Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

طلاق کا شرعی طریقہ

طلاق کا شرعی طریقہ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

طلاق کا شرعی طریقہطلاق کا شرعی طریقہ

تحریر:ساجد محمود انصاری

Table of Contents

طلاق کا شرعی طریقہ.. 6

طلاق کا مکروہ طریقہ.. 13

طلاق کی نیت... 23

اشارے کنائے میں طلاق.. 27

طلاق کا حرام طریقہ.. 32

1۔ ایک جملے یا ایک سانس میں طلاق طلاق  طلاق کہنا.. 33

حروفِ عطف اور تاکید کی نفی.. 43

2۔ ایک ہی مجلس میں وقفے سے تین طلاق دینا. 47

3۔ جملے میں تعداد کی طلاق کا ذکر کرنا. 48

ایک مجلس کی تین طلاق کے بارے میں گمراہ کن نظریہ


الحمدللہ وحدہ، والصلوٰۃ والسلام علی من  لا نبی بعدہ

اسلامی شریعت میں تمام انسانی مسائل کا شافی و کافی حل موجود ہے۔ اسلام نے ازدواجی مسائل کو جس تفصیل ور باریک بینی سےبیان کیا ہے ا س کی مثال دنیا کے کسی دوسرے قانون میں نہیں ملتی۔ یوں تو اسلامی شریعت میاں اور بیوی دونوں کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے تاہم اسلام نے بیوی کے حقوق کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔  اگر میاں بیوی کسی مرحلے پر محسوس کریں کہ وہ مزید رفاقت اختیار نہیں کرسکتے اور ان کے اکٹھے رہنے سے  ان کے لیے مسائل میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے تو وہ خلع یا طلاق کے ذریعے نکاح کے بندھن سے آزاد ہوسکتے ہیں۔

جاہلی معاشروں میں ازدواجی حقوق کا اس طرح خیال نہیں رکھا جاتا جیسے اسلام میں رکھا جاتا ہے۔ ہندو دھرم میں ستی کی رسم تاریخ میں انسانی ظلم و بربریت کی ایک زندہ مثال ہے، جس میں یہ اصول تھا کہ ناں تو شوہر کبھی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے اور نہ ہی بیوی شوہر سے علیحدگی اختیار کرسکتی ہے۔  قدیم ہندو دھرم کے کلاسیکی دھرم شاستری متون میں عام طور پر طلاق کی اجازت نہیں تھی، کیونکہ ہندو شادی کو ایک مقدس اور تقریباً ناقابلِ تنسیخ بندھن سمجھا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ اگر شوہر بیوی کی زندگی میں فوت ہوجاتا تو بیوہ کو شوہر کے ساتھ زندہ جلادیا جاتا تھا، کیونکہ ان کے نزدیک مرنے کے بعد بھی بیوی کا شوہر سے رشتہ ازدواج باقی ہے، اس لیے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ شوہر کے مرنے کے بعد کسی دوسرے مرد سے شادی کرے، اس لیے وہ بیوہ کو زندہ جلا کر اس امکان کو ہی ختم کردیتے تھے۔

اسلام سے قبل عرب جاہلی معاشرے میں اگرچہ طلاق کی اجازت تھی، مگر اس میں بھی لوگ حدِ اعتدال سے گزر گئے تھے۔امام قتادہؒ بیان کرتے ہیں کہ عربوں میں یہ رواج تھا کہ وہ اپنی بیوی کو جب چاہتے طلاق دے دیتے اوور اور جب چاہتے رجوع کرلیتے، طلاق کی کوئی حد مقرر نہیں تھی کہ شوہر بیوی کو کتنی بار طلاق دے کر رجوع کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے شوہر کے طلاقیں دینے کی حد یا تعداد مقرر فرمادی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

 الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ

ترجمہ:

طلاقِ رجعی صرف دو ہی بارجائز ہے۔یعنی یا تو معروف طریقے پر رجوع کرلویا احسن طریقے سے جداہوجاؤ۔

(سورۃ البقرۃ: آیت 229)

تقریباً تمام مفسرین و فقہا  کا اتفاق ہے کہ یہاں الطلاق مرتان سے رجعی طلاقیں ہی مراد ہیں جیسا کہ قرآن کے سیاق سے بھی ظاہر ہے۔یعنی شوہر کو صرف دو دفعہ طلاق دینے اور طلاق کے بعدعدت کے دوران  رجوع کرنے یا عدت کے بعد جدیدنکاح  کا حق ہے، اس کے بعد اگر شوہر تیسری طلاق بھی دے تو اب اسے عدت کے دوران رجوع کرنے کا حق حاصل  نہیں ہوتا  کیوں کہ تیسری طلاق کے بعد اس کی بیوی اس پر حرام ہوجاتی ہے، جب تک کہ کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہیں کرلیتی۔اسی اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ

ترجمہ:پس اگر شوہرنے اس کے بعد (تیسری بار) بھی طلاق دے دی، تو اس کی بیوی ا سکے لیے حرام ہوگئی، جب تک کہ وہ خاتون کسی دوسرے مرد سے شادی نہ کرلے۔(اور وہ نیا شوہر اپنی مرضی سےاسے طلاق نہ دےچکے)

 (سورۃ البقرۃ: آیت 230)

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ ۚ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوا ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا

ترجمہ:

اور جب تم نے عورتوں کو طلاق ِ رجعی دی ہو اور وہ اپنی عدت پوری ہونے کے قریب پہنچ جائیں  تو (اس سے پہلےہی) ان سے معروف طریقے پر رجوع کرلو یامعروف طریقے پر انہیں جانے دو۔اور تم انہیں ضرر پہنچانے کے لیے روک کر ہرگز حد سے تجاوز نہ کرو۔ تو جس نے ایساکیا اس نے اپنی جان پر ظلم کیا اور  تم لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کا یوں مذاق مت اڑایا کرو۔

(سورۃ البقرۃ: آیت231)

اللہ تعالیٰ نے ان آیاتِ مبارکہ میں طلاق دینے اور رجوع کرنے کا شرعی طریقہ بیان فرمادیا ہے، جس کی مزید تفصیل رسول اکرم ﷺ نے اپنے فرامین میں بیان فرمائی ہے۔

طلاق کا شرعی طریقہ

طلاق دینے کا سنت یا شر عی طریقہ یہ ہے کہ حیض و نفاس سے پاکی کی حالت میں بیوی سے ہمبستری کیے بغیر پہلی طلاق دے۔ اس کے بعد بیوی  تین حیض کے بعد پاکی حاصل ہونے تک عدت گزارے۔ شوہر چاہے تو  اس عدت کے ختم ہونے سے پہلے رجوع کرسکتا ہے۔ عدت پوری ہونے کے بعد اب نکاح جدید کے بغیر اسی بیوی سے جنسی تعلقات قائم نہیں کرسکتا۔

امام ابن قدامہ الحنبلیؒ فرماتے ہیں:

مَعْنَى طَلَاقِ السُّنَّةِ الطَّلَاقُ الَّذِي وَافَقَ أَمْرَ اللَّهِ تَعَالَى وَأَمْرَ رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْآيَةِ وَالْخَبَرَيْنِ الْمَذْكُورَيْنِ، وَهُوَ الطَّلَاقُ فِي طُهْرٍ لَمْ يُصِبْهَا فِيهِ، ثُمَّ يَتْرُكُهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا وَلَا خِلَافَ فِي أَنَّهُ إذَا طَلَّقَهَا فِي طُهْرٍ لَمْ يُصِبْهَا فِيهِ، ثُمَّ تَرَكَهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا، أَنَّهُ مُصِيبٌ لِلسُّنَّةِ، مُطَلِّقٌ لِلْعِدَّةِ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا

ترجمہ:

سنت کے مطابق طلاق کا مفہوم یہ ہے کہ وہ طلاق جو اللہ تعالیٰ کے حکم اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کے موافق ہو، جیسا کہ مذکورہ آیت اور دونوں احادیث میں بیان ہوا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ عورت کو ایسے طُہر (پاکی کے زمانے) میں طلاق دی جائے جس میں اس سے ہم بستری نہ کی گئی ہو، پھر اسے چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہوجائے۔

اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایسے طُہر میں طلاق دی جس میں اس نے اس سے ہم بستری نہ کی ہو، پھر اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہوگئی، تو اس نے سنت کے مطابق طلاق دی اور اس عدت والی مدت میں طلاق دی جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔

(المغنی: جلد 7، صفحہ 365)

امام ابن النجار الفتوحی الحنبلیؒ فرماتے ہیں:

السُّنَّةُ الْمُرِيدَةُ إيقَاعَ وَاحِدَةٍ فِي طُهْرٍ لَمْ يُصِبْهَا فِيهِ ثُمَّ يَدَعْهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا

(منتہی الاردات، جلد 4، صفحہ 233)

ترجمہ:

سنت یہ ہے کہ جو شخص ایک طلاق دینا چاہتا ہو، وہ ایسی پاکی کی حالت میں بیوی کو ایک طلاق دے جس میں اس نے اس سے جماع (جنسی تعلق قائم )  نہ کیا ہو، پھر اسے چھوڑ دے، یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہوجائے۔

