Featured Post

The Qur’anic Chronology of Creation

Image
Exploring the Qur’anic Chronology of Creation reveals a profound perspective on how our universe transformed from a single point into the complex world we live in today. While modern science focuses on the "how," the Qur’an describes creation in meaningful stages that highlight the purpose behind the heavens and the earth. This layered journey moves from the initial act of creation to the detailed shaping of the stars, planets, and life, finally culminating in the appearance of human beings. In this article, we break down these stages to show how the Qur’an presents a beautifully coherent and purposeful vision of the universe. 1. Chronology of Creation Allah Almighty says in Surah Fussilat: 9.  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُۥ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ 10.  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَىٰ لِلسَّائِلِينَ 11.  ثُمَ...

تکمیلِ آزادی کیسے ممکن ہے؟

تکمیلِ آزادی کیسے ممکن ہے؟


اقوام کی آزادی اور خودمختاری کوئی ایسا حادثہ یا واقعہ نہیں جو ایک ہی دن میں اچانک رونما ہو جائے، بلکہ یہ ایک تدریجی، مرحلہ وار اور مسلسل عمل ہے جس کی مکمل تعبیر حاصل کرنے میں بعض اوقات کئی دہائیاں اور نسلیں لگ جاتی ہیں۔ کسی ملک کا محض سیاسی نقشے پر نمودار ہو جانا یا نوآبادیاتی حکمرانوں کا چلے جانا "ابتدائی آزادی" تو کہلاتا ہے، لیکن معاشی، ثقافتی، علمی اور ادارہ جاتی آزادی کا سفر بعد میں شروع ہوتا ہے۔

پاکستان کا 14 اگست 1947ء کو قیام دراصل آزادیِ کامل نہیں بلکہ سفرِ آزادی کا نقطۂ آغاز تھا۔ اس تاریخی حقیقت کو سمجھنے کے لیے تاریخِ اسلام کے زریں دور کی مثالوں اور پاکستان کے ارتقائی مراحل کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے۔

1. التزام و تدریج: تاریخِ اسلام کی روشنی میں ایک تاریخی سبق

اقوام کی خودمختاری میں "حالات کے سازگار ہونے" اور "مرحلہ وار ارتقا" کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے دورِ خلافتِ راشدہ سے بڑی کوئی مثال نہیں ملتی:

  • اسلامی کیلنڈر اور کرنسی کا تدریجی سفر: خلافتِ راشدہ رضی اللہ عنہم کے ابتدائی سالوں میں، باوجود اس کے کہ مسلمان ایک آزاد اور عظیم الشان ریاست قائم کر چکے تھے، ان کا اپنا الگ کیلنڈر یا مستقل سکہ نہیں تھا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے ابتدائی سالوں تک مسلمان فارسی یا رومی (عیسوی) کیلنڈر اور وہی غیر ملکی سکے استعمال کرتے رہے۔ 

  • اسلامی کیلنڈر اور پہلا اسلامی سکہ: پہلا اسلامی سکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں 18 ہجری میں ڈھالا گیا، لیکن اس کے باوجود رومی اور فارسی سکے مکمل طور پر متروک نہیں ہوئے۔ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے زمانے میں جبکہ فاصلے بہت پھیلے ہوئے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور  خلافت کے ابتدائی سالوں تک  مسلمانوں نے اپنا الگ کیلنڈر نہیں بنایا تھا، اس زمانے تک فارسی یا رومی کیلنڈر استعمال کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ اسلامی کیلنڈر کے وجود میں آنے کے بعد بھی رومی و فارسی کیلنڈر  متروک نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ ہماری اولین کتب تاریخ مثلاً تاریخ طبری۔ تاریخ خلیفہ بن خیاط وغیرہ میں زمانہ قبل از اسلام کو رومی یا فارسی کیلنڈر کے ذریعے ہی بیان کیا گیا ہے۔ اس لیے عصبیت کی اہمیت مسلمہ ہونے کے باوجود طاقتور ریاستوں کے اثرات سے مکمل طور پر بچنا ممکن نہیں۔

  • سلطنتوں کی فتح اور معاشی خودمختاری: اسلامی کیلنڈر اور اسلامی سکے کا خواب اس وقت تک کامل طور پر شرمندۂ تعبیر نہیں ہوا جب تک کہ مسلمانوں نے روم و فارس کی عظیم سلطنتوں کو فتح کر کے اپنے پاؤں پر مکمل طور پر کھڑا نہیں کر لیا۔ گویا اپنے ابتدائی دس سال تک آزاد خلافتِ راشدہ بھی معاشی اور انتظامی معاملات میں سابقہ طاقتور ریاستوں کے اثرات اور ان کے سسٹمز سے جڑی رہی۔

ایک فکری و شرعی سوال:

اگر آزاد اور جلیل القدر خلافتِ راشدہ کو حالات کی مجبوری اور تدریجی عمل کے تحت چند سال غیراسلامی نظام کے جاری کردہ سکے اور کیلنڈر استعمال کرنے پڑے، تو کیا اس کی بنا پر (معاذ اللہ) ان کی آزادی یا اسلام پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں!

