تابوت سکینہ کی ابتداء
سب سے پہلی روایت یہ ہے کہ یہ صندوق سیدنا آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا تھا۔
پھر یہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا، یہاں تک کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو ملا۔
بعد ازاں یہ بنی اسرائیل کے انبیاء کے پاس رہا، اور ان کی تبرکات اس میں رکھے جاتے رہے۔
تابوت میں موجود اشیاء
مفسرین کے مطابق اس تابوت میں مختلف انبیاء کی یادگاریں اور تبرکات محفوظ تھے، مثلاً:
سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا عصا
سیدنا ہارون علیہ السلام کا عمامہ
تورات کی تختیاں
آسمانی کھانے من کے ٹکڑے
سیدنا یوسف علیہ السلام کی قمیص
اور دیگر تبرکات
یہ چیزیں بنی اسرائیل کے لیے بہت بڑی علامت اور اللہ کی نصرت کا ذریعہ تھیں۔
بنی اسرائیل اور تابوت کی برکت
جب بھی بنی اسرائیل جنگ کے لیے نکلتے تو یہ تابوت لشکر کے آگے رکھا جاتا۔
اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ ان کو سکون، اطمینان اور فتح عطا فرماتا۔
اسی لیے قرآن نے کہا کہ "اس میں تمہارے رب کی طرف سے سکینت ہے” (البقرہ: 248)۔
تابوت کا چھن جانا
جب بنی اسرائیل نے گناہ، سرکشی اور انبیاء کی نافرمانی شروع کی، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر
عمالقہ کو مسلط کیا۔
انہوں نے بنی اسرائیل کو شکست دی، قتل و قید کیا اور تابوتِ سکینہ چھین لیا۔
عمالقہ پر عذاب اور تابوت کی واپسی
جب عمالقہ تابوت لے گئے تو اللہ نے ان پر طرح طرح کی آزمائشیں اور عذاب مسلط کیے۔
ان کی بستیاں تباہ ہوئیں، بیماریاں پھیلیں، حتیٰ کہ وہ تابوت رکھنے سے عاجز آگئے۔
آخرکار انہوں نے اسے بیل گاڑی پر رکھ کر بنی اسرائیل کی بستیوں کی طرف چھوڑ دیا۔
فرشتے پسِ پردہ اس سارے عمل میں کارفرما تھے۔ اسی لیے قرآن میں آیا کہ:
"تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ” — فرشتے اسے اٹھا لائیں گے۔
طالوت کی بادشاہت کی دلیل
بنی اسرائیل کے نبی (روایات میں حضرت شموئیل علیہ السلام) نے اعلان کیا کہ طالوت کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تابوت تمہیں واپس مل جائے گا۔
جب تابوت لوٹ آیا تو بنی اسرائیل نے طالوت کی بادشاہت کو تسلیم کرلیا۔
حضرت داؤد علیہ السلام اور جالوت کا قتل
طالوت کے لشکر میں حضرت داؤد علیہ السلام بھی شامل تھے۔
انہوں نے اپنی بہادری سے جالوت کو قتل کیا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت، بادشاہت اور علم عطا فرمایا۔
ہیکل سلیمانی اور تابوت
سیدنا داؤد علیہ السلام نے اللہ کی عبادت کے لیے ایک عظیم الشان عبادت گاہ کی بنیاد رکھی۔
سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کو شان و شوکت بخشی۔
جنات اور انسان اس کی تعمیر میں کام کرتے تھے۔
یہی مسجد بعد میں ہیکل سلیمانی کہلائی، لیکن حقیقت میں یہ وہی مسجد بیت المقدس ہے جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو معراج کی رات اسی مسجد (بیت المقدس) سے آسمانوں کی طرف لے جایا گیا۔
معلوم ہوا کہ
تابوت سکینہ ایک ایسا بابرکت صندوق تھا جو سیدنا آدم علیہ السلام سے نسل در نسل چلا۔
اس میں انبیاء کے تبرکات اور اللہ کی نشانیوں کا ذخیرہ تھا۔
یہ بنی اسرائیل کے لیے اللہ کی نصرت اور فتح کی علامت تھا۔
ان کی نافرمانی پر یہ چھن گیا، لیکن طالوت کے زمانے میں معجزانہ طور پر واپس ملا۔
اس کی واپسی طالوت کی بادشاہت کی علامت اور سیدنا داؤد علیہ السلام کے ظہور کا پیش خیمہ بنی۔
اور بالآخر یہ بیت المقدس میں ہیکل سلیمانی کے ساتھ وابستہ رہا۔