طلاق کے مذکورہ شرعی طریقہ پر جمہور علمائے امت متفق ہیں اور عام طور پر اس کے لیے سورۃ الطلاق کی پہلی آیت دلیل کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

  يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَۚ

ترجمہ: اے نبی ﷺ اور(ان کے پیروکارو)  اگر آپ اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہیں تو ان کی عدت کا لحاظ کرتے ہوئے طلاق دیں، اور پھرعدت پوری شمار کریں۔

(سورۃ الطلاق: آیت 1)

اسی طرح سورۃ البقرہ کی آیت 231 میں بھی رجوع کا تعلق عدت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ ۚ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوا ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا

ترجمہ:

اور جب تم نے عورتوں کو طلاق ِ رجعی دی ہو اور وہ اپنی عدت پوری ہونے کے قریب پہنچ جائیں  تو (اس سے پہلےہی) ان سے معروف طریقے پر رجوع کرلو یامعروف طریقے پر انہیں جانے دو۔اور تم انہیں ضرر پہنچانے کے لیے روک کر ہرگز حد سے تجاوز نہ کرو۔ تو جس نے ایساکیا اس نے اپنی جان پر ظلم کیا اور  تم لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کا یوں مذاق مت اڑایا کرو۔

 

ان آیاتِ مبارکہ میں طلاق کا شرعی طریقہ بیان تو کیا گیا ہے لیکن بعض تفصیلات یہاں مذکور نہیں۔احادیث صحیحہ کے ذخیرہ  میں البتہ اس شرعی طریقہ کی تفصیل بیان کی گئی ہے، تاہم پھر  بھی بعض امور وضاحت طلب رہ جاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ  طلاق کے مذکورہ بالا شرعی طریقہ کی دلیل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فتاویٰ ہیں جن میں سرِ فہرست سیدنا امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کا فتویٰ ہے:

اِنَّ عَلِيًّا كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ قَالَ: لَوْ أَنَّ النَّاسَ أَخَذُوا بِمَا أَمَرَ اللَّهُ مِنْ الطَّلَاقِ، مَا يُتْبِعُ رَجُلٌ نَفْسَهُ امْرَأَةً أَبَدًا، يُطَلِّقُهَا تَطْلِيقَةً ثُمَّ يَدَعُهَا، مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ أَنْ تَحِيضَ ثَلَاثًا، فَمَتَى شَاءَ رَاجَعَهَا. رَوَاهُ النَّجَّادُ بِإِسْنَادِهِ.

ترجمہ:

اگر لوگ طلاق کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ طریقے پر عمل کرتے تو کوئی شخص کبھی بھی اپنی بیوی کو طلاق دے کر اپنے آپ کو اس کے پیچھے نہ لگاتا۔ وہ اسے صرف ایک طلاق دیتا، پھر اسے چھوڑ دیتا، یہاں تک کہ وہ تین مرتبہ حیض دیکھ لے۔ پھر جب بھی وہ چاہتا، اس سے رجوع کرلیتا۔

اسےامام أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن بن إسرائيل النَّجَّاد البغدادي الحنبليؒ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

(بحوالہ المغنی ، جلد 7، صفحہ 369)

امام حرب بن اسماعیل الکرمانی الحنبلیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبلؒ سے طلاق کے شرعی طریقہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا :

أن يطلقها وهى طاهر من غير جماع تطليقة، ثم يدعها حتى تنقضي عدتها كلها، وأنكر قول من يقول: يطلقها عند كل طهر

ترجمہ: طلاق کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو حیض  ونفاس کے بعد پاکی کی حالت میں جنسی تعلق قائم کیے بغیر ایک طلاق دے اورپھر اسے چھوڑ دے یہاں تک کہ اس کی مکمل عدت گزر جائے اور آپ نے ان علما کے قول کی تردید فرمائی جو کہتے ہیں کہ ہر حیض کے بعد ایک طلاق دے۔

(مسائل امام احمد بن حنبل ؒ، رواہ حرب بن اسماعیل الکرمانیؒ)

یہ طلاق دینے کی سب سے بہترین صورت ہے، خاص طور پراس وقت کے جب شوہر نے بیوی سے ہمیشہ کے لیے جدائی اختیار کرنے کا فیصلہ نہ کیا ہو، یا طلا ق کا فیصلہ غصے یا جلدبازی میں ہوگیا ہو۔اس طرح طلاق دینے سے جھگڑا ختم ہونے اور  رجوع کرنے کی امید باقی رہتی ہے۔ ہاں اگر دوبارہ کبھی ایسی نوبت آئے کہ شوہربیوی سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتا ہو تو مذکورہ بالا شرطوں کے ساتھ بیوی کو دوسری طلاق دے۔ بیوی پھر رجوع کی امید کے ساتھ عدت گزارے ۔ شوہر دورانِ عدت  رجوع کرلے تو بہتر،ورنہ عدت کے بعد نکاح جدید کے ذریعے اسی بیوی سے دوبارہ جنسی تعلق قائم کرسکتا ہے۔ اب اگر کبھی تیسری بار جھگڑا پیدا ہوا اور شوہر بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہو تو بیوی کو مذکورہ بالا شرطوں کے ساتھ تیسری طلاق دے۔اب بیوی پھر عدت گزارے۔ اب شوہراس تیسری عدت کے دوران رجوع کر نے کا اختیار نہیں رکھتا کیوں کہ تیسری طلاق کے بعد وہ عورت ا س پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے ، جب تک کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرلے اور وہ دوسرا مرد اسے اپنی آزادانہ مرضی سے طلاق نہ دے دے۔ اگر دوسرا مردطلاق کی نیت سے نکاح کرے گا تو نکاح فاسد ہوگا، اور عورت سابقہ شوہر کے لیے حلا ل نہیں ہوگی۔

طلاق کا مکروہ طریقہ

 اگر شوہر اور بیوی میں اتنی سخت تلخی پیدا ہوجائے کہ وہ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے علیحدہ ہونا چاہتے ہوں یا صرف شوہر ہمیشہ کے لیے بیوی سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتا ہو تو اس کے لیے طلاق کی ایک مکروہ صورت یہ ہے کہ  حیض و نفاس سے پاکی کی حالت میں ہمبستری کرنے سے پہلے ہی بیوی کو ایک طلاق دے۔ پھر اس طلاق کے بعد آنے والے حیض سے پاک ہونے کا انتظار کرے، جب بیوی پہلے حیض سے پاک ہوجائے تو اسے ہمبستری کیے بغیر دوسری طلاق دے۔  پھر دوسری طلاق کے بعد آنے والے حیض سے پاک ہونے کا انتظار کرے اور ہمبستری کیے بغیر بیوی کو تیسری طلاق دے۔ تیسری طلاق کے بعد اس کی بیوی ہمیشہ کے لیے اس پر حرام ہوجائے گی، جب تک کہ وہ مذکورہ بالا  شرعی طریقہ پر اس کے لیے نکاح کے لیے حلال نہیں ہوجاتی۔ البتہ تیسری طلاق دینے سے پہلے شوہر کسی بھی وقت رجوع کرنے کا حق رکھتا ہے۔

طلاق کے اس دوسرے طریقے کے بارے میں امام احمد بن حنبلؒ سے تین اقوال منقول ہیں:

1۔ یہ طریقہ جائزہے

2۔ یہ طریقہ مکروہ ہے

3۔ یہ طریقہ حرام ہے

(امام برہان الدین ابن مفلح الحنبلیؒ،کتاب  المبدع، جلد 6، صفحہ 303)

امام ابن قدامہ الحنبلیؒ فرماتے ہیں:

فَأَمَّا قَوْلُهُ: ثُمَّ يَدَعَهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا. فَمَعْنَاهُ أَنَّهُ لَا يُتْبِعُهَا طَلَاقًا آخِرَ قَبْلَ قَضَاءِ عِدَّتِهَا، وَلَوْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فِي ثَلَاثَةِ أَطْهَارٍ، كَانَ حُكْمُ ذَلِكَ حُكْمَ جَمْعِ الثَّلَاثِ فِي طُهْرٍ وَاحِد

: قَالَ أَحْمَدُ

 طَلَاقُ السُّنَّةِ وَاحِدَةٌ، ثُمَّ يَتْرُكُهَا حَتَّى تَحِيضَ ثَلَاثَ حِيَضٍ. وَكَذَلِكَ قَالَ مَالِكٌ وَالْأَوْزَاعِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ وَأَبُو عُبَيْدٍ وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ،

 وَالثَّوْرِيُّ

 السُّنَّةُ أَنْ يُطَلِّقَهَا ثَلَاثًا، فِي كُلِّ قُرْءٍ طَلْقَةٌ. وَهُوَ قَوْلُ سَائِرِ، الْكُوفِيِّينَ 

ترجمہ:
رہا یہ قول کہ

«پھر اسے چھوڑ دے یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہوجائے»

تو اس کا مطلب یہ ہےکہ عدت پوری ہونے سے پہلے اسے دوسری طلاق نہ دے۔ اور اگر کوئی شخص اسے تین طُہروں میں تین طلاقیں دے دے تو اس کا حکم بھی ایک ہی طُہر میں تینوں طلاقیں جمع کرنے کے حکم کے مانند ہوگا۔

امام احمدؒ نے فرمایا:

