Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

اسلام میں بنو ہاشم کا مقام و مرتبہ


بنو ہاشم

                                          اسلام میں بنو ہاشم کا مقام و مرتبہ

اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ نبی آخرالزمان سیدنا محمدرسول اللہ ﷺ تمام انبیا میں اعلیٰ و افضل ہیں۔آپ ﷺ  کی نسبت سے ہی اللہ تعالیٰ نے امت محمدیﷺ کو خیر ِامت (سب سے بہتر امت) قرار دیا۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

كُنْتُمْ  خَیْرَ  اُمَّةٍ  اُخْرِجَتْ  لِلنَّاسِ

(سورۃ آل عمران: 110)

ترجمہ: تم سب سے بہترین امت ہو جسے لوگوں (کی رہنمائی)کے لیے نکالا گیا ہے۔

 اللہ تعالیٰ نے سابقہ امتوں کو اموال غنیمت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جبکہ یہ بھی امت محمدیﷺ کی خاصیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
ثُمَّ أَحَلَّ اللَّهُ لَنَا الْغَنَائِمَ، رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَأَحَلَّهَا لَنَا 

(صحیح البخاری: رقم، 3124)

پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے مال غنیمت جائز قرار دے دیا ‘ ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا ۔ اسلئے ہمارے واسطے حلال قرار دے دیا ۔

غرض مال غنیمت بھی رسول اکرم ﷺ کے مبارک خصائص میں سے ہے۔

اللہ تعالیٰ نے صرف نبی ﷺ اور آپ کی امت کو ہی فضیلت سے نہیں نوازا بلکہ آپ ﷺ کے اصحاب  رضی اللہ عنہم اور اہل بیت علیہم السلام کو بھی خاص فضائل عنایت فرمائے۔

إن الله اصطفى كنانة من ولد إسماعيل واصطفى قريشا من كنانة واصطفى من قريش بني هاشم واصطفاني من بني هاشم

 (جامع الترمذی: رقم 3209)

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نےفرمایا اللہ تعالیٰ نے سیدنا اسماعیل ‏‏‏‏علیہ السلام کی اولاد سے کنانہ کو، کنانہ سے قریش کو، قریش سے بنی ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے میں (‏‏‏‏محمدﷺ) کو منتخب کیا۔

اللہ تعالیٰ نے صرف نبی اکرم ﷺ کو ہی منتخب نہیں فرمایا بلکہ بنو ہاشم کو بھی ایک ایسے اعزاز سے نوازا ہے کہ کوئی دوسرا قبیلہ اس فضیلت میں ان کا شریک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت کا پانچواں حصہ بنو ہاشم کے لیے مقرر فرمایا ہے خواہ وہ کسی جنگ میں شریک ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ-اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ

(سورۃ الانفال: 41)

اور جان لو کہ تم جو مالِ غنیمت حاصل کرو تو اس کا پانچواں حصہ خاص اللہ کے لئے اور رسول کے لئے اور (رسول کے) رشتے داروں کیلئے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے، اگر تم اللہ پر اور اس پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے خاص بندے پر فیصلہ کے دن (جنگ بدر کے روز)  اتارا جس دن دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئی تھیں اور اللہ ہر شے پر قادر ہے۔

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قال: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ الْقُرْبَى مِنْ خَيْبَرَ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ جِئْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو هَاشِمٍ لَا يُنْكَرُ فَضْلُهُمْ لِمَكَانِكَ الَّذِي وَصَفَكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ مِنْهُمْ، أَرَأَيْتَ إِخْوَانَنَا مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ وَتَرَكْتَنَا، وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ قَالَ إِنَّهُمْ لَمْ يُفَارِقُونِي فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، وَإِنَّمَا هُمْ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيئاً وَاحِداً

(مسند امام احمد: رقم 16741، صحیح البخاری: رقم 3140)

   ترجمہ:

یہ روایت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے واسطے سے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر کی غنیمت میں سے اپنے قریبی رشتہ داروں کا حصہ بنو ہاشم اور بنو المطلب کے درمیان تقسیم کیا تو میں اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے عرض کیا:

یا رسول اللہ! بنو ہاشم کی فضیلت تو ظاہر ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ  کے سبب ان کی فضیلت کو بیان فرمایا ہے۔ لیکن ہمارے بھائی بنو المطلب کو آپ نے (خمس میں سے ) دے دیا اور ہمیں چھوڑ دیا، حالانکہ ہم اور وہ آپ کے ساتھ رشتہ داری میں ایک ہی مرتبے پر ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ان لوگوں  نے نہ زمانۂ جاہلیت میں میرا ساتھ چھوڑا اور نہ زمانہ ٔ  اسلام میں۔ میرے لیے  بنو ہاشم اور بنو المطلب ایک ہی چیز ہیں۔

اس حدیث سے ان لوگوں کی تردید ہوجاتی ہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ بنو امیہ بھی اہل بیتِ رسول ﷺ میں شامل ہیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا قَالَ كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ

(صحیح البخاری: رقم 3090)

 امام زین العابدین علی بن حسین  علیہ السلام نے خبر دی اور انہیں امام حسین بن علی علیہ السلام نے خبر دی کہ امام  علی علیہ السلام  نے بیان فرمایا کہ  جنگ بدر کے مال غنیمت سے میرے حصے میں ایک جوان اونٹنی آئی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی  مجھے ایک جوان اونٹنی خمس کے مال میں سے دی تھی۔

سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام نے نجدہ سے فرمایا:
وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ وَإِنَّا كُنَّا نَقُولُ هُوَ لَنَا ‏.‏ فَأَبَى عَلَيْنَا قَوْمُنَا ذَاكَ ‏.‏

(صحیح مسلم: رقم 1812)

اور آپ نے مجھے خط کے ذریعے پوچھا ہے کہ  خمس کے حقدار کون ہیں؟ ہم اہل بیت رسول علیہم السلام کی یہ رائے ہے کہ خمس کے حقدار ہم  (بنو ہاشم)  ہیں، مگر تمہاری قوم نے ہماری یہ بات نہیں مانی۔

امام قتادہ  اور امام ابن جریج رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی حیات طیبہ میں مال غنیمت کے کل پانچ حصے کیے جاتے تھے، ان میں سے چار حصے مجاہدین میں تقسیم کیے جاتے تھے اور پانچویں حصے کے پھر پانچ حصے کیے جاتے تھے:
1۔ رسول اکرم ﷺ کا حصہ

2۔ بنو ہاشم و بنو مطلب کا حصہ

3۔ فقرا و مساکین کا حصہ

4۔ یتیموں کا حصہ

5۔ مسافروں کا حصہ

(تفسیر ابن جریرؒ)

تاہم رسول اکرم ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم اور اہل بیت رسول علیہم السلام میں یہ اختلاف پیدا ہوگیا کہ وفات رسول ﷺ کے بعد خمس کا مستحق کون ہے؟ بعض صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کی یہ رائے تھی کہ خمس اصلاً اکیلے  نبی ﷺ کا حصہ تھا اور وہ مذکورہ مصارف خمسہ میں جہاں چاہتے اسے خرچ کرتے تھے۔اب ان کی وفات کے ساتھ ان کا حصہ ساقط ہوگیا ہے اس لیے اب اسے بیت المال میں جمع کیا جائے گا اور خلیفۂ وقت اسے انہی مصارف میں خرچ کرے گا جن میں نبی ﷺ خرچ فرماتے تھے۔سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی یہی رائے تھی۔دوسری طرف اہل بیتِ رسول علیہم السلام میں سے بنو ہاشم کی یہ رائے تھی کہ وفات رسول ﷺ کے بعد چونکہ ان کے وارث بنو ہاشم ہیں لہٰذا ان میں تصرف کا اختیار بھی بنو ہاشم کا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس علیہما السلام کے مکتوب میں اسی  اختلاف ِرائے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ اختلاف محض اجتہادی نوعیت کا اختلاف ہے، کوئی ایمان و کفر کا اختلاف نہیں ہے، اس لیے اس اختلاف کی بنیاد پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا ہرگز جائز نہیں۔ قرآن حکیم کے الفاظ میں دونوں آرا کا احتمال موجود ہے، اس لیے کسی ایک فریق کو  بھی ملامت نہیں کی جاسکتی۔