آج کے دور میں خوارج اور ان کے ہمنوا جو پاکستان کی ریاست پر یہ فتوے لگاتے ہیں کہ "پاکستان مکمل طور پر آزاد یا اسلامی نہیں ہے کیونکہ یہ بین الاقوامی مالیاتی نظام (آئی ایم ایف/عالمی بینک) یا مغربی معاشی ڈھانچے پر انحصار کرتا ہے"، وہ تاریخِ اسلام کی اس بنیادی حکمت اور تدریج سے بالکل ناواقف ہیں۔ آزاد کرنسی اور مکمل خودکفالت کا نعرہ خوشنما تو ہے، لیکن یہ مراحل محض جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ تدبیر، محنت اور سازگار حالات سے طے ہوتے ہیں۔

2. قیامِ پاکستان سے اب تک: آزادی کی تکمیل کے مراحل

پاکستان نے 1947ء سے لے کر اب تک خودمختاری کی تکمیل کے لیے درج ذیل اہم مراحل طے کیے ہیں:

1. آئینی و قانونی خودمختاری کا مرحلہ (1947ء - 1956ء)

  • گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ سے اپنا آئین: قیامِ پاکستان کے وقت ہم "گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء" کے تحت بطور ڈومینین (Dominion) کام کر رہے تھے اور برطانوی شاہی تاج کے قانونی اثرات موجود تھے۔ پاکستان کے گورنر جنرل کے تقرر نامے پر ملکہ برطانیہ کے دستخط ہوتے تھے۔

  • جمہوریہ کا قیام (1956ء): 1956ء کے آئین کی منظوری کے ساتھ پاکستان نے تاجِ برطانیہ سے تمام قانونی رشتے کاٹ کر خود کو "اسلامی جمہوریہ پاکستان" قرار دیا اور مکمل آئینی آزادی حاصل کی۔

2. معاشی اداروں اور کرنسی کا قیام (1948ء)

  • اسٹیٹ بینک آف پاکستان: قیام کے وقت پاکستان کا معاشی نظام شدید بحران کا شکار تھا اور ہمارے پاس اپنا مرکزی بینک نہیں تھا۔ 1 جولائی 1948ء کو قائد اعظم محمد علی جناح نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کیا، جس کے بعد پاکستان نے اپنی کرنسی (روپیہ) جاری کی اور غیر ملکی مالیاتی انحصار کے پہلے مرحلے کو پار کیا۔

3. دفاعی خودمختاری اور نیوکلیئر ڈیٹرنس (1970ء - 1998ء)

  • دفاعی خودکفالت: ابتدائی سالوں میں دفاعی سامان کے لیے مکمل طور پر بیرونی امداد پر انحصار تھا۔ وقت کے ساتھ پاکستان نے اپنی آرڈیننس فیکٹریز (POF) اور جدید دفاعی پیداواری ادارے قائم کیے۔

  • ایٹمی طاقت (28 مئی 1998ء): پاکستان نے تمام عالمی دباؤ اور اقتصادی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے ایٹمی دھماکے کیے اور مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بنا۔ اس سے پاکستان کی جغرافیائی اور دفاعی آزادی ناقابلِ تسخیر ہو گئی۔

4. عدالتی و قانون سازی میں اسلامائزیشن کا مرحلہ

  • قراردادِ مقاصد (1949ء) اور 1973ء کا آئین: آئینِ پاکستان میں یہ شق شامل کی گئی کہ کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جائے گا۔ وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل جیسے اداروں کا قیام خودمختاری کے فکری پہلو کی تکمیل کا حصہ ہے۔

5. خارجہ پالیسی اور جغرافیائی خودمختاری

  • سیٹو (SEATO) اور سنتو (CENTO) جیسے مغربی بلاکس کے معاہدوں سے نکل کر پاکستان نے وقت کے ساتھ ایک غیر جانبدار اور خودمختار خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی۔ سی پیک (CPEC) اور علاقائی بلاکس کے ذریعے معاشی اور جغرافیائی تنوع حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  • پاکستان کا دفاعی اعتبار سے مضبوط ہونا اور خلیجی ممالک کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری کا بڑھنا ایک اہم پیش رفت ہے:

