Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

کیا اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا؟

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا : اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان کی مخصوص ہیت پرپیداکیا، ان (کے قد) کی لمبائی ساٹھ ہاتھ (90 فٹ)تھی۔

از قلم ساجد محمود انصاری

قرآن حکیم سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات و صفات میں بے مثال اور یکتا و یگانہ ہے۔اسی لیے اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی مخلوق سے تشبیہہ دینا کفر ہے۔جو گمراہ لوگ اللہ تعالیٰ کو مخلوق سے تشبیہہ دیتے ہیں انہیں مجسمہ کہا جاتا ہے۔

یہودونصاریٰ بھی مجسمہ ہیں کیوں کہ ان کی تحریف شدہ تورات کی پہلی کتاب (کتاب پیدائش کے باب اول)) میں لکھا ہے کہ خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔

صحیحین میں مذکور ایک حدیث سے ایسا ہی مفہوم کشید کرنے کی کوشش کی جاتی ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا

 سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا : اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان کی مخصوص ہیت پرپیداکیا، ان (کے قد) کی لمبائی ساٹھ ہاتھ (90 فٹ)تھی۔

(صحیح البخاری: رقم 6227، صحیح مسلم: رقم 2841)

حدیث کے ابتدائی الفاظ بظاہر تورات کے مذکورہ بالا الفاظ سے ملتے جلتے ہیں مگر حقیقت کے اعتبار سے ان میں کوئی مماثلت نہیں بلکہ یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو  معجزانہ طور پر بالکل منفرد طریقے سےپیدا فرمایا۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو پہلے ننھا سا بچہ ہوتا ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی جسامت میں اضافہ ہوتا ہے، مگر  اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو جب پیدا فرمایا تو ایک ایسے  جوان کی ہیئت میں پیدا فرمایا  جس کا قد ساٹھ ہاتھ یعنی 90 فٹ تھا۔ اس حدیث سے یہ مطلب ہرگز نہیں نکلتا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنی ذاتی صورت پر پیدا فرمایا تھا۔ واللہ باللہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔

بعض مسلم علما نے اس حدیث کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ انسان خدا کا پرتو ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے یہ دعویٰ یہودونصاریٰ سے مستعار لیا ہے۔ اگرچہ وہ اپنے اس دعویٰ کی تاویل بھی کرتے ہیں کہ اس سے ان کی مراد خدا اور انسان کی صفات میں ظاہری مشابہت ہے، یعنی خدا بھی دیکھتا اور سنتا ہے انسان بھی دیکھتا اور سنتا ہے۔ جبکہ دونوں کے دیکھنے اور سننے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

مزید دریافت کریں
Islam
E-Books
Books & Literature

واضح رہے کہ مذکورہ حدیث مبارکہ سے یہ قطعی ثابت نہیں ہوتا کہ انسان خدا کا پرتو ہے، کیوں کہ یہاںسیدنا آدم علیہ السلام  کو ان کی مخصوص ہیئت پر تخلیق کرنا مراد ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کی صورت پر۔جن علما نے سیدنا آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی صورت  پر پیدا کیے جانے والے مطلب کو درست سمجھا ہے بلکہ اس مطلب کے انکار کو کفر کہا ہے ہمارے نزدیک ان کی رائے درست نہیں۔تاہم ان کی تاویل کی وجہ سے ان کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔

امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی طرف بھی یہ قول منسوب کیا گیا ہے کہ وہ خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ میں ضمیر ہا کا مرجع  اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے۔ امام احمدبن حنبل ؒ مجسمہ ہرگز نہیں تھے  بلکہ تجسیم کو کفر قرار دیتے تھے۔ لہٰذا یقیناً وہ بھی اپنے اس قول کے ظاہری معانی کی تاویل فرماتے تھے۔جیسا کہ امام قاضی ابو یعلیٰ الحنبلیؒ ابطال التاویلات میں فرماتے ہیں:
ويطلق القول فِي صورة آدم عَلَى صورته سُبْحَانَهُ لا عَلَى طريق التشبيه فِي الجسم والنوع والشكل والطول لأن ذَلِكَ مستحيل فِي صفاته

اور نبی ﷺ کے قول کی یہ مراد کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا تھا، سے ہماری مراد ان کے جسم، نوع، شکل یا قد کاٹھ میں مشابہت ہرگز نہیں ہے کیوں کہ اس سے صفات باری تعالیٰ میں استحالہ پیدا ہوتا ہے۔

(ابطال التاویلات، قاضی ابو یعلیٰ الحنبلیؒ: جلد 1، صفحہ 82)

 امام قاضی ابو یعلیٰ الحنبلی ؒ کے اس قول سے ثابت ہوتا ہے کہ امام احمد بن حنبل ؒ مذکورہ بالا حدیث کی تاویل فرمایا کرتے تھے، کیونکہ اگر ضمیر کو اللہ تعالی کی طرف راجع مان کر ظاہری معنیٰ مانا جائے تو تشبیہہ لازم آتی ہے، مگر قاضی ابو یعلیٰ ؒ نے صراحت کردی ہے کہ وہ اس کا ظاہری معنیٰ مراد نہیں لیتے، لہٰذاہمارے نزدیک  اس قول کی بنیاد پر امام احمد بن حنبل ؒ  یا حنابلہ کی تکفیر جائز نہیں کیوں کہ وہ تجسیم کے قائل ہی نہیں ہیں۔

Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

Canal Conflict Boosts Water Crisis

The Qur’anic Chronology of Creation

Basics of the Muslim Cosmology

Al-Jazirah: The First Human Settlement

Seven Continents

Robots Redefined: The Evolution Toward Generalized Cognitive Abilities

How to Buy a Robot?

Developing Leadership Skills in University Students