امام شافعی  رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ بیت علیہم السلام  کےاجماعی  قول کو ترجیح دی ہے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے شیخین (سیدنا ابوبکرو سیدنا عمر رضی اللہ عنہما) کےقول کو ترجیح دی ہے۔(المغنی لابن قدامہ الحنبلیؒ: جلد 6، صفحہ 460)

درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بنو ہاشم و بنو مطلب کا مال غنیمت میں سے حصہ ساقط  یا منسوخ نہیں ہوا:
فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ حَدَّثَنِی أَبِی بُرَیْدَۃُ قَالَ أَبْغَضْتُ عَلِیًّا بُغْضًا لَمْ یُبْغِضْہُ أَحَدٌ قَطُّ قَالَ وَأَحْبَبْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَیْشٍ لَمْ أُحِبَّہُ إِلَّا عَلٰی بُغْضِہِ عَلِیًّا قَالَ فَبُعِثَ ذٰلِکَ الرَّجُلُ عَلٰی خَیْلٍ فَصَحِبْتُہُ مَا أَصْحَبُہُ إِلَّا عَلٰی بُغْضِہِ عَلِیًّا قَالَ فَأَصَبْنَا سَبْیًا، قَالَ فَکَتَبَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابْعَثْ إِلَیْنَا مَنْ یُخَمِّسُہُ قَالَ فَبَعَثَ إِلَیْنَا عَلِیًّا وَفِی السَّبْیِ وَصِیفَۃٌ ہِیَ أَفْضَلُ مِنَ السَّبْیِ فَخَمَّسَ وَقَسَمَ فَخَرَجَ رَأْسُہُ مُغَطًّی فَقُلْنَا: یَا أَبَا الْحَسَنِ! مَا ہٰذَا؟ قَالَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَی الْوَصِیفَۃِ الَّتِی کَانَتْ فِی السَّبْیِ؟ فَإِنِّی قَسَمْتُ وَخَمَّسْتُ فَصَارَتْ فِی الْخُمُسِ ثُمَّ صَارَتْ فِی أَہْلِ بَیْتِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ صَارَتْ فِی آلِ عَلِیٍّ وَوَقَعْتُ بِہَا، قَالَ فَکَتَبَ الرَّجُلُ إِلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ ابْعَثْنِی فَبَعَثَنِی مُصَدِّقًا قَالَ فَجَعَلْتُ أَقْرَأُ الْکِتَابَ وَأَقُولُ صَدَقَ قَالَ فَأَمْسَکَ یَدِی وَالْکِتَابَ وَقَالَ أَتُبْغِضُ عَلِیًّا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَلَا تُبْغِضْہُ وَإِنْ کُنْتَ تُحِبُّہُ فَازْدَدْ لَہُ حُبًّا فَوَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَنَصِیبُ آلِ عَلِیٍّ فِی الْخُمُسِ أَفْضَلُ مِنْ وَصِیفَۃٍ قَالَ فَمَا کَانَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ عَلِیٍّ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ فَوَالَّذِی لَا إِلٰہَ غَیْرُہُ مَا بَیْنِی وَبَیْنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی ہٰذَا الْحَدِیثِ غَیْرُأَبِی بُرَیْدَۃَ۔ 

(مسند احمد: رقم  23355)

