Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

تابوتِ سکینہ کی حقیقت

تابوتِ سکینہ

تابوت سکینہ کیا ہے؟

اسلامی روایات اور تفاسیر کے مطابق تابوت سکینہ ایک بابرکت صندوق یا تابوت تھا جو بنی اسرائیل کو اللہ کی طرف سے عطا کیا گیا تھا۔ اس کا ذکر قرآن مجید میں سورۃ البقرۃ (آیت 248) میں موجود ہے:

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَىٰ وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

ترجمہ:
"اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اس کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس تابوت آئے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے سکون اور تسلی ہے اور وہ باقی ماندہ چیزیں ہیں جو موسیٰ اور ہارون کے گھرانے چھوڑ گئے تھے، اور اسے فرشتے اٹھا لائیں گے۔ یقیناً اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔”

تابوت سکینہ کی خصوصیات و اہمیت:

  1. سکون و اطمینان (سکینہ):
    اس صندوق میں اللہ کی طرف سے سکون و اطمینان کی کیفیت نازل ہوتی تھی۔ جب بنی اسرائیل کسی جنگ یا مشکل میں گھبراتے، تابوت سامنے آتا تو ان کے دل مطمئن ہو جاتے۔
  2. آلِ موسیٰ و ہارون کی یادگاریں:
    اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کی کچھ تبرکات محفوظ تھیں۔ مفسرین نے مختلف چیزوں کا ذکر کیا ہے جیسے:
    • سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا عصا (ڈنڈا)
    • سیدنا ہارون علیہ السلام کا عمامہ
    • تورات کی کچھ تختیاں
    • من (وہ کھانا جو آسمان سے نازل ہوتا تھا)
    • سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی لوحیں یا کچھ کپڑے
  3. فرشتوں کی نگرانی:
    قرآن کے مطابق یہ تابوت فرشتوں کے ذریعے بنی اسرائیل کے پاس لایا گیا۔ اس سے اس کی عظمت اور غیر معمولی حیثیت ظاہر ہوتی ہے۔

تاریخی پس منظر:

  • تابوت سکینہ کی ابتداء
    سب سے پہلی روایت یہ ہے کہ یہ صندوق سیدنا آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا تھا۔
    پھر یہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا، یہاں تک کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو ملا۔
    بعد ازاں یہ بنی اسرائیل کے انبیاء کے پاس رہا، اور ان کی تبرکات اس میں رکھے جاتے رہے۔

    تابوت میں موجود اشیاء
    مفسرین کے مطابق اس تابوت میں مختلف انبیاء کی یادگاریں اور تبرکات محفوظ تھے، مثلاً:
    سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا عصا
    سیدنا ہارون علیہ السلام کا عمامہ
    تورات کی تختیاں
    آسمانی کھانے من کے ٹکڑے
    سیدنا یوسف علیہ السلام کی قمیص
    اور دیگر تبرکات
    یہ چیزیں بنی اسرائیل کے لیے بہت بڑی علامت اور اللہ کی نصرت کا ذریعہ تھیں۔

    بنی اسرائیل اور تابوت کی برکت
    جب بھی بنی اسرائیل جنگ کے لیے نکلتے تو یہ تابوت لشکر کے آگے رکھا جاتا۔
    اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ ان کو سکون، اطمینان اور فتح عطا فرماتا۔
    اسی لیے قرآن نے کہا کہ "اس میں تمہارے رب کی طرف سے سکینت ہے” (البقرہ: 248)۔

    تابوت کا چھن جانا
    جب بنی اسرائیل نے گناہ، سرکشی اور انبیاء کی نافرمانی شروع کی، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عمالقہ کو مسلط کیا۔
    انہوں نے بنی اسرائیل کو شکست دی، قتل و قید کیا اور تابوتِ سکینہ چھین لیا۔

    عمالقہ پر عذاب اور تابوت کی واپسی
    جب عمالقہ تابوت لے گئے تو اللہ نے ان پر طرح طرح کی آزمائشیں اور عذاب مسلط کیے۔
    ان کی بستیاں تباہ ہوئیں، بیماریاں پھیلیں، حتیٰ کہ وہ تابوت رکھنے سے عاجز آگئے۔
    آخرکار انہوں نے اسے بیل گاڑی پر رکھ کر بنی اسرائیل کی بستیوں کی طرف چھوڑ دیا۔
    فرشتے پسِ پردہ اس سارے عمل میں کارفرما تھے۔ اسی لیے قرآن میں آیا کہ:
    "تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ” — فرشتے اسے اٹھا لائیں گے۔

    طالوت کی بادشاہت کی دلیل
    بنی اسرائیل کے نبی (روایات میں حضرت شموئیل علیہ السلام) نے اعلان کیا کہ طالوت کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تابوت تمہیں واپس مل جائے گا۔
    جب تابوت لوٹ آیا تو بنی اسرائیل نے طالوت کی بادشاہت کو تسلیم کرلیا۔

