؟”میں نے عرض کیا: نہیں، لیکن اس کے بارے میں سنا ضرور ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا:"اگر تمہاری عمر دراز ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ایک عورت (تنہا) حیرہ سے سفر کرے گی، یہاں تک کہ وہ مکہ پہنچ کر کعبہ کا طواف کرے گی، اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہوگا۔”
تاریخی تحقق و پیشگوئی کی تکمیل:
"میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک عورت حیرہ سے اکیلی روانہ ہوئی اور مکہ مکرمہ پہنچی، اسے راستے بھر کسی کا خوف نہیں تھا۔”(بخاری: 3595)
یہی وہ زمانہ تھا جب رسول اکرم ﷺ کی پیشگوئی پوری طرح ظاہر ہوئی، اور قرآنِ کریم کی آیت «وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا» (النور: 55) کا مصداق خلافتِ راشدہ کا دور قرار پایا۔
نتیجہ:
یہ حدیث اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اسلامی حکومت کا سب سے نمایاں ثمرہ امن و عدل کا قیام ہے۔ نبوت کے عہد میں جس امن کی بشارت دی گئی تھی، وہ سیدنا عمرؓ کے دور میں عملاً پوری ہوئی — جہاں نہ صرف داخلی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی امن، قانون، اور عدل کی مثالیں قائم ہوئیں۔
1. خلافتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ — ارتداد کے فتنے کے باوجود امن کا قیام
2. خلافتِ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ — داخلی عدل و خارجی امن
3. خلافتِ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ — معاشی امن اور خوشحالی
4. خلافتِ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ — فتنوں کے باوجود عدل کی بحالی کی جدوجہد
امامت کا تسلسل
بلا شبہہ نبی ﷺ کی وفات کے بعد خلافتِ راشدہ امت کا سنہری ترین دور تھا۔ خلافتِ راشدہ تیس سال تک قائم رہی، اس کے بعد اسلامی حکومت کا وہ معیار قائم نہ رہا جو خلافت راشدہ کا خاصہ تھا۔ تاہم اس کے بعد بھی اسلام کا دنیا میں غلبہ نہ صرف برقرار رہا بلکہ کچھ عرصہ تک اس میں اضافہ ہوتا رہا۔ اگرچہ خلافتِ عباسیہ کے بعد دنیا میں اسلام کا غلبہ کم ہوگیا مگر پھر بھی اسلامی نظام حکومت کسی نہ کسی شکل میں قائم رہا۔ مسلمان دنیا کے ایک وسیع خطے پر نہ صرف حکمرانی کرتے رہے بلکہ انہیں داخلی امن بھی حاصل رہا۔ سلطنتِ عثمانیہ میں بھی مجموعی طور امت میں امن قائم رہا، طوائف الملوکی کے سوا اکثر زمانے میں امن کی فضا برقرار رہی۔
اسلامی نظامِ حکومت سے متعلق اکثر احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ امامتِ کبریٰ کی بہترین صورت خلافت علیٰ منھاج النبوۃ ہی ہے تاہم، نبی ﷺ نے خلافتِ راشدہ کے بعد کے ادوار میں قائم ہونے والی مسلم حکومتوں کے بارے میں یہ نہیں فرمایا کہ ان کے خلاف خروج کیا جائے یا ان ادوار میں حکومتوں کے احکام کو مطلقاً تسلیم نہ کیا جائے، اس کے برعکس نبی ﷺ نے خروج سے سختی سے منع فرمایا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خلافت کا بنیادی مقصد قیام امن ہے، اگر خلافت کے قیام کے لیے مسلم ریاست کے امن کو ہی تہہ و بالا کردیا جائے تو خلافت کے قیام کا مقصد تو فوت ہوگیا۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَزَالُ الإِسْلاَمُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَىْ عَشَرَ خَلِيفَةً ”
(صحیح مسلم: رقم 1821)
ترجمہ:
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ 12 خلفأ کے زمانے تک اسلام دنیا میں غالب رہے گا۔
اس صحیح حدیث مبارکہ میں نبی ﷺ نے خلافتِ راشدہ کے بعد آنے والے حکمرانوں کے لیے بھی خلیفہ کا لفظ استعمال فرمایا۔ عربی زبان میں خلیفہ کا ایک مطلب حکمران بھی ہوتا ہے، جیسا کہ سورہ نور کی مذکورہ بالا آیت میں ذکر ہوا۔ حال آن کہ انہی بارہ خلفا کے زمانہ میں سے ایک حکمران یزید ملعون کے دور میں نبی ﷺ کی وفات کے بعد امت مسلمہ کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ واقعہ کربلا کی شکل میں رونما ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے خلافتِ راشدہ کے بعد کے خلفا (یزید کے سوا) کی حکومت کو یک گونہ جواز فراہم کردیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان حکمرانوں کی تمام تر خامیوں اور خرابیوں کے باوجود اسلامی حکومت کا بنیادی ظاہری ڈھانچہ قائم رہا۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَلَيْكَ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ ”
(صحیح مسلم: رقم 1836)
ترجمہ:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم پر مسلم حکمرانوں کا حکم سننا اور ان کی اطاعت واجب ہے ، خواہ تم تنگدستی کا شکار ہو یا خوش حال ہو، خواہ تمہیں اچھا لگے یا برا لگے، خواہ دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے۔
سیدنا حزیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لاَ يَهْتَدُونَ بِهُدَاىَ وَلاَ يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ ” . قَالَ قُلْتُ كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ قَالَ ” تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلأَمِيرِ وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ وَأُخِذَ مَالُكَ فَاسْمَعْ وَأَطِعْ ” .
(صحیح مسلم: رقم 1847)
ترجمہ:
"میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو نہ میری ہدایت کے مطابق چلیں گے اور نہ میری سنت پر عمل کریں گے، اور ان میں ایسے لوگ ہوں گے جن کے دل شیطانوں کے دل جیسے ہوں گے مگر جسم انسانوں کے ہوں گے۔”
میں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! اگر میں ایسے زمانے کو پا لوں تو کیا کروں؟”
بظاہر یہ بات بہت عجیب لگتی ہے کہ ظالم حکمرانوں کی اطاعت کا بھی حکم دیا جارہا ہے، مگر جب ہم اس حکم کی حکمت پر غور کرتے ہیں تو عش عش کر اٹھتے ہیں۔ اس حکم میں حکمت یہی ہے کہ اگر ظالم حکمران کے خلاف ظلم کےسبب خروج یعنی مسلح جنگ کی اجازت دے دی جائے تو مقاصد شریعت فوت ہوجاتے ہیں، ظلم تو فرض کرو گنتی کے چند لوگوں پر ہورہا ہوگا مگر خروج کے نتیجے میں جو سینکڑوں لوگوں کی جانیں تلف ہوں گی اس کا کیا؟ ظلم کو روکنے کا مقصد انسانی جان کے ضیاع کو روکنا ہے، مگر خروج کے نتیجے میں تو اس سے بھی بڑا جانی ضیاع لازماً ہوگا۔پھر عقلمندی ظلم برداشت کرنے میں ہے یا خروج کرنے میں؟
خروج کی ممانعت
1. خلافت کا بنیادی مقصد: امن و نظام کا قیام
"وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا” (النور: 55)"اور وہ ان کے خوف کے بعد انہیں امن میں بدل دے گا۔”
اس آیت سے ظاہر ہے کہ اسلامی حکومت کا پہلا ثمرہ امن ہے۔ اگر خلافت یا حکومت کے قیام کے نام پر ہی امن تباہ ہوجائے، تو دراصل مقصودِ شریعت ہی فوت ہوجاتا ہے۔
2. نبی اکرم ﷺ کی ہدایات: خروج سے ممانعت
