The Natural Laws Manifest Divine Programming

قرآنِ حکیم انسانی عقل کو جمود میں رکھنے کے بجائے اسے بیدار کرنے کی کتاب ہے۔ یہ انسان کو اندھی تقلید سے نکال کر غور و فکر، تدبر اور شعور کی دنیا میں لے جاتا ہے۔ قرآن بار بار سوالات اٹھاتا ہے، نشانیوں کی طرف توجہ دلاتا ہے، اور انسان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ کائنات اور اپنی زندگی پر سوچے۔ یہی سوچ اور تعقل ایمان کو مضبوط کرتی ہے اور انسان کو صحیح راہ پر لے جاتی ہے۔
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ (آل عمران: 190)ترجمہ: بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات دن کی گردش میں عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
یہاں قرآن انسان کو دعوت دیتا ہے کہ کائنات کے نظام پر غور کرے۔ عقل والے ہی ان نشانیوں کو دیکھ کر خالق تک پہنچتے ہیں۔
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ (النساء: 82)ترجمہ: کیا یہ لوگ قرآن پر غور و فکر نہیں کرتے؟
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قرآن صرف تلاوت کے لیے نہیں بلکہ تدبر اور عقل کے ساتھ سمجھنے کے لیے نازل ہوا ہے۔
وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا (الأعراف: 179)ترجمہ: ہم نے بہت سے جن و انس کو جہنم کے لیے پیدا کیا، ان کے دل ہیں مگر وہ ان سے سمجھتے نہیں، آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں، کان ہیں مگر سنتے نہیں۔
یہ آیت عقل اور حواس کے غلط استعمال یا عدم استعمال کو گمراہی کی بنیاد قرار دیتی ہے۔
قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (الزمر: 9)ترجمہ: کہہ دو: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟
یہاں واضح کر دیا گیا ہے کہ عقل اور علم کی قدر و منزلت، جہالت اور غفلت پر فوقیت رکھتی ہے۔
وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا (آل عمران: 191)ترجمہ: اور وہ زمین و آسمان کی تخلیق میں غور کرتے ہیں اور کہتے ہیں: اے ہمارے رب! تو نے یہ سب کچھ بے مقصد نہیں بنایا۔
یہ آیت بتاتی ہے کہ غور و فکر کرنے والا شخص حقیقتِ زندگی اور آخرت کے انجام کو پہچان لیتا ہے۔
قرآن حکیم بار بار انسان کو عقل، تدبر اور تفکر کی دعوت دیتا ہے۔ ایمان صرف تقلید سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ غور و فکر، کائنات کی نشانیوں پر تدبر، اور قرآن کی آیات پر گہری نظر ڈالنے سے راسخ ہوتا ہے۔ جو لوگ عقل کو استعمال کرتے ہیں وہی ہدایت پاتے ہیں، اور جو عقل سے غافل رہتے ہیں، وہ قرآن کی نگاہ میں گمراہ ہیں۔
سورۃ آلِ عمران کی آیات 190-191 نہایت اہم اصول بیان کرتی ہیں کہ انسان کو کائنات کے مشاہدے اور اس پر غور و فکر کے ذریعے حقیقت تک رسائی حاصل کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُوْلِي الألْبَابِ۔ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىَ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ”
ترجمہ: بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات دن کی گردش میں عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔، جول کھڑے بیٹھے اور لیٹے ہوئے (ہر حال میں) اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غوروفکر کرتے ہیں (پھر کہہ اٹھتے ہیں) کہ اللہ تو نے یہ سب بے مقصد پیدا نہیں فرمایا، بس ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے۔
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ:
آیت "رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا” دراصل یہ تعلیم دیتی ہے کہ کائنات اور اس کے مظاہر کو محض ایک حادثہ یا کھیل نہ سمجھا جائے، بلکہ ان کے پیچھے ایک گہرا مقصد اور حکمت کارفرما ہے۔ یہ جملہ ہمیں اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ:
