Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

توسل، شفاعت اور شرک: باریک فرق اور اسلامی تصور

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

توسل، شفاعت اور شرک: باریک فرق اور اسلامی تصور

اسلام نے توحید کو دین کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات، اختیارات اور عبادت میں کسی کو شریک کرنا سب سے بڑا گناہ ہے۔ اسی لیے قرآن مجید نے بار بار شرک کی مختلف صورتوں کی نشاندہی کی اور ان سے بچنے کی تلقین کی۔ توسل اور شفاعت ایسے تصورات ہیں جو اسلام میں اپنی اصل کے اعتبار سے جائز اور ثابت ہیں، لیکن تاریخ میں انہی جائز تصورات کو بنیاد بنا کر ایسے عقائد و اعمال بھی وجود میں آئے جو شرک کے قریب یا بعض صورتوں میں صریح شرک تک پہنچ گئے۔ اسی لیے علماء نے ہمیشہ توسل، شفاعت اور شرک کے درمیان فرق کو واضح کرنے پر زور دیا ہے۔

توسل اور شفاعت کا شرعی تصور

توسل کے لغوی معنی کسی مقصد تک پہنچنے کے لیے وسیلہ اختیار کرنے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں توسل سے مراد اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے وقت کسی نیک عمل، اللہ کے اسماء و صفات، یا اللہ کے مقرب بندوں کی نسبت کو وسیلہ بنانا ہے۔

مثلاً ایک مسلمان یوں دعا کرتا ہے:

"اے اللہ! اپنے نبی کریم ﷺ کے صدقے اور ان کی محبت کے وسیلے سے میری دعا قبول فرما۔"

اس دعا میں پکارا اللہ تعالیٰ ہی کو جا رہا ہے، حاجت اللہ تعالیٰ ہی سے طلب کی جا رہی ہے اور نفع و نقصان کا مالک بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو مانا جا رہا ہے۔ مقرب بندے کو صرف وسیلہ بنایا گیا ہے، معبود یا مستقل مؤثر نہیں۔

اسی طرح شفاعت کا حقیقی تصور یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بعض مقرب بندوں، خصوصاً انبیاء علیہم السلام کو اپنے اذن سے سفارش کی اجازت عطا فرمائے گا۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے:

"مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهُ اِلَّا بِاِذْنِهٖ"

"کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟"

اس آیت سے واضح ہے کہ شفاعت کا اختیار ذاتی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اذن اور اجازت کے تابع ہے۔

مشرکین مکہ کا تصور شفاعت

قرآن کریم نے مشرکین مکہ کے کئی مشرکانہ عقائد بیان کیے ہیں۔ ان میں ایک اہم عقیدہ یہ تھا کہ وہ اپنے معبودانِ باطلہ کو اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنا سفارشی سمجھتے تھے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَلَا یَنْفَعُهُمْ وَیَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ ۚ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ ۚ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِكُوْنَ"

"اور وہ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ نفع، اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔ آپ کہہ دیجئے: کیا تم اللہ کو ایسی بات کی خبر دیتے ہو جسے وہ آسمانوں اور زمین میں نہیں جانتا؟ وہ پاک ہے اور ان کے شرک سے بلند و بالا ہے۔"

(یونس: 18)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین صرف بتوں کی عبادت ہی نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے اس عمل کے جواز میں شفاعت کا نظریہ بھی پیش کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ چونکہ یہ ہستیاں اللہ کے مقرب ہیں، اس لیے یہ اللہ کے حضور ان کی سفارش کریں گی۔

شرعی شفاعت اور مشرکانہ شفاعت میں فرق

بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر مسلمان بھی شفاعت کے قائل ہیں اور مشرکین مکہ بھی شفاعت کے قائل تھے تو دونوں میں فرق کیا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ دونوں تصورات میں بنیادی اور جوہری فرق موجود ہے۔

1۔ شرعی شفاعت اللہ کے اذن سے ہے

مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کوئی نبی، ولی یا فرشتہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا۔

جبکہ مشرکین اپنے معبودوں کے لیے ایک مستقل سفارشی حیثیت کے قائل تھے۔

2۔ شرعی شفاعت میں اختیار اللہ کا ہے

مسلمان سمجھتے ہیں کہ قبول یا رد کرنے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

جبکہ مشرکین اپنے معبودوں کو ایسی قوت سمجھتے تھے جو ان کے حق میں اللہ کے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