 سنت کے مطابق طلاق یہ ہے کہ ایک طلاق دی جائے، پھر اسے چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ وہ تین حیض دیکھ لے۔

اسی طرح امام مالکؒ، امام اوزاعیؒ، امام شافعیؒ اور امام ابو عبید القاسمؒ نے بھی یہی کہا ہے۔

اور امام ابو حنیفہؒ اور امام ثوریؒ نے کہا:

 سنت یہ ہے کہ اسے تین طلاقیں دی جائیں، ہر قُرء میں ایک طلاق۔

یہی دیگر تمام اہلِ کوفہ کا بھی قول ہے۔

امام احمد بن حنبلؒ سے جو تین اقوال اس دوسرے طریقے کے بارے میں منقول ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں جائز ہونے کا قول صراحت کے ساتھ منطوق ہے، اور مکروہ یا حرام ہونے کا قول مفہوم ہے۔یہی سبب ہے کہ فقہ حنبلی کا پہلا متداول متن لکھنے والے  امام عمر بن حسین الخرقی الحنبلیؒ  بھی اسے سنت یا جائز  قرار دیتے ہیں۔

امام اسحاق بن منصورؒ فرماتے ہیں:

قال الإمام أحمد رضي اللَّه عنه فلو أنه قال لها نت طالق ثلاثًا للسنة. فإن كانت حائضًا لم يقع عليها شيءٌ، فإذا هي طهرت وقعت الثلاث عليها جميعًا؛ لأنه الوقتُ الذي أمر فيه النبي صلى اللَّه عليه وسلم ابن عمر رضي اللَّه عنهما ولم يُسم واحدة ولا ثنتين ولا ثلاثًا فقدر عليها في كلِّ طهر تطليقة

ترجمہ:

امام احمدؒ نے فرمایا:

اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے: ’’تم سنت کے مطابق تین طلاق والی ہو۔‘‘ تو اگر اس وقت وہ حیض کی حالت میں ہو تو اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ پھر جب وہ پاک ہوجائے گی تو اس پر تینوں طلاقیں بیک وقت واقع ہوجائیں گی؛ کیونکہ یہی وہ وقت ہے جس میں نبی کریم ﷺ نے حضرت ابن عمرؓ کو طلاق دینے کا حکم دیا تھا۔

نبی کریم ﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ایک طلاق دو، یا دو طلاقیں دو، یا تین طلاقیں دو؛ بلکہ اس حکم سے ہر طُہر میں ایک طلاق مقرر ہوتی ہے۔

(مسائل امام احمدرواہ الکوسج)

امام احمد بن حنبلؒ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی جس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے وہ درج ذیل ہے:

عَنِ الْحَسَنِ , قَالَ : نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , أَنَّهُ  طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُتْبِعَهَا بِتَطْلِيقَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ عِنْدَ الْقُرْئَيْنِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : يَا ابْنَ عُمَرَ ، مَا هَكَذَا أَمَرَكَ اللَّهُ إِنَّكَ قَدْ أَخْطَأْتَ السُّنَّةَ ، وَالسُّنَّةُ أَنْ تَسْتَقْبِلَ الطُّهْرُ فَيُطَلَّقَ لِكُلِّ قُرُوءٍ , قَالَ : فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَاجَعْتُهَا , ثُمَّ قَالَ : إِذَا هِيَ طَهُرَتْ فَطَلِّقْ عِنْدَ ذَلِكَ ، أَوْ أَمْسِكْ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتَ لَوْ أَنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلاثًا أَكَانَ يَحِلُّ لِي أَنْ أُرَاجِعَهَا ؟ ، قَالَ : لا كَانَتْ تَبِينُ مِنْكَ ، وَتَكُونُ مَعْصِيَةً

ترجمہ:

حضرت امام حسن بصریؒ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں  سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما  نے بیان کیا کہ

انہوں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں ایک طلاق دی، پھر ارادہ کیا کہ اگلے دو قُرء(طہر) میں مزید دو طلاقیں دے دیں۔ اس بات کی خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچ گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا:

اے ابن عمر! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس طرح حکم نہیں دیا تھا۔ تم نے سنت کے طریقے میں غلطی کی ہے۔ سنت یہ ہے کہ عورت پاکی کی حالت میں داخل ہو، پھر ہر قُرء (طہر)کے لیے ایک طلاق دی جائے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا، تو میں نے اپنی بیوی سے رجوع کرلیا۔ اور نبیﷺ نے  فرمایا:

جب وہ پاک ہوجائے تو اس وقت اگر چاہو تو اسے طلاق دے دینا، یا اسے اپنے نکاح میں روک لینا۔

میں نے عرض کیا: ’یا رسول اللہ! اگر میں اسےاسی طرح  تین طلاقیں دے دیتا تو کیا میرے لیے اس سے رجوع کرنا جائز ہوتا؟‘

آپ ﷺ نے فرمایا:

نہیں، وہ تم سےہمیشہ کے لیے  جدا ہوجاتی اور یہ (اکٹھی تین طلاقیں دینا) گناہ ہوتا۔

(سنن الدارقطنی: رم الحدیث: 3488)

تین الگ الگ طہر میں تین طلاقیں دینا طلاق کے متفقہ شرعی طریقہ کی خلاف ورزی ہے، اور قرآن کی اشارۃ النص کے بھی منافی ہے۔طلاق کا متفقہ شرعی طریقہ یہ ہے کہ عدت کے دوران طلاق نہ دی جائے، اسی طرف سورۃ الطلاق کی پہلی آیت اشارہ کررہی ہے۔جبکہ پہلی طلاق کے بعد ہی عدت شروع ہوجاتی ہے، اب اس کے بعد دوسرے اور تیسرے طہر میں جو طلاق دی جائے گی وہ عدت کے دوران طلاق ہوگی۔اس لیے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس طرح طلاق دینا ازروئے قرآن ممنوع ہے۔جبکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما والی مذکورہ بالا حدیث سے اس کا جواز نکلتا ہے، بعض علما نے اس حدیث کی صحت پر کلام کیا ہے، لیکن حقیقت یہ کہ صحیح بخاری شریف میں کتاب الطلاق کی پہلی حدیث اسی مضمون کی ہے اور اس حدیث  سے بھی کم و بیش یہ نتیجہ نکالا جاسکتا  ہے جو مذکورہ بالا حدیث سے نکلتا ہے۔حدیث کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں:
 عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ، ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ ‏"‏‏.‏

ترجمہ:

سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نےفرمایا  کہ انہوں نے اپنی بیوی ( آمنہ بنت غفار ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( حالت حیض میں ) طلاق دے دی ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لیں اور پھر اپنے نکاح میں باقی رکھیں ۔ جب ماہواری ( حیض ) بند ہو جائے ، پھر ماہواری آئے اور پھر بند ہو ، تب اگر چاہیں تو اپنی بیوی کو اپنی نکاح میں باقی رکھیں اور اگر چاہیں تو طلاق دے دیں ( لیکن طلاق اس طہر میں ) ان کے ساتھ ہمبستری سے پہلے ہونا چاہئے ۔ یہی ( طہر کی ) وہ مدت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے ۔

(صحیح البخاری: رقم الحدیث 5251)

اسی پر بس نہیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فتویٰ بھی اسی مضمون کی تائید کرتا ہے:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ ، قَالَ : " طَلاقُ السُّنَّةِ : أَنْ يُطَلِّقها تَطْلِيقَةٌ وَهِيَ طَاهِرٌ فِي غَيْرِ جِمَاعٍ ، فَإِذَا حَاضَتْ وَطَهُرَتْ طَلَّقَهَا أُخْرَى ، فَإِذَا حَاضَتْ وَطَهُرَتْ طَلَّقَهَا أُخْرَى ، ثُمَّ تَعْتَدُّ بَعْدَ ذَلِكَ بِحَيْضَةٍ  ، قَالَ الأَعْمَشُ : سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ

ترجمہ:

سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے فرمایا:

طلاقِ سنت یہ ہے کہ عورت کو ایسی حالت میں ایک طلاق دی جائے جب وہ پاک ہو اور اس پاکی میں اس سے جماع نہ کیا گیا ہو۔ پھر جب اسے حیض آئے اور وہ پاک ہوجائے تو اسے دوسری طلاق دی جائے۔ پھر جب اسے حیض آئے اور وہ پاک ہوجائے تو اسے تیسری طلاق دی جائے۔ اس کے بعد وہ ایک حیض کے ذریعے اپنی عدت پوری کرے۔

اعمشؒ کہتے ہیں: میں نے امام ابراہیم نخعیؒ سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے بھی اسی طرح فرمایا۔

(سنن النسائی الکبریٰ: رقم الحدیث 5393)