یعنی یہ آیت ہمیں کائناتی مظاہر کے اندر چھپے ہوئے مقاصد و حکمتیں تلاش کرنے کی طرف متوجہ کرتی ہے تاکہ انسان محض مشاہدہ پر اکتفا نہ کرے بلکہ غور و فکر کرکے حقیقت اور مقصد تک پہنچے۔
جب قرآن کہتا ہے: "رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا” تو گویا وہ اعلان کرتا ہے کہ یہ کائنات ایک بامقصد نظم پر کھڑی ہے۔ یہی تصور جدید سائنس کی جستجو کا نقطۂ آغاز ہے۔ سائنس بھی یہ مفروضہ لے کر چلتی ہے کہ فطرت میں قوانین اور نظم موجود ہیں، جنہیں عقل اور تجربے کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر کائنات بے مقصد یا بے ربط ہوتی تو سائنسی تحقیق ممکن ہی نہ ہوتی۔
قرآن کی بار بار کی دعوت "أفلا یتدبرون” اور "أفلا یعقلون” اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ محض سطحی مشاہدہ کافی نہیں بلکہ گہرے غور و فکر کے بغیر حقیقت تک پہنچنا ممکن نہیں۔ سائنسی طریقہ کار بھی مشاہدہ، سوال، تجزیہ اور نتیجہ خیزی پر مبنی ہے، جو قرآن کی اسی دعوت سے ہم آہنگ ہے۔
جب انسان کائنات کو بامقصد سمجھتا ہے تو وہ اس کے رازوں کو دریافت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر:
یہ سب کچھ قرآن کی اس رہنمائی کی طرف اشارہ ہے کہ کائناتی مظاہر کے پیچھے پوشیدہ حکمتوں کو سمجھنا ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔
سائنسی تحقیق جب قرآن کے مقصدی نقطہ نظر سے کی جائے تو وہ محض مادی فوائد تک محدود نہیں رہتی بلکہ انسان کو اس حقیقت تک پہنچاتی ہے کہ خالق نے یہ سب کچھ فضول نہیں بنایا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ علم اور ایمان ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں، نہ کہ ایک دوسرے کی نفی۔
قرآن کریم انسان کو بار بار عقل و فکر کے استعمال کی دعوت دیتا ہے۔ متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
یہ آیات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ عقل اور مشاہدہ ایمان کی تقویت اور حق کی معرفت کا ذریعہ ہیں۔ لہٰذا قرآن کے مزاج کے مطابق عقل ایک لازمی ہتھیار ہے، نہ کہ بیکار یا گمراہ کن قوت۔
امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے زمانے میں علمِ کلام کی بعض شکلیں جنم لے چکی تھیں۔
امام شافعیؒ کا قول ہے:
"لو علم الناس ما في الكلام من الأهواء لفروا منه كما يفرون من الأسد”(اگر لوگ جان لیتے کہ علمِ کلام میں کتنی گمراہیاں ہیں تو وہ اس سے ایسے بھاگتے جیسے شیر سے بھاگتے ہیں)
امام احمد بن حنبلؒ نے بھی کہا:
"أصحاب الكلام زنادقة”(کلام کے بعض اصحاب زندیق ہیں)
یہ اقوال اصل میں عقل کی نہیں بلکہ ان عقل پر مبنی باطل نتائج کی مذمت ہیں جو وحی سے ٹکرا جاتے تھے۔
بدقسمتی سے بعد کے کچھ علما نے ان اقوال کو عقل کی عمومی مذمت سمجھ لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ:
یہ رویہ حقیقت میں قرآن کے بنیادی پیغام کے خلاف تھا۔ قرآن نے تو انسان کو بار بار عقل کے ذریعے حقیقت کو پرکھنے اور کائنات کے مشاہدے سے اللہ کی عظمت کو جاننے کی دعوت دی ہے۔
امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کی اصل مراد یہ تھی کہ:
اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عقل کے مخالف تھے، بلکہ وہ عقلِ آزاد (جو وحی کو نظر انداز کرے) کے خلاف تھے۔
لہٰذا، یہ کہنا درست ہے کہ ان ائمہ نے عقل کی مذمت نہیں کی، بلکہ عقل کے غلط استعمال کی مذمت کی۔ عقل بذاتِ خود قرآن کے نزدیک ایمان کی دلیل ہے۔ قرآن کی دعوتِ تعقل اس بات کا ثبوت ہے کہ ایمان اور عقل ایک دوسرے کے معاون ہیں، نہ کہ متضاد۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ آلِ عمران (3:7) میں صاف ارشاد فرمایا ہے:
هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌفَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِوَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُترجمہ: وہی ہے جس نے آپ پر یہ کتاب نازل فرمائی، اس میں کچھ آیتیں ایسی ہیں جو بالکل صاف اور محکم ہیں، وہی اصل کتاب ہیں، اور دوسری کچھ متشابہ ہیں۔ پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ انہی متشابہات کے پیچھے لگ جاتے ہیں تاکہ فتنہ پیدا کریں اور اپنی طرف سے ان کی تاویل تلاش کریں، حالانکہ ان کی حقیقی تاویل اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ:
علم الکلام میں مشغول ہونے والے بعض افراد کا رجحان یہ تھا کہ وہ:
یہ رویہ دراصل قرآن کی ہدایت کے خلاف تھا، جس نے متشابہات کی حقیقت اللہ پر چھوڑنے کا حکم دیا۔
ائمہ سلف مثلاً امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور دیگر کا طریقہ یہ تھا کہ:
امام مالکؒ سے مشہور قول ہے کہ جب ان سے "الرحمن على العرش استوى” کے بارے میں سوال ہوا تو فرمایا:
"الاستواء معلوم، والكيف مجهول، والإيمان به واجب، والسؤال عنه بدعة”(استواء کا معنی معلوم ہے، کیفیت نامعلوم ہے، اس پر ایمان لانا واجب ہے، اور اس کے بارے میں سوال بدعت ہے)۔
چنانچہ ائمہ سلف نے علم الکلام کی مذمت اسی لیے کی کہ:
ائمہ سلف نے عقل کی مذمت نہیں کی، بلکہ متشابہات میں فلسفیانہ تاویلات کے پیچھے پڑنے والے علم الکلام کی مذمت کی۔ ان کا طرزِ عمل تفویض (معانی اللہ کو سپرد کر دینا) تھا، تاکہ ایمان سلامت رہے اور انسان غیر ضروری مباحث میں نہ الجھے۔
علم الکلام کی ابتدا دراصل اسی سوال سے ہوئی کہ کلام اللہ (قرآن) کی حقیقت کیا ہے؟
متکلمینِ جہمیہ و معتزلہ نے اس طرح کے غیر ضروری سوال اٹھا کر علم الکلام کی بنیاد ڈالی۔ یہی سوال بعد میں بہت سے فلسفیانہ اور عقلی مناظروں کا نقطہ آغاز بن گئے۔ چونکہ اس علم کی بنیاد ہی کلام اللہ پر سوال اٹھانے سے جڑی تھی، اس لیے اسے "علم الکلام” کہا گیا۔
علم الکلام صرف علمی جستجو تک محدود نہ رہا بلکہ:
ائمہ سلف کے نزدیک اس علم کا بڑا نقصان یہ تھا کہ:
امام شافعیؒ نے ایک موقع پر فرمایا:
"اگر کوئی شخص علم الکلام میں مشغول ہو جائے تو میرے نزدیک اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنا بہتر ہے۔”
چنانچہ ائمہ سلف نے علم الکلام کی مذمت کی بنیادی وجوہات میں سے ایک یہ بھی بیان کی کہ:
قرآن مجید انسان کو عقل و فکر کے استعمال کی دعوت دیتا ہے اور کائنات کے حقائق پر غور و تدبر کے ذریعے درست نتائج تک پہنچنے کی ترغیب دیتا ہے۔ سورۃ آل عمران کی آیات اس امر کو واضح کرتی ہیں کہ کائناتی مظاہر با مقصد ہیں اور ان پر غور کرنے سے انسان رب کی حکمت اور وحدانیت تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ تاہم آئمہ سلف نے علم الکلام کی مذمت کرتے ہوئے اصل میں عقل کی نفی نہیں کی بلکہ اُن غلط عقلی نتائج کی طرف متوجہ کیا جو متشابہات کی بے جا تاویلات اور لاحاصل مناظروں کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ متشابہات کے معانی اللہ کے سپرد کر دیے جائیں اور اپنی طرف سے رائے قائم نہ کی جائے۔ علم الکلام چونکہ اکثر ضد، انا اور بے روح مناقشوں کا میدان بن گیا تھا، اس لیے سلف نے اسے ناپسند کیا۔ یوں ساری بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ قرآن کی دعوت عقل و تفکر سے ہم آہنگ ہے، لیکن وہ عقل جو خلوص اور حقیقت کی تلاش پر مبنی ہو، نہ کہ فتنہ پروری اور بے مقصد جدل پر۔
علم الکلام اپنی ابتدا میں ایک غیر ضروری جستجو سے شروع ہوا، لیکن وقت کے ساتھ یہ خالص علمی و روحانی تحقیق بننے کی بجائے کے مناظرانہ اور انانیت پر مبنی بحثوں کا علم بن گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین نے اسے پسند نہیں کیا اور قرآن و سنت کے واضح اور محکم دلائل پر اکتفا کیا۔