3۔ شرعی شفاعت میں عبادت صرف اللہ کی ہے

مسلمان نماز، نذر، قربانی، سجدہ اور دعا صرف اللہ تعالیٰ کے لیے کرتے ہیں۔

جبکہ مشرکین اپنے معبودوں کے لیے عبادات انجام دیتے تھے۔

4۔ شرعی شفاعت میں وسیلہ ہے، معبود نہیں

مسلمان نبی یا ولی کو اللہ کا بندہ سمجھتے ہیں۔

مشرکین انہیں غیبی اختیارات کا مالک اور مستقل مؤثر مانتے تھے۔

توسل کا جائز طریقہ

اسلامی تعلیمات کے مطابق توسل کا اصل اور محفوظ طریقہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ ہی سے دعا کرے اور اسی سے اپنی حاجت طلب کرے۔

مثلاً:

"اے اللہ! اپنے نبی کریم ﷺ کی محبت کے وسیلے سے میری مغفرت فرما۔"

"اے اللہ! اپنے نیک بندوں کے صدقے میری مشکل آسان فرما۔"

یہاں دعا کا مخاطب اللہ تعالیٰ ہے اور حاجت بھی اسی سے طلب کی جا رہی ہے۔

مشرکانہ توسل کیا ہے؟

مشرکانہ توسل اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وسیلہ اور مقصود کے درمیان فرق ختم ہو جائے۔

مثلاً اگر کوئی شخص براہ راست کسی فوت شدہ بزرگ کو پکارے:

"اے فلاں بزرگ! میری بیماری دور کر دو۔"

"اے فلاں پیر! مجھے اولاد عطا کر دو۔"

"اے فلاں ولی! میری مشکلات حل کر دو۔"

تو یہ الفاظ اس عقیدے کے ساتھ کہ وہ بزرگ خود مستقل طور پر مشکل کشا اور حاجت روا ہیں، شرک کے زمرے میں آتے ہیں، کیونکہ قرآن کے مطابق نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔

شرک کی اصل بنیاد

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کے وجود کے منکر نہیں تھے۔

وہ اللہ کو خالق، مالک اور رازق مانتے تھے، لیکن انہوں نے اللہ کے ساتھ ایسے شریک مقرر کر لیے تھے جن کے متعلق وہ سمجھتے تھے کہ یہ غیبی تصرف رکھتے ہیں، ہماری فریاد سنتے ہیں اور ہماری حاجات پوری کرا سکتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں جائز توسل اور ناجائز شرک کے درمیان باریک لیکن انتہائی اہم فرق موجود ہے۔

اعتدال کا راستہ

اسلام نہ تو انبیاء و اولیاء کی توہین سکھاتا ہے اور نہ انہیں خدا کے اختیارات میں شریک کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

قرآن کا راستہ یہ ہے کہ:

  • اللہ تعالیٰ کو ہی حقیقی فاعل اور مختارِ کل مانا جائے۔

  • انبیاء اور اولیاء کو اللہ کے معزز بندے سمجھا جائے۔

  • شفاعت کو اللہ کے اذن کے تابع مانا جائے۔

  • دعا اور استغاثہ کا اصل مرکز صرف اللہ تعالیٰ کو بنایا جائے۔

  • نفع و نقصان، رزق، اولاد، بیماری سے شفا اور مشکلات کے حل کا حقیقی مالک صرف اللہ تعالیٰ کو سمجھا جائے۔

نتیجہ

توسل اور شفاعت اسلام کے مسلمہ عقائد میں شامل ہیں، لیکن ان کی بنیاد مکمل توحید پر ہے۔ شرعی توسل اور شفاعت میں بندہ اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے اور تمام اختیارات اسی کے لیے ثابت کرتا ہے۔ اس کے برعکس مشرکانہ تصور میں اللہ کے مقرب بندوں کو مستقل بالذات مشکل کشا، حاجت روا یا سفارشی سمجھ لیا جاتا ہے۔ قرآن مجید نے مشرکین مکہ کے اسی عقیدے کی تردید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ عبادت، دعا، فریاد رسی اور حقیقی اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہیں۔ لہٰذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ توسل اور شفاعت کے مشروع عقیدے کو اپنائے، لیکن ہر اس تصور سے بچے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو اختیارات میں شریک کرنے کا باعث بن سکتا ہو۔

Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

Why Pornography is Haram in Islam?

The Qur’anic Chronology of Creation

The Abraham Accords and Genocide in Gaza

Disaster of the Indus Delta: A Climate-Change Crisis

Sahifah al-Sadiqah: The First Book of Hadith

Barzakh: A Parallel Universe Beyond the Physical Realm

Basics of the Muslim Cosmology

Etymology of “America”