    حضرت داؤد علیہ السلام اور جالوت کا قتل
    طالوت کے لشکر میں حضرت داؤد علیہ السلام بھی شامل تھے۔
    انہوں نے اپنی بہادری سے جالوت کو قتل کیا۔
    اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت، بادشاہت اور علم عطا فرمایا۔

    ہیکل سلیمانی اور تابوت
    سیدنا داؤد علیہ السلام نے اللہ کی عبادت کے لیے ایک عظیم الشان عبادت گاہ کی بنیاد رکھی۔
    سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کو شان و شوکت بخشی۔
    جنات اور انسان اس کی تعمیر میں کام کرتے تھے۔
    یہی مسجد بعد میں ہیکل سلیمانی کہلائی، لیکن حقیقت میں یہ وہی مسجد بیت المقدس ہے جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔
    رسول اللہ ﷺ کو معراج کی رات اسی مسجد (بیت المقدس) سے آسمانوں کی طرف لے جایا گیا۔

    معلوم ہوا کہ
    تابوت سکینہ ایک ایسا بابرکت صندوق تھا جو سیدنا آدم علیہ السلام سے نسل در نسل چلا۔
    اس میں انبیاء کے تبرکات اور اللہ کی نشانیوں کا ذخیرہ تھا۔
    یہ بنی اسرائیل کے لیے اللہ کی نصرت اور فتح کی علامت تھا۔
    ان کی نافرمانی پر یہ چھن گیا، لیکن طالوت کے زمانے میں معجزانہ طور پر واپس ملا۔
    اس کی واپسی طالوت کی بادشاہت کی علامت اور سیدنا داؤد علیہ السلام کے ظہور کا پیش خیمہ بنی۔
    اور بالآخر یہ بیت المقدس میں ہیکل سلیمانی کے ساتھ وابستہ رہا۔

اسلامی اور یہودی روایات میں فرق:

  • یہودی عقائد اور روایات میں تابوت سکینہ (Ark of the Covenant) ایک مرکزی اور مقدس شے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے ہاں یہ یقین پایا جاتا ہے کہ جب وہ دوبارہ اس تابوت کو حاصل کرلیں گے تو سیدناسلیمان علیہ السلام (King Solomon) کی عظیم الشان سلطنت جیسی شان و شوکت اور طاقت دوبارہ قائم کرسکیں گے۔

یہودی عقیدہ اور تابوت سکینہ

  1. سیدنا داؤد و سیدنا سلیمان کی سلطنت کی یاد
    • یہودی عقیدے کے مطابق داؤد اور سلیمان علیہم السلام کا دور ان کی تاریخ کا سنہری دور تھا، جب بنی اسرائیل سیاسی اور مذہبی لحاظ سے طاقتور تھے۔
    • وہ سمجھتے ہیں کہ اس طاقت اور روحانی جلال کی بنیاد تابوت سکینہ تھا، جو ہیکل (Temple) میں رکھا ہوا تھا۔
  2. تابوت اور خدا کی موجودگی
    • یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ تابوت میں "سکینہ” (Shekhinah = خدا کی موجودگی/روحانی جلال) موجود تھی۔
    • جس قوم کے پاس یہ تابوت ہو، وہ خدا کی براہِ راست تائید یافتہ ہے۔
  3. مسیحا (Messiah) اور تابوت
    • یہودی روایات کے مطابق جب مسیحا (یعنی ان کے نجات دہندہ) کا ظہور ہوگا تو وہ تابوت سکینہ کو دوبارہ دریافت کرے گا۔
    • تب یروشلم میں تیسرا ہیکل (Third Temple) تعمیر ہوگا اور سیدنا داؤد و سیدنا سلیمان علیہما اسلام کی طرز پر ایک عالمی یہودی سلطنت قائم ہوگی۔

موجودہ صیہونی سوچ

  • صیہونی تحریک اور مذہبی یہودی آج بھی تابوت سکینہ کی تلاش میں ہیں۔
  • ان کا عقیدہ ہے کہ اگر یہ مل گیا تو یہ ان کے لیے سیاسی و مذہبی برتری کی علامت ہوگا۔
  • اسی لیے بیت المقدس (القدس) میں "Temple Mount” کے نیچے کھدائی اور آثار قدیمہ کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں، تاکہ ہیکل سلیمانی اور ممکنہ تابوت سکینہ کے نشانات مل سکیں۔

اسلامی تناظر

مفسرین کے مطابق اب یہ غائب ہے اور اس کا دوبارہ ظاہر ہونا آخری زمانے میں امام مہدی اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں ہوگا، نہ کہ یہودیوں کے قبضے میں آئے گا۔

Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

Canal Conflict Boosts Water Crisis

The Qur’anic Chronology of Creation

Basics of the Muslim Cosmology

Al-Jazirah: The First Human Settlement

Seven Continents

Robots Redefined: The Evolution Toward Generalized Cognitive Abilities

How to Buy a Robot?

Developing Leadership Skills in University Students