اب ایک جانب قرآن کا اشارۃ النص ہے، جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بعد کے علما کا متفقہ فیصلہ ہے کہ عدت کے دوران طلاق دینا سنت طلاق یعنی شرعی طریقہ کی خلاف ورزی ہے، اور دوسری جانب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ فتویٰ ہے۔ظاہر ہے کہ قرآن تمام دلائل شرعیہ پر حاکم ہے، اس لیے قرآن کے اشارۃ النص اور متفق علیہ شرعی طریقہ کو ترجیح دینا ضروری معلوم ہوتا ہے، مگر اس اختلاف اوراس حدیث میں بیان کیے گئے طریقہ کے اضطراب کے باوجودقرآنی اشارۃ النص کو  وجوب کی بجائے سنت پر محمول کیا جائے اور عدت کے دوران طلاق دینے کے مذکورہ طریقہ کو مکروہ سمجھا جائے۔امام ابن قدامہ الحنبلی ؒ نے بھی  المقنع میں  اس کے مکروہ ہونے کا قول اختیار کیا ہے۔واللہ اعلم

ہمارے اس قول کا سبب یہ  بھی ہے کہ امام ابوحنیفہؒ، امام سفیان الثوریؒ، امام ابویوسفؒ، امام محمد بن حسن الشیبانیؒ، امام زفرؒ وغیرہ کے نزدیک تو تین طہر میں تین طلاقیں مشروع طریقہ پر  دینا سنت طلاق کی ہی ایک قسم ہے،امام ابو ثورؒ اور  امام شافعی ؒ بھی اسے سنت یا جائز قرار دیتے ہیں،امام احمد بن حنبلؒ کا ایک قول اسے جائز اور ایک مکروہ قرار دیتا ہے۔جبکہ امام مالک ؒ بھی اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس طریقہ کو جائز یا سنت قرار دینے والوں کے پاس سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فتویٰ بھی ہے۔اب ایسی صورت میں اسے حرامِ مطلق قرار دینا بہت سخت فتویٰ ہے۔ واللہ اعلم

طلاق کی نیت

اس مضمون کی ابتدا میں ہی ایک غلط فہمی کا ازالہ کرنا بہت ضروری ہے جو آج کل ہمارے معاشرے میں عام ہے۔بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر صورت میں طلاق اس وقت تک واقع  ہی نہیں ہوتی جب تک  کہ طلاق دینے کی نیت یعنی ارادہ نہ ہو۔ایسا ہرگز نہیں ہے۔ رسول اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق طلاق وہ حلال کام ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے۔اسی لیے طلاق کا  لفظ مذاق یا کھیل تماشے میں بھی زبان پر لانا شرعاً منع ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ثَلاَثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ النِّكَاحُ وَالطَّلاَقُ وَالرَّجْعَةُ ‏" ‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ

ترجمہ:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جسے سنجیدگی میں تو سنجیدہ لیا جاتا ہے البتہ اسے مذاق میں بھی سنجیدہ لیا جائے، یعنی نکاح، طلاق اور رجوع کرنا۔ امام ترمذیؒ نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن غریب ہے،اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور دیگر اہل علم کا عمل (فتویٰ) اسی حدیث کے مطابق ہے۔

 (جامع الترمذی: رقم الحدیث 1184، سنن ابوداؤد: رقم الحدیث  2194)

 اس حدیث سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ غصے میں دی ہوئی طلاق بھی واقع ہوجاتی ہے، چاہے ارادہ نہ بھی ہو۔

امام ابن قدامہ الحنبلیؒ  اپنی اہم کتاب الکافی میں فرماتے ہیں:

وإذا أتى بصريح الطلاق وقع، نواه أو لم ينوه، جادا كان أو هازلا، لما روى أبو هريرة أن رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قال 

ثلاث جدهن جد، وهزلهن جد، الطلاق والنكاح والرجعۃ

رواه الترمذي

(الکافی، جلد:3، صفحہ: 114)

ترجمہ:

جب کسی نے واضح طور پر  (اپنی بیوی کو) طلاق کا لفظ کہا تو ایک طلاق واقع ہوجاتی ہے، خواہ اس کی نیت طلاق دینے کی ہو یا نہ ہو، خواہ یہ لفظ بولتے ہوئے وہ سنجیدہ ہو یا ہنسی مذاق کررہا ہو۔ کیونکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جسے سنجیدگی میں تو سنجیدہ لیا جاتا ہے البتہ اسے مذاق میں بھی سنجیدہ لیا جائے، یعنی نکاح، طلاق اور رجوع کرنا۔(رواہ الترمذی)

امام ابن قدامہ الحنبلیؒ فقہ اسلامی کی مایہ ناز کتاب المغنی میں فرماتے ہیں:

فَإِنْ قَالَ: أَنْتِ الطَّلَاقُ. فَقَالَ الْقَاضِي: لَا تَخْتَلِفُ الرِّوَايَةُ عَنْ أَحْمَدَ فِي أَنَّ الطَّلَاقَ يَقَعُ بِهِ، نَوَاهُ أَوْ لَمْ يَنْوِهِ. وَبِهَذَا قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ، وَمَالِكٌ. وَلِأَصْحَابِ الشَّافِعِيِّ فِيهِ وَجْهَانِ؛

ترجمہ:

اگر خاوند نے کہا کہ تمہیں طلاق ہے، قاضی ابویعلیٰ الحنبلیؒ فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل ؒ سے متفقہ قول منقول ہے کہ یہ طلاق واقع ہوجاتی ہے ،چاہے اس نے طلاق کی نیت کی ہو یا نہ کی ہو۔یہی قول امام ابوحنیفہؒ اور امام مالک ؒ کا ہے۔ جبکہ امام شافعی ؒ سے اس مسئلہ میں دو قول منقول ہیں (اثبات میں اور نفی میں)۔

(المغنی: جلد 7، صفحہ 386)

امام ابن قدامہ الحنبلیؒ ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:

قَدْ ذَكَرْنَا أَنَّ صَرِيحَ الطَّلَاقِ لَا يَحْتَاجُ إلَى نِيَّةٍ، بَلْ يَقَعُ مِنْ غَيْرِ قَصْدٍ، وَلَا خِلَافَ فِي ذَلِكَ.

ترجمہ: جیساکہ ہم نے پہلے ذکر کیا کہ صریح الفاظ میں دی گئی  طلاق  نیت کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ یہ بلا ارادہ بھی واقع ہوجاتی ہے، اور فقہ حنبلی میں اس بارے میں کوئی اختلاف منقول نہیں۔

 (المغنی: جلد 7، صفحہ 397)

اشارے کنائے میں طلاق

فقہا ئے اسلام کا اس پر تو اتفاق ہے کہ اگر دل کے ارادے کے بغیر مذاق یا کھیل تماشے میں بھی طلاق کے صریح لفظ کے ساتھ بیوی کو طلاق دے دی تو وہ طلاق واقع ہوگئی، اب شرعی طریقے سے رجوع کیے بغیر بیوی سے ازدواجی تعلق قائم کرنا ممنوع ہے۔البتہ فقہا نے اس پر بھی مفصل بحث کی ہے کہ کیا طلاق کا لفظ بولے بغیر اشارے کنائےوالے الفاظ میں بھی  طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

جیسے کوئی کہے کہ میری طرف سےتم آزاد ہویا میں تمہیں آزاد کرتا ہوں،یا کہے  میں تم سے اپنا تعلق توڑتا ہوں،یا  اس سے ملتے جلتے الفاظ جس سے جدائی کا مفہوم نکلتا ہو۔

امام ابن قدامہ الحنبلی ؒ  اپنی شہرۂ آفاق کتاب المغنی میں فرماتے ہیں:

  فَإِنْ قَالَ: أَرَدْت بِقَوْلِي: فَارَقْتُك أَيْ بِجِسْمِي، أَوْ بِقَلْبِي أَوْ بِمَذْهَبِي، أَوْ سَرَّحْتُك مِنْ يَدِي، أَوْ شُغْلِي، أَوْ مِنْ حَبْسِي، أَوْ أَيْ سَرَّحْت شَعْرَك. قُبِلَ قَوْلُهُ. وَإِنْ قَالَ: أَرَدْت بِقَوْلِي: أَنْتِ طَالِقٌ أَيْ: مِنْ وَثَاقِي. أَوْ قَالَ: أَرَدْت أَنْ أَقُولُ: طَلَبْتُك. فَسَبَقَ لِسَانِي، فَقُلْت: طَلَّقْتُك. وَنَحْوُ ذَلِكَ، دُيِّنَ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى، فَمَتَى عَلِمَ مِنْ نَفْسِهِ ذَلِكَ، لَمْ يَقَعْ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَا خِلَافَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ إذَا أَرَادَ أَنْ يَقُولَ لِزَوْجَتِهِ: اسْقِينِي مَاءً. فَسَبَقَ لِسَانُهُ فَقَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ، أَوْ أَنْتِ حُرَّةٌ. أَنَّهُ لَا طَلَاقَ فِيهِ. وَنَقَلَ ابْنُ مَنْصُورٍ عَنْهُ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ حَلَفَ، فَجَرَى عَلَى لِسَانِهِ غَيْرُ مَا فِي قَلْبِهِ، فَقَالَ: أَرْجُو أَنْ يَكُونَ الْأَمْرُ فِيهِ وَاسِعًا

(المغنی: جلد 7، صفحہ 386)

ترجمہ:

پس اگر شوہر کہے: میرے اس قول "میں نے تم سے جدائی اختیار کرلی" سے میری مراد یہ تھی کہ میں اپنے جسم کے اعتبار سے تم سے جدا ہوا، یا اپنے دل کے اعتبار سے، یا اپنے مذہب کے اعتبار سے؛ یا میرے قول "میں نے تمہیں آزاد کر دیا" سے مراد یہ تھی کہ میں نے تمہیں اپنے ہاتھ سے، یا اپنے کام سے، یا اپنی گرفت/قید سے آزاد کر دیا؛ یا یہ کہ میں نے تمہارے بال کھول دیے۔ تو اس کے دعویٰ کو قبول کیا جائے گا۔

اور اگر وہ کہے: میرے قول "تم طلاق یافتہ ہو" سے میری مراد یہ تھی کہ تم میری قید سے آزاد ہو؛ یا وہ کہے: میرا ارادہ یہ تھا کہ میں کہوں "میں نے تمہیں طلب کیا"، لیکن میری زبان پھسل گئی اور میں نے کہہ دیا: "میں نے تمہیں طلاق دے دی"، یا اس طرح کی کوئی اور صورت ہو، تو اس معاملے میں اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان اس کے قول کو اس کے دین و باطن کے اعتبار سے معتبر سمجھا جائے گا۔ پس جب اسے اپنے دل میں اس بات کا یقین ہو کہ اس کی مراد واقعی یہی تھی، تو اس کے اور اس کے رب کے درمیان اس پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔

ابوبکر کہتے ہیں: ابوعبداللہ (امام احمد بن حنبلؒ) سے اس بارے میں کوئی اختلاف منقول نہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہنا چاہتا ہو: "مجھے پانی پلاؤ"، لیکن زبان پھسل جائے اور وہ کہہ بیٹھے: "تم طلاق یافتہ ہو" یا "تم آزاد ہو"، تو اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔

اور ابن منصور نے امام احمدؒ سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے قسم کھائی، لیکن اس کی زبان سے اس کے دل میں موجود بات کے بجائے کوئی اور لفظ نکل گیا۔ تو انہوں نے فرمایا:

"مجھے امید ہے کہ اس معاملے میں گنجائش ہوگی۔"

اکثر فقہابالخصوص حنبلی علما  کے نزدیک عام طور پر اشارے کنائے سے طلاق  اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک کہ دل میں طلاق دینے کی نیت نہ ہو۔

 تاہم درج ذیل دو صورتوں میں طلاق دینے کی دل میں نیت نہ بھی ہو تو  بھی اشارے کنائے میں ایک طلاق ِ رجعی واقع ہوجاتی ہے:
1۔ اشارے کنائے میں طلاق دینے والا بیوی سے ناراض ہو یا غصے میں ہو۔
2۔ بیوی طلاق مانگے اور شوہر اشارے کنائے میں طلاق دے دے، چاہے وہ خود غصے میں نہ بھی ہو۔

(الاقناع، امام موسیٰ الحجاوی الحنبلیؒ، جلد 4، صفحہ11)

امام ابن قدامہ الحنبلیؒ  اشارہ و کنائے میں کہے گئے الفاظ کے بارے میں فرماتے ہیں:

وَهَلْ تُقْبَلُ دَعْوَاهُ فِي الْحُكْمِ؟ يُنْظَرُ؛ فَإِنْ كَانَ فِي حَالِ الْغَضَبِ، أَوْ سُؤَالِهَا الطَّلَاقَ، لَمْ يُقْبَلْ فِي الْحُكْمِ؛ لِأَنَّ لَفْظَهُ ظَاهِرٌ فِي الطَّلَاقِ، وَقَرِينَةُ حَالِهِ تَدُلُّ عَلَيْهِ، فَكَانَتْ دَعْوَاهُ مُخَالِفَةً لِلظَّاهِرِ مِنْ وَجْهَيْنِ، فَلَا تُقْبَلُ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ فِي هَذِهِ الْحَالِ فَظَاهِرُ كَلَامِ أَحْمَدَ، فِي رِوَايَةِ ابْنِ مَنْصُورٍ، وَأَبِي الْحَارِثِ، أَنَّهُ يُقْبَلُ قَوْلُهُ. وَهُوَ قَوْلُ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَالشَّعْبِيِّ، وَالْحَكَمِ، حَكَاهُ عَنْهُمْ أَبُو حَفْصٍ؛ لِأَنَّهُ فَسَّرَ كَلَامَهُ بِمَا يَحْتَمِلُهُ احْتِمَالًا غَيْرَ بَعِيدٍ،

 (المغنی: جلد 7، صفحہ 386)

ترجمہ:

اور کیا اس کا یہ دعویٰ عدالتی فیصلہ کے معاملے میں بھی قبول کیا جائے گا؟ اس میں تفصیل ہے۔ اگر یہ بات غصے کی حالت میں کہی گئی ہو، یا اس وقت جب بیوی نے اس سے طلاق کا مطالبہ کیا ہو، تو عدالت میں اس کا دعویٰ قبول نہیں کیا جائے گا؛ کیونکہ اس کے الفاظ بظاہر طلاق ہی پر دلالت کرتے ہیں، اور اس کی اس وقت کی حالت بھی اسی معنی کی تائید کرتی ہے۔ لہٰذا اس کا دعویٰ دو اعتبار سے ظاہرِ حال کے خلاف ہے، اس لیے اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔

لیکن اگر یہ بات ایسی حالت میں نہ کہی گئی ہو، تو امام ابن منصورؒ اور امام ابو الحارثؒ  کی روایت میں امام احمدؒ کے کلام کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اس کا دعویٰ قبول کیا جائے گا۔

یہی قول جابر بن زیؒد، شعبیؒ اور حکمؒ  کا بھی ہے۔ ابو حفص ؒنے ان حضرات سے یہ قول نقل کیا ہے؛ کیونکہ اس شخص نے اپنے کلام کی ایسی توجیہ بیان کی ہے جو اس کے الفاظ میں کسی بعید احتمال کے بغیر گنجائش رکھتی ہے۔

طلاق کا حرام طریقہ

طلاقِ ثلاثہ یا ایک مجلس کی تین طلاق کی  مختلف صورتیں ممکن ہیں،جمہورعلمائے  امت کے نزدیک ایک مجلس میں تین طلاقیں دینا حرام ہے، خواہ اس کی کوئی بھی صورت ہو وہ طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

 تاہم  فقہ حنبلی میں ایک مجلس کی تین طلاق دینے والے کے الفاظ اور نیت کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ اب ذیل میں اس کی تفصیل درج کی جاتی ہے:

1۔ ایک جملے یا ایک سانس میں طلاق طلاق  طلاق کہنا

ہمارے معاشرے میں اکثر ایساہوتا ہے کہ شوہر غصے میں اپنی بیوی کو طلاق دینے کے لیےایک ہی جملے یا ایک ہی سانس میں  طلاق طلاق طلاق کہہ دیتا ہے، ایک جملے یا ایک سانس میں یوں طلاق طلاق طلاق  کہنےکی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ اس بارے میں فقہائے امت کا اختلاف ہے۔اس اختلاف کا انحصار اس امر پر ہے کہ آیا ایک جملے یا ایک سانس میں اس طرح دی گئی طلاق کی حیثیت کے تعین میں طلاق دینے والے کی نیت کا اعتبار کیا جائے گا یا نہیں۔اس مسئلہ میں  امام احمد بن حنبلؒ کے مسلک کی تفصیل درج ذیل ہے۔

امام ابن قدامہ الحنبلیؒ فرماتے ہیں:

فَقِيلَ: كَمَا لَوْ قَالَ؛ أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ. وَقَالَ: أَرَدْت بِالثَّانِيَةِ إفْهَامَهَا. وَقَالَ الْقَاضِي: فِيهِ رِوَايَتَانِ، هَذِهِ الَّتِي ذَكَرْنَا، قَالَ: وَهِيَ ظَاهِرُ كَلَامِ أَحْمَدَ. وَالثَّانِيَةُ، لَا يُقْبَلُ. وَهُوَ مَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ؛ لِأَنَّهُ خِلَافُ مَا يَقْتَضِيهِ الظَّاهِرُ فِي الْعُرْف، فَلَمْ يُقْبَلْ فِي الْحُكْمِ،

ترجمہ:

پس کہا گیا: اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص کہے: "تمہیں طلاق ہے، تمہیں طلاق ہے"، پھر کہے کہ دوسری مرتبہ "تمہیں طلاق ہے" کہنے سے میری مراد اسے پہلی بات سمجھانا تھی۔

قاضی ابو یعلیٰؒ نے کہا: اس مسئلے میں دو روایتیں ہیں۔ پہلی وہی ہے جسے ہم نے ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ امام احمدؒ کے کلام کا ظاہر مفہوم ہے۔

اور دوسری روایت یہ ہے کہ اس کا قول قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہی امام شافعیؒ کا مذہب ہے؛ کیونکہ یہ عرف کے اعتبار سے ظاہرِ کلام کے تقاضے کے خلاف ہے، اس لیے عدالتی فیصلے میں اس کے دعوے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

امام ابن قدامہ الحنبلی ؒ کی عبارت سے واضح ہے کہ زیرِ بحث مسئلہ میں اختلاف کی اصل بنیاد یہ ہے کہ طلاق کے عدد کے تعین میں ایک ہی جملے یا سانس میں طلاق طلاق طلاق کہنے   والے کی نیت یا دعویٰ پر اعتبار کیا جائے گا یا نہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ کا ظاہر مذہب یہ ہے کہ اس کے دعوے کا اعتبار کیا جائے گا۔واللہ اعلم