سیدنا عبد اللہ بن بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے میرے باپ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: مجھے سیدنا علی ‌ علیہ السلام سے سخت بغض تھا، اتنا کسی بھی دوسرے سے نہیں تھا حتیٰ کہ مجھے قریش کے ایک آدمی سے بہت زیادہ محبت صرف اس لیے تھی کہ وہ سیدنا علی ‌ علیہ السلام سے بغض رکھتا تھا، اس آدمی کو امیر کا لشکر بنا کر بھیجا گیا،میں صرف اس لیے اس کا ہمرکاب ہوا کہ اسے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بغض تھا، ہم نے لونڈیاں حاصل کیں، امیر لشکر نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس وہ آدمی بھیج دیں، جو مال غنیمت کے پانچ حصے کرے اور اسے تقسیم کرے، آپ نے ہمارے پاس سیدنا علی ‌ علیہ السلام کو بھیج دیا، انہوں نے مال تقسیم کیا، قیدی عورتوں میں ایک ایسی لونڈی تھی، جو کہ سب قیدیوں میں سے بہتر تھی، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مال غنیمت کے پانچ حصے کئے اور پھر اسے تقسیم کر دیا۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب  (اپنے خیمے سے)باہر آئے تو ان کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے اور سر ڈھانپا ہوا تھا۔ ہم نے کہا: اے ابو الحسن! یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے کہا: کیا تم نے دیکھا نہیں کہ قیدیوں میں یہ لونڈی میرے حصہ میں آئی ہے، میں نے مال غنیمت پانچ حصے کرکے تقسیم کر دیا ہے، یہ پانچویں حصہ میں آئی ہے جو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل بیت کے لیے ہے اور پھر اہل بیت میں سے ایک حصہ آل علی کا ہے اور یہ لونڈی اس میں سے میرے حصہ میں آئی ہے اور میں نے اس سے جماع کیا ہے، اس آدمی نے جو سیدنا علی ‌ علیہ السلام سے بغض رکھتا تھا، اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جانب خط لکھا، سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اس سے کہا: یہ خط مجھے دے کر بھیجو، اس نے مجھے ہی بھیج دیا تاکہ اس خط کی تصدیق و تائید کروں، سیدنا بریدہ کہتے ہیں: میں نے وہ خط نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر پڑھنا شروع کر دیا اور میں نے کہا: اس میں جو بھی درج ہے وہ صحیح ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ہاتھ سے خط پکڑ لیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: کیا تم علی سے بغض رکھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی سے بغض نہ رکھو اور اگر تم اس سے محبت رکھتے ہو تو اس میں اور اضافہ کرو،اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے؟ خمس میں آل علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا حصہ تو اس افضل لونڈی سے بھی زیادہ بنتا ہے۔ سیدنا بریدہ  رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کے بعد لوگوں میں سے ان  (علی علیہ السلام) سے بڑھ کر مجھے کوئی اور محبوب نہیں تھا۔

یہ جو کہا جاتا ہے کہ آئمۂ اہلِ بیت علیہم السلام بنو امیہ کے بادشاہوں کے دیے ہوئے اموال قبول کرلیتے تھے تو وہ ان بادشاہوں کی طرف سے کوئی عنایت یا انعام یا خدمت  نہیں ہوتی تھی بلکہ اہل بیت علیہم السلام کا خمس میں سے جو حصہ بنتا تھا اس میں سے کچھ مال ان آئمہ کو دیا جاتا تھا جسے وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ تحفے کے طور پر قبول فرماتے تھے۔ یہ دنیاداری کے سبب نہیں تھا بلکہ اہل بیت رسول  علیہم السلام کا شرعی حق تھا۔پھر وہ مال بھی جائیدادیں بنانے کے لیے استعمال نہیں فرماتے تھے بلکہ اللہ کے راستے میں فقرا و مساکین میں تقسیم فرمادیتے تھے۔واللہ اعلم

آل محمد ﷺ: مؤمنینِ بنو ہاشم

بنو ہاشم کا یہ بھی اعزاز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے لیے خاص دعائے رحمت کرنا لازم کردیا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا

