Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

بدعت کسے کہتے ہیں؟

بدعت کسے کہتے ہیں؟

ساجد محمود انصاری

عربی زبان میں بدعت ہر اس نئے کام یا چیز کو کہتے ہیں جس کی کوئی مثال پہلے موجود نہ ہو۔بدعت کا مادہ  ’ب۔د۔ع‘ ہے جس کا مطلب کوئی نئی چیز ایجاد کرنا ہے۔ اسی مادہ سے بدیع بطور فاعل قرآن میں بھی استعمال ہوا ہے

ارشادِباری تعالیٰ ہے  

بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ

البقرہ:117

وہی  (اللہ)  آسمانوں اور زمین کو ایجاد کرنے والا ہے۔

شرعی ا صطلاح میں ایسا کام بدعت  کہلاتا ہے جس پر کوئی شرعی دلیل قائم نہ ہو۔واضح رہے کہ شرعی دلائل میں قرآن، سنت، فتاویٰ اہلِ بیت رسول علیہم الصلوات والسلام اور قرآن و سنت سے استنباط شامل ہیں۔اگر کسی قول و فعل پر ان چار مصادرِ دین سے دلیل لانا ممکن نہ ہو تو  ایسا قول و فعل بدعت کہلاتا ہے۔اگر بعض علما کسی قول و فعل پر مصادرِ دین میں سے دلیل لائیں اور دوسرے علما ان سے اتفاق نہ کریں تو یہ بدعت کے زمرے میں نہیں آئے گا بلکہ اسے اجتہادی اختلاف پر محمول کیا جائے گا۔

کسی قول و فعل کے بدعت ہونے کی چار شرطیں ہیں

۱۔ ایسا قول و فعل جس کی کوئی مثال دین میں موجود نہ ہو

۲۔اس قول و فعل کو دین سمجھا جائے

۳۔اس قول و فعل پر کوئی شرعی دلیل قائم نہ ہو

۴۔علمائے اہل سنت  نے متفقہ طور پر اسے رد کردیا ہو

بدعتِ مذمومہ  کی مثالیں

۱۔ایسی عبادت ایجاد کرنا جس کا دین میں پہلے کوئی وجود نہ ہو جیسے سیدنا امام حسین علیہ السلام کے غم میں ماتم کرنےکو شرعی  عبادت قرار دینا، اہلِ قبور کو سجدہ کرنے کو شرعی  عبادت قرار دینا بدعت ہے

۲۔ایسا عمل جو شریعت میں عبادت ہی ہو مگر شریعت کے مقررہ اوقات کے سوا کسی دوسرے وقت میں اسے فرض یا واجب قرار دینا۔مثلاً رمضان کے سوا کسی دوسرے مہینے کے روزے فرض سمجھنا، پانچ نمازوں کے سوا کسی چھٹی نماز کو اپنے لیے فرض سمجھنا بدعت ہے۔

۳۔کسی متفقہ فرض عبادت میں اپنی جانب سےکوئی اضافہ یا کمی کردینا۔ مثلاً نمازِ مغرب کی تین کی بجائے چار رکعات کو فرض قرار دینا۔یا ظہرو عصر کی چار کی بجائے  صرف دو رکعات فرض سمجھنا  بدعت ہے۔

۴۔ایسا عقیدہ ایجاد کرلینا جس پر قرآن و سنتِ متواترہ سے کوئی دلیل موجود نہ ہو، مثلاً گناہگار مسلمان کو دائمی جہنمی سمجھنا، اللہ تعالیٰ کو مخلوق جیسا سمجھنا  یا کسی نبی  کو فاسق سمجھنا  وغیرہ بدعت ہے۔

۵۔ کسی متفقہ عقیدہ کا انکار کرنا مثلاً تقدیر یا عذاب قبر یا ملائکہ کے وجود سے انکار کرنا

۶۔ کسی متفقہ حلال کو حرام یا حرام کو حلال قرار دینا مثلاً قرض پر سود کو جائز سمجھنا،بکری ،  گائے یا اونٹ کے گوشت کو حرام سمجھنا بدعت ہے۔

یہ ہے بدعت کی اصل حقیقت۔ مگر افسوس کے ہمارے ہاں لوگ مخالف مسلک کے جس کام کو پسند نہیں کرتے اسے بدعت قرار دے کر اپنے ہمنواؤں کو خوش کرلیتے ہیں تاکہ ان کا  اپنا جتھا مضبوط رہے۔اگر بعض  لوگ ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی، درودو سلام کے لیے اجتماعی محفل، اجتماعی ذکر وغیرہ  مستحب سمجھ کے کرتے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ اس میں بدعت کہاں سے ٹپک پڑی؟ ان سب امور پر شرعی دلائل قائم ہیں۔ اس لیے ان اعمال کو بدعت قرار دینا بہت بڑی جسارت ہے۔واللہ اعلم بالصواب

باقی بارہ ربیع الاول کو گنبدِ خضریٰ کی طرز پر  کیک بنانا اور کاٹنا ، ہندوؤں کی رنگولی کی طرز پر پہاڑیاں بنانا، ڈھول بجانا ، میوزک پر رقص کرناوغیرہ سب خرافات ہیں ،ان کاموں کو دین سمجھنا گمراہی ہے۔

Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

The Qur’anic Chronology of Creation

Barzakh: A Parallel Universe Beyond the Physical Realm

International Relations – CSS Student Notes

Basics of the Muslim Cosmology

Primordial Light: The Beginning of Time

The Abraham Accords and Genocide in Gaza

Miracle in the Surah Ikhlas

Etymology of “America”