امام ابن قدامہ الحنبلیؒ کی مذکورہ بالا عبارت  میں امام قاضی ابو یعلیٰ الحنبلی ؒ کے جس قول کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ا س سے بات مزید واضح ہوجاتی ہے:

امام قاضی ابو یعلیٰ الحنبلیؒ فرماتے ہیں:

إذا قال: أنت طالق لا بل أنت طالق، فهل تكون طلقة أم طلقتين؟ فنقل ابن منصور عن أحمد أنها طلقة واحدة وترجع إليه في الثانية. وبه قال أبو بكر

(کتاب الروایتین والوجھین، جلد:2، صفحہ:163)

ترجمہ:

اگر شوہر کہے: "تمہیں طلاق ہے، بلکہ تمہیں طلاق ہے"، تو کیا اس سے ایک طلاق واقع ہوگی یا دو طلاقیں؟

امام ابن منصورؒ نے امام احمدؒ سے نقل کیا ہے کہ اس سے ایک ہی طلاق واقع ہوگی، اور دوسری مرتبہ کہے گئے الفاظ کے بارے میں شوہر کی نیت کی طرف رجوع کیا جائے گا۔

امام ابوبکرالخلال الحنبلی ؒنے بھی یہی قول اختیار کیا ہے۔

امام موسیٰ الحجاوی الحنبلیؒ فقہ حنبلی کے معتبر ترین متن الاقناع میں فرماتے ہیں:

وإن قال لمدخول بها أنت طالق أنت طالق ونوى بالثانية الإيقاع أو لم ينو بها إيقاعا ولا تأكيدا طلقت طلقتين

وإن نوى بالثانية التأكيد وإتمامها أو كانت غير مدخول بها فواحدة ويشترط في التأكيد أن يكون متصلا فلو قال أنت طالق ثم مضى زمن طويل ثم أعاد ذلك للمدخول لها طلقت ثانية ولم تنفع نية التأكيد وإن نوى بالثانية التأكيد أو أكد الثانية بالثالثة صح وقبل وكذا تأكيد الأولى بهما وإن أكد الأولى بالثالثة لم يقبل لعدم اتصال التأكيد وأنت طالق طالق طالق يقع واحدة ما لم ينو أكثر

(الاقناع، امام موسیٰ الحجاوی الحنبلیؒ، جلد 4، صفحہ19)

ترجمہ:

اور اگر شوہر اپنی اس بیوی سے، جس سے ازدواجی تعلق قائم ہوچکا ہو، کہے: "تمہیں طلاق ہے، تمہیں طلاق ہے"، اور دوسری مرتبہ کہنے سے اس کی نیت طلاق واقع کرنا ہو، یا دوسری مرتبہ کہنے سے نہ طلاق واقع کرنے کی نیت ہو اور نہ پہلی بات کی تاکید کی نیت ہو، تو بیوی کو دو طلاقیں واقع ہوں گی۔

اور اگر دوسری مرتبہ کہنے سے اس کی نیت پہلی طلاق کی تاکیدیا اس کے معنی کو مکمل کرنا ہو، تو ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔ اسی طرح اگر بیوی ایسی ہو جس سے ازدواجی تعلق قائم نہ ہوا ہو، تو بھی ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔

اور تاکید کے معتبر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ متصل ہو۔ چنانچہ اگر شوہر کہے: "تمہیں طلاق ہے"، پھر ایک طویل وقت گزر جائے، اور اس کے بعد مدخولہ بیوی سے دوبارہ یہی الفاظ کہے، تو دوسری طلاق بھی واقع ہوجائےگی اوراب دوسری مرتبہ کہنے کے بارے میں اس کی تاکید کی نیت معتبر نہیں ہوگی۔

اور اگر دوسری مرتبہ کہنے سے اس کی نیت پہلی بات کی تاکید ہو، یا تیسری مرتبہ کہے گئے الفاظ سے دوسری مرتبہ کے الفاظ کی تاکید کرے، تو یہ درست ہوگا اور اس کی نیت قبول کی جائے گی۔ اسی طرح اگر تیسری مرتبہ کہے گئے الفاظ سے پہلی مرتبہ کے الفاظ کی تاکید کرے، تو بھی اس کی نیت معتبر ہوگی؟ نہیں، بلکہ اس کا یہ دعویٰ قبول نہیں کیا جائے گا، کیونکہ تاکید کا پہلی بات کے ساتھ متصل ہونا ضروری تھا۔

اور اگر شوہر کہے:

"تمہیں طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے"

تو ایک ہی طلاق واقع ہوگی، جب تک کہ اس نے ایک سے زیادہ طلاقوں کی نیت نہ کی ہو۔

امام موسیٰ الحجاوی الحنبلیؒ اپنی کتاب زادالمسقنع  میں شوہر کے دعوائے تاکید کو تسلیم کرنے کا مسئلہ یوں بیان فرماتے ہیں:

وإذا قال لمدخول بها

 أنت طالق وكرره وقع العدد إلا أن ينوي تأكيدا

 يصح

 أو إفهامها

(زادالمسقنع، امام موسیٰ الحجاوی الحنبلیؒ، صفحہ 180)

ترجمہ:

اور جب کسی ایسی عورت سے جس سے جنسی تعلق قائم  ہو چکا ہو، شوہر کہے: ’’تمہیں طلاق ہے‘‘، پھر اسی جملے کی تکرار کرے، تو جتنی مرتبہ کہا ہے اتنی ہی طلاقیں واقع ہوں گی، الا یہ کہ شوہر دوسری مرتبہ کہنے سے تاکید مراد لے یا اسے پہلی طلاق کا مفہوم سمجھانا مراد ہو۔

فقہ حنبلی کے دوسرے معتبر ترین متن منتہی الارادات میں امام ابن النجار الفتوحی الحنبلی ؒ فرماتے ہیں:

تَطْلُقُ مَدْخُولٌ بِهَا بأَنْتِ طَالِقٌ أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ إلَّا أَنْ يَنْوِيَ بِتَكْرَارِهِ تَأْكِيدًا مُتَّصِلًا أَوْ إفْهَامًا وَإِنْ أَكَّدَ الْأُولَى بِثَالِثَةٍ لَمْ يُقْبَلْ وبِهِمَا أَوْ تَأْكِيدَ ثَانِيَةٍ بِثَالِثَةٍ قُبِلَ

(منتہی الارادات، امام ابن النجار الفتوحی الحنبلیؒ، جلد 4، صفحہ 260)

ترجمہ:

جس عورت سے ازدواجی تعلق قائم ہو چکا ہو، اگر شوہر کہے: ’’تمہیں طلاق ہے، تمہیں طلاق ہے‘‘ تو دو طلاقیں واقع ہوں گی، سوائے اس کے  کہ وہ مسلسل تکرار سے تاکید مراد لے یا اسے پہلی بات سمجھانا مقصود ہو۔

اور اگر شوہر پہلی طلاق کی تاکید تیسری مرتبہ کہہ کر کرے تو اس کا یہ دعویٰ قبول نہیں کیا جائے گا۔ لیکن اگر وہ پہلی اور دوسری دونوں باتوں کی تاکید تیسری مرتبہ کہنے سے مراد لے، یا دوسری طلاق کی تیسری مرتبہ سے تاکید مراد لے، تو اس کا یہ دعویٰ قبول کیا جائے گا۔

حنابلہ کے اس قول کی دلیل درج ذیل حدیث ہے:

عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ وَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلاَّ وَاحِدَةً ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏" ‏ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ وَاحِدَةً ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رُكَانَةُ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلاَّ وَاحِدَةً ‏.‏ فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَوَّلُهُ لَفْظُ إِبْرَاهِيمَ وَآخِرُهُ لَفْظُ ابْنِ السَّرْحِ ‏.‏

(سنن ابوداؤد: رقم الحدیث 2206، جامع الترمذی: رقم الحدیث 1177)

ترجمہ:

نافع بن عجیر بن عبد یزید بن رکانہ سے روایت ہے کہ 

سیدنا  رُکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ  نے اپنی بیوی سہیمہ کو طلاق بتہ (ایک سانس میں تین طلاق) دے دی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی اور کہا : اللہ کی قسم ! میں نے تو ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم اللہ کی تم نے صرف ایک کی نیت کی تھی ؟ “ رکانہ ؓنے کہا : قسم اللہ کی میں نے صرف ایک کی نیت کی تھی ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجوع کرنے کی اجازت دے دی۔ پھر رکانہؓ نے اسے دوسری طلاق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں دی اور تیسری  طلاق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں دی۔

اگرچہ اس حدیث کی سند میں قدرے ضعف ہے تاہم امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک ضعیف حدیث قیاس سے بہتر ہے۔

امام خطابی رحمۃ اللہ علیہ نے معالم السنن میں اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے ذکر کیا ہے کہ امام سعید بن المسیبؒ، امام عروہ بن زبیرؒ، امام زہریؒ، امام اوزاعیؒ، امام شافعیؒ، امام مالکؒ، امام ابن ابی لیلیٰ ؒاور امام احمد بن حنبلؒ  کے نزدیک طلاق البتہ سے مراد تین طلاقیں ہیں۔جبکہ امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک اگر نیت کا تعین نہ کیا ہو تو ایک طلاق  بائنہ مراد ہے، ورنہ جتنی طلاقوں کی نیت کی ہو اتنی ہی مراد ہوں گی۔
(معالم السنن، جلد 3، صفحہ 248)

