Featured Post
نماز کے بعد اجتماعی دعا کی مشروعیت
- Get link
- X
- Other Apps
نماز کے بعد اجتماعی دعا کی مشروعیت

نماز کے بعد اجتماعی دعا کی مشروعیت
بے شک نماز بجائے خود دعاؤں کا مجموعہ ہے، تاہم جمہور علمائے امت کے نزدیک نماز میں صرف مأثور دعائیں ہی مانگی جاسکتی ہیں وہ بھی عربی زبان میں۔جبکہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نماز میں دنیا کی لذتیں اور آسائشیں طلب کرنے کو جائز نہیں جانتے۔(المغنی) علمائے حنابلہ درج ذیل حدیث رسول ﷺ سے استدلال کرتے ہیں۔:
معاویہ بن الحکم السلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
إنَّ هذه الصلاةَ ، لا يَصلُحُ فيها شيءٌ من كلامِ النَّاسِ ، إنما هو التَّسبيحُ ، و التَّكبيرُ ، و قراءةُ القرآنِ
(صحیح مسلم: رقم 537، سنن ابوداؤد: رقم 930، مسند احمد: رقم 23762)
ترجمہ:
یہ نماز ایسی عبادت ہے جس میں لوگوں کی عام گفتگو کا کوئی حصہ شامل کرنا جائز نہیں۔ اس میں تو بس تسبیح، تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہی ہوتی ہے۔
اب ایسی صورت میں عام آدمی اپنی دنیاوی ضروریات کے لیے دعا کب اور کیسے کرے؟ رسول اکرم ﷺ کے مبارک اسوہ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ فرض نماز کے بعد دعا فرمایا کرتے تھے۔
عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُوْنٍ الْأَوْدِيِّ رضی الله عنه قَالَ : کَانَ سَعْدٌ رضی الله عنه یُعَلِّمُ بَنِيْهِ ھَؤُلَاءِ الْکَلِمَاتِ کَمَا یُعَلِّمُ الْمُعَلِّمُ الْغِلْمَانَ الْکِتَابَةَ، وَیَقُوْلُ : إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ کَانَ یَتَعَوَّذُ مِنْھُنَّ دُبُرَ الصَّلَاةِ : اَللَّھُمَّ، إِنِّي أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوْذُ بِکَ أَنْ أُرُدَّ إِلَی أَرْذَلِ الْعُمْرِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْیَا، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔ فَحَدَّثْتُ بِهِ مُصْعَبًا فَصَدَّقَهُ۔
(صحیح البخاری: رقم 1038)
ترجمہ:
سیدناعمرو بن میمون الْأَوْدِي رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے صاحبزادوں کو ان کلمات کی ایسے تعلیم دیتے تھے جیسے استاد بچوں کو لکھنا سکھاتا ہے اور فرماتے : بیشک رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے بعد ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرتے تھے : اَللَّھُمَّ، إِنِّي أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوْذُ بِکَ أَنْ أُرُدَّ إِلَی أَرْذَلِ الْعُمْرِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْیَا، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ’’اے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں ذلت کی زندگی کی طرف لوٹائے جانے سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور دنیا کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور عذابِ قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ ‘‘(سیدناعمرو بن میمون بیان کرتے ہیں) جب میں نے یہ حدیث سیدنامصعب (بن سعد) کے سامنے بیان کی تو انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ، حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكَرَةَ، أَنَّهُ مَرَّ بِوَالِدِهِ وَهُوَ يَدْعُو وَيَقُولُ اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ، وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، قَالَ: فَأَخَذْتُهُنَّ عَنْهُ، وَكُنْتُ أَدْعُوبِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ: فَمَرَّ بِي وَأَنَا أَدْعُو بِهِنَّ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، أَنَّى عَقَلْتَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ؟ قَالَ: يَا أَبَتَاهُ سَمِعْتُكَ تَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، فَأَخَذْتُهُنَّ عَنْكَ، قَالَ: فَالْزَمْهُنَّ يَا بُنَيَّ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ
(مسند امام احمد: رقم 20447، رواہ الترمذی نحوہ: رقم 3503، اسنادہ صحیح علی شرط مسلم)
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: فِي دُبُرِ الْفَجْرِ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا
(مسند امام احمد: رقم 26521)
ترجمہ:
ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا، موسیٰ بن ابی عائشہ سے، انہوں نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ایک غلام سے، اور انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ نبی ﷺ فجر کی نماز کے بعد (سلام پھیرنے کے بعد) یہ دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! میں تجھ سے نافع علم، مقبول عمل اور پاکیزہ رزق کا سوال کرتا ہوں۔
یہی حدیث سنن ابن ماجہ میں ان الفاظ سے مروی ہے:
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ یَقُوْلُ : إِذَا صَلَّی الصُّبْحَ حِيْنَ یُسَلِّمُ : اَللّٰھُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّـلًا۔
ترجمہ:
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضور نبی اکرم ﷺ صبح کی نماز کے بعد یہ دعا مانگتے
’’اَللّٰھُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا‘‘
اے اللہ! میں تجھ سے علم نافع، پاکیزہ رزق اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں۔
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضی الله عنه قَالَ : قِيْلَ : لِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ أَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ؟ قَالَ : جَوْفَ اللَّيْلِ الْآخِرِ، وَدُبُرَ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوْبَاتِ۔
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ۔ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : ھَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ۔
ترجمہ:
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا گیا کہ کس وقت کی دعا زیادہ قبول کی جاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : رات کے آخری حصے میں (کی گئی دعا) اور فرض نمازوں کے بعد (کی گئی دعا جلد مقبول ہوتی ہے)۔
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ أَخَذَ بِیَدِهِ یَوْمًا ثُمَّ قَالَ : یَا مُعَاذُ، إِنِّي لَأُحِبُّکَ۔ فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي یَا رَسُوْلَ اللهِ، وَأَنَا، وَاللهِ، أُحِبُّکَ۔ قَالَ : أُوْصِيْکَ یَا مُعَاذُ، لاَ تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاةٍ أَنْ تَقُوْلَ : اَللَّھُمُّ أَعِنِّي عَلَی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔
(مسند امام احمد: رقم 22172،سنن ابو داؤد: رقم 1522، سنن النسائی الکبریٰ: رقم 9937)
ترجمہ:
سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک دن ان کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : اے معاذ! میں تم سے محبت کرتا ہوں، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، بخدا میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگنا ہرگز نہ چھوڑنا : اَللَّھُمُّ، أَعِنِّي عَلَی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔ ’’اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اچھی طرح عبادت کی ادائیگی میں میری مدد فرما‘‘
ان احادیث سے واضح ہے کہ نبی ﷺ ہر نماز کے بعد نہ صرف خود دعافرمایا کرتے تھے بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوبھی اس کی تاکید فرمایا کرتے تھے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب نبی ﷺ سلام کے بعد دعا فرمایا کرتے تھے تو کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین انہیں تنہا چھوڑ کر چل دیتے تھے یا وہ بھی دعا میں شامل ہوتے تھے؟
