Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

زمین پر پہلا انسان کون تھا؟

In the Name of Allah---the Most Beneficent, the Most Merciful.
زمین پر پہلا انسان کون تھا؟


 زمین پر پہلا انسان کون تھا؟ 

انسان کی ابتدا کے بارے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ زمین پر پہلا انسان کون تھا؟ قرآن مجید اس سوال کا جواب ایک واضح اور مربوط بیان میں دیتا ہے، اور صحیح احادیث اس کی مزید صراحت کرتی ہیں۔ قرآن حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کو مٹی سے بیان کرتا ہے، ان کے لیے فرشتوں کے سجدے کا ذکر کرتا ہے، انہیں جنت میں سکونت عطا کیے جانے اور پھر زمین پر بھیجے جانے کا واقعہ بیان کرتا ہے۔ دوسری طرف صحیح احادیث میں قیامت کے دن تمام انسان حضرت آدم علیہ السلام کو "أبو الناس" اور "أبو البشر" یعنی تمام انسانوں کا باپ قرار دے کر ان کے پاس جانے کا ذکر موجود ہے۔

اس لیے اسلامی نصوص کی روشنی میں حضرت آدم علیہ السلام کو صرف پہلا نبی، پہلا خلیفہ یا پہلے انسانوں میں سے ایک قرار دینا درست نہیں؛ بلکہ قرآن و حدیث کے مجموعی بیان کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام ہی نوعِ انسانی کے جدِّ امجد اور پہلے انسان ہیں۔

قرآن میں آدم علیہ السلام کی تخلیق

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا ذکر نہایت واضح الفاظ میں فرمایا:

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن طِينٍ
"اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا: بے شک میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔"
(سورۃ ص، 38:71)

یہاں اللہ تعالیٰ نے "بَشَرًا" کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس کے فوراً بعد حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق، ان میں روح پھونکے جانے اور فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دینے کا ذکر آتا ہے:

فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ
"پھر جب میں اسے درست کر دوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدے میں گر جانا۔"
(سورۃ ص، 38:72)

اسی مضمون کو سورۃ الحجر میں بھی بیان کیا گیا:

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ
"اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا: بے شک میں سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔"
(سورۃ الحجر، 15:28)

اس کے بعد فرمایا:

فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ
(الحجر، 15:29)

ان دونوں مقامات پر ترتیب قابلِ توجہ ہے:

مٹی → بشر کی تخلیق → اس کی تسویہ و تکمیل → روح پھونکنا → فرشتوں کو سجدے کا حکم

یعنی قرآن آدم علیہ السلام کی تخلیق کو کسی پہلے انسانی جوڑے سے پیدا ہونے کے طور پر بیان نہیں کرتا بلکہ ایک خصوصی تخلیق کے طور پر پیش کرتا ہے۔

قرآن آدم علیہ السلام کو "بشر" کیوں کہتا ہے؟

قرآن میں بشر انسان کے لیے استعمال ہونے والا لفظ ہے۔ سورۃ ص کی آیت 71 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن طِينٍ

اور اگلی آیات میں اسی مخلوق کے بارے میں فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ پھر قرآن اسی واقعے کو حضرت آدم علیہ السلام کے نام سے بیان کرتا ہے۔

یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ قرآن نے آدم علیہ السلام کی تخلیق کو محض "خلافت" کے مسئلے کے طور پر بیان نہیں کیا بلکہ ان کی انسانی تخلیق کو بھی واضح کیا ہے۔

سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا
"اور اللہ نے آدم کو تمام نام سکھا دیے۔"
(البقرہ، 2:31)

اس کے بعد فرشتوں کو آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا۔

یہ پورا واقعہ آدم علیہ السلام کی ایک منفرد اور خصوصی تخلیق، ان کی علمی صلاحیت، اور انسانی نسل کے آغاز کی بنیاد پیش کرتا ہے۔

سورۃ النساء: پوری انسانیت ایک نفس سے

قرآن مجید اس مسئلے کو مزید واضح کرتے ہوئے فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً
"اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔"
(النساء، 4:1)

یہ آیت انسانی نسل کی ابتدا کے بارے میں ایک بنیادی تصور پیش کرتی ہے:

ایک نفس → اس کا جوڑا → دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں

یعنی موجودہ انسانی آبادی کا نسب ایک بنیادی انسانی جوڑے کی طرف لوٹتا ہے۔

قرآن کا یہ بیان انسانی نسل کے آغاز کو کسی متعدد اور الگ الگ ابتدائی انسانی آبادیوں کے تصور کے بجائے ایک بنیادی انسانی جوڑے سے مربوط کرتا ہے۔

صحیح بخاری کی فیصلہ کن حدیث: "أنت أبو الناس"

اس مسئلے میں سب سے زیادہ اہمیت صحیح احادیث کی ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے قیامت کے ایک ایسے واقعے کا ذکر فرمایا جس میں پوری انسانیت کے حضرت آدم علیہ السلام سے تعلق کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُونَ: لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا، فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ: أَنْتَ أَبُو النَّاسِ...