علمائے احناف اگرچہ اس حدیث  کی تاویل کرتے ہیں، تاہم وہ بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے مبارک زمانہ میں  تاکید کی نیت کا اعتبار کرلیا جاتا تھا، جیساکہ مفتی کفایت اللہ حنفیؒ  کی کفایت المفتی میں درج ہے:

آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بہ نیت انشائے طلاق تین طلاقیں دینے پر ایک کا حکم نہیں دیا جاتا تھا بلکہ نیتِ تاکید کا اعتبار کر لیا جاتا تھا اور یہ اعتبار حضرت ﷺ کے حکم اور صحابہ کے اتفاق سے ساقط ہو گیا۔

امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک یہ حکم آج بھی باقی ہے، منسوخ نہیں ہوا جیساکہ ان کے مذکورہ بالا قول سے ظاہر ہے۔واللہ اعلم

حروفِ عطف اور تاکید کی نفی

امام قاضی ابویعلیٰ الحنبلیؒ نے شوہر کی نیت کے قبول کرنے کے بارے میں امام احمد بن حنبلؒ کا جو قول نقل کیا ہے اسے ایک بار پھر غور سے ملاحظہ فرمائیں۔

إذا قال: أنت طالق لا بل أنت طالق، فهل تكون طلقة أم طلقتين؟ فنقل ابن منصور عن أحمد أنها طلقة واحدة وترجع إليه في الثانية. وبه قال أبو بكر

(کتاب الروایتین والوجھین، جلد:2، صفحہ:163)

ترجمہ:

اگر شوہر کہے: "تمہیں طلاق ہے، بلکہ تمہیں طلاق ہے"، تو کیا اس سے ایک طلاق واقع ہوگی یا دو طلاقیں؟

امام ابن منصورؒ نے امام احمدؒ سے نقل کیا ہے کہ اس سے ایک ہی طلاق واقع ہوگی، اور دوسری مرتبہ کہے گئے الفاظ کے بارے میں شوہر کی نیت کی طرف رجوع کیا جائے گا۔

امام ابوبکرالخلال الحنبلی ؒنے بھی یہی قول اختیار کیا ہے۔

امام احمدؒ کے منقول قول سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ تکرارِ لفظ کے قانونی اثر کے تعین میں شوہر کی نیت کو مؤثر مانا جائے گا، حتیٰ کہ جب دوسری عبارت پہلے کلام کے ساتھ ایک حرفِ عطف کے ذریعے مربوط ہو۔ "وترجع إليه في الثانية" اس بات کی صریح شہادت ہے۔

جب ایک ہی جملے میں صادر ہونے والے کلام کی تعبیر کا نتیجہ میاں بیوی کے دائمی فراق اور حرمتِ مغلظہ تک پہنچ سکتا ہو، تو محض حرفِ عطف "واو" یا "فاء" وغیرہ  کی موجودگی کو متکلم کی نیتِ تاکید کے مقابلے میں تعدد کو  فیصلہ کن قرار دینا محلِ نظر ہے۔ خصوصاً جب عربی عرف و بلاغت خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ عطف کے ساتھ تکرار تاکید، تقویت اور تشدید کے لیے بھی آتی ہے۔ لہٰذا "عدمِ مطابقتِ لفظی" کو ایک ایسا قطعی معیار بنانا جو متکلم کے صریح دعوائے تاکید کو ساقط کردے، دلیل اور نتیجے کے درمیان غیر متناسب تعلق پیدا کرتا ہے۔ جس قول کے قانونی اثرات انتہائی شدید، ناقابلِ واپسی اور انسانی زندگی پر دیرپا ہوں، اس کے لیے محض ایک کمزور، غیر قطعی اور سیاق سے الگ کیا گیا لسانی قرینہ فیصلہ کن نہیں ہونا چاہیے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ۝ ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ

(سورۃ القیامہ: آیت 34-35)

امام ابن کثیر ؒ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں

«وهذا تهديد ووعيد أكيد منه تعالى للكافر به المتبختر في مشيته»

یعنی

"یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کافر کے لیے سخت دھمکی اور مؤکد وعید ہے جو تکبر کے ساتھ اکڑ کر چلتا ہے۔"

یہاں وعید اکید  کی تعبیر کم از کم یہ ثابت کرتی ہے کہ فاء اور ثم کے ساتھ تکرار کو محض تعدد کے معنی میں مقید کرنا عربی اسلوب کا لازمی اصول نہیں۔لہٰذا قرآن حکیم کی اس مثال سے واضح ہے کہ حروف عطف کے ساتھ تکرار بھی تاکید کا معنیٰ دے سکتی ہے۔ اب یہ قول کہ حروف ِعطف چونکہ مغایرت پیدا کرتے ہیں لہذا ان سے تاکید مراد لینا قطعی ممنوع ہے، اپنی اہمیت کھودیتا ہے۔لہٰذا ہمارے نزدیک امام احمد بن حنبل ؒ کی یہ رائے بالکل درست ہے کہ طلاق کی تکرار میں حروفِ عطف آنے کے باوجود شوہر کے قصد اور دعویٰ کو معتبر مانا جائے گا۔ واللہ اعلم

یعنی اگر شوہر کہے کہ انت طالق ثم طالق ثم طالق(تمہیں طلاق ہے، پھر طلاق ہے، پھر طلاق ہے)   تو اس میں تعدد کو قطعی نہیں مانا جائے گا ، بلکہ شوہر کے دعویٰ کا اعتبار کیا جائے گا، کہ آیا اس کی مراد تعدد ہے یا تاکید۔اگر بالفرض شوہر اپنے اصل مراد کے خلاف جھوٹا دعویٰ کرے تو وہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں جوابدہ ہوگا۔

اوپر مذکور ہوا کہ امام احمد بن حنبلؒ سبقتِ لسانی کی صورت میں طلاق کا لفظ زبان سے پھسل جائے تو طلاق واقع نہیں ہوتی۔  اگر سبقتِ لسان کے اصول کو تسلیم کیا جائے کہ غیر مقصود لفظ کا محض زبان سے  بے اختیارنکل جانا حکم کے لیے کافی نہیں، تو پھر یہ سوال بالکل پیدا ہوتا ہے کہ حروفِ عطف کے بارے میں یہی اصول کیوں نہ جاری ہو؟

2۔ ایک ہی مجلس میں وقفے سے تین طلاق دینا

  تاہم اگر ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں وقفے سے دی ہیں یا الگ الگ مجلس  میں تین طلاقیں دی ہیں تو اس میں تاکید کی نیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ، کیونکہ وقفے کا مطلب ہے کہ اس نے سوچ سمجھ کر تین طلاقیں دی ہیں۔ایسی صورت میں تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اورشوہر رجوع کا حق کھو دیتا ہے، کیونکہ اس نے شریعت کا دیا ہوا اختیار استعمال نہیں کیا اور سنت طریقہ پر طلاق دینے کی بجائے حرام طریقہ پر طلاق دی ہے۔اب ان کا نکاح کلیتاً ختم ہوگیا ہے اور یہ عورت اس وقت تک مرد پر حرام ہے جب تک کہ وہ کسی دوسرے مرد سے شادی نہیں کرلیتی اور وہ مرد اسے اپنی آزادانہ مرضی سے طلاق نہیں دے دیتا۔اس قول کی دلیل سنن دارقطنی کی مذکورہ بالا حدیث ہے جو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔نیز اس مسئلہ میں آئمۂ اربعہ کا اتفاق ہے۔واللہ اعلم

 

3۔ جملے میں تعداد کی طلاق کا ذکر کرنا

ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے کی ایک صورت یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے کہے کہ تمہیں تین طلاقیں دیتا ہوں، تو اس صورت میں آئمۂ اربعہ کا اتفاق ہے کہ اسے تین  طلاقیں ہی مانا جائے گا چاہے شوہر بعد میں اس کے خلاف دعویٰ کرے۔اس کی دلیل بھی سنن دارقطنی کی مذکورہ بالا حدیث ہے۔(المغنی)

ایک مجلس کی تین طلاق کے بارے میں گمراہ کن نظریہ

بعض لوگوں کی رائے ہے کہ چونکہ ایک مجلس میں تین طلاقیں دینا حرام ہے اس لیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو حالتِ طہر میں بھی ایک مجلس میں کسی بھی انداز میں تین طلاقیں دے دیتا ہے ، تو ایک طلاق بھی واقع نہیں ہوتی، اس لیے اس عورت  پر کوئی عدت بھی لازم نہیں آتی۔

(تنویر الآفاق فی مسئلۃ الطلاق، مصنف محمد رئیس ندوی)

درج ذیل حدیث رافضہ کے اس قول کے باطل ہونے کی واضح دلیل ہے:

عَنِ الْحَسَنِ , قَالَ : نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , أَنَّهُ  طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُتْبِعَهَا بِتَطْلِيقَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ عِنْدَ الْقُرْئَيْنِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : يَا ابْنَ عُمَرَ ، مَا هَكَذَا أَمَرَكَ اللَّهُ إِنَّكَ قَدْ أَخْطَأْتَ السُّنَّةَ ، وَالسُّنَّةُ أَنْ تَسْتَقْبِلَ الطُّهْرُ فَيُطَلَّقَ لِكُلِّ قُرُوءٍ , قَالَ : فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَاجَعْتُهَا , ثُمَّ قَالَ : إِذَا هِيَ طَهُرَتْ فَطَلِّقْ عِنْدَ ذَلِكَ ، أَوْ أَمْسِكْ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتَ لَوْ أَنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلاثًا أَكَانَ يَحِلُّ لِي أَنْ أُرَاجِعَهَا ؟ ، قَالَ : لا كَانَتْ تَبِينُ مِنْكَ ، وَتَكُونُ مَعْصِيَةً

ترجمہ:

حضرت امام حسن بصریؒ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں  سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما  نے بیان کیا کہ

انہوں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں ایک طلاق دی، پھر ارادہ کیا کہ اگلے دو قُرء(طہر) میں مزید دو طلاقیں دے دیں۔ اس بات کی خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچ گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا:

اے ابن عمر! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس طرح حکم نہیں دیا تھا۔ تم نے سنت کے طریقے میں غلطی کی ہے۔ سنت یہ ہے کہ عورت پاکی کی حالت میں داخل ہو، پھر ہر قُرء (طہر)کے لیے ایک طلاق دی جائے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا، تو میں نے اپنی بیوی سے رجوع کرلیا۔ اور نبیﷺ نے  فرمایا:

جب وہ پاک ہوجائے تو اس وقت اگر چاہو تو اسے طلاق دے دینا، یا اسے اپنے نکاح میں روک لینا۔

میں نے عرض کیا: ’یا رسول اللہ! اگر میں اسےاسی طرح  تین طلاقیں دے دیتا تو کیا میرے لیے اس سے رجوع کرنا جائز ہوتا؟‘

آپ ﷺ نے فرمایا:

نہیں، وہ تم سےہمیشہ کے لیے  جدا ہوجاتی اور یہ (اکٹھی تین طلاقیں دینا) گناہ ہوتا۔

(سنن الدارقطنی: رم الحدیث: 3488)

اس حدیث کا شاہد سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث ہے: عَنْ زَاذَانَ , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ : سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  رَجُلا طَلَّقَ الْبَتَّةَ فَغَضِبَ , وَقَالَ : 

تَتَّخِذُونَ آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا , أَوْ دِينَ اللَّهِ هُزُوًا وَلَعِبًا , مَنْ طَلَّقَ الْبَتَّةَ أَلْزَمْنَاهُ ثَلاثًا ، لا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ

ترجمہ:

امام زاذانؒ سیدنا امام  علی بن ابی طالب علیہ السلام  سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:

نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو  کہتے ہوئے سنا کہ اس نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دی ہیں، تو آپ ﷺ غضب ناک ہوئے اور فرمایا:

کیا تم اللہ کی آیات کو مذاق بناتے ہو؟ یا اللہ کے دین کو مذاق اور کھیل تماشہ بنا لیتے ہو؟ جو شخص اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے، ہم اس پر تین طلاقیں لازم قرار دیں گے۔ وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے۔

اس حدیث کا اطلاق اس وقت ہوگا جب شوہر نے ایک جملے میں تین طلاقیں دیتے وقت تعداد کا تعین نہ کیا ہو۔جیسے کہے کہ تمہیں طلاق ہے، طلاق ہے، طلا ق ہے لیکن اس کی مراد خود اس پر واضح نہ ہو کہ آیا اس نے ایک طلاق دی ہے یا تین یا اس نے کہا کہ تمہیں تین طلاق ہے، ان تمام صورتوں میں طلاق بائنہ مغلظہ واقع ہوجائے گی۔یہ حدیث سیدنا رُکانہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس لیے مختلف ہے کہ  انہوں نے حلف دیا تھا کہ ان کی نیت ایک طلاق کی تھی۔واللہ اعلم

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فتاویٰ سے بھی یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ایک مجلس کی طین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں، بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس پر اتفاق ہے، جسے بعض علما نے اجماع پر محمول کیا ہے۔

امام ابن قدامہؒ فرماتے ہیں:

وَالرِّوَايَةُ الثَّانِيَةُ، أَنَّ جَمْعَ الثَّلَاثِ طَلَاقُ بِدْعَةٍ، مُحَرَّمٌ. اخْتَارَهَا أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو حَفْصٍ. رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ

ترجمہ:

اور امام احمد ؒ سے دوسری روایت یہ ہے کہ (ایک طہر میں) اکٹھی طلاق دینا بدعت اور حرام ہے۔امام ابوبکر الخلال الحنبلی ؒ اور امام ابو حفص الحنبلیؒ نے یہی قول اختیار کیا ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے ایسا ہی مروی ہے۔

 (المغنی، جلد 7، صفحہ368)

امام ابن قدامہ الحنبلیؒ  ایک طہر میں تین طلاق دینے کے بارے میں فرماتے ہیں:

إِنَّ ضَرَرَ جَمْعِ الثَّلَاثِ يَتَضَاعَفُ عَلَى ذَلِكَ أَضْعَافًا كَثِيرَةً، فَالتَّحَرِّي ثَمَّ تَنْبِيهٌ عَلَى التَّحْرِيمِ هَاهُنَا، وَلِأَنَّهُ قَوْلُ مَنْ سَمَّيْنَا مِنْ الصَّحَابَةِ، رَوَاهُ الْأَثْرَمُ وَغَيْرُهُ، وَلَمْ يَصِحَّ عِنْدَنَا فِي عَصْرِهِمْ خِلَافُ قَوْلِهِمْ، فَيَكُونُ ذَلِكَ إجْمَاعًا

ترجمہ:

تین طلاقیں ایک ساتھ جمع کرنے کا نقصان

 اس (طلاق کے شرعی  طریقے) کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ جاتا ہے، اس لیے یہاں تحرّی دراصل اس کے حرام ہونے کی طرف تنبیہ ہے۔مزید یہ کہ یہ ان صحابۂ کرامؓ کا قول ہے جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ اسے امام ابوبکر الاثرمؒ اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے۔ اور ہمارے نزدیک ان صحابہؓ کے زمانے میں ان کے اس قول کے خلاف کوئی معتبر اختلاف ثابت نہیں، لہٰذا یہ اجماع قرار پاتا ہے۔

(المغنی، جلد 7، صفحہ369)

امام ابن قدامہ الحنبلیؒ کے فرمان کے مطابق ایک مجلس کی تین طلاق کے واقع ہونے کے بارے میں علما ئے  امت کا اجماع ہے، اختلاف صرف اس صورت میں ہے کہ آیا اگر شوہر اپنی بیوی کو ایک سانس یا ایک جملے میں کہے کہ تمہیں طلاق ہے ، طلاق ہے، طلاق ہے  تو آیا اسے تین مانا جائے یا ایک، یا اسے کہنے والے کی مراد پر منحصر مانا جائے۔ لیکن اگر وہ کہے کہ تمہیں تین طلاقیں دیتا ہوں، یا ایک مجلس میں وقفے وقفے سے تین طلاقیں دے تو اس صورت میں تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی اور اس کی بیوی اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجائے گی، جب تک کہ وہ شرعی طریقہ پر اس کے لیے حلال نہیں ہوجاتی۔

امام ابن قدامہ الحنبلیؒ فرماتے ہیں:

وَإِنْ طَلَّقَ ثَلَاثًا بِكَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ، وَقَعَ الثَّلَاثُ، وَحَرُمَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَلَا فَرْقَ بَيْنَ قَبْلِ الدُّخُولِ وَبَعْدَهُ. رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَنَسٍ. وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ التَّابِعِينَ وَالْأَئِمَّةِ بَعْدَهُمْ.

ترجمہ:

اگر شوہر نے اپنی بیوی کو ایک ہی جملے میں تین طلاقیں دے دیں تو تینوں واقع ہوجائیں گی۔ اور وہ عورت اس وقت تک اس پر حرام ہوجائے گی جب تک کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہیں کرلیتی۔اور اس مسئلہ میں مدخولہ اور غیرمدخولہ میں کوئی فرق نہیں۔یہ قول سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عبداللہ بن عمرو، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ اور تابعین اور بعد کے آئمہ میں سے اکثر اہلِ علم کا یہی قول ہے۔

حق کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے والے کے لیے تو یہ  دلائل بھی بہت ہیں، تاہم حق کی مخالفت پر کمربستہ شخص کے لیے دلائل کے انبار بھی ناکافی ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حق کو پہچاننے، اس پر ثابت قدم رہنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین

وآ ٓخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین، والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین و علی آلہ و اصحابہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین ن 

Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

Top Twenty Tallest Waterfalls

The Qur’anic Chronology of Creation

Top 20 Highest Mountains

How to Perform Salah?

The Kingdom of Saba: Arabia's Greatest Ancient Civilization

Proposed Counties of Pakistan: A Balanced Administrative Model

Origin of Pashtuns

The Largest Lakes of the World