یہی ام سلمہ رضی اللہ عنہا جو نبی ﷺ کی بعد از نماز دعا کی روایت فرما رہی ہیں یہ بھی بیان فرماتی ہیں نبی ﷺ کے سلام کے بعد عورتیں مسجد سے چلی جاتی تھیں، جبکہ نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہیں بیٹھے رہتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ
حَدَّثَتْنِي هِنْدُ ابْنَةُ الْحَارِثِ الْقُرَشِيَّةُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
أَخْبَرَتْهَا أَنَّ النِّسَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ قُمْنَ، وَثَبَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَثَبَتَ مَنْ صَلَّى مِنَ الرِّجَالِ مَا شَاءَ اللهُ، فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَامَ الرِّجَالُ
(مسند اما م احمد: رقم 26688، صحیح البخاری: رقم 866)
ترجمہ:
ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، کہا: ہمیں یونس نے خبر دی، زہری سے، انہوں نے کہا: مجھے ہند بنت حارث قرشیہ نے بتایا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا، جو نبی ﷺ کی زوجہ ہیں، نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں عورتیں جب فرض نماز سے سلام پھیرتی تھیں تو فوراً اٹھ جاتی تھیں، اور رسول اللہ ﷺ ٹھہرے رہتے تھے، اور مرد نمازی بھی (سلام پھیرنے کے بعد) جتنا اللہ چاہتا ٹھہرے رہتے تھے۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ اٹھتے، تب مرد بھی اٹھتے تھے۔
(مسند امام احمد: رقم 17792، سنن ابوداؤد: رقم 1523)
سیدنا عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات (سورۃ الفلق، سورۃ الناس) کے ذریعے دعا مانگا کروں۔
کیا نبی ﷺ نے سلام سے پہلے اور تشہد کے بعد معوذات پڑھنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے؟
ظاہر ہے کہ نبی ﷺ کا یہ مقصود نہیں ہے۔
نبی ﷺ سے ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنا بھی صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ،. وَعَنْ يُونُسَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَ الْكُرَاعُ، وَهَلَكَ الشَّاءُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا. فَمَدَّ يَدَيْهِ وَدَعَا.
(صحیح البخاری: رقم 932)
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے عبد العزیز بن انس نے بیان کیا ، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ( دوسری سند ) اور حماد بن یونس سے بھی روایت کی عبد العزیز اور یونس دونوں نے ثابت سے ، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہو گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مویشی اور بکریاں ہلاک ہو گئیں ( بارش نہ ہونے کی وجہ سے ) آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ بارش برسائے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ پھیلائے اور دعا کی ۔
یہ حدیث مزید تفصیل کے ساتھ اس طرح وارد ہوئی ہے:
قَالَ أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ أَتَى رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْبَدْوِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتِ الْمَاشِيَةُ هَلَكَ الْعِيَالُ هَلَكَ النَّاسُ. فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ يَدْعُو، وَرَفَعَ النَّاسُ أَيْدِيَهُمْ مَعَهُ يَدْعُونَ، قَالَ فَمَا خَرَجْنَا مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى مُطِرْنَا، فَمَا زِلْنَا نُمْطَرُ حَتَّى كَانَتِ الْجُمُعَةُ الأُخْرَى، فَأَتَى الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَشِقَ الْمُسَافِرُ، وَمُنِعَ الطَّرِيقُ.
(صحیح البخاری: رقم 1029)
ترجمہ:
ایوب بن سلیمان نے کہا کہ مجھ سے ابوبکر بن ابی اویس نے بیان کیا ، انہوں نے سلیمان بن بلال سے بیان کیا کہ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا کہ