  • 1. دفاعی صلاحیت اور سٹریٹجک توازن

    • ردّ عمل اور صلاحیت: پاکستان کی مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی، ایئر ڈیفنس سسٹمز، ڈرون ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں میں جو نمایاں پیش رفت کی ہے، اس نے خطے میں روایتی اور غیر روایتی جنگ کے توازن کو پاکستان کے حق میں مضبوط کیا ہے۔

    • ڈیٹرنس (Deterrence): پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا فوری، مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جس سے خطے میں ایک مضبوط دفاعی توازن قائم ہوا ہے۔

    2. خلیجی ممالک اور مشرقِ وسطیٰ میں سٹریٹجک قیادت

    مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل (Geopolitical) صورتِ حال کے پیشِ نظر خلیجی ممالک کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر آمادگی کی چند اہم وجوہات ہیں:

    • مکہ جوائنٹ ڈیفنس اور باہمی سیکیورٹی: سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک (GCC) کے ساتھ پاکستان کے روابط نجی سیکیورٹی معاہدوں سے آگے بڑھ کر ادارہ جاتی مشترکہ دفاعی فریم ورک کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ حرمين الشريفين کی سلامتی اور خلیج کی سیکیورٹی میں پاکستان کا کردار ہمیشہ سے محوری رہا ہے۔

    • پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ مہارت: پاکستان کے پاس دہائیوں پر محیط روایتی جنگ، انسدادِ دہشت گردی اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی کا عملی تجربہ ہے، جس کی وجہ سے خلیجی ممالک اپنی افواج کی تربیت اور سیکیورٹی سسٹمز کی بہتری کے لیے پاکستان پر سب سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔

    • دفاعی پیداوار اور برآمدات: جے ایف-17 تھنڈر (JF-17 Block III)، میٹیر/فیصلہ کن میزائل سسٹمز اور جدید ترین ڈرونز کی مقامی سطح پر تیاری نے پاکستان کو ایک "صرف خریدار" ریاست کے بجائے ایک "دفاعی برآمد کنندہ" (Defense Exporter) بنا دیا ہے، جس میں خلیجی ممالک کی شدید دلچسپی ہے۔ اس طرح پاکستان معاشی طور پر بھی مضبوط بننے جارہا ہے، ان شا اللہ

    یہ تمام امور اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان نے ابتدائی دہائیوں کی معاشی اور سیکیورٹی کی مشکلات سے نکل کر آج ایک ایسی مضبوط دفاعی طاقت کا روپ دھار لیا ہے جو نہ صرف اپنی سرحدوں کی حفاظت کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، بلکہ امتِ مسلمہ اور بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں امن و امان اور سیکیورٹی کے ایک اہم ضامن کے طور پر ابھر رہی ہے۔ 

حاصلِ کلام

اقوام کی آزادی ایک درخت کی مانند ہے جسے بیج سے تناور درخت بننے میں وقت لگتا ہے۔ جس طرح خلافتِ راشدہ کو روم و فارس کی معاشی و انتظامی چھاپ سے نکلنے میں وقت لگا، اسی طرح پاکستان جیسے نوزائیدہ ملک کے لیے دو صدیوں پر محیط برطانوی نوآبادیاتی نظام (Colonial System) اور جدید عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے اثرات سے یکسر راتوں رات نکلنا ناممکن تھا۔ س لیے تکمیلِ آزادی کے جو مراحل ہم تدریجا طے کررہے ہیں اس پر ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس آزادی کی قدر کرتے ہوئے اسے مزید مضبوط بنانے کے لیے جدجہد کرنی چاہیے ناں کہ دشمن کے ایجنڈے کو پھیلاکر اس کی جڑیں کھوکھلی کی جائیں، صرف اس لیے کہ  ہر شخص کو کرسی پر بیٹھ کر حکم چلانے کی سہولت میسر نہیں۔

Categories of Topics

Show more

Popular posts from this blog

Top Twenty Tallest Waterfalls

Top 20 Highest Mountains

The Qur’anic Chronology of Creation

How to Perform Salah?

The Kingdom of Saba: Arabia's Greatest Ancient Civilization

Origin of Pashtuns

Proposed Counties of Pakistan: A Balanced Administrative Model

The Kingdom of Ghassan in Arabia: History and Archaeological Heritage