کیا امام حسن و امام حسین علیہما السلام نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے وظیفے لیے؟
بعض لوگ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت و اور عدل وانصاف کی دلیل کے طور پر یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ اگر ان کی حکومت عادل یا برحق نہ تھی تو امام حسن و امام حسین علیہما السلام نے ان سے وظیفے کیوں وصول کیے؟
عوام الناس چونکہ اصل حقیقت سے واقف نہیں ہوتے اس لیے ان کے ذہن میں درویشوں کے امام مولا علی علیہ السلام کے ان عظیم جنتی شہزادوں کے بارے میں یہ تأثر ابھرتا ہے کہ جیسے وہ کوئی دنیادار اور لالچی قسم کے انسان تھے جو اپنے ذاتی مفاد کے لیے خلیفہ سے مال وصول کرتے رہے معاذاللہ۔
اللہ تعالیٰ نےاپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خانوادے بنو ہاشم کو یہ اعزاز قیامت تک کے لیے عطا فرمایا ہے کہ میدان جنگ سے حاصل ہونے والے مالِ غنیمت میں سے پانچواں حصہ یعنی خُمس اہلِ بیت علیہم السلام کے لیے مخصوص ہے۔
قرآن مجید میں اس کا ذکر سورہ الانفال کی آیت نمبر 41 میں آیا ہے:
وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ
ترجمہ:
اور جان لو کہ جو مال غنیمت تمہیں میدان جنگ میں حاصل ہوتا ہے، اس میں سے پانچواں حصہ رسول اکرم ، ان کے رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے مخصوص ہے۔
امام قتادہ اور امام ابن جریج رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی حیات طیبہ میں مال غنیمت کے کل پانچ حصے کیے جاتے تھے، ان میں سے چار حصے مجاہدین میں تقسیم کیے جاتے تھے اور پانچویں حصے کے پھر پانچ حصے کیے جاتے تھے:
1۔ رسول اکرم ﷺ کا حصہ
2۔ بنو ہاشم و بنو مطلب کا حصہ
3۔ فقرا و مساکین کا حصہ
4۔ یتیموں کا حصہ
5۔ مسافروں کا حصہ
(تفسیر ابن جریرؒ)
رسول اکرم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک زمانہ میں امام علی علیہ السلام اہل بیت علیہم السلام کے خمس کے نگران تھے اور وہی ان میں خمس تقسیم فرماتے تھے۔ خلفائے راشدین کے زمانہ میں بھی امام علی علیہ اسلام یہ کام سرانجام دیتے رہے۔ان کی شہادت کے بعد امام حسن علیہ السلام اپنے زمانہ ٔ خلافت اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں یہ خمس تقسیم کرنے کے کا فرض نبھاتے رہے۔ ان کی شہادت کے بعد ان کے بھائی امام حسین علیہ السلام نے یہ فرض اپنے ذمہ لے لیا اور وہ اہل بیت میں خمس کا مال تقسیم فرماتے رہے۔اس سے واضح ہوا کہ جس مال کو ہمارے نادان دوست وظیفہ قرار دیتے ہیں وہ درحقیقت اہل بیت کا شرعی حق تھا جسے قرآن نے مقرر کیا ہے۔امام حسن اور امام حسین علیہما السلام سے یہی خمس وصول کرکے اہل بیت میں تقسیم فرماتے تھے، یہ ان آئمۂ کرام کے لیے مخصوص کوئی ذاتی نوعیت کا وظیفہ نہیں تھا۔