Featured Post
توسل، شفاعت اور شرک: باریک فرق اور اسلامی تصور
- Get link
- X
- Other Apps
توسل، شفاعت اور شرک: باریک فرق اور اسلامی تصور
اسلام نے توحید کو دین کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات، اختیارات اور عبادت میں کسی کو شریک کرنا سب سے بڑا گناہ ہے۔ اسی لیے قرآن مجید نے بار بار شرک کی مختلف صورتوں کی نشاندہی کی اور ان سے بچنے کی تلقین کی۔ توسل اور شفاعت ایسے تصورات ہیں جو اسلام میں اپنی اصل کے اعتبار سے جائز اور ثابت ہیں، لیکن تاریخ میں انہی جائز تصورات کو بنیاد بنا کر ایسے عقائد و اعمال بھی وجود میں آئے جو شرک کے قریب یا بعض صورتوں میں صریح شرک تک پہنچ گئے۔ اسی لیے علماء نے ہمیشہ توسل، شفاعت اور شرک کے درمیان فرق کو واضح کرنے پر زور دیا ہے۔
توسل اور شفاعت کا شرعی تصور
توسل کے لغوی معنی کسی مقصد تک پہنچنے کے لیے وسیلہ اختیار کرنے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں توسل سے مراد اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے وقت کسی نیک عمل، اللہ کے اسماء و صفات، یا اللہ کے مقرب بندوں کی نسبت کو وسیلہ بنانا ہے۔
مثلاً ایک مسلمان یوں دعا کرتا ہے:
"اے اللہ! اپنے نبی کریم ﷺ کے صدقے اور ان کی محبت کے وسیلے سے میری دعا قبول فرما۔"
اس دعا میں پکارا اللہ تعالیٰ ہی کو جا رہا ہے، حاجت اللہ تعالیٰ ہی سے طلب کی جا رہی ہے اور نفع و نقصان کا مالک بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو مانا جا رہا ہے۔ مقرب بندے کو صرف وسیلہ بنایا گیا ہے، معبود یا مستقل مؤثر نہیں۔
اسی طرح شفاعت کا حقیقی تصور یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بعض مقرب بندوں، خصوصاً انبیاء علیہم السلام کو اپنے اذن سے سفارش کی اجازت عطا فرمائے گا۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
"مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهُ اِلَّا بِاِذْنِهٖ"
"کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟"
اس آیت سے واضح ہے کہ شفاعت کا اختیار ذاتی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اذن اور اجازت کے تابع ہے۔
مشرکین مکہ کا تصور شفاعت
قرآن کریم نے مشرکین مکہ کے کئی مشرکانہ عقائد بیان کیے ہیں۔ ان میں ایک اہم عقیدہ یہ تھا کہ وہ اپنے معبودانِ باطلہ کو اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنا سفارشی سمجھتے تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَلَا یَنْفَعُهُمْ وَیَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ ۚ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ ۚ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِكُوْنَ"
"اور وہ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ نفع، اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔ آپ کہہ دیجئے: کیا تم اللہ کو ایسی بات کی خبر دیتے ہو جسے وہ آسمانوں اور زمین میں نہیں جانتا؟ وہ پاک ہے اور ان کے شرک سے بلند و بالا ہے۔"
(یونس: 18)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین صرف بتوں کی عبادت ہی نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے اس عمل کے جواز میں شفاعت کا نظریہ بھی پیش کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ چونکہ یہ ہستیاں اللہ کے مقرب ہیں، اس لیے یہ اللہ کے حضور ان کی سفارش کریں گی۔
شرعی شفاعت اور مشرکانہ شفاعت میں فرق
بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر مسلمان بھی شفاعت کے قائل ہیں اور مشرکین مکہ بھی شفاعت کے قائل تھے تو دونوں میں فرق کیا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ دونوں تصورات میں بنیادی اور جوہری فرق موجود ہے۔
1۔ شرعی شفاعت اللہ کے اذن سے ہے
مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کوئی نبی، ولی یا فرشتہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا۔
جبکہ مشرکین اپنے معبودوں کے لیے ایک مستقل سفارشی حیثیت کے قائل تھے۔
2۔ شرعی شفاعت میں اختیار اللہ کا ہے
مسلمان سمجھتے ہیں کہ قبول یا رد کرنے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