ایک بدّو( گاؤں کا رہنے والا ) جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! بھوک سے مویشی تباہ ہو گئے ، اہل و عیال اور تمام لوگ مر رہے ہیں ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےدعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ، اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے ہاتھ اٹھائے ، دعا کرنے لگے ، انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابھی ہم مسجد سے باہر نکلے بھی نہ تھے کہ بارش شروع ہو گئی اور ایک ہفتہ برابر بارش ہوتی رہی ۔ دوسرے جمعہ میں پھر وہی شخص آیا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ( بارش بہت ہونے سے ) مسافر گھبرا گئے اور راستے بند ہو گئے ۔
ان احادیث مباکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اجتماعی دعا نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عام معمول تھا، کیونکہ بدو نے اجتماعی دعا کے لیے خصوصی درخواست نہ کی تھی اور نہ ہی نبی ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس موقعہ پر خصوصیت کے ساتھ دعا میں شریک ہونے کے لیے کہا تھا۔نہ تو راوی نے اجتماعی دعا کے کوئی غیر معمولی واقعہ ہونے کی طرف اشارہ تک کیا اور نہ ہی کسی صحابی نے اجتماعی دعا کو غیر معمولی سمجھا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ جب نبی ﷺ اپنے معمول سے ہٹ کر کوئی فعل سرانجام دیتے تو کوئی صحابی تعلم کے لیے اس کے بارے میں استفسار کرلیتا تھا۔ مگر اجتماعی دعا کے مسئلہ میں کسی نے بھی حیرت کا اظہار نہیں کیا بلکہ وہاں موجود سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی ﷺ کی خصوصی تاکید کے بغیر ہی اجتماعی دعا میں شریک ہوگئے۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ان کے لیے کوئی اجنبی عمل نہیں تھا۔ اس لیے یہ دعویٰ درست نہیں ہوسکتا کہ اجتماعی دعا کا یہ واقعہ اپنی طرز کا کوئی انوکھا واقعہ تھا یا یہ کہ صرف دعائے استسقا کے ساتھ ہی مخصو ص تھا۔ پس ثابت ہو اکہ جب بھی نبی ﷺ نماز کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی ان کی دعا میں شریک ہوتے تھے۔ غرض اجتماعی دعا نبی ﷺ کی سنت ہے، اسے بدعت قرار دینا درست نہیں ہے۔
اور نماز کے بعد ذکر اور دعا مستحب ہے۔
امام ابوالخطاب الحنبلیؒ صفۃ الصلوٰۃ بیان کرتے ہوئے سلام (432-510 ھ) کے بعد کے اعمال کے بارے میں فرماتے ہیں:
ثُم يَسْتَقْبِلِ المَأْمُومِيْنَ بِوَجْهِهِ بَعْدَ السَّلاَمِ في الفَجْرِ والعَصْرِ؛ لأنَّهُ لاَ صَلاَةَ بَعْدَهُمَا، ويَقُولُ ((لاَ إِلهَ إلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيْكَ لَهُ يُحْيِي ويُمِيْتُ وَهوَ حَيٌّ لاَ يَمُوتُ، بِيَدِهِ الخَيْرُ وَهوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ خَيْرَ عُمُرِي آخِرَهُ، وخَيْرَ عَمَلِي آخِرَهُ، وخَيْرَ أَيَّامِي يَوْمَ أَلْقَاكَ)) ويَدْعُو بِمَا يَجُوزُ مِنْ أمْرِ الدِّيْنِ والدُّنْيَا.
ترجمہ: پھر وہ (امام) فجر اور عصر کی نماز میں سلام کے بعد مقتدیوں کی طرف چہرہ کرکے بیٹھے کیوں کہ ان نمازوں میں فرض کے بعد کوئی نفل نماز نہیں پڑھی جاتی، اور کہے لاَ إِلهَ إلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيْكَ لَهُ يُحْيِي ويُمِيْتُ وَهوَ حَيٌّ لاَ يَمُوتُ، بِيَدِهِ الخَيْرُ وَهوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ خَيْرَ عُمُرِي آخِرَهُ، وخَيْرَ عَمَلِي آخِرَهُ، وخَيْرَ أَيَّامِي يَوْمَ أَلْقَاكَ اور دین و دنیا کی ہر جائز حاجت کے لیے دعا کرے۔
احادیث میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے اور دعا کے ختم ہونے پر اسے چہرے پر پھیرنے کے مسنون ہونے کے بارے میں متعدد دلائل موجود ہیں، ان دلائل کی بنیاد پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کو بدعت کہنا بھی جائز نہیں۔ دعا میں ہاتھ اٹھانے کی دلیل تو صحیح البخاری کی مذکورہ بالا حدیث میں بھی موجود ہے۔ دعا کے اختتام پر اسے چہرے پر ھیرنے کے درج ذیل دلائل ہیں:
