Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

شہدا کا خون ، وظیفہ اور ٹیکس

شہدا کا خون ، وظیفہ اور ٹیکس


اسلامی ریاست کا دفاع اور اس کی سرحدوں کی حفاظت فرضِ کفایہ ہے، یعنی اگر امت میں سے اتنی تعداد میں لوگ اس دفاعی عمل میں حصہ لیں جس سے دفاع کرنا ممکن ہوسکے تو اس سے یہ فرض ساری امت کی جانب سے ادا ہوجاتا ہے، لیکن اگر دفاع میں حصہ لینے والوں کی تعداد مطلوبہ تعداد سے کم ہو تو ساری امت ترکِ جہاد کے گناہ کا ارتکاب کرتی ہے۔

امام ابن قدامہ الحنبلیؒ  فقہ اسلامی کی جامع ترین کتاب المغنی میں فرماتے ہیں:

(وَالْجِهَادُ فَرْضٌ عَلَى الْكِفَايَةِ، إذَا قَامَ بِهِ قَوْمٌ، سَقَطَ عَنْ الْبَاقِينَ) مَعْنَى فَرْضِ الْكِفَايَةِ، الَّذِي إنْ لَمْ يَقُمْ بِهِ مَنْ يَكْفِي، أَثِمَ النَّاسُ كُلُّهُمْ، وَإِنْ قَامَ بِهِ مَنْ يَكْفِي، سَقَطَ عَنْ سَائِرِ النَّاسِ.

(المغنی: جلد 9، صٖح 196)

ترجمہ:

جہاد فرضِ کفایہ ہے۔ اگر لوگوں کی ایک جماعت اس فریضے کو ادا کر دے تو باقی تمام لوگوں سے اس کی ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہے۔فرضِ کفایہ سے مراد وہ فرض ہے کہ اگر اسے انجام دینے کے لیے کافی تعداد میں لوگ اس کی ادائیگی نہ کریں تو تمام لوگ گناہ گار ہوتے ہیں، اور اگر اتنے لوگ اسے انجام دے دیں جن سے یہ فرض پورا ہو جائے تو باقی تمام لوگوں سے اس کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔

رسول اکرم ﷺ کے مبارک زمانہ میں مسلمانوں کی کوئی مستقل فوج تو نہ تھی تاہم  اصحابِ رسول  رضی اللہ عنہم  شہادت کے جذبہ کے ساتھ رضاکارانہ طور پر جہاد میں شریک ہوتے تھے۔نبی ﷺ جتنے صحابہ کو چاہتے کسی غزوہ میں ساتھ لے جاتے جبکہ باقی لوگ اپنے روزمرہ کے کاموں میں مشغول رہتے، تاہم غزوۂ تبوک کے موقعہ پر نبی ﷺ نے تمام تندرست اور سواری رکھنے والے صحابہ کو جنگ میں حصہ لینے کا حکم ارشاد فرمایا جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے لبیک کہا۔ چونکہ تبوک شام میں کافی زیادہ فاصلے پر واقع تھا اس لیے اس غزوہ کے لیے بہت زیادہ زاداسباب کی ضرورت تھی، اسی لیے نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو انفاق فی سبیل اللہ پر ابھارا اورانہوں نے بھی اپنا جان و مال پیش کرنے میں کوئی تردد نہ کیا۔ بلکہ صحابہ کرام نے انفاق کی ایسی نظیریں قائم کردیں کہ شاید ان کی مثال قیامت تک نہ مل سکے۔

