The Qur’anic Chronology of Creation

اسلامی فقہ کا علمی ذخیرہ امت مسلمہ کی فکری اور عملی زندگی کی بنیاد ہے۔ قرآن و سنت سے ماخوذ احکام کو فقہا نے زمان و مکان کی ضروریات کے مطابق منظم، مدون اور مرتب کیا۔ اس عظیم فقہی ورثے میں کچھ کتب ایسی ہیں جو صدیوں کے فاصلے پر بھی اپنی روشنی اور اثرات قائم رکھے ہوئے ہیں۔ انہی میں سے ایک عظیم اور ہمہ گیر تصنیف ’’المغنی‘‘ ہے، جو امام موفق الدین ابن قدامہ المقدسیؒ (547ھ–620ھ) کی علمی کاوش ہے۔ یہ کتاب نہ صرف فقہِ حنبلی بلکہ مجموعی طور پر فقہ اسلامی کی نمایاں ترین کتب میں شمار کی جاتی ہے۔
امام ابن قدامہؒ کا پورا نام موفق الدین عبداللہ بن احمد بن محمد بن قدامہ المقدسی ہے۔ آپ 547ھ میں فلسطین کے قصبہ ’’جماعیل‘‘ میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کے لیے دمشق اور پھر بغداد کا سفر کیا۔ آپ نے شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اور دیگر جلیل القدر علما سے استفادہ کیا۔ آپ زہد و تقویٰ، عبادت و علم اور فقہی بصیرت میں اپنی مثال آپ تھے۔ ان کی علمی شخصیت کا سب سے بڑا مظہر ’’المغنی‘‘ ہے جو فقہ اسلامی کے ذخیرے میں ایک بلند پایہ اضافہ ہے۔
’’المغنی‘‘ دراصل مختصر الخرقی کی شرح ہے۔ مختصر الخرقی، امام ابوالقاسم عمر بن حسین الخرقیؒ (م 334ھ) کی تالیف ہے۔ یہ کتاب فقہِ حنبلی کا نہایت مختصر مگر جامع متن ہے، جس میں فقہ کے تمام بنیادی ابواب کو نہایت اجمال کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ابن قدامہؒ نے اسی متن کو بنیاد بنا کر ایک وسیع اور دلائل سے مزین شرح لکھی، جو ’’المغنی‘‘ کہلائی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ مختصر الخرقی بیج تھا اور المغنی اس کا تناور درخت۔
چوتھی اور پانچویں صدی ہجری میں فقہی مذاہب کی تدوین کا عمل مکمل ہو چکا تھا۔ ہر مکتبِ فکر کی بنیادی کتب اور اصول متعین تھے۔ لیکن ضرورت اس امر کی تھی کہ ایسی کتاب تصنیف کی جائے جو نہ صرف فقہ حنبلی کے مسائل بیان کرے بلکہ ان پر دلائل بھی فراہم کرے اور دیگر مکاتب فکر کے آرا سے بھی تقابلی انداز میں بحث کرے۔ ابن قدامہؒ نے اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ’’المغنی‘‘ کو مرتب کیا۔
’’المغنی‘‘ کئی ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ مختلف مطبوعات میں جلدوں کی تعداد مختلف ہے:
ہر جلد تقریباً 500 صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب کے ابواب فقہ اسلامی کے عمومی ابواب کے مطابق ترتیب دیے گئے ہیں:
اس ترتیب سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابن قدامہؒ نے فقہ کو ایک مکمل ضابطے کی شکل میں پیش کیا۔
المغنی فقہ اسلامی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ اس میں عبادات کے دقیق مسائل سے لے کر جدید نوعیت کے تجارتی اور معاشرتی معاملات تک سب شامل ہیں۔
ابن قدامہؒ نے ہر مسئلہ واضح طور پر بیان کیا، پھر اس پر دلائل فراہم کیے، اور اگر مختلف آرا موجود ہیں تو ان کا بھی ذکر کیا۔ یوں قاری کو ایک منظم انداز میں مسئلے کی مکمل تصویر ملتی ہے۔