جبکہ مشرکین اپنے معبودوں کو ایسی قوت سمجھتے تھے جو ان کے حق میں اللہ کے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
3۔ شرعی شفاعت میں عبادت صرف اللہ کی ہے
مسلمان نماز، نذر، قربانی، سجدہ اور دعا صرف اللہ تعالیٰ کے لیے کرتے ہیں۔
جبکہ مشرکین اپنے معبودوں کے لیے عبادات انجام دیتے تھے۔
4۔ شرعی شفاعت میں وسیلہ ہے، معبود نہیں
مسلمان نبی یا ولی کو اللہ کا بندہ سمجھتے ہیں۔
مشرکین انہیں غیبی اختیارات کا مالک اور مستقل مؤثر مانتے تھے۔
توسل کا جائز طریقہ
اسلامی تعلیمات کے مطابق توسل کا اصل اور محفوظ طریقہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ ہی سے دعا کرے اور اسی سے اپنی حاجت طلب کرے۔
مثلاً:
"اے اللہ! اپنے نبی کریم ﷺ کی محبت کے وسیلے سے میری مغفرت فرما۔"
"اے اللہ! اپنے نیک بندوں کے صدقے میری مشکل آسان فرما۔"
یہاں دعا کا مخاطب اللہ تعالیٰ ہے اور حاجت بھی اسی سے طلب کی جا رہی ہے۔
مشرکانہ توسل کیا ہے؟
مشرکانہ توسل اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وسیلہ اور مقصود کے درمیان فرق ختم ہو جائے۔
مثلاً اگر کوئی شخص براہ راست کسی فوت شدہ بزرگ کو پکارے:
"اے فلاں بزرگ! میری بیماری دور کر دو۔"
"اے فلاں پیر! مجھے اولاد عطا کر دو۔"
"اے فلاں ولی! میری مشکلات حل کر دو۔"
تو یہ الفاظ اس عقیدے کے ساتھ کہ وہ بزرگ خود مستقل طور پر مشکل کشا اور حاجت روا ہیں، شرک کے زمرے میں آتے ہیں، کیونکہ قرآن کے مطابق نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
شرک کی اصل بنیاد
قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کے وجود کے منکر نہیں تھے۔
وہ اللہ کو خالق، مالک اور رازق مانتے تھے، لیکن انہوں نے اللہ کے ساتھ ایسے شریک مقرر کر لیے تھے جن کے متعلق وہ سمجھتے تھے کہ یہ غیبی تصرف رکھتے ہیں، ہماری فریاد سنتے ہیں اور ہماری حاجات پوری کرا سکتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں جائز توسل اور ناجائز شرک کے درمیان باریک لیکن انتہائی اہم فرق موجود ہے۔
اعتدال کا راستہ
اسلام نہ تو انبیاء و اولیاء کی توہین سکھاتا ہے اور نہ انہیں خدا کے اختیارات میں شریک کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
قرآن کا راستہ یہ ہے کہ:
اللہ تعالیٰ کو ہی حقیقی فاعل اور مختارِ کل مانا جائے۔
انبیاء اور اولیاء کو اللہ کے معزز بندے سمجھا جائے۔
شفاعت کو اللہ کے اذن کے تابع مانا جائے۔
دعا اور استغاثہ کا اصل مرکز صرف اللہ تعالیٰ کو بنایا جائے۔
نفع و نقصان، رزق، اولاد، بیماری سے شفا اور مشکلات کے حل کا حقیقی مالک صرف اللہ تعالیٰ کو سمجھا جائے۔
نتیجہ
توسل اور شفاعت اسلام کے مسلمہ عقائد میں شامل ہیں، لیکن ان کی بنیاد مکمل توحید پر ہے۔ شرعی توسل اور شفاعت میں بندہ اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے اور تمام اختیارات اسی کے لیے ثابت کرتا ہے۔ اس کے برعکس مشرکانہ تصور میں اللہ کے مقرب بندوں کو مستقل بالذات مشکل کشا، حاجت روا یا سفارشی سمجھ لیا جاتا ہے۔ قرآن مجید نے مشرکین مکہ کے اسی عقیدے کی تردید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ عبادت، دعا، فریاد رسی اور حقیقی اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہیں۔ لہٰذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ توسل اور شفاعت کے مشروع عقیدے کو اپنائے، لیکن ہر اس تصور سے بچے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو اختیارات میں شریک کرنے کا باعث بن سکتا ہو۔
- Get link
- X
- Other Apps
Categories of Topics
Categories of Topics
- Antarctica
- Anthropology
- Anthropomorphism
- Aqidah
- Arabian Peninsula
- Arabic Language
- Arabs
- Archaeology
- Artificial Intelligence
- Asia
- Astronomy
- Atheism
- Australia
- Bangladesh
- Barzakh
- Big Bang Theory
- Biography
- Biology
- Black Hole
- Budhism
- cardiac health
- Catholic Church
- Charity
- Chemistry
- China
- Christianity
- Civil Law
- Climate Change
- Commercial Law
- Continents
- Cosmology
- Criminal Law
- Crypto-Politics
- Cryptocurrency
- CSS
- CSS Essays
- CSS Exams
- CSS Syllabus
- Current Account Deficit
- Current Affairs