سیدنا سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إن ربکم حي کریم یتسحيٖ من عبدہ إذا رفع یدیه إلیه أن یردھما صفرًا
”بے شک تمہارا رب حیادار اور کریم النفس ہے۔ اس بات سے شرماتا ہے کہ جب اس کا بندہ اس کی طرف دونوں ہاتھ اُٹھائے تو وہ انہیں ناکام اور خالی لوٹا دے۔”
(جامع الترمذی: رقم 105، سنن ابوداؤد: رقم 3865 ، سنن ابن ماجہ: رقم 1488)
امام حاکمؒ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
عَنْ أَبِي مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ، وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا»
سیدنا ابی محیریز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے دعا کیا کرو، ان کی پشت سے دعا نہ کیا کرو۔
(مصنف ابن ابی شیبہ: رقم 29405)
عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه، قال: ” كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رفع يديه في الدعاء لم يحطهما حتى يمسح بهما وجهه
ترجمہ: سیدنا عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں ہاتھ اٹھاتے تھے تو جب تک اپنے دونوں ہاتھ چہرہ مبارک پر پھیر نہ لیتے انہیں نیچے نہ گراتے تھے۔
(جامع الترمذی: رقم 3386)
اس روایت کا راوی حماد بن عیسیٰ الجہنی قدرے ضعیف ہے اور باقی تمام راوی ثقہ ہیں مگر متابعات و شواہد کی موجودگی میں یہ حدیث حسن قرار پاتی ہے۔
ان تمام دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ مستحب کے درجہ میں ہے، اسے بدعت کہنا درست نہیں۔
اب ذرا اجتماعی دعا کے منکرین کے دلائل پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد صرف یہ ذکر پڑھنے تک ہی (قبلہ رخ) بیٹھتے: «اللہم أنت السلام ومنك السلام تباركت ذا الجلال والإكرام» ”اے اللہ! تو ہی سلام ہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے، تو صاحب عظمت و برکت ہے، اے جلال والے اور عزت بخشنے والے!“ ابن نمیر کی روایت میں: «يا ذا الجلال والإكرام» (یا کے اضافے کے ساتھ) ہے۔
(صحیح مسلم: رقم 1335)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی صحٰیح حدیث پہلے گزر چکی کہ نبی ﷺ کے مقدس زمانہ میں خواتین سلام پھیرتے ہی اٹھ کر چلی جاتی تھیں، جبکہ نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسجد میں بیٹھے رہتے تھے۔ بظاہر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سیدہ ام سلہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے متعارض محسوس ہورہی ہے، مگر حقیقتاً ان میں کوئی تعارض نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد یہ ہے کہ نبی ﷺ سلام کے بعد قبلہ رو ہوکر صرف اتنی دیر بیٹھتے تھے جتنی دیر میں اللہم أنت السلام ومنك السلام تباركت ذا الجلال والإكرام پڑھتے تھے۔ یہاں صرف بیتھے کی مقدار مراد نہیں ہے بلکہ قبلہ رو بیٹھنے کی مدت مراد ہے۔
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر پڑھتے تھے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے حتی کہ سورج خوب چمکنے لگتا۔
(صحیح مسلم: رقم 1526)
اب ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کا انکار نہیں کریں گے بلکہ ان تمام احادیث میں جمع و تطبیق کی روش اپنائیں گے۔ لہٰذا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ حدیث سے نبی ﷺ کے قبلہ رو بیٹھے کی مدت مراد لی جائے گی نہ کہ مطلقاً بیٹھنے کی مدت۔ اگر ہم مطلقاً بیٹھنے کی مدت مراد لیں گے تو اس سے دوسری احادیث کا انکار لازم آئے گا۔
لہذا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے یہ اخذ کرنا کہ چونکہ نبی ﷺ سلام کے فوراً بعد اٹھ جاتے تھے اس لیے نماز کے بعد کی اجتماعی دعا ثابت نہیں ہوتی، درست رائے نہیں ہے۔
عن انس بن مالك، قال:” كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يرفع يديه في شيء من دعائه إلا في الاستسقاء، وإنه يرفع حتى يرى بياض إبطيه”.
