The Earth Is Shrinking

نماز وتر کا مسنون طریقہ
وفي الثانية {سَبَّحَ}
{قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ}
وفي الثالثة
{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}
ويسن أن يقنت فيها جميع السنة بعد الركوع وإن كبر ورفع يديه ثم قنت قبله جاز فيرفع يديه إلى صدره يبسطهما وبطونهما نحو السماء ومن أدرك مع الإمام منها ركعة فإن كان الإمام سلم من اثنتين أجزأ وإلا قضى كصلاة الإمام ويقول في قنوته جهرا إن كان إماما أو منفردا نصا وقياس المذهب يخير المنفرد في الجهر وعدمه كالقراءة اللهم إنا نستعنيك ونستهديك ونستغفرك ونتوب إليك ونؤمن بك ونتوكل عليك ونثني عليك الخير كله ونشكرك ولا نكفرك اللهم إياك نعبد ولك نصلي ونسجد وإليك نسعى ونحفد نرجو رحمتك ونخشى عذابك إن عذابك الجد بالكفار ملحق اللهم اهدنا فيمن هديت وعافنا فيمن عافيت وتولنا فيمن توليت وبارك لنا فيما أعطيت وقنا شر ما قضيت إنك سبحانك تقضي ولا يقضى عليك إنه لا يذل من واليت ولا يعز من عاديت تباركت ربنا وتعاليت اللهم إنا نعوذ برضاك من سخطك وبعفوك من عقوبتك وبك منك لا نحصي ثناء عليك أنت كم أثنيت على نفسك ثم يصلي على النبي صلى الله عليه وسلم ولا بأس وعلى آله ولا بأس أن يدعو في قنوته بما شاء غير ما تقدم نصا ـ قال أبو بكر مهما دعا به جاز ـ ويرفع يديه إذا أراد السجود ويمسح وجهه بيديه كخارج الصلاة والمأموم يؤمن بلا قنوت ويفرد المنفرد الضمير وإذا سلم سن قوله سبحان الملك القدوس ثلاثا یرفع صوته في الثالثة ويكره قنوته في غير الوتر إن أتم بمن يقنت في الفجر أو في النازلة تابعه وأمن إن كان يسمع وإن لم يسمع دعا فإن نزل بالمسلمين نازلة غير الطاعون سن لإمام الوقت خاصة واختار جماعة ونائبة
ترجمہ:
وتر کی نماز کا وقت عشاء کی نماز اور اس کی سنتوں کے بعد سے لے کر دوسرے فجر (یعنی فجرِ صادق) کے طلوع تک ہے، خواہ عشاء جمعِ تقدیم میں پڑھی گئی ہو۔ وتر نماز عشاء سے پہلے درست نہیں۔ افضل یہ ہے کہ وہ شخص وتر رات کے آخری حصے میں پڑھے جو اپنے اٹھنے پر مطمئن ہو، ورنہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لے۔ اگر فوت ہوجائے تو قضا کے وقت شفع (یعنی جفت رکعات) کے ساتھ پڑھے۔ وتر کی کم از کم ایک رکعت ہے اور یہ اکیلی پڑھنا بھی مکروہ نہیں، خواہ بیماری، سفر یا دیگر عذر ہو یا نہ ہو۔ وتر کی زیادہ سے زیادہ گیارہ رکعات ہیں، جنہیں ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیر کر پڑھے اور آخر میں ایک رکعت وتر کی پڑھے۔ سنت یہ ہے کہ شفع کے بعد فوراً وتر پڑھے، مؤخر نہ کرے۔
اگر سب رکعات ایک ہی سلام سے پڑھیں، مثلاً دس رکعتیں مسلسل پڑھ کر تشہد کیا، پھر کھڑے ہو کر ایک رکعت وتر شامل کی، یا تمام رکعات بغیر بیٹھے پڑھیں اور صرف آخری رکعت میں بیٹھا، تو یہ بھی جائز ہے۔ اگر نو رکعات پڑھنی ہوں تو آٹھ رکعتیں ملا کر پڑھے، پھر بیٹھ کر تشہد کرے، چاہے سلام پھیر دے، پھر ایک رکعت پڑھ کر سلام کرے۔ اگر سات یا پانچ رکعت پڑھیں تو ان میں صرف آخری رکعت میں بیٹھے اور یہ طریقہ افضل ہے۔ وتر کی ادنیٰ درجۂ کمال تین رکعت ہیں، دو کے بعد سلام اور پھر ایک وتر، اور یہی افضل ہے۔ مستحب ہے کہ شفع اور وتر کے درمیان تھوڑی گفتگو کرے۔ ایک ہی سلام سے بھی جائز ہے اور مغرب کی طرح بھی پڑھ سکتا ہے۔
پہلی رکعت میں سورۂ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى}، دوسری میں {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} اور تیسری میں {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} پڑھنا مستحب ہے۔ وتر میں سارا سال قنوت پڑھنا سنت ہے اور یہ رکوع کے بعد پڑھا جاتا ہے، اگرچہ رکوع سے پہلے پڑھ لے تو بھی جائز ہے۔ قنوت میں ہاتھ سینے کی سطح تک اٹھائے، دونوں ہاتھ پھیلائے، ہتھیلیاں اوپر کی طرف ہوں۔
جو شخص امام کے ساتھ ایک رکعت پا لے، اگر امام دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر چکا تھا تو وہی کافی ہے، ورنہ وہ امام کی طرح باقی رکعتیں پوری کرے۔ قنوت میں امام اور منفرد دونوں جہری دعا کریں۔ اگرچہ قیاس کے مطابق منفرد کو اختیار ہے کہ آہستہ یا اونچی آواز میں پڑھے، جیسے قراءت میں۔ قنوت کی مسنون دعا یہ ہے:
اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ … أنت كما أثنيت على نفسك
اور آخر میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے اہلِ بیت پر درود بھیجنا مستحب ہے۔ قنوت میں ان الفاظ کے علاوہ بھی دعا مانگی جا سکتی ہے، ابو بکرؒ نے کہا: جو بھی دعا کی جائے، جائز ہے۔ رکوع میں جانے کے وقت ہاتھ اٹھائے، پھر سجدے میں جاتے وقت ہاتھوں سے چہرہ مسح کرے جیسے نماز سے باہر دعا کے بعد کیا جاتا ہے۔ مقتدی قنوت میں آمین کہے اور امام کے ساتھ نہ پڑھے، اور منفرد دعا میں واحد کا صیغہ استعمال کرے۔
سلام کے بعد "سُبحَانَ المَلِكِ القُدُّوس” تین مرتبہ کہنا سنت ہے، تیسری مرتبہ بلند آواز میں۔ وتر کے علاوہ کسی اور نماز میں قنوت مکروہ ہے۔ اگر کوئی ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھے جو فجر میں قنوت پڑھتا ہو یا کسی آفت (مصیبت) کے موقع پر قنوت کرتا ہو تو مقتدی کو چاہیے کہ اس کی اتباع کرے اور اگر وہ (قنوت) سن رہا ہو تو آمین کہے، اور اگر نہ سن رہا ہو تو خود دعا کرے۔ اور جب مسلمانوں پر کوئی مصیبت نازل ہو ـ طاعون کے علاوہ ـ تو وقت کے امام کے لیے خصوصاً قنوت کرنا سنت ہے۔ اور ایک جماعت نے کہا ہے کہ یہ (قنوت) جماعت اور نائب (حاکم یا مقرر امام) دونوں کے لیے ہے۔