ترجمہ:

"قیامت کے دن مومن جمع ہوں گے اور کہیں گے: کاش ہم اپنے رب کے حضور کسی کو سفارشی بنائیں۔ پھر وہ آدم کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں..."

آگے حدیث میں حضرت آدم علیہ السلام کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، فرشتوں کو ان کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیا اور انہیں تمام چیزوں کے نام سکھائے۔
(صحیح البخاری، کتاب التفسیر، حدیث 4476؛ صحیح مسلم، حدیث 193)

یہاں نبی کریم ﷺ نے حضرت آدم علیہ السلام کو محض "پہلا خلیفہ" نہیں کہا بلکہ "أبو الناس" فرمایا۔

أبو الناس کا لفظی مفہوم ہے:

"لوگوں کے باپ" یا "انسانوں کے باپ"۔

یہ تعبیر اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا تعلق تمام انسانوں سے نسلی اور آبائی تعلق ہے۔

دوسری صحیح بخاری حدیث: "أنت أبو البشر"

ایک دوسری حدیث میں اس سے بھی زیادہ صریح الفاظ موجود ہیں۔

قیامت کے دن جب لوگ پریشان ہوکر کسی ایسی ہستی کی تلاش کریں گے جو اللہ تعالیٰ کے حضور شفاعت کرے، تو انہیں حضرت آدم علیہ السلام کی طرف جانے کا مشورہ دیا جائے گا۔ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس پہنچ کر عرض کریں گے:

يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ...

"اے آدم! آپ تمام بشر کے باپ ہیں۔ اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، آپ میں اپنی روح میں سے پھونکی اور فرشتوں کو آپ کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیا..."

(صحیح البخاری، حدیث 3340)

یہاں لفظ "أبو البشر" استعمال ہوا ہے۔

اگر آدم علیہ السلام صرف پہلے خلیفہ ہوتے، یا پہلے سے موجود انسانوں میں سے ایک منتخب خلیفہ ہوتے، تو "أبو البشر" یعنی "تمام بشر کے باپ" کی تعبیر کا مفہوم باقی نہیں رہتا۔

حدیث کا سیاق خود بتا رہا ہے کہ قیامت کے دن موجود تمام انسان حضرت آدم علیہ السلام کو اپنے آباء میں سے ایک نہیں بلکہ اپنا جدِّ امجد سمجھ کر ان کے پاس جائیں گے۔

"پہلا خلیفہ" اور "پہلا انسان" دو الگ سوال نہیں

بعض اوقات سورۃ البقرہ کی آیت:

إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً
"بے شک میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔"
(البقرہ، 2:30)

کو اس طرح سمجھا جاتا ہے کہ شاید زمین پر انسان پہلے سے موجود تھے اور آدم علیہ السلام صرف ان کے بعد خلیفہ بنائے گئے۔

لیکن آیت میں "خلیفہ" کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ اس سے پہلے زمین پر انسان موجود تھے۔ خلافت کے مفہوم میں کسی کو زمین میں ذمہ داری، اختیار اور امتحان کے لیے مقرر کرنا بھی شامل ہے۔

مزید یہ کہ اسی قرآنی سیاق میں بعد میں اللہ تعالیٰ حضرت آدم علیہ السلام کو نام سکھانے، فرشتوں کے سامنے پیش کرنے اور ان کے لیے سجدے کا حکم دینے کا ذکر فرماتے ہیں۔ لہٰذا "خلیفہ" کو لازماً "پہلے سے موجود انسانوں کا جانشین" قرار دینا نص کا تقاضا نہیں۔

بلکہ قرآن کی دوسری آیات اور صحیح احادیث مل کر حضرت آدم علیہ السلام کی حیثیت واضح کرتی ہیں۔

قرآن میں آدم علیہ السلام کا زمین پر آنا

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ...
"اور ہم نے کہا: اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو..."
(البقرہ، 2:35)

پھر جب لغزش کا واقعہ پیش آیا تو فرمایا:

قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا
"ہم نے کہا: تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔"
(البقرہ، 2:38)

یہاں بھی ترتیب واضح ہے: پہلے آدم علیہ السلام کا وجود، پھر ان کی زوجہ، پھر جنت میں سکونت، پھر زمین پر نزول۔

قرآن انسانی زندگی کی ابتدا کو آدم علیہ السلام کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔

کیا آدم علیہ السلام سے پہلے "انسان" موجود تھے؟

یہاں ایک اہم اصول سمجھنا ضروری ہے۔

قرآن و حدیث میں جنات، شیاطین اور دوسری مخلوقات کے وجود کا ذکر ضرور ہے، لیکن یہ بات کہ حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے انسانی نوع کے افراد موجود تھے، قرآن یا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

یہ کہنا کہ زمین پر آدم علیہ السلام سے پہلے انسانوں کی ایک الگ نسل موجود تھی، ایک الگ دعویٰ ہے؛ اس کے لیے واضح شرعی دلیل درکار ہوگی۔

اس کے برعکس صحیح حدیث میں حضرت آدم علیہ السلام کو:

أبو الناس
اور
أبو البشر

کہا گیا ہے۔

لہٰذا قرآن و حدیث کے ظاہر اور مجموعی بیان کے مطابق یہی اسلامی موقف ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نوعِ انسانی کے پہلے انسان اور تمام بنی آدم کے جدِّ امجد ہیں۔

پھر قرآن کی "مجمل" آیات سے کیا نتیجہ نکالا جائے؟

یہاں ایک اصولی مسئلہ بھی سامنے آتا ہے: قرآن کی کسی ایک آیت کو لے کر پورے مسئلے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، جبکہ اسی موضوع پر دوسری آیات اور صحیح احادیث زیادہ وضاحت فراہم کر رہی ہوں۔

مثلاً:

"إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً"

سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ زمین میں خلیفہ بنانے والا ہے۔

لیکن جب اسی موضوع کے ساتھ یہ آیات بھی سامنے ہوں:

"إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن طِينٍ"

اور:

"وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا"

اور:

"خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ"

اور پھر صحیح احادیث میں:

"أَنْتَ أَبُو النَّاسِ"

اور:

"أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ"

تو تمام نصوص کو جمع کرکے نتیجہ نکالنا چاہیے۔

اصول یہ ہے کہ مجمل نص کو واضح نص کی روشنی میں سمجھا جائے، نہ کہ واضح نص کو چھوڑ کر مجمل نص سے ایک نیا نظریہ اخذ کیا جائے۔

آدم علیہ السلام صرف پہلے نبی نہیں تھے

یہ فرق بھی بہت اہم ہے۔

اگر کوئی کہے کہ حضرت آدم علیہ السلام پہلے نبی تھے لیکن پہلے انسان نہیں تھے، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان سے پہلے موجود انسانوں کا ذکر قرآن و حدیث میں کہاں ہے؟

صحیح بخاری کی مذکورہ حدیث میں حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں یہ نہیں کہا گیا کہ:

أنت أول الأنبياء

بلکہ کہا گیا:

أَنْتَ أَبُو النَّاسِ

اور دوسری روایت میں:

يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ

یعنی:

"اے آدم! آپ انسانوں کے باپ ہیں۔"

اسی حدیث میں حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں الگ اور صریح تعبیر آئی:

فَإِنَّهُ أَوَّلُ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ

"وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ نے اہلِ زمین کی طرف بھیجا۔"
(صحیح البخاری، 4476)

غور کیجیے کہ حدیث نے حضرت آدم علیہ السلام کے لیے "أبو الناس" کہا، جبکہ حضرت نوح علیہ السلام کے لیے "أول رسول" کہا۔

یہ فرق بہت معنی خیز ہے:

آدم علیہ السلام — أبو الناس / أبو البشر
نوح علیہ السلام — أول رسول إلى أهل الأرض

لہٰذا آدم علیہ السلام کا مقام صرف نبوت کے آغاز سے متعلق نہیں بلکہ انسانی نسل کے آغاز سے بھی متعلق ہے۔

بعض لوگ یہ مغالطہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مذکورہ بالا احادیث محض اخبار احاد ہیں، جن پر ایمان لانا ضروریات دین میں شامل نہیں۔ حال آن کہ حقیقت اس کے برعکس ہے، مذکورہ بالا حدیث شفاعت تقریباً تمام محدثین نے متفقہ معنیٰ کے ساتھ بیان کی ہے، اگرچہ راویوں کی بیان کی گئی تفصیلات میں فرق ہوسکتا ہے، مگر ان کا مجموعی معانی اور خلاصہ ایک ہی ہے۔ محثین کے نزدیک یہ حدیث خبر واحد نہیں بلکہ سنت متواترہ ہے، جس کا انکار کفر تک لے جاتا ہے۔ اس لیے اس معاملے کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔

واللہ اعلم

آدم علیہ السلام کی بِن ماں باپ کے  تخلیق: ایک بے مثال معجزہ

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ ۖ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ
"بے شک اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے، اسے اس نے مٹی سے پیدا کیا، پھر اس سے فرمایا: ہوجا، پس وہ ہوگیا۔"
(آل عمران، 3:59)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت آدم علیہ السلام کے درمیان ایک بنیادی مماثلت بیان فرمائی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت غیر معمولی تھی: ان کی پیدائش ایک انسانی باپ کے واسطے کے بغیر ہوئی۔ یہودیوں نے اسی غیر معمولی پیدائش کو بنیاد بنا کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اعتراض کیا تو قرآن نے جواب دیا کہ اگر باپ کے بغیر پیدا ہونا کسی الوہیت یا غیر معمولی مقام کی دلیل ہے تو پھر آدم علیہ السلام تو اس سے بھی زیادہ غیر معمولی طریقے سے پیدا ہوئے تھے۔

قرآن کہتا ہے:

خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ

یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا۔

یہاں "مٹی سے پیدا کرنے" کا بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آدم علیہ السلام کی تخلیق عام انسانی تولید کے مرحلے سے نہیں گزری۔ اگر آدم علیہ السلام بھی کسی پہلے مرد و عورت کے ذریعے پیدا ہوئے ہوتے تو ان کی تخلیق کو "مِن تُرَابٍ" یعنی "مٹی سے" بیان کرنا اس مقام پر بے معنی ہوجاتا۔

بلکہ آیت نے ایک نہایت بامعنی ترتیب قائم کی:

آدم علیہ السلام → مٹی سے براہِ راست تخلیق
عیسیٰ علیہ السلام → انسانی باپ کے بغیر تخلیق

اور پھر دونوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کو بیان فرمایا:

فَقَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ

"پھر اس نے اس سے فرمایا: ہوجا، پس وہ ہوجاتا ہے۔"

آدم اور عیسیٰ علیہما السلام کی مثال کیوں دی گئی؟

اس آیت کا اصل سیاق بھی اس استدلال کو مزید واضح کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش پر اعتراض کرنے والوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ کی مثال آدم جیسی ہے۔

اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ کے بغیر پیدا ہونا کوئی ناقابلِ فہم بات سمجھا جائے تو قرآن سوال اٹھاتا ہے کہ آدم علیہ السلام کی تخلیق کا کیا معاملہ ہے؟

عیسیٰ علیہ السلام:

ماں موجود، باپ نہیں

جبکہ آدم علیہ السلام:

نہ باپ، نہ ماں

اور اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا فرمایا۔

اسی لیے آیت کے آخر میں فرمایا:

كُن فَيَكُونُ

یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے انسانی تخلیق کسی مادی واسطے کی محتاج نہیں۔ وہ جس چیز کا ارادہ فرماتا ہے، اس کے لیے اس کا حکم کافی ہے۔

اس آیت کا انسانی آغاز کے مسئلے سے تعلق

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا چاہیے۔ سورۃ آل عمران کی آیت 59 کا براہِ راست مقصد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور ان کے بارے میں غلو کا رد ہے، لیکن اس ضمن میں حضرت آدم علیہ السلام کی غیر معمولی تخلیق کا اصول واضح کردیا گیا ہے۔

اسے سورۃ ص اور سورۃ الحجر کی آیات کے ساتھ ملا کر پڑھیں:

إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن طِينٍ
"میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔"
(ص، 38:71)

اور:

إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ
"میں سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔"
(الحجر، 15:28)

اور پھر:

خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ
"اسے مٹی سے پیدا کیا۔"
(آل عمران، 3:59)

تو قرآن کا بیان ایک مربوط تصویر پیش کرتا ہے:

آدم علیہ السلام کی اصل → مٹی
تخلیق → اللہ تعالیٰ کی براہِ راست قدرت
نتیجہ → پہلا بشر
بعد کی انسانی نسل → آدم علیہ السلام کی اولاد

اور یہی مفہوم صحیح احادیث کے الفاظ "أبو الناس" اور "أبو البشر" سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔

جدید نظریات اور اسلامی نصوص

انسانی ارتقاء کے حوالے سے جدید سائنسی تحقیقات میں مختلف نظریات اور شواہد زیرِ بحث رہے ہیں۔ یہاں یہ فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ سائنسی تحقیق اور وحی کا دائرۂ کار ایک جیسا نہیں۔ سائنسی علوم فطری دنیا میں مشاہدہ، تجربہ، جینیاتی شواہد اور فوسلز کے ذریعے ماضی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ قرآن وحی کے ذریعے انسان کی اصل، مقصد اور اس کے خالق کے بارے میں قطعی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

اس لیے کسی سائنسی مفروضے کو قرآن پر مسلط کرکے یہ کہنا کہ حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے لازماً انسانی نسلیں موجود تھیں، شرعی طور پر ثابت شدہ بات نہیں بن جاتی۔

اگر کوئی سائنسی دعویٰ براہِ راست اس بنیادی قرآنی بیان سے متصادم ہو کہ انسانوں کا نسب آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ سے چلا، تو مسلمان کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا سائنسی نتیجہ واقعی قطعی ہے یا اس کی تعبیر میں مختلف احتمالات موجود ہیں۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ انسانوں کو پہلے سے موجود جانوروں سے ارتقا پذیر ہونے والی مخلوق ماننا قرآن و سنت کے منافی ہے۔ اس سے کسی کو یہ مغالطہ نہیں ہونا چاہیے کہ قرآن سائنس کے خلاف ہے یا سائنسی حقائق قرآن کے خلاف ہوسکتے ہیں۔ انسانوں کی پہلے سے موجود جانوروں سے پیدائش کا تصور محض ایک مفروضہ ہے جس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔ اگرانسانوں اور بن مانسوں میں کوئی ظاہری مشابہت پائی بھی جاتی ہے تو اس سے ان کا جد امجد ایک ہونا ثابت نہیں ہوجاتا۔

نتیجہ

قرآن و حدیث کی تمام متعلقہ نصوص کو یکجا کیا جائے تو اسلامی تصور نہایت واضح ہو جاتا ہے:

  1. اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا۔
  2. قرآن نے ان کی تخلیق کے لیے "بَشَرًا" کا لفظ استعمال کیا۔
  3. اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام میں روح پھونکی اور فرشتوں کو ان کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔
  4. اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو تمام ناموں کا علم عطا فرمایا۔
  5. آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ سے انسانی نسل کے پھیلاؤ کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔
  6. قیامت کے دن تمام انسان حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جاکر انہیں "أبو الناس" کہیں گے۔
  7. دوسری صحیح حدیث میں انہیں "أبو البشر" یعنی تمام بشر کا باپ کہا گیا ہے۔
  8. صحیح بخاری میں حضرت نوح علیہ السلام کو "أول رسول" کہا گیا ہے، جس سے آدم علیہ السلام اور نوح علیہ السلام کے مقام میں واضح فرق سامنے آتا ہے۔

لہٰذا قرآن و حدیث کی روشنی میں حضرت آدم علیہ السلام کو صرف پہلا خلیفہ یا صرف پہلا نبی کہنا ان کی مکمل حیثیت بیان نہیں کرتا۔

زیادہ درست اور جامع تعبیر یہ ہے:

حضرت آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے پہلے بشر، نوعِ انسانی کے پہلے انسان اور تمام بنی آدم کے جدِّ امجد ہیں۔

اور صحیح بخاری کے الفاظ اس موقف کو انتہائی واضح انداز میں بیان کرتے ہیں:

أَنْتَ أَبُو النَّاسِ

اور:

أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ

یعنی:

"آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں۔"

جب صحیح احادیث میں یہ واضح تعبیر موجود ہو تو ان احادیث کو نظرانداز کرکے قرآن کی کسی مجمل آیت سے ایسا مفہوم اخذ کرنا جس کے مطابق آدم علیہ السلام سے پہلے بھی انسانی نوع موجود تھی، کم از کم قرآن و حدیث کے مجموعی اور صریح بیان سے ہم آہنگ نہیں۔

Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

The Qur’anic Chronology of Creation

Top Twenty Tallest Waterfalls

Top 20 Highest Mountains

How to Perform Salah?

The Kingdom of Saba: Arabia's Greatest Ancient Civilization

Proposed Counties of Pakistan: A Balanced Administrative Model

The Makkah Joint Defence Agreement: A New Framework for Collective Security in the Muslim World

The Largest Lakes of the World