ترجمہ: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعائے استسقاء کے سوا اور کسی دعا کے لیے ہاتھ (اتنا اونچا) نہیں اٹھاتے تھے جتنا کہ استسقاء(بارش کی نماز) میں ہاتھ اٹھاتے یہاں کہ آپکی بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی۔
(صحیح البخاری: رقم 1031، صحیح مسلم: رقم 2076)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو سمجھنے میں بھی منکرین دعا کو بہت بڑا مغالطہ ہوا ہے۔ اس حدیث میں مطلقاً ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ یہاں دو احتمال ہیں:
1۔ نبی ﷺ نے استسقا می نماز میں ہاتھ اتنے زیادہ بلند کیے کہ آپ کسی اور موقع پر ہاتھ اتنے زیادہ بلند نہیں فرماتے تھے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش مانگنے کے لیے دعا فرمائی تو اپنے ہاتھوں کی پشت کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا۔
(صحیح مسلم: رقم 2075)
سنن ابوداؤد (رقم 1171) میں الفاظ یوں ہیں:
عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم” كان يستسقي هكذا، يعني، ومد يديه وجعل بطونهما مما يلي الارض حتى رايت بياض إبطيه”.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقا میں اس طرح دعا کرتے تھے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتے اور ان کی پشت اوپر رکھتے اور ہتھیلی زمین کی طرف یہاں تک کہ میں نے آپ کے بغلوں کی سفیدی دیکھی۔
ہماری رائے میں دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے۔ یعنی نبی ﷺ نے نماز استسقا کے سوا کسی موقع پر ہاتھوں کی پشت آسمان کی طرف کرکے دعا نہیں فرمائی بلکہ عام معمول ہتھیلیوں سے دعا فرمانے کا تھا۔ لہٰذا سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب مذکورہ جملے کا مقصد دعا میں مطلقاً رفع الیدین کا انکار کرنا نہیں ہے بلکہ طرزِ رفع کی طرف اشارہ مقصود ہے۔
اب ایک مجمل اور نامکمل جملے سے اتنا بڑا حکم لاگو کرنا جس سے باقی صحیح احادیث کا انکار لازم آئے کسی صاحبِ ایمان کو زیب نہیں دیتا۔واللہ اعلم بالصواب
- Get link
- X
- Other Apps
Categories of Topics
Categories of Topics
- Anthropology
- Anthropomorphism
- Aqidah
- Arabian Peninsula
- Arabic Language
- Arabs
- Archaeology
- Artificial Intelligence
- Asia
- Astronomy
- Atheism
- Australia
- Bangladesh
- Barzakh
- Big Bang Theory
- Biography
- Biology
- Black Hole
- Budhism
- cardiac health
- Catholic Church
- Charity
- Chemistry
- China
- Christianity
- Civil Law
- Climate Change
- Continents
- Cosmology
- Criminal Law
- Crypto-Politics
- Cryptocurrency
- CSS
- CSS Essays
- CSS Exams
- Current Account Deficit
- Current Affairs
- Cyber
- Dajjal
- Daleel at-Talib
- Dan Gibson’s Theory
- Dark Energy
- Deepfake technology
- Deforestation
- Deism
- digital firewall
- Distinctive Aspects of Islam
- Divine Remembrance
- Dragons and Dinosaurs
- Earthquakes
- Eclipse
- Ecology
- Economy
- Education
- Egypt
- Eid-ul-Fitr
- Elon Musk
- Emotional Intelligence
- Energy
- Energy Crisis
- Environment
- Eschatology
- Esfahan
- Europe
- Evolution
- Evolution of Stars
- Family Law
- Fasting
- Feminism
- Fiqh
- Food Law
- Funerals
- Galaxy
- Gaza
- General Knowledge
- Genes
- Genetics
- Genital Worship
- Genocide Convention