خلافتِ راشدہ کے ابتدائی سالوں میں فتوحات کے باعث بیت المال میں کافی مال جمع ہونا شروع ہوگیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رومی و پارسی سلطنتوں کی طرز پر مستقل فوج بنانے کی ضرور ت محسوس کی ،لہٰذا انہوں نے اسلامی ریاست کی مستقل فوج قائم کردی، فوجی چھاؤنیاں تعمیر کرائیں اور مسلم فوج کے سپاہیوں کے لیے وظیفہ (مشاہرہ) مقرر فرمادیا۔ساری اسلامی تاریخ میں مستقل فوج اور قن کے وظیفے کی روایت برقرار رہی۔ جدید ریاستی بندوبست میں بھی مستقل فوج کسی بھی ریاست کے دفاع اور سلامتی کی ضامن ہوتی ہے۔ریاست کے شہری اپنی اور ریاست کی  سلامتی کے لیے چندہ دیتے ہیں جسے جدید اصطلاح میں ٹیکس کی صورت دے دی گئی ہے۔شہری یہ چندہ اس لیے دیتے ہیں کہ وہ اپنے روزمرہ مشاغل میں مصروف ہونے کے باعث دفاعی عمل میں مستقل شرکت کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، اس لیے فوج ان کی جانب سے ریاست کے دفاع کا فرض کفایہ  سرانجام دیتی ہے۔اگر فوج یہ فرض انجام نہ دے تو ریاست اور اس کے شہریوں کی سلامتی ممکن نہیں رہتی۔فوج کو وظیفہ (تنخواہ) اس لیے دیا جاتا ہے تاکہ ان کے اہلِ خانہ کی ضروریاتِ زندگی پوری ہوسکیں۔فوجی جوان جب ریاست کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں تو یہ ان کا پوری قوم پر عظیم احسان ہوتا ہے جس کا بدلہ کسی بھی چکایا نہیں جاسکتا۔ اب اگر کوئی احمق یہ کہے کہ فوجی جوان اپنی جان کا نذرانہ تنخواہ کے لیے دیتے ہیں  یا انہیں ان کی قربانی کا صلہ تنخواہ کی شکل میں مل چکا ہے ا س لیے قوم پر  ان کا کوئی احسان نہیں ہے ،تو وہ درحقیقت اسلام کے نظامِ جہاد کا ہی نہیں  بلکہ ان شہدا کے خون کا بھی مذاق اڑاتا ہے اور اسلامی تعلیمات کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے۔

وظیفہ تو خلفائے راشدین کے زمانے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی لیتے تھے تو کیا ان کی قربانیوں اور شہادتوں کا امت پر کوئی احسان نہیں؟

دورِ جدید میں اسلامی ریاست کا ٹیکس ریاست کے دفاع کے لیے انفاق فی سبیل اللہ  کی مانندہے،اس ٹیکس کو فوج پر احسان قرار دینا پرلے درجے کی جہالت ہے۔ہاں اگر کوئی حاکم یا سپہ سالار اس ٹیکس کو محض  ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے  تو وہ اللہ کی بارگاہ میں ا سکے لیے جوابدہ ہوگا، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم ریاست کے دفاع کا فرض ادا کرنے کے لیے چندہ (ٹیکس) ادا کرنے سے ہی انکار کردیں۔اس صورت میں ہم فرضِ کفایہ ترک کرنے کے مرتکب ہوں گے۔

بعض اوقات جہاد میں مصروف مجاہدین کی تعداد مطلوبہ تعداد سے کم ہوجاتی ہے، اس صورت میں اسلامی ریاست کو اختیار ہے کہ وہ ہر شہری یا دشمن کے علاقہ کے قریب بسنے والے شہریوں کو جہاد میں شریک ہونے کا حکم جاری کرے جیسا کہ غزوۂ تبوک میں اس سے ملتا جلتا حکم دیا گیا۔ایسی صورت میں ان شہریوں کہ یہ کہنے کا حق حاصل نہیں کہ ہم جہاد میں حصہ کیوں لیں ہم کونسا اس کی تنخواہ لیتے ہیں۔

وطنِ عزیز پاکستان کی مسلح افواج  اس وقت یہودوہنود دونوں کا براہ راست سامنا کرہی ہیں۔ انڈیا اور اسرائیل اپنے کرائے کے فوجیوں (خوارج) کے ذریعے پاکستان  پر حملہ آور ہیں، افواجِ پاکستان مشرقی، مغربی، شمالی  اور جنوبی سرحدوں پر  چومکھی لڑائی لڑ رہی ہیں، پاک فوج کے جوان روزانہ اپنے خون سے ان سرحدوں کا دفاع کررہے ہیں۔ایسے میں پاک فوج کا حوصلہ بڑھانا اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کرنا ہر پاکستانی کا دینی  فرض ہے۔اگر پاک وطن کو ہمارے لہو کی بھی ضرورت پڑے تو ہمیں یہ کہہ کر انکار نہیں کردینا چاہیے کہ ہم کونسا اس کی تنخواہ لیتے ہیں۔

تمہی سے اے مجاہدو! جہاں کا ثبات ہے

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

 

Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

Daleel at-Talib: Unit # 4: Wudhu

Islamic Verdict on Drawing Living Creatures via AI

The Qur’anic Chronology of Creation

Primordial Light: The Beginning of Time

Prayer Times and Fasting in Polar Regions

Top Twenty Tallest Waterfalls

Imam Muhammad bin Jarir al-Tabari

Etymology of “America”