Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

تلاوت اور طہارت

تلاوت اور طہارت
 
 
کیا تلاوتِ قرآن کے لئے طہارت شرط ہے؟
ارشادِباری تعالیٰ ہے:  
 اِنَّہ لَقُرْاٰن کَرِیْم
فِی کِتَابٍ مَّکْنُوْنٍ [1] لَا یَمَسُّہ  اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ
یہ ایک مکرم قرآن ہے جو ایک محفوظ کتاب (لوحِ محفوظ )میں درج ہے،اسے پاک ہستیوں (فرشتوں)کے سوا کوئی ہاتھ نہیں لگاتا۔
بظاہر یہ خبر ہے مگر خبر بمعنی امر (حکم) کے ہے۔
          سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاوتِ قرآن سے کوئی شے نہیں روکتی تھی سوائے جنابت ( ناپاکی کی حالت) کے۔[2] 
          سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ہر شخص کو قرآن پڑھاتے تھے سوائے ناپاک شخص کے۔ [3]
          سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جنابت اور حیض کی حالت میں کوئی شخص قرآن میں سے کچھ نہ پڑھے ۔” [4]      
جنبی مرد اورحیض و نفاس والی خواتین تلاوتِ قرآن سے باز رہیں اور قرآن پاک کو صرف پاک آدمی ہاتھ لگائے۔
ٍٍٍٍٍٍ                             امام عمر بن حسین الخرقی الحنبلی ،المختصر: ص ١٦، امام ابن قدامہ الحنبلی  ، المغنی والشرح الکبیر: ج ١، ص ١٣٤ )
امام ابو حنیفہ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہم کا مسلک یہ ہے کہ پاک آدمی کے سوا قرآن کو کوئی شخص ہاتھ نہ لگائے۔[5]                
          جہاں تک قرآن کو ہاتھ لگانے کا تعلق ہے ، تو صحیح یہ ہے کہ اس کے لئے وضو کرنا فرض ہے، جیسا کہ جمہور کا قول ہے، یہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا معروف مسلک ہے،جیسے سیدناسعد بن ابی وقاص، سیدناسلمان الفارسی اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کا مؤقف ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے نام جو مکتوب لکھا تھا اس میں مرقوم ہے:”قرآن کو پاک آدمی کے سوا کوئی ہاتھ نہ لگائے۔” [6]
          جیسے لوحِ محفوظ میں لکھے قرآن کو صرف پاک ہستیاں چھوتی ہیں اسی طرح لازم ہے کہ لکڑی ،پتھر، چمڑے،کپڑے یا کاغذ پر لکھے قرآن کو صرف پاک حالت میں )وضو کرکے (ہاتھ لگایا جائے اور اس کی تلاوت (دیکھ کر یا زبانی )صرف پاک   حالت میں کی جائے۔ واللہ اعلم
             


[1] الواقعہ: ۷۸۔۸۰
[2] مسندامام احمد بن حنبل : ح  ٦٣٩، سنن ابو داؤد: ح  ٢٢٩،جامع الترمذی: ح ١٤٦، سنن ابن ماجہ: ح  ٥٩٤)
 
[3]</span > مسندامام احمد بن حنبل : ح  ٦٢٧
[4] سنن ابن ماجہ: ح ٥٩٥،  جامع الترمذی : ح  ١٣١
[5] (امام ابن قدامہ الحنبلی  ، المغنی والشرح الکبیر: ج ١  ، ص ١٣٧ )

Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

The Qur’anic Chronology of Creation

Barzakh: A Parallel Universe Beyond the Physical Realm

International Relations – CSS Student Notes

Basics of the Muslim Cosmology

Primordial Light: The Beginning of Time

The Abraham Accords and Genocide in Gaza

Miracle in the Surah Ikhlas

Etymology of “America”