- Geography
- Geology
- Geopolitics
- Global Affairs
- Global Crisis
- Global Warming
- Globalization
- Golden Bird
- Gravity
- Hadith
- Hajj
- Hajj Rituals
- Halal and Haram
- Halal Food
- Hanafi
- Hanbali
- Hanbali Aqidah
- Hanbali Madhab
- Hashimi Fiqh
- Hayy ibn Yaqzan
- health
- Heer Ranjha
- Highest Mountains
- Hijab
- Hindu Mythology
- History
- Holography
- Holy Scriptures
- Homosexuality
- Human
- Human Rights
- Ibn Sina’
- Ibn Taymiyyah
- Imam Ahmad bin Hanbal R.A
- Imam Al-Mahdi
- Imam Ali
- Impact on Society
- India
- Indonesia
- International Affairs
- International Law
- International Relations
- Iran
- Iran's Economy
- Islam
- Islamic Beliefs
- Islamic Civilization
- Islamic eschatology
- Islamic Festivals
- Islamic Golden Age
- Islamic History
- Islamic Laws
- islamic medicine
- Islamic Rituals
- Islamic Social System
- Islamic values
- Islamic worship
- Islamophobia
- Jesus
- Jewish eschatology
- Kabbalah
- Karbala
- Kings of Egypt
- Languages
- Largest Deserts
- Largest Lakes
- Leadership Skills
- LGBT Pride
- Lithium
- litrature
- Longest Rivers
- Lunar Cataclysm
- Makkah
- Maliki
- Mathematical Cartography
- Mathematics
- Microplastic
- Milky Way
- Modern World
- Music
- Muslim Cosmology
- Muslim History
- Muslim Parenting
- Muslim Ummah
- Mysterious sagas
- Neuralink
- Neurochemistry
- Neurology
- Neuroscience
- North America
- Oceans
- Organic Evolution
- PAF
- Pakistan
- Pakistan Affairs
- Pakistan’s Constitution
- Palestine
- Pedagogy
- Petroleum Warehouses
- Philosophy
- Phsycology
- Physics
- Political Science
- Politics
- Populism
- Pornography
- Poverty
- Pragmatic Theory of Truth
- Prophet Adam
- Prophet Ibrahim
- Prophet Muhammad (PBUH)
- Prophet Yousuf (AS)
- Prophethood
- Psychology
- Public Administration
- Punjab Government
- Quantum Computing
- Quantum Physics
- Qur'an
- Quran
- Rape
- Red Heifer
- Robointelligence
- Sahabah
- Salah
- Saudi Arabia
- Sawm
- Science
- Seerah
- SeismoAlert
- Seismology
- Self-Purification
- Shafi'ee
- Shariah
- Shaytan
- slamic morality
- Slavery
- Smoking
- Social Media
- Solar Eclipse
- Solar System
- South America
- Space
- Space Solar
- Spiritual Impact of Hajj
- Spiritual Impacts
- Sunnah
- SWOT Analysis
- Tafsir
- Taghut
- Tawhid
- Tazkiyah
- Technology
- Technonlogy
- Terrorism
- testing
- The Earth
- The Gays of Gomorrah
- The Hebrew Hajirah
- The James Webb Space Telescope
- The Messiah
- The solar cycle
- The Structure of Ka’abah
- The Sun
- The Universe
- Time Travelling
- Trading
- Transparency International (TI)
- Travelling
- Truth
- Tsunami
- Turkestan
- Turkey
- U.S.-Saudi petrodollar pact
- Umrah
- Unemployment
- United Nations Organization
- Universal Hijri Calendar
- Urdu
- Usul
- Volcanic erruption
- Wahhabism
- War
- Waris Shah
- Waterfalls
- Weather Forecasting
- West
- Wildlife
- Wisdom
- Ya’juj and Ma’juj
- Zakat
- Zakat al-Fitr
- Zamzam Well
- Zionism