(سورۃ الاحزاب: 56)

ترجمہ:

بے شکل اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجا کرواور خوب سلام پڑھا کرو۔

اس آیتِ مبارکہ میں   بظاہرصرف نبی ﷺ پردرودوسلام  بھیجنے کاحکم دیا گیا ہے مگر رسول اکرم ﷺ نے آیت کی تفسیر فرماتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں آل محمد ﷺ پر درود پڑھنا بھی شامل ہے۔

حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ، مُسْلِمُ بْنُ سَالِمٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى، سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، قَالَ لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ فَقَالَ أَلاَ أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ بَلَى، فَأَهْدِهَا لِي‏.‏ فَقَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ الصَّلاَةُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ عَلَّمَنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ‏.‏ قَالَ ‏‏ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ‏‏.‏

(صحیح البخاری: رقم 3370)

ہم سے قیس بن حفص اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابو قرہ مسلم بن سالم ہمدانی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عیسیٰ نے بیان کیا ‘ انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ سیدنا  کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کیوں نہ تمہیں ( حدیث کا ) ایک تحفہ پہنچا دوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ۔ میں نے عرض کیا جی ہاں مجھے یہ تحفہ ضرور عنایت فرمائیے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا یا رسول اللہ ہم آپ پر اور آپ کے اہل بیت پر کس طرح درود بھیجا کریں ؟ جبکہ  اللہ تعالیٰ نے سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں خود ہی سکھا دیا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں کہا کرو ” اے اللہ ! اپنی رحمت نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جیسا کہ تو نے اپنی رحمت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آل ابراہیم علیہ السلام پر ۔ بیشک تو بڑی خوبیوں والا اور بزرگی والا ہے ۔ اے اللہ ! برکت نازل فرما محمد ﷺپر اور آل محمدﷺ پر جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر ۔ بیشک تو بڑی خوبیوں والا اور بڑی عظمت والا ہے ۔

اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ سورۃ الاحزاب کی آیت 56 سے صرف نبی ﷺ پر درود بھیجنا ثابت نہیں ہوتا بلکہ آپکی آل پر درود بھیجنا بھی اسی آیتِ مبارکہ کا تقاضہ ہے، بظاہر سوال سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے تھا مگر نبی ﷺ نے ان کی نفی نہیں فرمائی بلکہ بلکہ ان کی تصویب فرماتے ہوئے بتایا کہ ان پر او ان کی آل پر درود کیسے بھیجا جائے۔ اسی حدیث سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ آل محمدﷺ سے نبی ﷺ کی مراد آ پ کے اہل بیت علیہم السلام ہیں۔سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے اہل بیت بشمول نبی ﷺ پر درود بھیجنے کا طریقہ دریافت فرمایا تو نبی ﷺ نے اہل بیت کی تفسیر آل محمد ﷺ سے فرمائی جو اس بات کا ناقابل ِ تردید ثبوت ہے کہ آل محمد سے مراد اہلِ بیت رسول علیہم السلام ہیں۔حنابلہ میں سے امام ابوالبرکات  عبدالسلام ابن تیمیہؒ اور امام تقی الدین احمد ابن تیمیہؒ کے نزدیک بھی امام احمدؒ کے متعدد اقوال میں سے یہ قول قرآن و سنت کے زیادہ قریب ہے کہ آل محمدﷺ سے مراداہل بیتِ رسول علیہم الصلوات والسلام ہیں۔واللہ اعلم

اہل بیت رسول علیہم السلام  سے کون لوگ مراد ہیں؟

اس کے متعدد جوبات دیئے گئے ہیں جس کا خلاصہ شیخ عبدالحق محث دہلویؒ نے بڑے خوبصورت انداز میں بیان فرمایا ہے:

  • أن البيت بيت النسب وبيت السكنى وبيت الولادة، فبنو هاشم وهم أولاد عبد المطلب أهل  بيت النبي -صلى اللَّه عليه وسلم- نسبًا، كما يقال لأولاد الجد القريب بيت فلان۔
  •  وأزواجه -صلى اللَّه عليه وسلم- أهل بيت السكنى، وإطلاق أهل البيت على هؤلاء أخص وأعرق بحسب العرف من الأول، وأولاده -صلى اللَّه عليه وسلم- أهل بيت الولادة، وقع شمول أهل البيت لكل هؤلاء، قد خص علي وفاطمة والحسن والحسين سلام اللَّه عليهم أجمعين بمزيد الفضل والكرامة ووجوب المحبة وزيادة المودة، بل هم المفهومون بالتبادر من إطلاق أهل البيت
  • (لُمعات التنقیح شرح مشکاۃ المصابیح: ج 9، ص 692)

 ترجمہ:

اہلِ بیت کے تین پہلو ہیں:

  1. اہلِ بیت نسباً: بنو ہاشم یعنی حضرت عبدالمطلب کی اولاد، جو کہ نسب کے اعتبار سے نبی کریم ﷺ کے اہلِ بیت ہیں۔ جیسے کہا جاتا ہے: فلاں کی اولاد "بیتِ فلاں” ہے۔
  2. اہلِ بیت سکنیٰ: حضور ﷺ کی ازواج مطہرات، کیونکہ وہ آپ کے گھر کی سکونت رکھنے والی ہیں۔ عرف کے اعتبار سے ’’اہلِ بیت‘‘  کا اطلاق ان پر زیادہ خاص اور گہرا ہے۔
  3. اہلِ بیت ولادتاً: حضور ﷺ کی اولاد، کیونکہ وہ آپ کی نسل اور گھرانے سے ہیں۔

یوں ’’اہلِ بیت‘‘ کے مفہوم میں یہ سب شامل ہیں، لیکن ان میں سے امام علی، سیدہ فاطمہ، امام حسن اور امام حسین  علیہما لسلام کو خصوصیت کے ساتھ فضیلت، کرامت، محبت اور مودّت میں سب پر برتری دی گئی ہے۔ بلکہ جب مطلق طور پر ’’اہلِ بیت‘‘ کہا جاتا ہے تو سب سے پہلے انہی حضرات کا ذہن میں آنا مراد ہوتا ہے۔

غرض تمام مؤمنینِ  بنو ہاشم  اہل بیت رسول علیہم السلام میں شامل ہیں، ان کے علاوہ ازواج مطہرات سلام اللہ علیہن اور آپ ﷺ کی اولاد بھی اس میں شامل ہے، اور ان سب کے سردار نبی ﷺ کے بعد امام علی علیہ السلام ہیں۔

امام طبرانی ؒ کی معجم الاوسط (رقم الحدیث 3332) کی ایک ضعیف روایت کی بنیاد پر یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ آل محمد ﷺ سے مراد امت محمد کے نیک لوگ ہیں۔سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب اس  حدیث کے مطابق جب نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ آل محمدﷺ سے کون لوگ مراد ہیں؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا:
كل تقي من أمة محمد

امتِ محمد ﷺ کا ہر متقی شخص۔

امام سخاوی حنفیؒ  نے المقاصد الحسنۃ  (رقم الحدیث 3) میں اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے اس کے بعض شواہد بھی ذکر کیے ہیں مگر سب کے سب ضعیف ہیں۔

صحیح البخاری میں سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا صحیح اور عملی طور پر متواتر حدیث کے مقابلے میں اس ضعیف روایت کو کھڑا نہیں کیاجاسکتا۔واللہ اعلم

Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

Canal Conflict Boosts Water Crisis

The Qur’anic Chronology of Creation

Basics of the Muslim Cosmology

Al-Jazirah: The First Human Settlement

Seven Continents

Robots Redefined: The Evolution Toward Generalized Cognitive Abilities

How to Buy a Robot?

Developing Leadership Skills in University Students