Featured Post

The Earth Is Shrinking

Image
In the Name of Allah---the Most Beneficent, the Most Merciful. The Earth Is Shrinking Cooling, Solidification, Global Contraction, and a Possible Physical Interpretation of Qur'an 21:44 Introduction The Earth is often imagined as a physically permanent sphere whose dimensions have remained essentially unchanged since its formation. Modern geophysics, however, presents a much more dynamic picture. The Earth was formed in an extremely hot state, underwent extensive melting and differentiation, and has been continuously losing internal heat ever since. Its interior remains thermally active, but the planet has nevertheless undergone a long history of cooling, crystallization, solidification, and density changes. This raises a fundamental physical question: If a planet formed from extremely hot and partly molten material gradually cools and solidifies, should its physical dimensions remain exactly constant? The answer is not necessarily. Solidification and cooling can change density and...

نماز اطمینان سے ادا کرنا فرض ہے

نماز اطمینان سے ادا کرنا فرض ہے

نماز اطمینان سے ادا کرنا فرض ہے

ارشادِ باری تعالیٰ ہے

حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ[1]

اور صلوٰۃ کی حفاظت کرو خاص طور پر صلوٰۃِ وسطیٰ کی۔اور اللہ کے سامنے عاجزی سے قیام کیا کرو۔

نماز کی حفاظت میں داخل ہے کہ نماز کے مقررہ اوقات میں  اہتمام کے ساتھ نماز کے تمام ارکان پورے اطمینان کے ساتھ ادا کیے جائیں اور اس پر ہمیشگی اختیار کی جائے۔

سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں  کہ میں نے آپ کی امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں اور میں نے اپنے آپ سے یہ عہد کیا ہے کہ جو کوئی ان نمازوں کو وقت پر ادا کرتا رہے گا  میں اسے جنت میں داخل کروں گا اور جو ان کی حفاظت نہیں کرے گا میرا ان سے کوئی وعدہ نہیں ہے۔[2]

 

سیدنا رفاعہ بن رافع الزرقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم ﷺ مسجد میں تشریف فرماتھے کہ ایک آدمی آیا اور نماز پڑھنے لگا، نماز سےفارغ ہونے کے بعد نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کہ جاؤ اور دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ آدمی گیا اور اس نے پہلے کی طرح نماز پڑھی اور پھر نبی ﷺ کے پاس آیا  آپ ﷺ نے فرمایا کہ جاؤ دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی۔تب وہ شخص کہنے لگا کہ یا رسول اللہ مجھے سکھا دیجیے کہ نماز کیسے پڑھوں۔نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تم قبلہ رو کھڑے ہو تو اللہ اکبر کہو، پھر ام القرآن (سورۃ الفاتحہ) پڑھو، پھر اس کے بعد جس سورت کی چاہے قرأت کرو، جب تم رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیاں  اپنے گھٹنوں پر رکھو،اپنی پشت لمبی کرو اور اطمینان سے جھکے رہو، پھر جب تم اپنا سر اٹھاؤ تو اپنی پشت سیدھی کرو ،یہاں تک کہ تمام جوڑ اپنی اصل جگہ پر لوٹ جائیں۔جب تم سجدہ کرو تو خوب اطمینان سے سجدہ کرو، پھر جب تم سجدے سے سر اٹھاؤ تو اپنی بائیں ران پر بیٹھو، پھر ہر رکعت  اور سجدہ میں ایسا ہی کرو۔[3]

سیدنا رفاعہ بن رافع الزرقی رضی اللہ عنہ سے ہی ایک دوسری سند سے اسی معنیٰ کی دوسری روایت یوں منقول ہے کہ ہم رسول اکرم ﷺ کے ہمراہ مسجد میں موجود تھے کہ ایک آدمی آیا اور  مسجد کے ایک کونے میں نماز پڑھنے لگا، نبی ﷺ اسے دیکھ رہے تھے ، نماز سےفارغ ہونے کے بعد نبی ﷺ کے پاس آکر سلام عرض کرنے لگا۔نبی ﷺ نے سلام کا جواب دینے کے بعد فرمایا کہ جاؤ اور دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی۔ نبی ﷺ نے دو یا تین بار ایسا فرمایا۔پھر وہ شخص کہنے لگا کہ جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میں  نے اپنی جانب سے  بہتر ین نماز پڑھی ہے، براہ کرم  آپ مجھے سکھا دیجیے۔تب نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تم نماز  کا رادہ کرو تو اچھی طرح وضو کرو پھر قبلہ رو  کھڑے ہوجاؤ اور  اللہ اکبر کہو، پھر قرأت کرو، پھر پورے  اطمینان کے ساتھ رکوع کرو، پھر سر اوپر اٹھاؤ اور سیدھے کھڑے ہوجاؤ،پھر پورے اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو،پھر سر اٹھاؤ اور اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر پورے اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو پھر (اگلی رکعت کے لیے) کھڑے ہوجاؤ۔اگر تم نے اس طریقے سے نماز مکمل پڑھی توتم نے مکمل پڑھ لی اور اگر اس میں سے کچھ چھوڑ دیا تو تمہاری نماز ناقص ہوگی۔[4]

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ مسجد میں تشریف فرماتھے کہ ایک آدمی آیا اور نماز پڑھنے لگا، نماز سےفارغ ہونے کے بعد نبی ﷺ کے پاس آکر سلام عرض کرنے لگا۔نبی ﷺ نے سلام کا جواب دینے کے بعد فرمایا کہ جاؤ اور دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ آدمی گیا اور اس نے پہلے کی طرح نماز پڑھی اور آکر نبی ﷺ کو سلام کیا ۔نبی ﷺ نے سلام کا جواب دینے کے بعد فرمایا کہ جاؤ اور دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی۔یہاں تک کہ تین دفعہ ایسا ہوا۔پھر وہ شخص کہنے لگا کہ جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میں اس سے بہتر نماز پڑھنا نہیں جانتا، براہ کرم مجھے سکھا دیجیے۔تب نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اللہ اکبر کہو، پھر جو تم آسانی قرآن میں سے پڑھ سکو پڑھو، پھر پورے  اطمینان کے ساتھ رکوع کرو، پھر سر اوپر اٹھاؤ اور سیدھے کھڑے ہوجاؤ،پھر پورے اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو،پھر سر اٹھاؤ اور اطمینان سے بیٹھ جاؤ،پھر ساری نماز اسی طرح اطمینان سے ادا کرو۔[5]

سیدنا  عثمان  بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک روز ہم رسول اکرم ﷺ کے ہمراہ تھے، کہ ایک شخص آیا  اور ایک ستون کے پاس کھڑے ہوکر جلدی جلدی نماز پرھ کے چل دیا۔رسول اکرم ﷺ نے فرمایا  یہ شخص اگر اسی حالت میں مرگیا تو بے دینی کی موت مرے گا۔[6]

اللہ تعالیٰ سے دعا کہ وہ ہمیں پابندی سے پانچ وقت کی نماز اطمینان و سکون سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

The Qur’anic Chronology of Creation

The Natural Laws Manifest Divine Programming

Lebanon: The Politics of Demography

The Kingdom of Saba: Arabia's Greatest Ancient Civilization

The Intelligent Universe and Panpsychism

Origin of Pashtuns

Distinctive Aspects of Islam

Top 20 Highest Mountains