ابن قدامہؒ نے قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس کے اصولی مصادر سے استدلال کیا۔ مثال کے طور پر نکاح کے باب میں وہ قرآن کی آیات، احادیث اور صحابہ کے اقوال سب کو بنیاد بناتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فقہ محض روایت نہیں بلکہ دلیل و استدلال کا نام ہے۔
اگرچہ ’’المغنی‘‘ بنیادی طور پر فقہ حنبلی کی کتاب ہے، لیکن اس میں حنفی، شافعی اور مالکی اقوال بھی بیان کیے گئے ہیں۔ بعض مقامات پر ابن قدامہؒ ان آرا پر تبصرہ کرتے ہیں، بعض جگہ خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ اس سے ’’المغنی‘‘ کو ایک تقابلی فقہ (فقہ مقارن) کا ذائقہ بھی حاصل ہو گیا ہے۔
المغنی پر بعد کے علما نے شروح، حواشی اور تعلیقات لکھیں۔ یہ کتاب حنبلی فقہ کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔ صرف حنبلی علما ہی نہیں بلکہ دیگر مکاتب فکر کے محققین بھی اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
المغنی بذاتِ خود ’’کتاب الفتاویٰ‘‘ نہیں، بلکہ ایک مرجع ہے۔ تاہم، اس کی جامعیت اور دلائل پر مبنی منہج کی وجہ سے مفتیانِ کرام اس سے استفادہ کرتے ہیں۔ جب کسی مسئلے میں فتویٰ دینا ہو تو مفتی اس میں موجود مباحث سے رہنمائی لے کر اپنا اجتہاد کرتا ہے۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ فقہ اسلامی میں اجتہاد کی بنیادی شرط یہ ہے کہ محقق نصوصِ شرعیہ سے براہِ راست استدلال کرے۔ المغنی اس استدلال کے لیے ایک علمی خزانے کا درجہ رکھتی ہے۔
اگرچہ یہ کتاب فقہ حنبلی کی بنیاد ہے، لیکن دیگر فقہی مکاتب کے علما نے بھی اس سے استفادہ کیا۔ اس کی چند وجوہات ہیں:
یہی وجہ ہے کہ ’’المغنی‘‘ کو فقہ اسلامی کے عمومی ذخیرے میں ایک اہم حوالہ سمجھا جاتا ہے۔
دنیا کے بڑے اسلامی جامعات اور مدارس میں ’’المغنی‘‘ کو نصاب کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ، جامعہ الازہر قاہرہ، اور کئی برصغیری مدارس میں اس کے منتخب ابواب پڑھائے جاتے ہیں۔ عصر حاضر میں پی ایچ ڈی سطح کی فقہی تحقیقات میں بھی ’’المغنی‘‘ کا حوالہ بنیادی مراجع میں شامل ہوتا ہے۔
آج کے دور میں جہاں اسلامی قانون کو جدید مسائل پر منطبق کرنے کی ضرورت ہے، وہاں ’’المغنی‘‘ ایک رہنما کتاب ہے۔ مثال کے طور پر:
ان سب میں ’’المغنی‘‘ سے براہِ راست استدلال اور رہنمائی ممکن ہے۔
المغنی فقہ اسلامی کا ایک ایسا شاہکار ہے جس نے نہ صرف فقہ حنبلی کو مضبوط بنیاد فراہم کی بلکہ فقہی دنیا میں ایک نئی جہت پیدا کی۔ اس میں دلائل کی روشنی، تقابلی فقہ کا ذائقہ، اور جامعیت کی جھلک سب کچھ موجود ہے۔ آج بھی یہ کتاب مفتیان، محققین، اور طلبہ کے لیے ایک ایسا علمی سرمایہ ہے جس سے استفادہ کیے بغیر کوئی بھی فقہی تحقیق مکمل نہیں ہو سکتی۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ ’’المغنی‘‘ اسلامی فقہ کی ایک زندہ روایت اور دائمی سرمایہ ہے، جو امت مسلمہ کو دلیل و اجتہاد کی راہ پر استوار کرتا ہے۔