"إلا أن تروا كفراً بواحاً عندكم من الله فيه برهان.”(صحیح بخاری، حدیث: 7056؛ صحیح مسلم، حدیث: 1709)"جب تک تم حکمرانوں میں کھلا کفر نہ دیکھو جس پر تمہارے پاس اللہ کی واضح دلیل ہو، اس وقت تک ان کے خلاف نہ اٹھو۔”
یہ اس لیے ہے کہ خروج سے خونریزی، فتنہ، اور انتشار پیدا ہوتا ہے، جو شریعت کے اس اصول کے خلاف ہے کہ
"درء المفاسد مقدم على جلب المصالح”یعنی "فساد کو روکنا، مصلحت حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہے۔”
3. خلافتِ راشدہ کے بعد کے ادوار
ائمہ کرام نے واضح فرمایا کہ:
"اگر حکمران فاسق بھی ہو، تب بھی اس کی اطاعت واجب ہے، جب تک وہ نماز قائم رکھے اور کھلا کفر نہ کرے۔”(شرح السنہ للبغوی، ج 10، ص 39)
4. خروج کے نقصانات اور امن کی ضرورت
- خوارج کا خروج → امت میں شدید قتل و غارت۔
- عباسی و اموی فتنوں کے بعد صدیوں تک سیاسی عدم استحکام۔
لہٰذا علماء نے قرار دیا کہ اگر حکومت میں ناانصافی ہو مگر امن و عدلِ عامہ قائم ہو، تو ایسی حکومت کو برقرار رکھنا خروج سے بہتر ہے۔
5. نتیجہ: شریعت کا توازن
- ظلم کے خلاف اصلاح و نصیحت کی جائے،
- لیکن امنِ عامہ کو نقصان پہنچانے والا خروج ممنوع ہے۔
اس طرح خلافت یا حکومت کا مقصد — یعنی شریعت کا نفاذ، عدل کا قیام، اور امن کا تحفظ — باقی رہتا ہے۔
کفر بواح اور تکفیر
خوارج نے مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج کرنے کے لیے یہ طریقہ اپنایا ہے کہ ثابت کیا جائے کہ مسلم حکمران کفر بواح (کھلے کفر) کا مرتکب ہورہے ہیں۔ لہٰذا خوارج نے تکفیر کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ اکثر تکفیری تحریکیں جیسے حزب التحریر، الاخوان، المہاجرون، القاعدہ وغیرہ تکفیر کو اپنا بنیادی ہتھیار بناتے ہیں۔ کتنے ظالم ہیں یہ لوگ کہ بت پرستوں کو تو چھوڑ دیتے ہیں مگر اہل اسلام کو قتل کرتے ہیں۔
- Get link
- X
- Other Apps
Categories of Topics
Categories of Topics
- Anthropology
- Anthropomorphism
- Aqidah
- Arabian Peninsula
- Arabic Language
- Arabs
- Archaeology
- Artificial Intelligence
- Asia
- Astronomy
- Atheism
- Australia
- Bangladesh
- Barzakh
- Big Bang Theory
- Biography
- Biology
- Black Hole
- Budhism
- cardiac health
- Catholic Church
- Charity
- Chemistry
- China
- Christianity
- Civil Law
- Climate Change
- Continents
- Cosmology
- Criminal Law
- Crypto-Politics
- Cryptocurrency
- CSS
- CSS Essays
- CSS Exams
- Current Account Deficit
- Current Affairs
- Cyber
- Dajjal
- Daleel at-Talib
- Dan Gibson’s Theory
- Dark Energy
- Deepfake technology
- Deforestation
- Deism
- digital firewall
- Distinctive Aspects of Islam
- Divine Remembrance
- Dragons and Dinosaurs
- Earthquakes
- Eclipse
- Ecology
- Economy
- Education
- Egypt
- Eid-ul-Fitr
- Elon Musk
- Emotional Intelligence
- Energy
- Energy Crisis
- Environment
- Eschatology
- Esfahan
- Europe
- Evolution
- Evolution of Stars
- Family Law
- Fasting
- Feminism
- Fiqh
- Food Law
- Funerals
- Galaxy
- Gaza
- General Knowledge
- Genes
- Genetics
- Genital Worship
- Genocide Convention
- Geography
- Geology
- Geopolitics
- Global Affairs
- Global Crisis
- Global Warming