- Cyber
- Dajjal
- Daleel at-Talib
- Dan Gibson’s Theory
- Dark Energy
- Deepfake technology
- Deforestation
- Deism
- digital firewall
- Distinctive Aspects of Islam
- Divine Remembrance
- Dragons and Dinosaurs
- Earthquakes
- Eclipse
- Ecology
- Economy
- Education
- Egypt
- Eid-ul-Fitr
- Elon Musk
- Emotional Intelligence
- End Times
- Energy
- Energy Crisis
- Environment
- Eschatology
- Esfahan
- Europe
- Evolution
- Evolution of Stars
- Family Law
- Fasting
- Feminism
- Fiqh
- Food Law
- Funerals
- Galaxy
- Gaza
- General Knowledge
- Genes
- Genetics
- Genital Worship
- Genocide Convention
- Geography
- Geology
- Geopolitics
- Global Affairs
- Global Crisis
- Global Warming
- Globalization
- Golden Bird
- Gravity
- Hadith
- Hajj
- Hajj Rituals
- Halal and Haram
- Halal Food
- Hanafi
- Hanbali
- Hanbali Aqidah
- Hanbali Madhab
- Hashimi Fiqh
- Hayy ibn Yaqzan
- health
- Heer Ranjha
- Highest Mountains
- Hijab
- Hindu Mythology
- History
- Holography
- Holy Scriptures
- Homosexuality
- Human
- Human Rights
- Ibn Sina’
- Ibn Taymiyyah
- Imam Ahmad bin Hanbal R.A
- Imam Al-Mahdi
- Imam Ali
- Impact on Society
- India
- Indonesia
- International Affairs
- International Law
- International Relations
- Iran
- Iran's Economy
- Islam
- Islamic Beliefs
- Islamic Civilization
- Islamic eschatology
- Islamic Festivals
- Islamic Golden Age
- Islamic History
- Islamic Laws
- islamic medicine
- Islamic Rituals
- Islamic Social System
- Islamic values
- Islamic worship
- Islamophobia
- Jesus
- Jewish eschatology
- Kabbalah
- Karbala
- Kings of Egypt
- Languages
- Largest Deserts
- Largest Lakes
- Leadership Skills
- LGBT Pride
- Lithium
- litrature
- Longest Rivers
- Lunar Cataclysm
- Makkah
- Maliki
- Mathematical Cartography
- Mathematics
- Microplastic
- Milky Way
- Modern World
- Music
- Muslim Cosmology
- Muslim History
- Muslim Parenting
- Muslim Ummah
- Mysterious sagas
- Neuralink
- Neurochemistry
- Neurology
- Neuroscience
- North America
- Oceans
- Organic Evolution
- PAF
- Pakistan
- Pakistan Affairs
- Pakistan’s Constitution
- Palestine
- Pedagogy
- Petroleum Warehouses
- Philosophy
- Phsycology
- Physics
- Political Science
- Politics
- Populism
- Pornography
- Poverty
- Pragmatic Theory of Truth
- Prophet Adam
- Prophet Ibrahim
- Prophet Muhammad (PBUH)
- Prophet Yousuf (AS)
- Prophethood
- Psychology
- Public Administration
- Punjab Government
- Quantum Computing
- Quantum Physics
- Qur'an
- Quran
- Rape
- Red Heifer
- Robointelligence
- Sahabah
- Salah
- Saudi Arabia
- Sawm
- Science
- Seerah
- SeismoAlert
- Seismology
- Self-Purification
- Shafi'ee
- Shariah
- Shaytan
- slamic morality
- Slavery
- Smoking
- Social Media
- Solar Eclipse
- Solar System
- South America
- Space
- Space Solar
- Spiritual Impact of Hajj
- Spiritual Impacts
- Sunnah
- SWOT Analysis
- Tafsir
- Taghut
- Taqdir
- Tawassul
- Tawhid
- Tazkiyah
- Technology
- Technonlogy
- Terrorism
- testing
- The Earth
- The Gays of Gomorrah
- The Hebrew Hajirah
- The James Webb Space Telescope
- The Messiah
- The solar cycle
- The Structure of Ka’abah
- The Sun
- The Universe
- Time Travelling
- Trading
- Transparency International (TI)
- Travelling
- Truth
- Tsunami
- Turkestan
- Turkey
- U.S.-Saudi petrodollar pact
- Umrah
- Unemployment
- United Nations Organization
- Universal Hijri Calendar
- Urdu
- Usul
- Usul al-Fiqh
- Volcanic erruption
- Wahhabism
- War
- Waris Shah
- Waterfalls
- Weather Forecasting
- West
- Wildlife
- Wisdom
- Ya’juj and Ma’juj
- Zakat
- Zakat al-Fitr
- Zamzam Well
- Zionism