- Globalization
- Golden Bird
- Gravity
- Hadith
- Hajj
- Hajj Rituals
- Halal and Haram
- Halal Food
- Hanafi
- Hanbali
- Hanbali Aqidah
- Hanbali Madhab
- Hashimi Fiqh
- Hayy ibn Yaqzan
- health
- Heer Ranjha
- Highest Mountains
- Hijab
- Hindu Mythology
- History
- Holography
- Holy Scriptures
- Homosexuality
- Human
- Human Rights
- Ibn Sina’
- Ibn Taymiyyah
- Imam Ahmad bin Hanbal R.A
- Imam Al-Mahdi
- Imam Ali
- Impact on Society
- India
- Indonesia
- International Affairs
- International Law
- International Relations
- Iran
- Iran's Economy
- Islam
- Islamic Beliefs
- Islamic Civilization
- Islamic eschatology
- Islamic Festivals
- Islamic Golden Age
- Islamic History
- Islamic Laws
- islamic medicine
- Islamic Rituals
- Islamic Social System
- Islamic values
- Islamic worship
- Islamophobia
- Jesus
- Jewish eschatology
- Kabbalah
- Karbala
- Kings of Egypt
- Languages
- Largest Deserts
- Largest Lakes
- Leadership Skills
- LGBT Pride
- Lithium
- litrature
- Longest Rivers
- Lunar Cataclysm
- Makkah
- Maliki
- Mathematical Cartography
- Mathematics
- Microplastic
- Milky Way
- Modern World
- Music
- Muslim Cosmology
- Muslim History
- Muslim Parenting
- Muslim Ummah
- Mysterious sagas
- Neuralink
- Neurochemistry
- Neurology
- Neuroscience
- North America
- Oceans
- Organic Evolution
- PAF
- Pakistan
- Pakistan Affairs
- Pakistan’s Constitution
- Palestine
- Pedagogy
- Petroleum Warehouses
- Philosophy
- Phsycology
- Physics
- Political Science
- Politics
- Populism
- Pornography
- Poverty
- Pragmatic Theory of Truth
- Prophet Adam
- Prophet Ibrahim
- Prophet Muhammad (PBUH)
- Prophet Yousuf (AS)
- Prophethood
- Psychology
- Public Administration
- Punjab Government
- Quantum Computing
- Quantum Physics
- Qur'an
- Quran
- Rape
- Red Heifer
- Robointelligence
- Sahabah
- Salah
- Saudi Arabia
- Sawm
- Science
- Seerah
- SeismoAlert
- Seismology
- Self-Purification
- Shafi'ee
- Shariah
- Shaytan
- slamic morality
- Slavery
- Smoking
- Social Media
- Solar Eclipse
- Solar System
- South America
- Space
- Space Solar
- Spiritual Impact of Hajj
- Spiritual Impacts
- Sunnah
- SWOT Analysis
- Tafsir
- Taghut
- Tawhid
- Tazkiyah
- Technology
- Technonlogy
- Terrorism
- testing
- The Earth
- The Gays of Gomorrah
- The Hebrew Hajirah
- The James Webb Space Telescope
- The Messiah
- The solar cycle
- The Structure of Ka’abah
- The Sun
- The Universe
- Time Travelling
- Trading
- Transparency International (TI)
- Travelling
- Truth
- Tsunami
- Turkestan
- Turkey
- U.S.-Saudi petrodollar pact
- Umrah
- Unemployment
- United Nations Organization
- Universal Hijri Calendar
- Urdu
- Usul
- Volcanic erruption
- Wahhabism
- War
- Waris Shah
- Waterfalls
- Weather Forecasting
- West
- Wildlife
- Wisdom
- Ya’juj and Ma’juj
- Zakat
- Zakat al-Fitr
- Zamzam Well
- Zionism